نواز شریف کے دورہ پاکستان کے خدو خال

نواز شریف دوبارہ پاکستان کے طوفانی دورہ پر آرہے ہیں۔ یہ ان کی ایک باقاعدہ حکمت عملی کاحصہ ہے۔ جس کے تحت وہ چند دن کے لیے پاکستان آتے ہیں اور سیاسی درجہ حرات میں ہل چل پیدا کرتے ہیں۔ پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں آنے اور جانے کا یہ سلسلہ چلتا رہے۔ نواز شریف کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ ان کی گرفتاری گیم پلان میں نہیں ہے۔ اس لیے وہ اس کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اس بات کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف نے اپنے مخالفین کو یہ بات باور کروا دی ہے کہ ان کی گرفتاری سے فائدہ نہیں نقصان ہوگا۔

یہ درست ہے کہ نواز شریف اور مریم بی بی کی پہلی حکمت عملی یہی تھی کہ احتساب عدالت میں ٹرائل کو نہ چلنے دیا جائے۔ لیکن ٹرائل نہ رک سکا۔ تینوں ریفرنس میں فرد جرم عائد ہو گئی۔ میاں نواز شریف کی غیر موجودگی میں بھی ان پر فرد جرم عائد ہوگئی ۔ وطن واپسی سے پہلے نواز شریف سعودی عرب بھی گئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف کی والدہ پہلے ہی عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں ہیں۔ نواز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دو پہلو ہیں۔ پہلی بات نواز شریف اور شہباز شریف کے تعلقات ہیں۔ تعلقات ٹھیک نہیں یہ ایک کھلی بات ہے۔ لہذا اس موقع پر والدہ کا ایک کردار ہے۔ جس کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی لیے ملک واپسی سے پہلے وہ اپنی والدہ کے پاس گئے ہیں۔

یہ شریف فیملی کی روایات ہیں۔ اگر نواز شریف شہباز شریف سے ناراض ہیں تب بھی وہ اپنی والدہ کو اعتماد میں لیں گے اور اگر کوئی ایکشن لینا چاہتے ہیں تب بھی اعتماد میں لیں گے۔ اور اگر کوئی مفاہمت ہونی ہے تو وہ بھی و الدہ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ دوسرا میاں نوازشر یف کو علم ہے کہ یمن میں فوج نہ بھیجنے کے فیصلے سے سعودی عرب کے حکمران ان سے ناراض ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے نکالنے میں سعودی عرب کی ناراضی کا عمل دخل موجود ہے۔ اور اگر سعودی شاہی خاندان چاہتا تو کردار ادا کر سکتا تھا۔ اس لیے وہ شاہی خاندان سے تعلقات ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دورہ اس سلسلے کی بھی ایک کڑی ہے۔ وہ کس حد تک کامیاب ہوں گے۔ یہ الگ بات ہے میرے خیال میں کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔

نواز شریف کی جماعت میں اختلاف رائے بہت بڑھ گیا ہے۔ یہ روش چوہدری نثار علی خان نے شوع کی ۔ پھر تو حمزہ شہباز بھی اس میں شامل ہو گئے۔ ریاض پیرزادہ نے تو حد ہی کر دی۔ شہباز شریف نے بھی بات کی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے فارم ہاؤس والے اجلاس کی بھی بہت باز گشت ہے۔ قومی اداروں سے ٹکراؤ نہیں ہونا چاہیے والی بات تو زبان زد عام ہو گئی ہے۔ نواز شریف کولندن بیٹھ کر ایسے لگ رہا ہے جیسے پارٹی میں بہت منظم بغاوت ہو رہی ہے۔ اور اگر اس بغاوت کو سر اٹھانے سے پہلے ہی نہ کچلا گیا تو ان کے لیے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ نواز شریف قومی اداورں سے ٹکراؤ روکنے کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے نواز شریف اس ضمن میں واضح اور سخت موقف لینا چاہتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ جس کو ان کی پالیسی سے اختلاف ہے، وہ پہلے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے۔ اور اپنے بل بوتے پر انتخاب جیت کر دکھائے۔ پھر اپنی بات کرے۔ وہ پہلے مرحلہ میں ریاض پیرزادہ کو کابینہ سے فارغ بھی کرنا چاہتے ہیں۔

میاں نواز شریف نے ویسے تو پہلے دن سے نون لیگ کو ایک پرائیویٹ انٹر پرائز کے طور پر ہی چلا یا ہے۔ اس میں نواز شریف اکیلے نہیں عمران خان بھی ایسے ہی چلا رہے ہیں۔ میاں نواز شریف نون لیگ کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں۔ وہ اس میں شراکت داری کے قائل نہیں ہیں چاہے وہ شراکت داری ان کے اپنے بھائی کی ہی کیوں نہ ہو۔ وہ نون لیگ کی قیادت مریم نواز کو دینا چاہتے ہیں۔ اس پر وہ کسی بھی قسم کی کوئی بھی مفاہمت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی وراثت مریم نواز کو دینے کے لیے ہی انہوں نے اپنی وزارت عظمیٰ داؤ پرلگا دی تھی۔ اس لیے یہ سوچنا کہ  وہ شہباز شریف کو موقع دے دیں گے ممکن نظر نہیں آتا۔ نواز شریف کے پاس اس معاملے میں کوئی مفاہمت نہیں۔ اگر شہباز شریف بھائی کے ساتھ کھڑے رہیں بھائی کے ایجنڈے پر چلیں۔ اختلاف رائے کی جرات نہ کریں۔ اطاعت کریں تو شاید دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ بھی شہباز شریف کا حق نہیں ہے۔ اس لیے نواز شریف اپنے اس دورہ پاکستان کے دوران اس حوالے سے ابہام بھی کلیئر کر دیں گے۔ وہ واضح کر دیں گے کہ جس کو مریم کی قیادت پر اعتراض ہے وہ جا سکتا ہے۔ جس کو رہنا ہے اسے مریم کی قیادت پر اطاعت کرنا ہوگی۔ نواز شریف کا یہ دورہ پاکستان شہباز شریف کے لیے مشکلات پیدا کر دے گا۔ یہ دعا کی جا سکتی ہے کہ نواز شریف یہ نہ کریں۔ لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ موڈ یہی ہے۔

نواز شریف سول بالا دستی کے نعرہ کو آگے چلانا چاہتے ہیں۔ انہیں اپنی حکومتوں میں اب کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کے لیے شاہد خاقان عباسی بھی فضول ہیں۔ وہ بھی ان کے لیے کچھ نہیں کرسکے۔ اس لیے حکومت رہے نہ رہے، سسٹم رہے نہ رہے نواز شریف کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ نواز شریف کو علم ہے کہ اگر کسی نہ کسی طرح سسٹم گول ہو گیا تو وہ مظلوم بن جائیں گے۔ سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ آجائیں گی۔ ریفرنس اپنی وقعت کھو دیں گے۔ اور پھر این آر او کے راستے بھی بن جائیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف کس حد تک اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہو تے ہیں۔ کیا ان کی پارٹی ان کو روک سکے گی۔ یا وہ پارٹی سے اختلاف رائے کچل دیں گے۔