پاکستانی دانشوروں کی ثقافتی، نظریاتی اور سیاسی گھٹن

پاکستان کے دانشور جس طرح لبرل ازم کی آڑ میں اس خطے کے رہنے والے انسانوں کے طرز زندگی، آرٹ، تاریخ اور علمی ورثے کو ایک متعصبانہ اصطلاح سے جوڑتے رہے ہیں اس کو سطحی لبرل ازم کا نام دیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی لبرل ہمنوا بد ترین علمی گھٹن میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کی پرانی نو آبادیاتی سوچ ہے۔ ان کو معلوم نہیں کہ نو آبادیاتی نظام میں جن مقاصد کے تحت محکوم اقوام کی ثقافتوں، نظریات اور سیاست کے بارے میں تضادات پیدا کئے گئے تھے، وہ اب کسی کام کے نہیں رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان لبرلز ابھی تک انگریز منشیوں کی زبان میں بات کرنے کو جدیدت اور ترقی کا نام دیتے ہیں۔

ہمارے لبرل یہ سمجھتے ہیں آرٹ اور فنون لطیفہ کو گلوبل مارکیٹ میں پذیرائی حاصل ہو کیونکہ مختلف اقوام کے لٹیریچر، ڈانس، میوزک، نظریاتی اور سیاسی ارتقاء کے حوالے سے شاندار روایات ہیں۔ ہمارے ہاں مذہبی اعتبار سے موسیقی محفل سماع کے حوالے سے صوفیائے اکرام کا خاصہ رہی ہے جبکہ مختلف مذہبی مکتبہ فکر آج بھی اس کے مخالف ہیں۔ بلکہ ماضی میں ایم ایم اے کی حکومت نے پختون خواہ میں موسیقی پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس ثقافتی گھٹن کی وجہ سماجی اور مذہبی دباؤ ہے جو کہ عقائد کے زیر اثر ہے۔ ہمارے ہاں ثقافتی گھٹن کا دوسرا سبب معاشی پسماندگی ہے مگر اقتصادی طور پر خوشحال ہونے کے باوجود ثقافتی پسماندگی کے معاملات کو حل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اقتصادی طور پر ترقی یافتہ ہونے کا مطلب ہے ہم یورپ اور امریکہ جیسے کسی ملک کو کالونی بنائیں، کسی کے وطن کو جنگ و جدل کا مرکز بنائیں۔ کیا پاکستان کے امیر طبقات اور سیاستدان ثقافتی اور نظریاتی گھٹن سے نکل چکے ہیں۔ ہمارا سرمایہ دار کارپوریٹ میڈیا کیا ٹیلی ویژن پر موسیقی اور ڈانس کے پروگرام دیکھانے کی جرات کر سکتا ہے۔

آج کل کارپوریٹ میڈیا سیاستدانوں کی گرفت میں ہے جس کا استعمال تحریک انصاف بھرپور طریقہ سے کر رہی ہے۔ اور اس قسم کے جلسے جلوسوں کا رواج جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوں۔ یہ اس جماعت کے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ میڈیا کی لائیو کوریج بھی جلسوں پر اٹھنے والے خرچوں کا ایک اہم خاصہ ہے۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو مختلف طریقوں سے نوازا جاتا ہے۔ ان کو اپنی بڑی کمپنیوں کے اشتہارات کے علاوہ براہ راست بھی بک کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر اینکرز حضرات کی چاندی ہو گئی ہے۔ وہ خود ان جلسوں میں شرکت کرکے منتظمین کی ہدایات پر پروگرام کرتے ہیں، اس طرح جلسے جلوسوں کا ایک نیا کلچر اور ثقافت سامنے آئی ہے۔ ہم جو کچھ اس جماعت کے جلسوں میں دیکھتے ہیں وہ ہمیں پیپلزپارٹی یا جماعت اسلامی یا مسلم لیگ (ن) کے جلسوں میں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ کیونکہ ان میں بھرپور طریقہ سے میوزک کے ذریعے ثقافتی سر گرمیاں دکھائی جاتی ہیں جس کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں نوجوان نسل ان جلسوں میں شرکت کرتی ہے۔ اس کی یہ بھی وجہ ہے مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس پی ٹی آئی کی حامی جدیدیت کی حامی ہے۔ جس میں نظریات نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

جلسہ گاہ میں مقررین اپنی مرضی سے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جس میں اخلاقیات کا کم ہی لحاظ رکھا جاتا ہے۔ اس وقت تحریک انصاف نظریات کے حوالے سے مغربی اور مقامی کلچر کا درمیانی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس کے حامی دانشور بیک وقت ماضی اور مستقبل سے اپنی وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر اور فکری سطح پر پسماندہ ہیں۔ ہمارے ہاں ثقافتی گھٹن کی وجہ ماضی سے وابستگی بتائی جاتی ہے کہ جس سے ترقی رکی ہوئی ہے، وہ ماضی پرست ہوتی ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے انسان کا ماضی کے ساتھ بہر صورت تعلق ہوتا ہے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ماضی پرست ہونے کا ہر گز مقصد نہیں کہ حال اور مستقبل کے تقاضوں سے بالکل لا تعلق ہو جائیں۔ ماضی کے اچھے دنوں کی یاد اصل میں حال کے برے دنوں کے خلاف ایک احتجاج ہے اور حال کے مسائل سے وابستگی کا ثبوت ہے۔ ماضی سے سیکھا بھی جاتا ہے اور اس کو یاد کرکے لوگوں کو متحرک کیا جا سکتا ہے۔ بہر صورت ماضی سے وابستگی مذہبی اور فکری اعتبار سے پچیدہ معاملہ ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں کے لوگوں کے بہت سارے سیاسی، نظریاتی اور ثقافتی مسائل کی بڑی وجہ یہ ہے ان لوگوں کو امپائر اور ریاستوں نے اپنے ماضی سے بری طرح علیحدہ کیا ہے۔ ماضی سے وابستگی نہیں بلکہ ماضی سے لا تعلقی نے قومی اور ثقافی تشخص کے بہت سارے مسائل کو جنم دیا ہے۔

تہذیب نو کے مفروضہ نقائص کو بھی ثقافتی اور نظریاتی گھٹن کا ایک بڑا سبب قرار دیا جا سکتا ہے۔ پسماندہ قوموں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نئی تہذیب کی اچھائیوں کو کم اور اس کی برائیوں کو زیادہ دیکھتے ہیں۔ لوگ ان برائیوں کو بنیاد بنا کر اپنی کہنہ اقدار کی خیالی خوبیوں پر اتراتے ہیں اور انہیں کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔ نئی تہذیب کی تعریف کرنا آسان بات نہیں کیونکہ اس کے ثقافتی، سماجی، سائنسی اور جدیدت پسندی کے کئی زاویے ہیں۔ ہم اس کے مثبت پہلوؤں کو تلاش کرکے قومی تعمیر و ترقی کے شعوری عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ ہم دائیں بازو کے دانشوروں کی طرح صرف لفاظی میں غوطے لگائیں گے تو کوئی معاملہ حل نہیں ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لبرل بائیں بازو کے حلقوں میں یہ عقلی اور سائنسی بنیادوں کی بات بڑے مقبول پیرائے میں کی جاتی ہے۔  لیکن یہ لوگ کبھی نہیں بتاتے کہ عقلی اور سائنسی بنیادیں کیا ہوتی ہیں۔ اور خود اپنی زندگی ان بنیادوں پر کتنی بسر کر رہے ہیں۔ اگر ہر مسئلے کا حل عقلی اور سائنسی بنیادوں پر کیا جا سکتا ہے تواس نظریہ کی تبلیغ کرنے کی بجائے اس کو خود کیوں نہیں اختیا ر کرتے۔ مذہبی طبقے کا ایمان بنتا جا رہا ہے کہ سائنس اسلام سے ماخذ مگر عملیت اس کے بر عکس ہے۔

ثقافتی پسماندگی کا ذمہ دار جاگیر داری نظام کو قرار دیا جاتا ہے۔ سوال یہ بنتا ہے کون سی فیوڈل کلاس اور واقعی یہاں پر سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ نہیں۔  بڑے زمینداروں نے شوگر ملیں اور خوراک سے وابستہ صنعتیں قائم کر لی ہیں۔ لہذا یہ اصطلاح متروک ہو چکی ہے۔ سیاسی اور اقتصادی منظر نامے میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔۔ پورا نظام پولیٹیکل اکانومی کا ایک رخ اختیار کر چکا ہے جس کے خدو حال سرمایہ دارانہ ہیں۔ دیہات میں بسنے والے محنت کش شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ دیہات جدید سہولیات کی وجہ سے شہروں میں تبدیل ہو رہے ہیں اور وہاں کا حال ماضی سے مختلف ہے۔ ایک خاص مڈل کلاس بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات اور مقامی روز گار کی وجہ سے پیدا ہو چکی ہے جو کہ انفرادیت کا شکار اور غیر سیاسی ہے۔ اسی کلاس کو عمران خان نے متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ بھی ثقافتی اور سماجی تضادات سے دو چار ہے۔ قبائلی کلچر کے نمائندہ ہے۔

پنجابیوں نے ہر لسانی مہاجرت اور قومیتوں کو جذب کیا جبکہ پشتون مڈل کلاس سب سے زیادہ پچیدہ ہے۔ وہاں پر قبائلی سرداروں اور خوانین کی اہمیت موجود ہے۔ مگر سرمایہ دارنہ نظام میں جاگیر داروں اور وڈیروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ پاکستان کی بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی قیادتوں کو موروثی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے موروثیت کہاں نہیں ہے۔ ہم مقامی، صوبائی یا قومی سیاست کا خاندانی تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کونسلر سے لے کر قومی اسمبلی کے ممبر تک مورثی سیاست چل رہی ہے۔ کیوں کہ انہی کے خانوادوں کے درمیان سیاسی قیادت موجو د رہتی ہے۔ اس طرح خاندانی سیاسی قیادت بھی ہمارے کلچر کا ایک حصہ ہے۔ ان تمام ثقافتی تضادات کے پاکستانی سیاست پر گہرے اثرات ہیں۔ پاکستانی عوام کی ایسی تحریکیں بھی تھیں جس سے نمٹنے کیلئے اس کلاس کے پاس مارشل لاء لگانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

مارشل لاء میں با شعور عوام کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لوگ ماضی کے حوالہ سے ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کی قبروں سے جڑے ہوئے ہیں اور ضیاء الحق کے سیاسی وارث بر سر اقتدار ہیں۔ آج کی سیاست میں نواز شریف اور عمران خان مقبول ترین قیادت ہیں مگر وہ نظریاتی حوالوں سے ثقافتی گھٹن سے دوچار ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ عوام دوست فیصلے کرنے میں آزاد نہیں ہیں۔ کوئی قوم پسماندہ نہیں ہوتی بلکہ لبرل طبقہ ہمیشہ سازشیں کرتا چلا آیا ہے۔ وہ قدامت پسندوں کی نسبت تاریخ کے اس موڑ پر زیادہ خطر ناک نظر آتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے ثقافتی، نظریاتی اور سیاسی گھٹن کے حوالہ سے ڈائیلاگ شروع کیا جا سکے۔