سیکولرزم کا مقدمہ (1)
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 25 / اکتوبر / 2017
- 4392
تعارفی کلمات
سیکولرزم یا سیکولریت مذہبی سماجیات کی منطق کا قضیّہ ہے ، جو اس بنا پر وجود میں آیا کہ مخلوط مذہبی معاشرت میں جہاں متعدد اور مختلف مذہبی شریعتوں کے ماننے والے ایک ساتھ مل کر رہ رہے ہوں ، وہاں ملکی آئین اور معاشرتی بشمول عائلی قوانین کی نوعیت کیا ہو ۔ کیا کوئی ایسا شرعی نُسخہ موجود ہے جس کے تحت سارے ملک میں قیام پذیر ، مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ انصاف کیا جاسکے اور کسی کو حق تلفی کی شکایت کا موقع نہ ملے ۔
اِس سلسلے میں فاتح اور مفتوح شریعتوں یا مقامی آبادی اور تارکینِ وطن کے سماجی ، ثقافتی اور اخلاقی رویوں اور رسوم و رواج کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی غرض سے ایک ایسی طرزِ حکومت کی ضرورت محسوس کی گئی جس میں مُختلف العقائد لوگ پُر امن بقائے باہمی کے راستے پر اس طرح چل سکیں کہ نہ تو ملکی سالمیت پر آنچ آئے اور نہ ہی انفرادی آزادی مجروح ہو ۔ اسی قسم کی کثیر طرفہ بقائے باہمی کا اشارہ قائد اعظم کی اقلیتوں سے متعلق تقریر میں ملتا ہے جسے بعد میں جنرل ضیا نے ایک ایسا خواب قرار دیا جس کے شرمندہ تعبیر ہونے کے مواقع ناپید ہیں ۔ اِس نوع کی نظریاتی تجاویز پر ہمارے ہاں شدید ردِ عمل دیکھنے میں آیا اور اِسے مذہب کو سیاست سے جُدا کرنے کی مذموم سازش قرار دیا گیا ۔ اس ردِ عمل کی ایک باقاعدہ دستاویزی گواہی ہمیں اقبال کے ہاں بھی ملتی ہے ۔ اُنہوں نے فرمایا :
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جُدا ہوں دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
لیکن اس سے یہ تاثر لینا کہ اس طرح کے نظریات اور خیالات مذہب کی بیخ کنی کی اساس بنتے ہیں ، درست نہیں ہوگا ۔ ہمارے یہاں نتائج نکالنے میں ہمیشہ بڑی عجلت سے کام لیا جاتا ہے اور پھر ان سطحی نتائج کی بنا پر عقائد وضع کر لیے جاتے ہیں ، فتوے دیئے جاتے ہیں اور لا مسئلے کو مسئلہ بنادیا جاتا ہے ۔ اور یہ مسئلے اوسط سوجھ بوجھ کے لوگوں کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ بن جاتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح جیسے یہ افواہ پھیلا دی جاتی ہے کہ پولیو ویکسین کا استعمال شرعاً حرام ہے اور بعض سطحی مذہبی بصیرت کے گروہ اور فرقے اسے عقیدہ بنا لیتے ہیں ۔ ہماری ماضی قریب کی تاریخ گواہ ہے کہ پولیو ویکسین کے خلاف نہ صرف میڈیا میں ردِ عمل سامنے آیا بلکہ اس نے ایک معاشرتی فساد کی شکل اختیار کرلی اور بعض علاقوں میں پولیو ویکسین کی ٹیموں پر حملے بھی کیے گئے اور چند ایک لوگ اس کا منفی نشانہ بنے۔
مذہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ لوگ ادارہ ء رسالت( صلی اللہ علیہ وسلم) کے واضح انتباہ کے باوجود سُنی سنائی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں اور افواہ کو خبر اور اندازے ، ظن ، قیاس اور گمان کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں ۔ مجھے پڑھے بغیر یقین کر لینے کے حوالے سے ایک دل چسپ واقعہ یاد آگیا جسے آغا شورش کاشمیری نے اپنے جریدے ہفت روزہ " چٹان" میں نقل کیا تھا اور کہتے ہیں کہ نقلِ کفر ، کُفر نباشد ۔
برطانوی حکومت نے 1935 میں گورنمنٹ انڈیا ایکٹ جاری کیا جس پر ہندوستان کے مختلف سیاسی کیمپوں کی طرف سے شدید مخالفانہ ردِ عمل کا اظہار ہوا ۔ اس ایکٹ کی مذمت کی گئی اور اسے عوام دشمن قرار دیا گیا ۔ ان مخالف سیاسی جماعتوں میں مجلسِ احرار بھی تھی جس کے شعلہ بیان لیڈر حضرت مولانا عطا اللہ شاہ بُخاریؒ، لاہور کے ایک جلسے میں ایکٹ کی مُخالفت میں تقریر کر رہے تھے ۔ اچانک مجمعے میں سے کسی نے شاہ صاحب موصوف کو مخاطب کرکے پوچھا کہ شاہ جی ! آپ نے گورنمنٹ انڈیا ایکٹ پڑھا بھی ہے۔
تو اس پر شاہ صاحب نے کمال سادگی سے ترنت جواب دیا کہ " نہ پڑھا ہے ، نہ پڑھوں گا کیونکو جو چیز ہو ہی ہمارے خلاف اُسے کیوں پڑھا جائے " ۔
یہ ہے وہ رویہ جسے سطحی مذہبی معاشرت اور سریع الاعتقادی نے پروان چڑھایا ہے اور جس کے تحت سردار گنڈا سنگھ وہابی بھی ہو سکتا ہے ۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ برِ صغیر کی مٹی سے جنم لینے والی جمہوری معاشرتوں نے کریکٹر اسیسینیشن یعنی کردار کُشی کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ہمیشہ بطور ہتھیار استعمال کیا ہے ۔ اور ہمارے پاکستانی معاشرے میں بلاس فیمی کے قانون کو ذاتی رنجشوں کا انتقام لینے کے لیے ناجائز طور پر استعمال کرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں ۔ اور پھر توہینِ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ اتنا نازک ہے کہ اس پر عام مسلمان کا دل غازی علم دین شہیدؒ کے ساتھ دھڑکنے لگتا ہے ۔ اس لیے غلط مذہبی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے بھی ہر لفظ پھونک پھونک کر لکھنا پڑتا ہے کہ نہ جانے کس فرقے کو کون سا لفظ سانپ بن کر ڈس لے ۔ ہوتا یہ ہے کہ کسی مسلمان کی انفرادی بد عملی کی طرف اشارہ کیا جائے تو وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کرنے کے بجائے اسے اسلام کے خلاف دریدہ دہنی قرار دیتا ہے جس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں ۔
چنانچہ ہمارے یہاں ایک خیال یہ بھی دماغوں میں بیٹھا ہوا ہے کہ سیکولرزم مذہب کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور الحاد کو رواج دینے کی طاغوتی سازش ہے حالانکہ ایسا ممکن ہی نہیں کیونکہ مذہب ہمارے یہاں خُدا کا قانون ہے اور قرآن میں لکھا ہے کہ ( نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون) کہ یہ ذکر ، یہ قرآن کا قانون اللہ نے اتارا ہے اور وہ اس کی حفاظت کرتا ہے ۔ لہٰذا مذہب کے مٹ جانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ، البتہ مذہب پر جب صدق و ایمان سے عمل نہ ہو اور مذہب اپنے لوازمات کے ساتھ معاشرت میں رائج نہ رہے تو واپس لوحِ محفوظ کو لوٹ جاتا ہے ۔ لیکن جب لوگ سیکولرزم کی اس تعریف کو مانتے ہوں کہ سیکولریت کفر و الحاد ہے تو تحقیق اور چھان بین سے سیکولرزم کی راکھ کریدنا سوئے ہوئے مذہبی شیروں کی مونچھیں مروڑ کر اُنہیں جگا دینے کے مترادف ہے ، جو خطرناک ہوسکتا ہے۔ کیونکہ بپھرا ہوا شیر پلٹ کر حملہ بھی کر سکتا ہے ۔ حالانکہ ہمارے مذہبی اور روحانی لٹریچر میں یہ بات پوری صراحت اور تاکید سے کہی گئی ہے کہ مذہب کا کام انسانوں کو انسانوں سے جوڑ نا ہے اور بھٹکے ہوؤں کو راہِ راست پر لانا ہے جیسا کے اقبال نے کہا ہے :
مذہب نہیں سکھاتا ، آپس میں بَیر رکھنا
اور اس بات کی وضاحت اُنہوں نے اپنی نظم "نیا شوالہ" میں ان الفاظ میں کی ہے :
آ ، اِک نیا شوالہ اس دیس میں بسا دیں
سارے پجاریوں کو مے پیت کی پلا دیں
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مُکتی پریت میں ہے
اور یہی وہ پریت ہے جسے سیکولرزم کا نظریہ مرتب کرنے والوں نے اگرچہ اپنے خالص سیاسی پیرائے میں بیان کیا ہے مگر جس نے مذہب سے دوری کا روپ دھار لیا ہے ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک مذہب کی بہتر تعبیریں کی جاتی ہیں اور ہر فرقہ دوسرے کی تعلیمات کو رد کرتا اور بعض صورتوں میں اسے مذہب کی تردید قرار دیتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے لوگ انسانی رشتے کی عظمت کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں ۔ ہمارے غیر منقسم ہندوستان میں ایک برہمن کے بیٹے کی کہانی بھی ملتی ہے جس نے مسلمان زادے کی دوستی میں گائے کا گوشت کھا لیا تھا۔ یہ ایک گنجلک نظریہ اور کٹھن راستہ ہے جسے آسانی سے نہ سمجھا جا سکتا ہے نہ اسے اختیار کیا جا سکتا ہے ۔
پریت کا تصور حوصلہ دیتا ہے کہ سیکولریت کے تصور کو سمجھنا جرم نہیں ہے ۔ اب اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ میں لوگوں کو سیکولرزم اختیار کرنے کی دعوت یا ترغیب دے رہا ہوں ۔ یہ مرا منصب نہیں ہے ۔ میں تو " کارواں" کے توسط سے ایک بحث یا مکالمہ آغاز کرنا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں اہل الرائے اصحاب سے رائے کی بھیک بھی مانگتا ہوں ، کیونکہ اللہ کی زمین پر جنم لینے والے سارے نظریات میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ ابلیس کی تخلیق میں پوشیدہ تھی کہ اسے بنا کر بنی نوعِ انسان پر چھوڑ دیا گیا اور انسان کو تعلیم دی گئی کہ ابلیس کی گھاتوں اور وارداتوں سے بچنا روحانی اور فکری جمناسٹک ہے ۔ سو اے لوگو آؤ اور اپنی اہلیت ، لیاقت اور قابلیت کا مظاہرہ کرکے اس سے بچو!
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں سیکولرزم سے بچنا ہے یا اس کی طرف ہمدردی کی نگاہ سے دیکھنا ہے کہ کچھ سیکھا جا سکے۔
( جاری ہے )