پرانے ورلڈ آرڈر میں چین کا نیا چہرہ
- تحریر
- جمعہ 27 / اکتوبر / 2017
- 3922
نوے کی دِہائی کے اوائل میں پہلی بار چین جانے کا موقع ملا۔ اس سے قبل ہم مشرق بعید کے بیشتر ممالک کا بار بار سفر کر چکے تھے، کوریا، جاپان، ہانگ کانگ، تائیوان، سنگا پور۔ چین کے اس پہلے سفر میں دوران پرواز چین اور اس کے دارالحکومت بیجنگ کے بارے میں سوچا تو بار بار یہی گمان دل میں آیا کہ ائیرپورٹ کے اند ر اور باہر مسلح انقلابی گارڈز گھوم رہے ہوں گے، سڑکوں پر سائیکلوں کی بھیڑ ہو گی، ماؤ کیپ کے بغیر شاید ہی کوئی دیکھنے کو ملے، ائیرپورٹ بھی بھی واجبی سا اور سادہ سا ہوگا !
بیجنگ کے ائیر پورٹ پر اترے تو پہلی حیرت تو یہ ہوئی کہ ائیرپورٹ بہت وسیع اور جدید پایا ، بالکل دیگر مشرق بعید کے ممالک کی طرح۔ ادھر ادھر نظریں گھما کر بار بار دیکھا کہ کہیں کوئی انقلابی گارڈز ہماری نگرانی تو نہیں کر رہے لیکن معمول کی ائیرپورٹ سیکیورٹی کے علاوہ کچھ بھی خلافِ معمول د یکھنے کو نہ ملا۔ امیگریشن سے فراغت کے بعد باہر نکلے تو بھی کہیں کمیونزم کا سایہ نہ ملا۔ نہ انقلابی گارڈز، نہ سائیکلوں کا راج، نہ کسی کو ماؤ ٹوپی پہنے دیکھا اور نہ وہ مخصوص پتلون اور بند گلے والا کوٹ ۔ پارکنگ لاٹ کے وسیع سائز نے بھی ہمیں حیران ہی کیا۔ ایک سے بڑھ کر ایک دنیا بھر کی گاڑیوں کے برانڈز۔ باہر نکلے تو آٹھ لائنز کی کشادہ شاہراہ، دونوں طرف درختوں کی تا حدِ نظر طویل قطاریں اور دونوں جانب کشادہ فٹ پاتھ۔ آس پاس جہازی سائز کے رنگ اور روشنی بکھیرتے نیون سائن بورڈ۔ ہوٹل پہنچنے تک مارکیٹوں، دوکانوں اور شاپنگ مالز کا لا متناہی سلسلہ تھا۔ بھیگتی ہوئی رات میں بغلی سڑکوں پر نائٹ لائف کے لئے مخصوص بار اور ڈانسنگ کلبوں کے سائن بورڈز بھی دعوت دے رہے تھے۔ ہوٹل پہنچے تو بہترین سہولتوں سے مزین اور انگریزی سے شناسا اسٹاف۔
یہ ہمارا چین سے پہلا عملی تعارف تھا ۔ ہم ایک کاروباری سلسلے میں وارد ہوئے تھے، اگلے دنوں میں کئی کاروباری لوگوں سے ہمارا ملنا ہوا۔ شہر کے مختلف حصوں میں جانے کا موقع ملا۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ آج شام آپ کو شاپنگ کے لئے ڈاؤن ٹاؤن لے جائیں گے۔ دل میں خیال آیا کہ چلو اس بہانے پرانا شہر دیکھنے کو ملے گا کہ اب تک ہم نے جو دیکھا وہ تو بالکل نیا تعمیر شدہ لگتا تھا۔ گمان یہی تھا کہ شاید آنے والوں کو چین کو یہ تمتماتا چہرہ دکھانے کے لئے ہی بنایا گیا۔ شام کو بقول ہمارے میزبان ہم ڈاؤن ٹاؤن پہنچے تو وہاں بھی یہی عالم پایا، پرانے شہر کا روایتی امتیاز تنگ سڑکیں تھیں نہ وہاں پرانی بلڈنگز۔ ہر طرف کشادہ سڑکیں، نئی بلڈنگز، شاپنگ مالز اور نئی نویلی دوکانیں، چاروں طرف سائن بورڈز کی چمک دمک۔ ایک لمحے کو لگا کہ یا تو ہم سے سننے میں غلطی ہوئی یا میزبان نے ارادہ بدل دیا اور کسی نئے علاقے میں لے آیا۔ پوچھا تو ان کے جواب نے ہمیں حیران کر دیا۔ بولے، یہی ڈاؤن ٹاؤن ہے لیکن اب یہ پرانا نہیں رہا۔ حکومت نے چند سال پہلے اس سارے علاقے کو مسمار کرکے نئے سرے سے تعمیر کیا ہے۔ نام اب بھی اس کا ڈاؤن ٹاؤن ہی ہے لیکن اب یہ نیا تعمیر شدہ علاقہ ہے۔
اس عام سے جواب نے نئے چین کو سمجھنے اور جاننے کی ہماری مشکل حل کر دی۔ چین نے آثار قدیمہ کے سوا تقریباٌ ہر شے کو ڈھا کر نئے تقاضوں کے مطابق اس کی تعمیر کر دی ہے لیکن اس عمل میں نام اور مقام وہی رہنے دیئے ۔ تاریخ بدل دی لیکن کیلنڈر وہی ہزاروں سال پرانا ہی چل رہا ہے۔ اسی کیلنڈر کے مطابق ہی نیا سال دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ اسی طرح دیگر تہواروں کی چھٹیاں بھی اسی کیلندڑ کے مطابق ہوتی ہیں۔ اسی ڈگر پر چلتے ہوئے پرانی تاریخ اور سوشلزم کے نظریات کے ساتھ سرمایہ داری کی ایسی خوبصورت پیوندکاری کی کہ سرمایہ دار ملک حیران رہ گئے۔ اس پیوند کاری سے جو معیشت اور معاشرہ گزشتہ تیس پینتیس سالوں سے وجود میں آیا، مغربی ممالک اس پر چیں بہ چیں بھی ہیں لیکن چین کا یہ ہنر انہیں کا خاصہ ہے کہ پرانی شناخت بھی قائم رکھتے ہیں اور جدیدیت کو بھی ایسے اپناتے ہیں کہ لگتا یہی ہے کہ انہوں نے ہی اسے جنم دیا ہے۔
بورس یلسن کے دور میں جس طرح روس سیاسی اور اقتصادی طور پر لڑکھڑا رہا تھا، چین کے بارے میں بھی مغربی ماہرین کی یہی خواہش تھی۔ لیکن چین میں اسی کی دہائی کے اوائل میں اس وقت کے لیڈر دینگ ژیاؤ پنگ نے ایک انہونی کر دی۔ انہوں نے سخت گیر سوشلسٹ چین میں سرمایہ داری نظام کے ملاپ کا تجربہ شروع کر دیا۔ اس تجربے کا آغاز چین کے چھ بڑے ساحلی شہروں سے کیا گیا ۔ انہیں اسپیشل اکنامک زون قرار دے کر قواعد و ضوابط کو نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی ضرورت کے مطابق بنا دیا گیا۔ ابتدا میں بیرون ملک بسنے والے چینی اور بالخصوص ہانگ کانگ کے باسیوں نے دھڑا دھڑ اپنا سرمایہ اپنی اور اپنے بزرگوں کی جنم بھومی میں لانا شروع کیا ۔ یہ تجربہ اس قدر کامیاب ہوا کہ اس کا دائرہ مسلسل پھیلایا گیا ۔ بیرون ملک چینیوں کے علاوہ دنیا بھر سے سرمایہ کار کھچے چلے آنے لگے۔ بیس تیس سالوں میں کیفیت یہ ہوگئی کہ چین دنیا کی فیکٹری یعنی World Factory کہلانے لگا۔ ایک مشہور بزنس میگیزین نے چین اور دنیا بھر کے باقی ممالک کی پیداواری صلاحیتوں کا تقابل یوں کیا کہ اب مقابلہ چین اور چین کے سوا باقی دنیا کا ہے یعنی China versus Non China ہے۔
ہمارے دیہات کی مشہور مثال ہے کہ جس کے گھر دانے اس کے کم عقل بھی سیانے۔ چین کی حیرت انگیز معاشی ترقی نے اس کی دنیا میں سیاسی پوزیشن کو مستحکم کر دیا۔ پانچ سال پہلے شی جن پنگ نے صدارت سنبھالی تو معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ چین میں کرپشن کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن کیا، بگڑتے ہوئے ماحولیات کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ دنیا کی اسٹیج پر چین کو ایک مظبوط متبادل قیادت کے طور پر پیش کیا۔ صدر ٹرمپ نے ایشیا پیسیفک ممالک اور یورپی یونین کے ساتھ تجا رتی معاہدے سے دستبرداری اختیار کرلی لیکن چین نے بیلٹ روڈ منصوبے کے ذریعے دنیا میں اپنے پاؤں مزید پسارنے کا عزم ظاہر کر دیا ۔
چین کی کمیونسٹ پارٹی کا گزشتہ ہفتے انیسواں اجلاس ہوا۔ ہر پانچ سال بعد ہونے والے اس اجلاس میں اگلے پانچ سالوں کے لئے نئی پالیسیوں کی تائید اور نئی قیادت کی چہرہ نمائی کی جاتی ہے۔ غیر اعلانیہ طور پر روایت ہے کہ صدر پانچ سال کی دو مدت تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس اجلاس میں شی جن پنگ نے ساڑھے تین گھنٹے کی طویل تقریر میں اپنے ویژن پر اظہار خیال کیا۔ جس کے بنیادی نکات یہ تھے کہ چین دنیا میں مزید بڑے رول کا خوہاں ہے، چین کو مغربی جمہوریت کے نظام سے کوئی دلچسپی نہیں، علیحدگی پسندوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، مارکیٹ اکونومی کے بنیادی اصول سوشلزم کے ساتھ ساتھ چلیں گے۔ بیلٹ روڈ منصوبہ ممالک کو مربوط کرنے کا مرکزی نکتہ رہے گا۔
اس اجلاس میں شی جن پنگ کو اگلے پانچ سال کے لئے پارٹی سیکریٹری اور صدر منتخب کیا گیا۔ خلاف روایت ان کا جانشین متعین نہیں کی گیا جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ پانچ سال کے بعد بھی اقتدار میں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ شی جن پنگ نے کمال مہارت سے اپنے سیاسی حریفوں کو سائڈ لائن کرکے اپنے حمایتی افراد کو پولٹ بیورو میں متعین کروانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے ویژن کو پارٹی کی آئین میں بانی ماؤزے تنگ کے ساتھ شامل کر لیا گیا ہے۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ کے خیالات کو پارٹی آئین میں ان کے مرنے کے بعد 1997 میں جگہ دی گئی لیکن شی جن پنگ کے وژن کو دوران صدارت ہی پارٹی آئین میں شامل کرکے انہیں چیئرمین ماؤ کی صف میں جگہ دے دی گئی ہے۔
چین میں قیادت کے تسلسل کا یہ سنگ میل بتا رہا ہے کہ چین کی ترقی اور سیاسی اثر و نفوذ کا کا سفر مزید تیزی سے آگے بڑھے گا، نئے ورلڈ آرڈر پر اس کے گہرے اثرات ہوں گے۔ سب سے دلچسپ یہ امر قابل غور ہے کہ چین نے سوشلزم کے چینی نین نقش کے ساتھ ساتھ سرمایہ داری کی جو کامیاب پیوند کاری کی وہ انہی کا خاصہ ہے ۔ ان خیالات کو پارٹی آئین میں شامل کرکے اس ملاپ کو مزید پختہ کر دیا ہے۔ ایک دوسرے کی ضد ہونے کے باوجود دونوں نظاموں کو اکٹھے کرنے کے اس ہنر پر افضل ساحر یاد آئے:
جندے نی ! کیہہ ساک سہیڑے
اک بکل وچ رانجھن ماہی
دوجی دے و چ کھیڑے !