اندھیر نگری چوپٹ مودی

پچھلے کچھ دنوں سے پوری دنیا میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ناکام اقتصادی پالیسی اور ان کی پارٹی کی جارحانہ رویّے کے بارے میں مختلف صحافیوں نے اپنے اپنے طور پر مضامین اور کالم لکھے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے نریندر مودی کی پالیسی کو ایک زوال پزیر پالیسی بتاتے ہوئے اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا کہ شاید آنے والے عام چناؤ میں نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑے۔

میں نے بھی ہندوستان کے کئی ٹی وی چینل پر نریندر مودی کی پالیسی پر سیاسی ماہرین کو نکتہ چینی کرتے ہوئے پایا ہے۔ اس کے علاوہ بی بی سی اور دیگر معروف نیوز ایجنسیوں نے بھی نریندر مودی کو ملک کی معاشی بدحالی کے لئے  ذمّہ دار ٹھہرارہے ہیں۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔ لیکن ان میں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی دو ایسے اہم مسئلے ہیں جو شاید نریندر مودی کے پھولے ہوئے سینے سے ہوا نکال رہے ہیں۔  تھوڑی دیر کے لئے ہم آپ کی توجّہ ریاست گجرات کے الیکشن مہم کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہاں نریندر مودی غیر معولی طور پر اپنی پالیسی کی دفاع کرتے ہوئے پائے جارہے ہیں جبکہ ایسا پہلے نہیں دیکھا گیا ۔ مودی اپنے اوپر تنقید کرنے والوں اور پچھلی کانگریس حکومت کو ملک کی معاشی حالت کی بدحالی کے لئے ذمّہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں نریندر مودی کو اس بات کا احساس ہورہا ہے کہ اب زمین ان کے پیروں تلے کھسک رہی ہے۔ مجھے بھی یہ اندازہ ہونے لگا ہے کہ اب لوگ مودی کے من کی بات کو سمجھنے لگے ہیں اور وہ اس دن کا انتظار کر رہے ہیں کہ کس طرح نریندر مودی کو ہرا کر موجودہ بحران سے نجات حاصل کی جائے۔ مودی چاہے جو بھی بیان دیں لیکن بہت سارے مسائل ایسے کو ہندوستان کے عوام سمجھنے لگے ہیں کیوں کہ وہ ان سے  دوچار بھی ہیں۔ ملک کے زیادہ تر بینک  بدترین قرضوں کی وجہ سے جدوجہد کر رہے ہیں جس سے خراب کریڈٹ اور گھریلو سرمایہ کاری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہندوستان کی معیشت تھم سی گئی ہے۔

یہاں میں آپ کو یاد دلانا چاہوں گا جب پچھلے سال اکتوبر میں نر یندر مودی نے اچانک نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا تو اس وقت ملک میں افراتفری کا ماحول قائم ہوگیا تھا۔ اس بات سے شاید نریندر مودی بھی اب پریشان ہوں گے کیونکہ ان کا یہ فیصلہ اب ان کو بھاری پڑ رہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے ہندوستان جیسے ملک میں جہاں ایک سوچی سمجھی پالیسی سے افراتفری مچ جاتی ہے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مودی کی اس بے باک اور احمقانہ قدم سے عوام پر کیا گزری ہوگی۔ اس کے بعد کئی مہینے تک بینک کے باہر عام انسان دن رات قطار لگائے پائے گئے۔ جسے دنیا بھر کے لوگوں نے حیرانی سے دیکھا۔ لوگوں کو اس بات کا خوف تھا کہ مودی کی اس حرکت سے ان کی جائز کمائی ضائع نہ ہوجائے۔ افسوس ناک بات یہ بھی ہوئی کہ اُن دنوں بینک کے باہر قطار میں کھڑے کئی لوگوں کی جان بھی چلی گئی اور بہت سارے چھوٹے پیمانے پر چلنے والے کارخانوں پر تالا بھی لگ گیا۔ لیکن مودی صاحب اپنی طاقت کے نشے میں چور لوگوں سے دھاڑ دھاڑ کر کہہ رہے تھے کہ ’ میں نے صرف پچاس دن مانگا ہے۔۔۔ تیس دسمبر کے بعد کوئی  کمی رہ جائے، کوئی میری غلطی نکل آئے ، کوئی میرا غلط ارادہ نکلے تو آپ جس چوراہے میں مجھے کھڑا کریں گے میں کھڑا ہو کر دیش جو سزا دے گا وہ سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں گا‘۔

خیر مودی صاحب کے جذباتی بھاشن اور جملے بازی سے ایک بار پھر ہندوستانی عوام جھانسے میں آگئے اور ان کو یوپی کے الیکشن میں کامیابی نصیب ہوئی۔ لیکن مودی کی بیوقوفی کے اقدام تھمے نہیں اور انہوں نے جولائی میں GST - Goods Services Tax جی ایس ٹی ٹیکس نافذ کر نے کا اعلان کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ تر کاروباری پریشان ہوگئے اور کئی لوگوں کے کاروبار بند بھی ہوگئے۔ پورے ملک میں کاروبار اور عام لوگوں میں جی ایس ٹی کو لے کر مایوسی اور پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔ اس سے سب سے زیادہ پریشان   چھوٹے کاروباری ہوئے جو اپنا کاروبار نقد کی صورت میں کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بڑے کاروباریوں کو بھی کافی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ کیونکہ مال خریدنے والوں پر بھی جی ایس ٹی کا بوجھ کافی بڑھ گیا ہے۔ گویا  جی ایس ٹی کی مار عام آدمی سے لے کر بڑے بڑے کاروباریوں پر دیکھی جا رہہ ہے۔Centre for the Study of Developing Socities - CSDC کے تازہ سروے کے مطابق زیدہ تر لوگ جی ایس ٹی سے ناخوش ہیں۔ تاہم اس کا نتیجہ آنے والا گجرات کا الیکشن ہی بتائے گا کہ کیا واقعی جی ایس ٹی سے لوگ ناخوش ہیں۔

ابھی یہ سارے مسئلے مسائل ہندوستان کی سیاست میں اتھل پتھل مچا ہی رہے تھے کہ مودی کی پارٹی نے یوپی کے الیکشن کی جیت کے بعد متنازعہ ہندو لیڈر یوگی ادتیا ناتھ کو یوپی کا وزیر اعلیٰ کا بنا کر ملک کے امن و سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ جب سے سر پھرے اور نفرتوں کے گرو  یوپی کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں، آئے دن ان کی کم عقلی اورنفرت انگیز تقریروں سے ہندوستان سمیت دنیا کے تمام لوگ حیران و پریشان ہیں۔ کبھی وہ تاج محل کے متعلق متنازعہ بیان دیتے ہیں تو کبھی مسلمانوں کے خلاف زہر گھولتے ہیں۔ مودی نے 2013 کی انتخابی  مہم میں لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی حکومت بنی تو وہ دس لاکھ نوکریاں فراہم کریں گے۔ لیکن جنوری میں ہندوستان کی ایکونامک سروے کے مطابق حالات اس کے بر عکس دکھائی دے رہے ہیں اور روزگار  میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ حکومت کے ڈاٹا کے مطابق بے روزگاری 5%بڑھ گئی ہے۔ وہیں دیگر رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ نوکریاں صرف کم نہیں ہوئی ہیں بلکہ آزادی کے بعد معیشت کی حالت اتنی خراب کبھی نہ تھی۔ ہندوستان کی اقتصادی سروے کا کہنا ہے کہ ملازمتیں پیدا کرنا ایک مرکزی چیلنج ہوتا ہے ۔ ہر سال ایک کروڑ سے زیادہ ہندوستانی  مزدوری کے مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں اور روزگار تلاش کرتے ہیں۔ جب کہ اس وقت لگ بھگ دو کروڑ چھ لاکھ ہندوستانی (جو کہ آسٹریلیا کی آبادی کے برابر ہے)  نوکری کی تلاش کر رہے ہیں۔

ہندوستان ایک عظیم ملک ہے جس کی شان و شوکت اور تاریخ پر ہر ہندوستانی کا سر فخر سے اونچا ہوجاتا ہے۔ چاہے وہ ہندوستان کا رہنے والا ہو یا وہ دنیا کے دیگر ممالک میں بسا ہو۔ لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ جب سے نریندر مودی ہندوستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں آئے دن ہندوستان کے متعلق ایسی ایسی خبریں سننے کو مل رہی ہیں جس سے انسان کا سر صرف نیچا نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ اس شش و پنچ میں پڑ جاتا ہے کہ آخر مودی ہندوستان کو تباہ و برباد کر نے میں کوئی کسر چھوڑیں گے کہ نہیں۔ چاہے ہندوستان کی اقتصادی حالت ہو یا ملک کی سالمیت ہو یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بات ہو۔ اب تو ان باتوں کو دنیا کے تمام ممالک کے لیڈر بھی محسوس کر رہے ہیں کہ مودی صرف جملے بازی میں ماہر ہیں ۔ جس سے وقتی طور پر ہندوستان کے معصوم عوام دھوکہ کھارہے ہیں ۔

اب شاید مودی کو بھی اپنے چوڑے سینے میں دراڑ پڑنے کا خوف دکھنے لگا ہے جس کا اندازہ ان کے حالیہ دفاعی بیانوں سے ہوتا ہے۔ آنے والے دن ہندوستان کے مستقبل اور سیاسی اتار چڑھاؤ میں اہم ہوں گے۔ لیکن فی الحال مودی نے اپنی احمقانہ پالیسی اور جارحانہ تقریروں سے یہ ثابت کر دیا کہ اندھیر نگری چوپٹ مودی۔