قومی مفاد کی بحث میں عام آدمی غائب ہے
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 22 / اکتوبر / 2017
- 5318
پاکستان کے سیاسی اور عسکری بیانیہ میں قومی مفاد کی بحث عمومی طور پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ بحث صرف ان طبقات تک محدود نہیں بلکہ اہل دانش اور فکری محاذ پر کام والے دیگر عناصر یا ادارے بھی اس بحث کا حصہ ہیں ۔ ہر بالادست یا طاقت ور فریق اپنے ہی نقطہ نظر کو قومی مفاد سے جوڑتا ہے جبکہ دیگر فریقین کے نقطہ نظر پر نہ صرف تنقید کرتا ہے بلکہ اس نقطہ نظر کو قومی مفاد کے برعکس قرار دیتا ہے۔ لفظ ’’ قومی مفاد‘‘ ہماری ذاتی مفاداتی سیاست میں ’’ ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور فریقین اس لفظ کو اپنے حق میں استعمال کرکے ذاتی مفاد اور خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں ۔ پاکستانی معاشرہ بنیادی طور پر قومی مفاد کی اس بحث میں تقسیم نظر آتا ہے ۔ قومی سطح پر آپ کی سوچ اور فکر یا بیانیہ تقسیم ہوگا تو اس کا اثر اجتماعی طورپر معاشرے میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔
بنیادی طور پر ایک ذمہ دار اورمہذہب ریاست او را س کے تمام فریقین قومی مفاد کا تعین کرتے ہوئے باہمی مشاورت اور متفقہ فیصلہ سازی کے عمل کو تقویت دیتے ہیں ۔ جمہوری معاشرے کی خوبی اور کامیابی کی کنجی بھی باہمی مشاورت اور تمام اداروں اور افراد کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہی ہے ۔ ایسی ذمہ دار ریاستوں میں کوئی ادارہ کسی پر بالادستی دکھانے کی بجائے اپنے اپنے سیاسی ، انتظامی اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر کام کرتا ہے ۔ مگر پاکستان کا مقدمہ ایک ذمہ دار ریاست کے حوالے سے کمزور ہے ۔ ہم قومی مفاد کی بحث کو محض اپنی سو چ تک محدود کرکے باقی اداروں کی اہمیت کو کم کرتے ہیں یا ان کو نظرانداز کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ قومی مفاد کا تعین کیسے ہو۔ سیاسی اور جمہوری نظام میں یہ حق منتخب حکومت کو ہوتا ہے ۔ لیکن جب ہم حکومت کا نام لیتے ہیں تو اس کا مطلب یک طرفہ بادشاہت یا فراد واحد کی حکمرانی نہیں ہوتا ۔ جمہوری نظام میں فیصلہ سازی اور قومی مفادا ت کے تعین کے لیے عملی طور پر ادارے موجود ہوتے ہیں ۔ ریاستی نظام میں اداروں کا تعین ہوتا ہے کہ کون سا ادارہ کس نوعیت کی فیصلہ سازی کا حصہ گا ۔ لیکن ہمارے یہاں چاہے سیاسی جمہوری حکومتیں ہوں یا غیر جمہوری یا فوجی حکمرانی ہو ، سب کے معاملات میں باہمی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھنے کا رجحان بہت کم ہے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان معاملات میں ہماری کمٹمنٹ کمزور ہوتی ہے اور ہم قومی مفاد میں ریاست ، حکومت اور عوام کے مفاد کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفاد یا بڑی طاقتوں کے دباؤ میں فیصلے کرتے ہیں۔
قومی مفاد کے تعین میں ایک مسئلہ وقتی مفاد ہے ۔ یقینی طور پر ریاستی اور حکومتی معاملات میں وقتی مفاد کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے لیکن ہمیں اپنی قومی پالیسی میں لمبی مدت کے قومی مفادات اور اصولوں کو بھی مقدم رکھنا پڑتا ہے ۔ کمزور حکومتوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کیونکہ داخلی محاذ پر کمزور ہوتی ہیں تو وہ بڑے اور مضبوط فیصلے کرنے یا قومی مفادات کو زیادہ طاقت دینے کی بجائے کچھ ایسے فیصلے بھی کرتی ہیں جو آگے جاکر ہماری داخلی خود مختاری اور قومی سلامتی یا سیکورٹی کے معاملات میں خرابی پیدا کرتے ہیں ۔ اس لیے جب قومی مفادات کے تعین میں ہم ذہنی الجھاؤ، سیاسی مصلحتوں، ڈر اور خوف، سیاسی و معاشی کمزوریوں اور ذاتی مفاد کا شکار ہوں گے تو نتیجہ منفی ہی ہوگا۔ یہ عمل ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان دوریاں اور خلیج کو نمایاں کرتا ہے ۔ اس وقت بھی پاکستان میں جو بھی طاقت کے مراکز فیصلہ سازی کررہے ہیں لگتا ان میں باہمی مشاورت کا فقدان ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ریاستی وحکومتی سطح کے علاوہ اہل فکر میں بھی قومی مسائل پر ایک کچھڑی پکی ہوئی ہے یا الجھاؤ نمایاں ہے ۔ قومی مسائل میں الجھاؤ کی سیاست فطری بات ہوتی ہے ۔ اصل مسئلہ اپنے آپ کو اور قوم کو اس الجھاؤ سے باہر نکالنا ہوتا ہے ۔ یہ کام ریاستی و حکومتی اداروں کے تدبر، فہم وفراست کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ ہمارے طاقت کے مراکز کا المیہ یہ ہے کہ وہ سیاسی بنیادوں پر جو بھی بڑا یا مشکل فیصلہ کرتے ہیں، اسے قومی مفاد سے جوڑ کر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن جب قومی مفادات کے تعین میں ریاست یا حکومت تنہا ہو اور لوگ ان کے ساتھ نہ کھڑے ہوں تو قومی مفاد کا عمل کمزور ہوتا ہے ۔
اس وقت بھی پاکستانی ریاست ایک مشکل صورتحال سے گزررہی ہے ۔ ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہمیں قومی مفاد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ بالخصوص ایک ایسے موقع پر جب ہمیں بہت سے ممالک مضبوط دیکھنے کی بجائے کمزور دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اس کے لیے وہ اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا بھی ہیں ۔ یہ لوگ محض غیر پاکستانی ہی نہیں بلکہ کئی ایسے لوگ ہمارے اپنے اندر بھی موجود ہیں جو ہماری کمزوریوں یا تضادات کے باعث ہمارے قومی مفاد کے برعکس کام کررہے ہیں۔ قومی مفاد کے نام پر جبر اور دھونس کی بنیاد پر لوگوں پر فیصلے تھوپنے سے ہم اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکتے ، اور لوگ مشکل وقت میں ریاست یا حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کرتے ہیں۔ قومی مفاد کی بحث کو یہاں ایک محدود دائرہ کار میں بھی رکھ کر دیکھا جاتا ہے ۔ ہم قومی مفادات کو محض سیکورٹی کے معاملات تک محدود کرکے دیکھتے ہیں حالانکہ سیکورٹی ایک پہلو ہے ۔ جب تک قومی مفاد کی بحث میں عام آدمی کی ترقی اور خوشحالی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا قومی مفاد کی بحث ہمہ جہت نہیں ہو سکے گی۔ عام آدمی کی شمولیت سے مراد اس کے بنیادی حقوق کی ضمانت اور تحفظ ہوتا ہے ۔ جس میں اسے بنیادی سہولتیں تعلیم ، صحت، روزگار، سیکورٹی ، انصاف، نقل حمل ، ماحول ، تحفظ مل سکے۔ دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ ہماری ریاست اور حکومتیں قومی مفاد کی بحث کو ہتھیار بنا کر اس کو عام آدمی کے خلاف استعمال کرتی ہیں ۔ عام آدمی کو تسلی دی جاتی ہے کہ ملک مشکل صورتحال سے دوچار ہے تو اسے بہت سے امور میں قربانی دینی ہوگی۔ لیکن یہ قربانی محض کمزور طبقات تک کیوں، اس سے بالادست طبقات کیوں مبرا ہیں۔ اس پر غور کیا جانا چاہیے۔
عام آدمی کا قومی مفاد یہ ہے کہ روزمرہ کے معاملات میں آسانیاں ہوں تاکہ وہ ایک منصفانہ اور شفاف انداز میں اپنی زندگی گزارسکے ۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، سیاسی اور معاشی طور پر پھیلتی ہوئی محرومیوں، عدم انصاف ، عدم روزگار، سیکورٹی اور تحفظ سمیت بنیادی تعلیم اور صحت سے محرومی کی سیاست میں میرا قومی مفاد کہیں گم ہوکر رہ جاتا ہے ۔ یہ سارا مسئلہ عدم شفافیت پر مبنی کرپٹ اور ظالمانہ طرز کی حکمرانی کے نظام کی وجہ ہے پیدا ہوتا ہے ۔ یہ ایسا نظام ہے جہاں طاقت ور طبقات کا باہمی گٹھ جوڑ عام آدمی کے لیے استحصال پر مبنی سیاست کو طاقت فراہم کرکے اپنی مفاداتی سیاست کو تحفظ دیتا ہے ۔ عام آدمی کمزور اور طاقت ور طبقات کی حکمرانی صرف ظالمانہ نظام کو ہی طاقت فراہم کرتی ہے جو ہمارے مفاد میں نہیں ۔ اس لیے پاکستان میں موجود وہ طبقہ جو واقعی تبدیلی چاہتا ہے، اسے قومی مفاد کی بحث کو نئے سرے سے سمجھنا ہوگا۔
یہ عجیب قومی مفاد ہے کہ عام آدمی پر سرمایہ کاری کیے بغیر ہم ملک کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر لے جانا چاہتے ہیں ۔ یہ سفید جھوٹ ہے اس سے قوم کو خود بھی باخبر ہونا چاہیے اور دوسروں کو بھی خبردار کرنا چاہیے۔ قومی مفاد کی اس بحث میں اپنے خلاف ہونے والا استحصال قبول نہیں کیا جاسکتا۔ یہی سوچ حقیقی قومی مفاد لی نمائیندگی کرتی ہے اور یہ ہی ہمارا قومی ایجنڈا بھی ہونا چاہیے ۔