ممنون حسین کا کڑوا سچ
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 21 / اکتوبر / 2017
- 4485
کہا جاتا ہے کہ جو فرد خاموش ہوتا ہے وہ اپنے اندر کہنے کے لیے بہت کچھ رکھتا ہے لیکن حالات و واقعات اس کو بہت کچھ یا سچ کہنے سے روکتے ہیں ۔ صدر ریاست کا ایک اہم ستون ہوتا ہے ۔ ممنون حسین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وفادار ساتھی ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کو نواز شریف نے بطور صدر کے لیے نامزد کیا تھا ۔ نواز شریف یا کوئی اور بھی پارٹی کا سربراہ ہو، وہ ایک ایسے ہی صدر کا انتخاب کرتے ہیں جو نہ صرف وفادار ہو، بلکہ ان ہی کی سیاسی حکمت عملی اور فیصلوں کو بنیاد بنا کر بطور صدر اپنا کردار ادا کرے ۔ صدر کی حیثیت غیر جانبدار کی ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس اہم عہدہ کو سیاسی عہدہ بنا کر جماعتی اور قیادت کے مفادات کے تابع کر دیا ہے ۔ کوشش کی جاتی ہے کہ صدر کے عہدے کو محض ایک نمائشی حیثیت ہی حاصل ہو تاکہ وہ کسی بھی حکومت کے لیے کوئی اہم کردار ادا نہ کرسکے ۔
ممنون حسین کے صدر بننے کے بعد سے ہی لوگ ان کو ایک کمزور اور نمائشی صدر کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے چونکہ وہ نواز شریف کے نامزد کردہ صدر ہیں تو ان کے اپنے مفادات بھی ان ہی کی سیاست کے گرد گھومتے ہیں ۔ لیکن انسان کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب بھی اسے کچھ ایسا وقت ملے جہاں وہ اپنے آپ کو آزاد محسوس کرے تو وہ ایسی باتیں بھی کہہ دیتے ہیں جو عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کہہ سکیں گے ۔ اس تناظر میں صدر کا حالیہ بیان قابل توجہ ہے ۔ اول عوام کو موجودہ حکمرانوں سے پوچھنا چاہیے کہ 14ہزار 8 سو ارب روپوں کا قرضہ کہاں گیا کیونکہ ان چار برسوں میں نہ تو ملک میں ڈیم بنے ، نہ ہی ہسپتال اور تعلیم کے میدان میں کچھ کیا گیا ۔ دوئم کرپشن نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا جو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس ناسور کے خاتمہ کے لیے ہمیں کچھ کرنا ہوگا۔ سوئم جھوٹ ، فریب ، مکر اور مداری کی سیاست نے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کو لوٹنے والوں سے اللہ تعالی ضرور بدلہ لے گا ۔ ان کے بقول خدارا جھوٹ اور فریب کی سیاست بند کرو، ایمانداری اور سچائی کے ساتھ سیاست کی جائے ۔
صدر مملکت ممنون حسین کے بقول 2008میں ملک کے ذمہ سات ہزار ارب روپے کا قرضہ تھا جبکہ 2013کے بعد سے لے کر اب تک 14ہزارآٹھ سو ارب روپے کا قرضہ لیا گیا ، جس کا حساب لیا جانا چاہیے ۔ وہ بنوں میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ہونے والی منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ صدر مملکت کا عہدہ کوئی عام عہدہ نہیں اور نہ ہی ان کی کہی ہوئی باتوں کو نظر انداز کیا جانا چاہیے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے جن باتوں کی نشاندہی کی ہے وہ ایسے سیاسی ، معاشی اور سماجی تلخ حقائق ہیں جن کو ہماری ریاستی ، حکومتی اور حکمرانی کی سیاست سے جڑے ہیں ۔ یہ ایک ایسے صدر مملکت کی کہانی ہے جو ایوان صدر میں بیٹھ کر ملک میں جاری حکمرانی کے مناظر یا تماشہ کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں ، جس میں دکھ، کرب اور تکلیف کا احساس بھی نمایاں ہے ۔
بنیادی طور پر صدر مملکت کی تنقید کو محض موجودہ حکمرانوں تک محدود ہوکر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔ کیونکہ ان کی گفتگو کا حاصل مجموعی طور پر ہمارا یہ سیاسی ، جمہوری ، معاشی، سماجی، قانونی اور آئینی نظام ہے جو اس وقت اپنی اہمیت کھوچکا ہے ۔ کیونکہ جب طرز حکمرانی اور قانون کی حکمرانی میں عوام کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی توو ہ نظام اپنی ساکھ بھی کھودیتا ہے ۔ جب یہ کہاجاتا ہے کہ ہمارا نظام مجموعی طور پر ایک بڑے مافیا کا رنگ اختیار کرگیا ہے توبہت سے لوگوں کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے ۔ مافیا پر مبنی حکمرانی پر ماتم کرنے والوں کو یہاں نام نہاد جمہوریت پسند لوگوں کی جانب سے جمہوریت دشمن سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن جس مکروہ ، مافیا، جھوٹ ، فریب ، کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا زکر صدر مملکت ممنون حسین نے کیا ہے ، وہ بھی جمہوریت دشمن کی تعریف میں آتے ہیں ۔
قرضہ لینا بری بات نہیں ہوتی ۔ ملکوں کی معیشت قرضوں کی بنیاد پر ہی چلتی ہے ۔ اس میں دو سوال اہم ہیں۔ اول ان قرضوں کا استعمال اور دوئم ان قرضوں کی شفافیت سمیت ریاست و حکمران طبقات کی جوابدہی کا تصور۔ لیکن یہاں عوام اور بالخصوص محروم طبقات کے نام پر جو قرضے لیے جاتے ہیں وہ اس ملک میں موجود طاقت ور طبقات کی ترقی اور خوشحالی کے کام آتے ہیں۔ محروم اور عام آدمی کے لیے تو سوائے استحصال کے کچھ نہیں ہوتا ۔ یہ سوال اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ اس ملک میں کسی بھی حکومت نے جو قرضے لیے ہیں ان کا ہر صورت میں سیاسی اورمالی آڈٹ ہونا چاہیے ۔ لوگوں کو اس بات کا پتہ چلنا چاہیے کہ جو قرضے ان کے نام پر لیے گئے ہیں، وہ کہاں اور کیسے خرچ ہوئے ہیں ۔ قرضوں کو بنیاد بنا کر ہم جو معیشت چلاکر اس ملک کو ایک بڑے قرض یا بوجھ میں ڈال رہے ہیں، اس کی کسی سطح پر تو جوابدہی ہونی چاہیے ۔
مسئلہ جمہوریت اورحکمرانی کا نہیں ، کیونکہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ ہمیں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو بنیاد پر ہی اپنے سیاسی نظام کو چلانا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو نظام جمہوریت کے نام پر چلایا جارہاہے وہ حقیقی جمہوریت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے یا واقعی یہاں جمہوریت کو عوام کے خلاف ایک ہتھیار کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے ۔ جب جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے نام پر ہم اداروں کی بربادی کا کھیل خود اپنے ہاتھ سے کھیلیں گے تو پھر ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ نیب کرپٹ ترین ادارہ بن چکا ہے اور ستر برسوں میں لٹیروں کا احتساب نہیں کیا گیا۔ یہ بات وزیر اعلی سے پوچھنی چاہیے کہ نیب کو کرپٹ ترین ادارہ کس نے بنایا ۔ کیوں حکمران طبقہ اداروں کی خود مختاری اور فعالیت کے خلاف ہے ۔ موجودہ حکومت نے کیوں اس ادارہ کو شفاف نہیں بنایا ۔ آج جب اس حکمران طبقہ کا احتساب ہورہا ہے تو یہ کرپٹ ترین ادارہ ہے ۔ لیکن جب یہ ادارہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف کچھ کررہا تھا تو اسلام آباد اور پنجاب کا حکمران طبقہ نیب کی ہر طرح سے شفافیت کے گن گاتا تھا ۔
جو ممنون حسین نے کہا ہے کہ خدارا سیاست کو صاف اور ستھری بناؤ، مکاری اور جھوٹ کو خیر آباد کہو ، یہ کیسے ممکن ہوگا۔ ایک ایسے نظام میں جس کی بنیادوں میں کرپشن اوربدعنوانی جڑ پکڑ چکی ہے ۔ نظام کوئی بھی ہو اور کتنا اچھا ہی کیوں نہ ہو، اگر نظام کو چلانے والے لوگ ہی بدیانت ہوں اور قومی مفاد کے مقابلے میں ذاتی و خاندانی مفاد کو ترجیح دیتے ہوں تو پھر صاف ستھری اور شفاف سیاست آپ کو محض دستور اورکتابوں تک ہی محدود نظر آئے گی ۔ اس لیے اس نظام کی شفافیت اور عوامی مفاد ات کے تابع کرنے کے لیے ہمیں اس پورے نظا م کی بڑے پیمانے پر سرجری کرنی ہوگی ۔ جہاں ریاست ، حکومت اور اداروں کو کڑوی گولی کھا کر سخت اور بڑے فیصلے کرنے ہوں گے ۔ یہ مسئلہ محض سیاست دانوں تک محدود نہیں بلکہ ہر طبقہ اور اداروں میں جو مافیا پر مبنی نظام اور فیصلہ سازی کا گٹھ جوڑ بن گیا ہے ، اس کو توڑنا لازمی ہے۔
ملک میں کوئی جوابدہی کا نظام نہیں ، وگرنہ صدر مملکت کے بیان پر حکومت کو یقیناً اپنی صفائی پیش کرنی چاہیے تھی۔ لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ حیران ہیں کہ ان کا حالیہ بیان کیونکر آیا ہے اور اس کے پیچھے اصل کھیل کیا ہے ۔ حالانکہ جو کہا گیا ہے وہ سچ ہے مگر سچ کو قبول کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ۔ لیکن مسئلہ اسی بدنیتی پر مبنی حکمرانی کا ہے جہاں سچ کو دبا کر اپنے مفادات پر مبنی سچ کو پیش کرکے حکمرانی کے نظام کو چلایا جارہا ہے ۔ اس کرپٹ او ربدعنوانی پر مبنی نظام کے خلاف جدوجہد ہی اس وقت پاکستان کی اولین ضرورت ہے ۔