مختار مسعود کی تازہ اور آخری کتاب حرف شوق

1970  کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں جب نوجوان نسل آج کی طرح ماڈرن نہیں ہوئی تھی، نوجوانوں کے ہاتھوں میں موبائل اور بغل میں لیپ ٹاپ نہیں آیا تھا، پی ٹی وی واحد چینل اور ٹی وی سیٹ خال خال تھے۔ بیل باٹم پہنے ہوئے یونیورسٹیوں کے لڑ کے لڑکیاں بھی ایک دوسرے سے کترا کر گزرتے اور بات کرنے سے گریز کرتے تھے۔ اس وقت لائبریریاں آباد تھیں اور تعلیمی اداروں میں نظریاتی مباحث کے ساتھ ادبی رجحانات پر گفتگو ہوتی اور بزرگوں کے دستی تھیلوں اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں کوئی غیر نصابی کتاب ضرور ہوتی تھی۔

یہ وہ دور تھا جب نوجوانوں کی ساری توجہ کتب بینی۔ بین الکلیاتی مباحثوں، ادبی سرگرمیوں اور فنکارانہ صلاحیتوں کو نکھارنے پر مرکوز تھی۔ کرشن چندر کے افسانوں اور منٹو کی تحریروں کا چرچا تھا اور نسیم حجازی، راشد الخیری اور اے آر خاتون کے ناولوں کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ چوپالوں اور بیٹھکوں میں بڑے بوڑھے ، جوان ہوتے ہوئے بچوں سے اخبارات پڑھوا کر زبان و بیان کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اعتماد سازی کے میدان میں ان کی تربیت کا اہتمام کرتے تھے جبکہ گھروں میں بزرگ خواتین امتحانات سے فارغ ہونے والے بچے بچیوں سے اصلاحی اور معاشرتی ناول پڑھوا کر یہ فریضہ ادا کرتیں۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اشتراکیت کے علمبردار داس کیپٹل اور دوسرا اشتراکی لٹریچر نوجوانوں میں ڈیوٹی سمجھ کر تقسیم کرتے جبکہ اسلامی تحریک کے لوگ اسلام کا نظام معیشت اور بلاسود بنکاری جیسی کتب تقسیم کرتے اور رد اشتراکیت میں دھڑا دھڑ لٹریچر لکھ کر بانٹتے تھے۔ تعلیمی اداروں میں ان موضوعات پر سٹڈی سرکل عا م تھے۔ خود ان درسگاہوں کی اپنی سرگرمیاں بھی زیادہ تر علمی، ادبی اور فکری تھیں۔

یہی وہ زمانہ تھا جب علمی اور فکری حلقوں میں ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی بحث ہو رہی تھی تو غور و فکر کرنے والے نوجوانوں میں مولانا مودودیؒ ، غلام جیلانی برق اور غلام احمد پرویز کے افکار و نظریات زیر بحث تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب سعادت حسن منٹو کے افسانے، عصمت چغتائی کے ناول اور امریتا پریتم کی شاعری مقبول تھی۔ جبکہ ن م راشد اور نعیم صدیقی کی شاعری کا تقابل ہورہا تھا۔ اس ماحول میں اچانک ایک کتاب نے ان تمام لوگوں اور حلقوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ یہ کتاب علمی، ادبی اور فکری حلقوں میں زیر غور آئی اور پھر اتنی تیزی سے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ہاتھوں میں آئی کہ سب حیران رہ گئے۔ ہر مجلس میں اس کتاب کا ذکر اور اس پر گفتگو ضروری ہوتی۔ گھروں کے ڈرائنگ روموں اور افسروں کی میزوں پریہ کتاب فیشن کے طور پر رکھی جاتی۔ نوجوان تو اس کتاب کے اس انتساب کو زبانی یاد کرکے مجالس میں دہراتے اور داد پاتے۔
’’پرِکاہ اور پارۂ سنگ کے نام
وہ پرِکاہ جو والدہ مرحومہ کی قبرپر اگنے والی گھاس کی پہلی پتی تھی
اور
وہ پارۂ سنگ جو والد مرحوم کا لوحِ مزار ہے‘‘

علمی حلقوں اور نوجوان نسل میں تہلکہ مچا دینے والی یہ کتاب آوازِ دوست تھی۔ جس کے مصنف کی اس وقت تک وجہ شہرت تصنیف و تالیف یا تحریر و تقریر نہیں تھی۔ وہ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار، بہترین منتظم اور دیانت دار افسر کی شہرت رکھتے تھے۔ لیکن ان کی کتاب نے علمی و ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ نظریاتی مباحث کے اس پر جوش دور میں اس کتاب کا حوالہ اور اس پر گفتگو لازمی ہوگئی تھی۔ کتاب پہلے پاکستان پھر ہمسایہ ملک بھارت اور ساتھ ہی دنیا بھر کے اردو پڑھنے لکھنے والوں میں تیزی سے مقبول ہوئی ۔۔۔۔ اورپھرطویل وقفوں کے بعد اس مصنف کی دو کتابیں ’’سفرِ نصیب‘‘ اور ’’لوح ایام‘‘ مارکیٹ میں آئیں تو اس وقت تک مصنف کی بطور ایک مستند اور مقبول لکھاری کے شناخت بن چکی تھی۔ خوش قسمتی سے ان دونوں کتابوں کی مقبولیت کا گراف بھی کم و بیش وہی رہا جو آواز دوست کا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ طویل عرصہ گزر گیا۔ مصنف کی کوئی کتاب مارکیٹ میں نہ آئی ان کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس دوران دنیا سے رخصت ہوگئی جو بچے وہ غم روزگار میں ایسے الجھے کہ انہیں اپنا ہی ہوش نہ رہا۔ کتاب کا کیا انتظار کرتے۔
اور  اب جولائی 2017 میں مصنف کی چوتھی کتاب ’’حرفِ شوق‘‘ اس فٹ نوٹ کے ساتھ مارکیٹ میں آئی ہے کہ جب نہ مصنف اس دنیا میں موجود ہیں اور نہ ان کے بہت سے چاہنے والے۔ یہ کتاب قارئین میں کتنی پزیرائی پاتی ہے، یہ تو چند ہفتوں یا مہینوں کے بعد پتہ چلے گا مگر یہ المیہ کتاب کے ساتھ ہی قارئین تک ضرور پہنچے گا کہ اب مصنف اپنی آخری تحریر کی مقبولیت یا عدم مقبولیت سے بے نیاز اس رب کے حضور پہنچ گئے ہیں جہاں کتابوں کی مقبولیت کا نہیں اعمال کی قبولیت کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے۔ دعا ہے کہ رب رحیم و کریم انہیں اس مرحلے میں سرخرو فرمائے۔ آمین

کتاب شروع کرتے ہی آپ کو یہ احساس زیادہ شدت سے ہوتا ہے کہ مصنف اور ان کے بہت سے مداحین کے علاوہ وہ لوگ بھی نہیں رہے جن کی تحریک پر انہوں نے یہ کتاب لکھی ہے۔ مگر مصنف کے مطابق انہیں ابتدا ہی سے یہ مسئلہ درپیش رہا ہے۔ وہ کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں:
میں دیر سے سرجھکائے لکھ رہا تھا۔ انہماک کا یہ عالم کہ اپنا ہوش نہ کسی دوسرے کی خبر۔ خدا خدا کرکے تحریر مکمل ہوئی۔ میں نے پنسل کو میز کے اس دراز میں رکھ دیا جہاں پہلے ہی آدھی ہونے والی استعمال شدہ پنسلوں کا ڈھیر لگا تھا اور لکھنے والے کمرے سے باہر آگیا۔ میں اس شخص کی تلاش میں ہوں جس کی خاطر میں نے اپنا طویل ترین مضمون لکھا ہے۔ وہ مجھے کہیں نظر نہیں آتا۔ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، میں نے لکھنے میں دیر کردی۔ اسے جانے کی جلدی تھی۔ میری تحریر اپنے ایک مُحّرِک اور قاری سے محروم ہوگئی میرے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایک دن والد محترم نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر سے فرمائش کی کہ اس کے سرپر ہاتھ پھیر دیں اور دعا کریں کہ اسے بھی تصنیف و تحقیق کا شوق اور ہنر عطا ہو۔ اس واقعے کے کوئی دس بارہ برس کے بعد ’آوازِ دوست‘ شائع ہوئی۔ اتنا عرصہ کون کسی کی تحریر کا انتظار کرتا ہے۔ وہ دونوں بزرگ اس وقت تک اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ وقار عظیم اور ملا واحدی نے ’سفر نصیب‘ کا انتظار نہیں کیا۔ محمد طفیل (نقوش)، ابو الفضل صدیقی، جمیلہ ہاشمی اور ابنِ حسن برنی نے ’لوحِ ایام‘ کا انتظار نہیں کیا۔ محترم رشید احمد صدیقی نے ’آواز دوست‘ پڑھ کر مجھے دعا دی۔ اس کے بعد میری تحریر ان کی مزید دعاؤں سے محروم ہوگئی۔ ان حالات میں اگر توفیق احمد خاں نے ’حرفِ شوق‘ کا انتظار نہ کیا تو کیا ہوا!

کتاب کا انتساب حسب توقع ’’طلبہ علی گڑھ کے نام‘‘ ہے۔ سرورق صاحب ہنر مصور اسلم کمال کا تیار کردہ ہے۔ کتاب کے پہلے صفحے پر بسم اللہ کی خوبصورت خطاطی ناموراور صاحب کمال خطاط احمد قرۃ حصاری کی ہے۔ اگلے صفحے پر قرآن حکیم کی ’سورہ العصر‘ اور دیباچے سے پہلے شاہر مشرق کی مشہور نظم
اوروں کا ہے پیام اور، میرا پیام اور ہے
عشق کے درد مند کا طرزِ کلام اور ہے
مصنف کے دینی و ملی رجحان اور ان کے ذوقِ سلیم کی عکاس ہے۔
کتاب کا آغاز دلچسپ اور اختتام سبق آموز ہے۔
سخن اے ہم نشیں ازمن چہ خواہی
کہ من باخویش دارم گفتگوئے

تار والے بنگلہ سے راولپنڈی سازش تک کا یہ سفر علی گڑھ سے ہو کر گزرتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ معاشیات کے استاد کا ماہر اقتصادیات بیٹا جس نے ساری زندگی افسر شاہی کی بھول بھلیوں میں گزاری ہو۔ علی گڑھ کی کہانی کو جذب و شوق میں ڈوب کر تمام تر جزئیات اور تفصیلات کے ساتھ اس طرح بیان کرتا ہے کے مادرِ علمی کا قرض بھی ادا ہو جاتا ہے اور کتاب کی طوالت بھی قاری پر گراں نہیں گزرتی۔ کتاب میں علی گڑھ اور تحریک علی گڑھ کے کئی کرداروں کا تذکرہ ملتا ہے ، ساتھ ہی اس شہر علم کے گلی کوچوں سے قاری کی شناسائی بھی ہو جاتی ہے۔ کتاب میں سرسید کے ان دوست کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں جنہوں نے اپنی کل جائیداد فروخت کرکے مسلم یونیورسٹی کو دیدی تھی اور خود علی گڑھ میں پھونس کے ایک گھر میں آ بسے تھے۔ خان بہادر مولوی سید زین العابدین نامی یہ دوست سرسید کے آخری دنوں میں ہر روز ان کے پاس آتے پھر ان کے مزار کی تعمیر خود کھڑے ہو کر کراتے رہے اور اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اس مسجد میں جہاں سرسید کو دفن کیا گیا ان کے پہلو میں آسودۂ خاک ہیں۔

کتاب میں سرسید کے تعزیتی ریفرنس اور اگلے سال یونیورسٹی کے سالانہ جلسے کا حال بڑی درد مندی سے بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کو پڑھتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنف کا مشاہدہ عمیق اور مطالعہ وسیع ہے۔ ساتھ ہی خالق کائنات نے انہیں دردمندی کی دولت کثیر سے نوازا ہے۔ مصنف کی انگریزی زبان کے ساتھ فارسی اور عربی ادب پر گہری نظر ہے جن کے حوالے کتاب میں جابجا ملتے ہیں۔ کتاب کے مطالعہ کے دوران تاریخ کا ایک سفر بھی جاری رہتا ہے۔ مصنف اپنے قاری کو کبھی فردوسی کے ایران ، کبھی مغل دور کے فتح پور سیکری، کبھی ملکہ الزبتھ کے انگلستان اور کبھی آرمینیا کے کوہ اراراٹ لے جاتے ہیں۔ کتاب واقعات سے بھری ہوئی ہے اور اس کا ہر پیرا سوچنے سمجھنے اور سیکھنے کا ایک دفتر ہے۔ کتاب میں علی گڑھ کی درس گاہ میں طویل ترین قیام کے دعویدار مسعود زیدی (مصنف علی گڑھ کی باتیں،علی گڑھ کی یادیں) کا ذکر بڑے شگفتہ انداز میں جبکہ خورشید الاسلام کا تذکرہ فخریہ انداز میں کیا گیا ہے جن کے شبلی نعمانی پر لکھے گئے تنقیدی مضمون کی داد مولانا ابو الکلام آزاد نے دی تھی۔ کتاب میں بمبئی کے ایک اخبار کے حوالے سے یہ تکلیف دہ واقعہ بھی درج ہے کہ تقسیم ہند کے چند سال بعد علی گڑھ یونیورسٹی کے کچھ طلبا بمبئی یونیورسٹی کے ہندو وائس چانسلر سے ملے تو انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سرسید کون ہیں۔ یہ واقعتاً لاعلمی تھی۔۔۔ تجاہل عارفانہ تھا یا تعصب میں ڈوبے ہوئے بھارت کے اصل چہرہ تھا۔ اس پر قارئین کو غور کرنا ہوگا۔

کتاب کے آخر میں وہ اختتامیہ ہے جسے آپ روانی میں پڑھ جائیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ خود مصنف کی تحریر نہیں بلکہ ان کی اہلیہ محترمہ کے قلم سے نکلے ہوئے جملے ہیں ۔ کسی ادبی جوڑے کی تحریر میں اس قدر مماثلت کم از کم میری نظر سے اس سے پہلے نہیں گزری۔ یہ تحریر بھی اتنی ہی پختہ اورپراثر ہے جتنی پوری کتاب۔ اصلاً اختتامیہ کتاب کے دیباچے کا تسلسل ہے جو یقیناً مصنف کی موت کے بعد ان کی اہلیہ نے لکھا ہے۔ اختتامیہ میں بھی وہی موضوع آگے بڑھایا گیا ہے جس کا نوحہ مصنف نے دیباچہ میں کیا ہے۔ یہاں بھی علی گڑھ کے اس پار اور علی گڑھ کے اس پار کا تذکرہ ہے۔ یہاں بھی جلدی اور دیر کا وہی دائرہ ہے جو تکمیل اور ادھورے پن کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ مصنف کی رفاقت میں 60 سال گزارنے والی ان کی رفیقہ حیات محترمہ عذرا مختار مسعود لکھتی ہیں:
’’ایک دن، کم از کم دو نسلوں کے حائل ہوجانے کے بعد، میں نے بچپن کے ایک ساتھی سے اپنے عہد کے علی گڑھ کی سب سے اہم اور منفرد عمارت کا قصہ سنانے کا وعدہ کیا تھا یہ کتاب اسی وعدے کی تکمیل ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ بفضلہ یہ وعدہ وفا ہوسکا۔ آج وہ دوست جس کی فرمائش پر میں نے یہ کہانی سنائی مجھے کہیں بھی نظر نہیں آرہا، غالباً میں نے لکھنے میں دیر کردی یا اسے جانے کی جلدی تھی۔۔۔؟‘‘ 

کتاب کے جملہ حقوق یہ اختتامیہ لکھنے والی عذرا مختار مسعود کے نام ہیں۔ کتاب فائن بکس پرنٹرز سے طبع ہوئی ہے۔ 563 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 600 روپے ہے۔ کتاب ملنے کا پتہ مکتبۂ تعمیرِ انسانیت، غزنی اسٹریٹ اردود بازار لاہور ہے۔ اگر نئے قارئین کے لیے کتاب کے بیک ٹائٹل پر مصنف کا تعارف بھی دے دیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا کہ مصنف مستند لکھاری ہونے کے علاوہ تمغہ امتیاز کے حامل اور زرعی ترقیاتی بنک ، پاکستان صنعتی ترقیاتی کارپوریشن کے چئیرمین اور علاقائی تعاون برائے ترقی کے سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں۔