سب کو معیشت کی پڑی ہے، معاشرہ بگڑگیا

انسان اپنی ترجیحات طے کرتا ہے پھر ان پر عمل کرنے کیلئے کمر بستہ ہوتا ہے ۔ بھوک و افلاس دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور نا معلوم کب سے ہے۔  دنیا اکیسویں صدی سے گزر رہی ہے جسے جدید ترین ایجادات کی صدی کہا جاسکتا ہے۔ اتنی جدت کے بعد بھی دنیا میں بھوک اور افلاس کا خاتمہ نہیں ہوسکا۔  دنیا عدم توازن کے باعث بھوک جیسے گھمبیر مسلئے کو حل نہیں کر پائی اور توازن میں بہتری لانے کیلئے کوئی خاطر خواہ عملی اقدامات بھی نہیں کئے گئے۔

بظاہر تو ساری دنیا میں غیر سرکاری تنظیمیں غربت کے خاتمے کیلئے کام کر رہی ہیں مگر غربت میں کمی ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔  بلکہ دنیا میں دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ کی وجہ سے غربت بہت تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔ پاکستان کے شہر کراچی کی بات کرلیتے ہیں جہاں مختلف فلاحی ادارے مختلف مقامات پر کھانا کھلانے کا انتظام باقاعدگی سے کر رہے ہیں۔ روزانہ ہزاروں لوگوں کوبغیر کسی معاوضے کے کھانا کھلارہے ، کھانے والا کوئی بھی ہوسکتا ہے کسی سے کوئی شناخت نہیں پوچھی جاتی۔ کسی کی کوئی حیثیت نہیں دیکھی جاتی ۔ کھانے کا معیار پر بھی کسی لحاظ سے کم نہیں ہوتا ۔

پاکستان دنیا کی آٹھ ایٹمی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ اپنی افواج کے بل بوتے پر تو ہم آج بھی کسی سپر پاور سے کم نہیں ہیں۔ دنیا میں عدم توازن طاقتور اور کمزور کے درمیان حائل خلیج کا ہے ۔ یہ وہ خلیج ہے جو کبھی بھی نہیں بھر سکتی کیونکہ اس کو کبھی بھرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ جب تک دنیا میں رہے گی یہ مسئلہ بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ گوکہ ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کے سدِ باب کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جا رہے۔  ساری دنیا کا تجزیہ کرلیں سب طرف سے ہر سطح پر اسی بات کا شور سنائی دے گا کہ اپنی بقا کیلئے معیشت کا استحکام بہت ضروری ہے ۔ معیشت کو استحکام اور دوام دینے کیلئے ہم نے اپنی نسلوں کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا ۔ علم صرف اس لئے حاصل کیا جانے لگا کہ کسی ایسے پیشے سے وابستہ ہوا جائے جہاں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جاسکے۔ علم سے انسانیت کی خدمت کا جذبہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا گیا اور صرف علم پر خرچ کئے جانے والی رقم کی واپسی اہمیت اختیار کرتی چلی گئی۔

روحانیت تھی مشرق کا خاصہ تھی۔ اب ہم نے روحانیت کو چھوڑ دیا اورمادیت (جو مغرب کا خاصہ ہے) سے دل لگا لیا جو ہماری جسمانی ضروریات کی تسکین کا باعث بنتی گئیں اور ہمیں اپنا عادی بنا لیا۔ دنیا کی ہر آسائش کا تعلق معیشت سے اور اس معیشت پر دنیا کے مخصوص طبقے کا قبضہ ہے۔ جو اپنی دولت میں اضافہ کر رہے ہیں اس کے برعکس  محنت اور مشقت کرنے والا شخص بڑی مشکل سے اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کر رہا ہے ۔ معیشت کے استحکام کی کوششیں ہمیں اخلاقی اور معاشرتی قدروں سے دور کر رہی ہیں۔ معاشرے کا ہر فرد گھریلو ناچاقی کی شکایت کرتا  ہے، بچوں کے نافرمان ہونے کا رونا روتا ہے مگر اس نہج پر پہنچنے کا سبب جاننے کا اس کے پاس وقت نہیں ہے۔ ساری کی ساری سنجیدگی اور دھیان معیشت کو مستحکم کرنے پر مرکوز ہے ۔ ملک کی معیشت کو ٹھیک کرنے والوں نے اپنی معیشت ٹھیک کرلی اور کرتے جار ہے ہیں۔ لیکن ملک کی معیشت تباہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس تباہ شدہ معیشت کا بہانہ بنا کر ہر ایک فرد اپنی معیشت کو ٹھیک کرنے میں مگن ملک کو تباہی کا سبب بن رہا ہے۔

ملک کے معززین خود کو اشرافیہ کہلانے والے جن پر ملک کی معیشت کو تباہ کرنے اور عوام کا پیسہ کھانے کے الزامات ثابت ہوچکے ہیں اور مجرم قرار پانے والے اپنی کرپشن سے بنائی شان و شوکت سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔ ملک میں کرپشن کرکے معیشت کو تباہ کرنے والے ہی معاشرے کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے لوگ ہیں ۔ ان کا جرم ناقابل تلافی ہے۔ ان کی وجہ سے معاشرے میں بگڑنے والا توازن اب سنبھلتا دکھائی نہیں دے رہا۔  ہم اپنی رہی سہی تہذیب اور تمدن جدید تعلیم کی بھینٹ ہنسی خوشی چڑھا رہے ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے اپنے آنے والے کل کو تباہ کر رہے ہیں۔