پاکستان کا تعلیمی نظام جدید ٹیکنالوجی سے بے بہرہ ہے

یورپ ، امریکہ اور جاپان میں ریاستی سیاسی اور معاشی معاملات کو چلانے کیلئے صنعتی انقلاب کے بعد صنعتی کلچر کے ذریعے اخلاقیات قائم کیں۔ ان تمام معاملات میں برطانیہ سب سے آگے تھا۔ برطانیہ میں کلاسیکل جاگیردار کی جگہ صنعتی ثقافت نے حاصل کرلی۔  یاد رہے کسی سماج کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے جاگیر دارانہ خاندانی زنجیروں کو توڑنا اہم ہوتا ہے تاکہ قدامت اور رجعت پسندی کی پسماندگی سے نکل کر اسٹیٹ کرافٹنگ کے عمل کو مختلف انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

عصر حاضر میں اہم تبدیلیاں تجارتی پھر صنعتی اس کے بعد مالیاتی اور عہد حاضر میں ٹیکنالوجی کے ذریعے آئی ہیں۔ ان تمام کیفیات اور عوامل کا ریاست کاری کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ میں سب سے زیادہ تیز رفتار ایجادات اور تبدیلیوں کے ذریعے سماج کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔ آج دنیا میں وہی ممالک معاشی طور پر مضبوط ہیں جن کے پاس ذرائع پیدا وار تخلیقی صلاحتیں، ایجادات، ٹیکنالوجی، مواصلات سپر کمپیوٹر، ٹیکنالوجی اور قدرتی وسائل کے استعمال کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان تمام وسائل کے حصول کیلئے سب سے پہلے ہنر مندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیلاب نے تمام پرانے نظریاتی اور مروجہ قوانین کو پچھاڑ دیا ہے۔ اگر کوئی ملک زرعی پیدا وار میں خود کفیل ہے اور اس سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات نہیں بنا رہا ہے تو وہ پسماندہ ہے۔ اگر وہ جدید مصنوعات اور مشینری کیلئے درآمدات پر انحصار کرتا ہے تو اس پر پسماندگی غالب رہے گی۔

ماضی میں سویت یونین نے اسلحہ سازی میں بے پناہ ترقی کی۔ بین البراعظم میزائلوں کی امریکہ کے ساتھ  دوڑ نے اس کی معیشت کو تباہ کر دیا اور اس کے ساتھ سویت یونین نے اپنی انڈسٹری کو تیار کردہ مصنوعات کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق دل کش اور خوبصورت بنانے کی نہیں کوشش کی تھی۔ جس کی وجہ سے اس کی تیار کردہ الیکٹرانک کی عالمی منڈی میں کھپت بہت کم تھی۔ چنانچہ وہ بین الاقوامی تجارت میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے معاشی جکڑ بندیوں کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ بالآخر منتشر ہو گیا۔ آج ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے دنیا سے درآمدات کا محتاج ہے۔ اس کو درآمدات کی وجہ سے بڑے تجارتی خسارے کا سامنا ہے اور غیر ضروری اشیاء کی درآمدات کو روکنے کیلئے حکومت نے بند خوراک دودھ، چاکلیٹ اور ڈیری مصنوعات کی درآمدات پر ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ حکومت کو ا درآمدی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بیرونی قرضوں سے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنا پڑتا ہے۔ درآمدی خسارہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تجارتی اور کرنٹ خسارہ خطر ناک خد تک بڑھ چکا ہے۔

ہمارے ملک میں لا تعداد پرائیویٹ سیکٹر میں یونیورسٹیاں کام کر رہی ہیں جہاں سے لاکھوں کی تعداد میں طالبعلم ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں، جن کی گلوبل مارکیٹ میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے پاکستان سے اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے والے بیرون ممالک میں اپنے تعلیمی معیار کے مطابق ملازمتیں نہیں حاصل کر سکتے۔ عام طور پر ہوٹلوں و سٹوروں میں ملازمت کرتے یا ٹیکسی چلاتے ہیں۔ جس کی وجہ اُن کو پڑھایا جانے والا نصاب سائنس اور ٹیکنالوجی کے عالمی معیار سے مطابقت نہیں رکھتا۔  انسانی سرمائے کی تخلیق کا تعلق ایسے فن اور ہنر کا حصول ہے جو طالب علم کو عالمی منڈی میں جاب کے حصول میں معاونت کر سکے۔ ہم ویسے بھی کتاب دوست قوم نہیں ہیں۔ کتابوں کو رٹ کر محض ڈگری اعلیٰ نمبر اور ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے پاکستان میں شائع ہونے والی کتابوں کا پانچ سو کا ایک ایڈیشن فروخت ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ یہاں پر علم دوست کتابیں کون پڑھے گا۔ تعلیم کا معیار یہ ہے کہ CSS کے امتحان میں شریک دس ہزار شریک امیدواروں میں سے بمشکل 300 کامیاب ہوتے ہیں۔ کسی ریاست میں صنعتی ترقی کیلئے انسانی وسائل کے ہنر مندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ 1970سے پہلے پیدا ہونے والی نسل کے تعلیمی معیارات دوسرے تھے جن میں لسانی علوم، سیاست اور معاشیات کو اہمیت حاصل تھی۔ کیونکہ اس وقت جاب مارکیٹ کلیریکل یا انتظامی شعبہ تک محدود تھی۔ مگر 1980کے بعد تیز رفتار تبدیلیوں کا دور شروع ہوا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے اہمیت حاصل کرلی۔  آج کی نوجوان نسل خود کو سیاسی و سماجی ثقافت کے ساتھ انٹر نیٹ، ای میل ، گوگل سیل فون اور یاہو وغیرہ سے تعلق رکھنا ضروری سمجھتی ہے۔ ترقی یافتہ سکولوں کے چھوٹے بچے کمپیوٹر اور گوگل کے ذریعے اپنی اسائنمنٹ مکمل کرتے ہیں۔ چھوٹے بچے بھی اپنے والدین کے موبائل فون میں کارٹون دیکھنے میں یا گیم کھیلنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ مگر دوسری طرف نصاب کو عالمی مارکیٹ کی ضروریات اور ملازمتوں کیلئے بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔

جن ممالک نے اپنے انسانی سرمائے کی جدید ٹیکنالوجی اور گلوبل انتظامات کے تحت تشکیل دی ہے وہاں پر عالمی سرمایہ کاری منتقل ہوئی ہے۔ جس کی مثال ملائشیا ، جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کوریا، تائیوان، تھائی لینڈ، ہانگ کانگ اور سنگا پور اور جاپان شامل ہیں۔ آج چین کی بڑھتی ہوئی برآمدی تجارت سے امریکہ اور یورپ خوفزدہ ہیں اور آزادانہ تجارت کی بجائے تحفظاتی تجارت کی بات کرتے ہیں۔ تاکہ وہ اپنی صنعت کو درآمدگی دباؤ سے آزاد رکھ سکیں ان ممالک نے موصلات اور ٹرانسپورٹیشن میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو شکست دے دی ہے۔ فائبر آپٹک ویب کا انقلاب انٹرنیٹ اور سرچ انجن نئی ثقافت کو جنم دے رہا ہے۔ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی درآمدات زیر استعمال ہیں مگر ہماری انڈسٹری اور زراعت پیچھے رہ گئی ہے۔ پانی کے وسائل میں کمی آ رہی ہے۔ ہم نیو کلیئر بجلی گھروں کی بجائے کوئلے سے بجلی بنانے والے کار خانے لگا رہے ہیں جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوگا۔ 1990کے بعد پیدا ہونے والی جدید ٹیکنالوجی کی پیدا وار ہے اور علمی حصول کیلئے کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی محتاج ہے جس سے اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ وہ تقلید اور نقل کی قائل ہے۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کمپیوٹر کا صرف بیس فیصد استعمال درست ہے۔ اسٹفن ہاکننگ کہتا ہے کمپیوٹر احمقوں کا ڈبا ہے۔ ہم سب کچھ کمپیوٹر سے دماغ میں فیڈ کر رہے ہیں ، تخلیق یا ایجاد کچھ نہیں کرتے ہیں۔

چین اور کوریا ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہیں۔ پاکستان ٹیکنالوجی کے اعتبار سے پسماندہ ہے۔ ہمارے ہاں امیر اور غریب طبقات کے درمیان وسیع خلیج ہے۔ ہمارے سیاست دان اور بیور و کریسی لوٹ مار کر رہی ہے ۔ ہمارا مالیاتی اور انتظامی ڈھانچہ ناقص ہے۔ اس پسماندگی کی صورتحال میں ہم سی پیک سے کس طرح مساوی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 80 فیصد آبادی کا کوئی پرسان حال نہیں۔ 90 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ شہروں میں ٹرانسپورٹ کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ سڑکیں ناقص میٹریل کی وجہ سے بنتے ہی ٹوٹ جاتی ہیں جس کی وجہ سے ستر سال سے ترقیاتی  تعمیراتی کام  شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوتا رہا ہے۔ قوم کی بڑھتی ہوئی پسماندگی اور غربت کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ غریبوں کے علاج کی مناسب سہولیات موجود نہیں ہے۔ تعلیم پر نجی شعبہ غالب آ چکا ہے۔ اس کی اجارہ داری میں تعلیم مہنگی ہے جس کو غریب حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ پاکستان میں غریبوں کی دنیا اجڑ چکی ہے۔ صنعتیں تیزی سے بند ہو رہی ہیں ، بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف سروسز سیکٹر، بینکاری اور تجارتی ادارے ترقی کر رہے ہیں۔

غربت میں اضافہ کی وجہ جہالت کے ساتھ ملک کی 48 فیصد خواتین آبادی کا مجموعی قومی پیداوار میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ ہم قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہیں مگر ان وسائل کو بروئے کار لانے کیلئے ہمارے پاس ویژنری قیادت موجود نہیں ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ بے روزگار انجینئر ہیں جس کی وجہ صنعت کاری کے عمل کا رک جانا ہے۔ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان سکولوں میں ٹیچنگ کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان کی توانائیاں ، غربت ، جہالت اور بے روز گاری کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہیں۔ اگر ہم نے انسانی سرمائے کی تخلیق کی طرف توجہ نہ دی تو ہم چین سے سی پیک منصوبوں میں کیسے شراکت داری کرسکیں گے۔ اس لیے تعلیمی نصاب کو عالمی گلوبل مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق بنانا ہوگا۔ نصاب کی عملیت کے پہلو کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ کیونکہ محض لا تعداد غیر معیاری اور نا قابل عمل ڈگریوں کے اجراء سے انسانی سرمائے کی تشکیل کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا ہے۔