فرقہ وارانہ منافرت کی سیاست
- تحریر پروفیسر فتح محمد ملک
- سوموار 23 / اکتوبر / 2017
- 4079
تاریخِ اسلام میں جب سے خاندانی بادشاہت نے رواج پایا ہے تب سے سلاطین و ملوک مسلمانوں کو باہم متحارب فرقوں میں تقسیم در تقسیم کرتے چلے آ رہے ہیں- اِس حکمتِ فرعونی کی تازہ ترین مثال دُنیائے اسلام میں شیعہ سُنّی جنگ و جدل ہے- ابھی کل ہی کی بات ہے کہ افغانستان میں دو مساجد پر بیک وقت دہشت گرد حملہ آور ہوئے اور یوں عبادت میں مصروف ساٹھ مسلمان شہید کر دیئے گئے۔ زخمیوں کی تعداد ایک سو سے اوپر ہے۔ اِن میں سے ایک مسجد اہلِ سنت والجماعت کی ہے اور ایک اہلِ تشیع کی۔
اس پر مجھے بحرین کی نوجوان شاعرہ آیات یاد آئی ہیں۔ اِس شاعرہ کا ایک جھوٹا بیان خوب مشتہر کیا گیا تھا- اِس بیان میں یہ اعلان داغا گیا تھا کہ ’’میں شیعہ ہوں اور سُنیّوں سے نفرت کرتی ہوں-‘‘ اِس بیان کی ایک ایسے وقت میں اشاعت کی گئی تھی جب یہ طالب علم شاعرہ قید و بند میں بہیمانہ تشدد کا شکار تھی- نذیر لغاری نے آیات کی چند نظموں کا اُردو ترجمہ اپنے تعارفی نوٹ کے ساتھ شائع کیا تھا- نذیر لغاری نے شاعرہ سے متعلق اپنی تعارفی تحریر میں بتایا تھا کہ: ’’ 23 فروری 2011 کو ایک چوراہے پر آیات القرمزی نے ہزاروں مظاہرین کی موجودگی میں پُرجوش انداز میں ایک نظم پیش کی تھی- اس نظم میں بحرین کے وزیراعظم پر تنقید کی گئی تھی- اس وقت آیات القرمزی کی عُمر محض 20 سال تھی۔ پورا مجمع دم بخود ہو کر اس کی نظم سُن رہا تھا- اس واقعہ کے 11 روز بعد 6 مارچ 2011 کو آیات القرمزی نے ایک بڑے مجمع کے سامنے ایک اور نظم پڑھی- اس نظم میں براہِ راست ریاست کے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا- اسی روز یہ نظم یوٹیوب، ٹوئٹر اور سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس پر دکھائی جانے لگی تھی- اُن کی یہ نظم پورے بحرین میں پھیل گئی تھی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آیات القرمزی کا ناراض، غصیلا اور مشتعل لہجہ پوری عرب دنیا میں پھیل گیا تھا۔‘‘ چنانچہ آیات کو گرفتار کر لیا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا- تشدد کی کہانیاں عام ہوئیں تو بحرین کی پارلیمنٹ کے اٹھارہ اراکین رُکنیت سے مستعفی ہوگئے- اِن مظالم کے خلاف ایران میں زبردست مظاہرے شروع ہوئے تھے- ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے دُہائی دی تھی تو آیات کو جیل سے رہا کرکے گھر میں نظربند کر دیا گیا-
تعزیر و احتساب کے اِس سارے عمل سے کہیں زیادہ وہ جھوٹا بیان اذیّت ناک ہے جس میں شیعہ سُنّی منافرت کی آگ بھڑکا کر اپنی خاندانی بادشاہت کی حفاظت کا سامان کیا گیا تھا- مجھے یقین ہے کہ بحرین کا کوئی بھی شہری آیات پر اِس بُہتان کو تسلیم نہیں کر سکتا- نوجوان طالب علم شاعرہ کی نظمیں اِس بہتان کی مؤثر ترین تردید ہیں- ایک نظم میں حکمرانوں کو بتایا گیا ہے کہ:’’شیعہ سُنّی تو بھائی بھائی ہیں / مگر تمہارا دِل پتھر کا ہو چکا ہے/ تمہاری دھوکے بازی تمہارے اُستاد کی دھوکے بازی پر سبقت لے گئی ہے‘‘- ایک اور نظم بعنوان ’’میری بات سُنو‘‘ میں حکمرانوں سے یوں مخاطب ہیں:’’میری بات سُنو! ہم سب کی بات سُنو!! ہم ایک جیسے مطالبات کر رہے ہیں/ دونوں فرقے ، سارے بحرینی / تم لازماًجاؤ/ تم اب بھی مذاکرات کی دعوت دیتے ہو/ ظلم و ستم ، سفّاکی اور بربریت کے درمیان / مذاکرات کے کیا معنی/ نہیں نہیں/ ایک ہی لفظ نہیں/ ہمیں ہمارا بحرین واپس کرو/ اِس مُلک کو اُس کے لوگوں کو واپس کرو/ ہمیں واپس کرو/ ہم اِس دھرتی کے باسی ہیں/ بحرین ہمارا ہے اور / ہمارا ہی رہے گا‘‘-
جناب نذیر لغاری نے اِس جواں سال شاعرہ ، آیات کی جن نظموں کا ترجمہ پیش کیا ہے اُن میں سے ایک نسبتاً طویل نظم کا عنوان ہے : ’’شیطان اور سُلطان میں مکالمہ‘‘- اِس نظم سے استفادہ کرتے وقت علامہ اقبال کی متعدد نظمیں میرے کانوں میں گونجنے لگیں- پھر مجھے علامہ اقبال کی یہ حسرت یاد آئی کہ ’’ ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک/ کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک‘‘ اور پھر اقبال کی یہ للکار پوری دُنیائے اسلام میں گونج اُٹھی:
اے کہ نشاسی خفی را از جلی، ہُشیار باش!
اے گرفتارِ ابوبکر و علی، ہُشیار باش!
بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں اسلام کے معاشرتی اور سیاسی نظام کے موضوع پر اپنے ایک انگریزی مضمون میں علامہ اقبال نے دُنیائے اسلام کے سامنے یہ سوال رکھا تھا کہ جب خود اسلام ہی کا وجود خطرے میں ہو تو پھر اسلام کی کسی فرقہ وارانہ تعبیر پر جنگ و جدل کہاں کی دانش مندی ہے۔ یہ سوال آج بھی ہمیں گہرے غور و فکر کی دعوت دے رہا ہے۔ کاش ہم یہ سوچنے کے لیے تھوڑا سا وقت نکال سکتے۔ بادشاہوں کی سرپرستی میں فرقہ بندی ہی ، صدیوں سے مسلمانوں کی حیاتِ نو کے خواب کو مٹی میں ملاتی چلی آ رہی ہے- اِس پہ مجھے اپنی ایک بوسنیا کی طالبہ کے اندیشے یاد آئے ہیں- جرمنی کی ہائیڈلبرگ یونیورسٹی میں خزاں سمیسٹرکی آخری کلاس ختم ہوئی تو ایک طالبہ نے مجھ سے بات کرنے کا وقت مانگا- جب اُس نے بات شروع کی تو میں حیرت زدہ رہ گیا - اُس نے بتایا کہ اُس کا نام ہاڈی نہیں بلکہ ہادیہ ہے - اُس کا خاندان برسوں پہلے کاروبار کی غرض سے بوسنیا سے جرمنی کے شہر سٹُٹ گارٹ آ بسا تھا - اب میں اِس یونیورسٹی کو چھوڑ کریہاں سے دُور ایک اور یونیورسٹی میں جا رہی ہوں- میں نے پوچھا کہ کیا اُس یونیورسٹی نے زیادہ پُرکشش تعلیمی وظیفہ دے دیا ہے۔ اِس پر اُس نے بتایا کہ وہاں میرے لیے سِرے سے کوئی وظیفہ ہے ہی نہیں- میں ہائیڈلبرگ میں اپنے وظیفے سے دستبردار ہو کر وہاں جا رہی ہوں - اب مجھ سے یہاں رہا نہیں جاتا- بات یہ ہے کہ اب میں واقعتا مسلمان ہو چکی ہوں (علامہ اقبال : مسلماں کو مسلماں کر دیا طُوفانِ مغرب نے)- میرے پُرانے دوست حیران ہیں اور ہر روز پوچھتے ہیں کہ پہلے تو تم ہماری طرح پب میں بھی جایا کرتی تھی اور اُن تمام افعال اور اشغال میں ہمارے ساتھ شریک ہوا کرتی تھی جو یہاں کے نوجوانوں کی زندگی کا معمول ہیں- اب کیوں نہیں۔ تو میں کس کس کو سمجھاؤں کہ اب مجھے اسلام کا مطلب سمجھ آ گیا ہے- اب میں ایسا نہیں کر سکتی- آئندہ سمیسٹر جب میں یہاں سے دُور بہت دُور ہیمبرگ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کا آغاز کروں گی تب ہر کسی کو یہ پتہ چل جائے گا کہ میں جرمن طالب علموں کی سی طالبہ نہیں ہوں- میں ایک مسلمان لڑکی ہوں -
اِس پہ میں نے اُس کی اِس کایا کلپ کا سبب جاننا چاہا تو اُس نے بتایا کہ جب فسادات ، قتل و غارت اور تباہی و بربادی سے بچ کر ہمارے رشتہ دار بوسنیا سے ہمارے ہاں پہنچنے لگے تب یہ سوال پیدا ہوا کہ ہماری مسلمان شناخت کا مطلب کیا ہے۔ ہمیں ہمارے ہمسائے مسلمان سمجھ کر مظالم کا نشانہ بناتے چلے جا رہے ہیں اور ہمیں پتہ ہی نہیں کہ مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہے۔ بس یہ ہے وہ سوال جس نے ہمیں یہ سوچنے اور سمجھنے پر مجبورکر دیا ہے کہ اپنی دینی شناخت کو سمجھیں اور اُس کے مطابق زندگی بسر کریں- اِس پر میں نے اپنی اُس ذہین طالبہ کو مبارکباد دی اور اِس توقع کا اظہار کیا کہ بہت جلد پورے بوسنیا کو اپنی کھوئی ہوئی شناخت مل جائے گی - ہادیہ نے میری اِس رجائیت پسندی کو قبول نہیں کیا اور بتایا کہ یہاں جرمنی کے کیمپوں میں بوسنیا کے جو مسلمان مقیم ہیں اُن سے ملنے اور اُنہیں تحائف پیش کرنے کے لیے یہاں آباد جو مسلمان جاتے ہیں وہ اپنے سوالات سے اُنہیں پریشان کر دیتے ہیں- ایک سکہ بند سوال یہ ہے کہ مان لیا آپ مسلمان ہیں مگر یہ تو بتائیں کہ آپ کا مسلک کیا ہے۔ آپ مسلمانوں کے کس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بس اِس طرح کے سوالات اُنہیں پریشان کرنے لگے ہیں- وہ تو یہی سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک ہے ، توحید، رسالت اور ختمِ نبوت!
ہادیہ اِس سنگین اندیشے میں مبتلا تھی کہ اسلام کے آفاقی پیغام کو فرقہ بندی کے تنگ حصاروں میں بانٹ دینے سے یورپ کا مسلمان نِت نئی اُلجھنوں میں مبتلا ہوتا چلا جائے گا اور یہ نہ اسلام کے حق میں اچھا ہے نہ مسلمانوں کے حق میں- یہ سُن کر میں نے اُس سے پوچھا لفظ ہادیہ کا مطلب پتہ ہے - اُس نے کہا کہ اب پتہ چل گیا۔ تو میں نے کہا کہ خوب پڑھو ، خوب غور کرو، علم اور عمل کی دُنیا میں برق رفتار بن جاؤ، تشکیک ہی سے یقینِ محکم کے راستے نکلتے ہیں- آج میں پھر اِس سوال پر غور کر رہا ہوں کہ یورپ کی ہادیہ اور مشرقِ وسطی کی آیات کے فکر و عمل کا سرچشمہ کہاں ہے ۔ فرقہ وارانہ منافرت میں یا آفاقی اسلامی مسلک میں۔