انصاف کی مساوی فراہمی ضروری ہے
- تحریر حسین شہادت
- اتوار 22 / اکتوبر / 2017
- 4857
انسانی معاشرے کی بقا، استحکام ، توازن یا برابری کا انحصار انصاف کی بلاامتیاز فراہمی سے مشروط ہوتا ہے ۔ یہی معاشرے کی تعمیر و ترقی کیلئے جزوِ لازم بھی قرار دیا جاتا ہے ۔ اگر کسی فرد کو برابری کی بنیاد پر اس کے حقوق میسر آجائیں تو وہ یقینی طور پر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے کا سوچنے اور نہ اس میں غفلت کا مرتکب نہیں ہوگا۔
ترقی یافتہ معاشروں میں اسی کو بنیاد بناکر حکمرانی کی جارہی ہے کیونکہ جب لوگ خوشحال ہوں گے تو خرابی کا تصور زائل ہونا شروع ہوجائے گا۔ لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی ہوتی رہے گی تو تخریبی عوامل کا وجود ناپید ہونا لازم سی بات ہوگی ۔ اسلام سے قبل کا زمانہ ء جاہلیت میں انصاف نظر نہیں تھا، اشرافیہ کیلئے الگ اور عام لوگوں کیلئے الگ نظام عدل قائم تھا۔ جس سے عام آدمی کا استحصال ہوتا اور معاشرے میں انتشار اور تناؤ کی کیفیت ہر لحظہ محسوس کی جاتی تھی ۔ انسان کی تذلیل ہورہی تھی اور معاشرہ تباہی و بربادی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ نبی آخرالزماں ﷺ کو بنیادی طور پر اس لئے مبعوث کیا گیا کہ انسانی زندگی تذلیل کی آخری حدیں چھو رہی تھی، آپ ﷺ نے اللہ کا قانون پھر سے اس کے بندوں میں قائم کرنے کی جدوجہد کی تاکہ انسان کا احترام بحال ہوجائے ۔ وہ انسان جو اللہ کواپنی مخلوق میں سب سے زیادہ عزیز ہے ۔ یہ ایسا نظام عدل تھا جس سے انسان کی توقیر میں اضافہ ہوا، اللہ کی فرمانبرداری کا احساس بیدار ہوا اور صلہ رحمی کا جذبہ پروان چڑھا۔
معاشرتی اعتبار سے آپ کسی جانور کے ساتھ بھی صلہ رحمی کا معاملہ کریں تو وہ بھی آپ کا وفادار ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ ایک انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ بہتر برتاؤ کر ے گا تو یقیناً آپس میں رواداری اور بھائی چارے کو فروغ ملے گا جس سے معاشر یمیں عدم توازن کی فضا کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔ انتشار جیسی کیفیت بھی دم توڑ دے گی۔ نیکی اور بدی کی ازل سے ایک دوسرے کے متضاد ہیں ، نیکی بھلائی کو فروغ دیتی ہے جبکہ برائی کا اولین مقصد انتشار ، افراتفری اور معاشرے میں رہنے والے افراد میں تلخیاں پیدا کرانا ہے۔ یہ بات بھی طے ہے کہ نیکی ہی نے بدی پر حکومت قائم کرنی ہے لہٰذا وقتی طور پر اگر شیطان اپنے حربے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ تصور کرلینا غلط ہوگا کہ اسی میں بقا ہے۔
اللہ نے انبیا کرام کے ذریعے انصاف کرنے کے پیمانے فراہم کئے تاکہ معاشروں میں پائی جانے والے عدم توازن کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ نبی کریم ﷺ کائنات میں اللہ کی جانب سے آخری رہبر و رہنماء بناکر مبعوث کئے گئے۔ آپ ﷺ کے پاس ہر زمانے کیلئے عدل و انصاف پر مبنی اصول و ضابطے موجود تھے جو آپ ﷺ نے اصحاب اکرامؓ کے ذریعے سے تما م دنیا میں پہنچائے ۔ آپ ﷺ نے دنیا کو بتا دیا کہ اللہ کے نزدیک عزیز و رشتہ دار ، رنگ و نسل ، قوم قبیلے ، صاحب ثروت ہو یا عام آدمی سب کیلئے یکساں قانون اور نظام عدل ہے۔ ہر ایک کیلئے ایک طرح کا پیمانہ ہے۔ دین میں کسی کیلئے کوئی امتیازی سلوک روارکھنا معاشرے کی نبیادی اکائی سے تصادم ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جس قوم نے ترقی کی وہاں نظام عدل کو اہمیت دی گئی ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر قانون کی حکمرانی کیسے یقینی بنائی جاسکتی ہے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ انصاف کی بروقت فراہمی ہو، سہل طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ لوگوں کو انصاف کیلئے دھکے نہ کھانے پڑیں ۔ ہم پاکستان میں انصا ف ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں جو سہل انداز میں فراہم ہو۔ ہماری خوش بختی ہے کہ ہم اس نبی ﷺ کی امت میں سے ہیں جس نے ہمیں دائمی نظامِ حیات عطا فرمایا ہے جو اسلامی تصور کا آئینہ دار ہے۔ نظامِ عدل کے قیام کیلئے بنیادی شرائط میں بلا تعصب ، بغیر دباؤ اور غیر جانبدارانہ منصفوں کا ہونا لازم ہے ۔ عجلت میں کئے جانے والے فیصلوں سے بگاڑ کا خدشہ اور تاخیر سے ہونے والے فیصلوں سے معاشرے میں انتشار پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس طرح کے فیصلوں سے انصاف اپنی موت آپ مرجاتا ہے ۔ جلد بازی میں آنے والے فیصلوں سے ناانصافی ہوجانے کا احتمال جبکہ تاخیری فیصلوں سے ایک فریق کو سب کچھ جبکہ دوسرے کا سب کچھ تباہ ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے ۔
ہمارے یہاں جس طرح کا نظامِ عدل ان دنوں رائج ہے اس میں سب سے بڑی خرابی بھی یہی ہے کہ کئی بار عجلت میں اور بعض اواقات تاخیری حربے استعمال ہوجاتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ دیوانی اور فوجداری مقدمات کے فیصلوں میں دن ، ماہ ، سال کی بجائے دہائیاں لگ جاتی ہیں ۔ سائیلین کی نسلیں کورٹ کچہری کے چکر لگاتی رہتی ہیں ، جمع پونجی تک ختم ہوجاتی ہے لیکن فیصلہ نہیں ہوپاتا ۔ ایسا کیوں ہے ۔ دراصل نظام عدل سے منسلک افراد میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا فقدان پایا جاتا ہے۔ عدالتوں کا عملہ سائیلین سے گاہک جیسا برتاؤ کرتا ہے جس سے مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ملک میں انصاف کی فراہمی اصل رکاوٹ پرو سیجر کی ہے کیونکہ اس کا تعلق تو براہ راست قانون سازی سے ہے۔ البتہ بشری خرابیوں کے باعث معاملات میں کاوٹیں پیدا ہورہی ہیں ۔
ہمارے یہاں لالچ ، دولت کی ہوس، مسلکی اور نسلی تعصب نے ہمیں پریشان کردیا ہے۔ یہی بدی ہے اور یہی شیطان کی انسان کے خلاف ابدی سازش ہے۔ اس جنگ کو جیتنا ہمارے نظام ِ عدل کو قائم رکھنے والے ادارے کے ہر فرد کا عزم ہونا چاہئے ۔