معاشرہ میں توازن کے لئے انصاف ضروری ہے

عام پاکستانی دن میں ایک بار یہ ضرور سوچتا ہے کہ یہ معاشرہ کیسے ٹھیک ہوگا۔ کب یہ ٹریفک پولیس والے پیسے لئے بغیر اسے چھوڑ دیں گے، کسی اہم شخص کی زیادتیوں پر پوچھ گچھ ہوگی، کب ہمیں علاج معالجے کی بنیادی سہولیات میسر ہوں گی،  ہماری عزت کیسے محفوظ ہوگی،  بچوں کو یکساں تعلیمی سہولت کیسے  میسر آئے گی اور کب بغیر کسی سفارش کے کسی اہلیت کی بنیاد پر نوکری ملے گی۔ اس طرح کے ان گنت سوالات روز ہمارے ذہنوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ ان سوالات کی وجہ سے بلند فشار خون اور شوگر جیسے امراض  تیزی سے ہم پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔

یوں تو سماجی میڈیا مختلف قسم کی معلومات کیلئے انتہائی موثر کردار ادا کر رہا ہے۔ کل ہمارے ایک خیر خواہ نے ایک انہتائی پر اثر تحریر ہمیں واٹس ایپ کے ذریعے بھیجی۔ یوں تو تحریروں کا ایک نہ رکنا والا سلسلہ موجود ہے مگر یہ تحریر موجودہ حالات کی بھرپور عکاسی کررہی تھی۔  وہ تحریر یہاں قارئین کے لئے درج ہے جو  امریکی ریاست ٹکساس سے تعلق رکھنے والی کارلا فے ٹکر نامی خاتون کی زندگی  پر مبنی ہے:

ٹیکساس کی ایک جیل میں 37 سالہ کارلا فے ٹکر (Karla Faye Tucker) کو موت کا انجکشن لگایا گیا۔ موت کے بستر(ڈیتھ بیڈ ) پر لیٹے اس نے انکھیں موند لیں، ڈاکٹر نے نبض دیکھی اور موت کا اعلان کر دیا اور کہا '' ایسی پرسکون موت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی''۔ کارلا کی ماں دھندہ کرنے والی عورت تھی۔  بچپن ہی سے وہ اپنی ماں کے ساتھ آتی جاتی۔ اس طرح اسے  نشے کی لت پڑی۔  آہستہ آہستہ ماں کے نقش قدم کر چلنے لگی۔ 10 سال بعد اُسے خیال آیا کہ اُسے اس دھندے کو چھوڑ کر کچھ اور کرنا چاہیئے۔ کارلا  نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ  مل کر گاڑی چھیننے کا منصوبہ بنایا۔  بد قسمتی سے موقع واردات پر مزاحمت ہوئی ۔ کارلا اور اس کے بوائے فرینڈ نے گھبراہٹ میں کار میں بیٹھے جوڑے کو قتل کر دیا۔ کچھ دنوں بعد دونوں پکڑے گئے اور عدالت نے انہیں قانون کے مطابق سزائے موت سنا دی۔ پھر اپیلوں کہ چکروں میں کافی عرصہ بیت گیا۔ اس دوران جیل کے عملے نے دیکھا کہ کارلا جو کہ شرابی اور بد زبان عورت تھی، اس نے اچانک سب کچھ چھوڑ کراپنی مذہبی کتاب بائبل (انجیل) کامطالعہ شروع کر دیا۔ اس کی زبان صاف ہو گئی اور اخلاق بہت اچھا ہو گیا۔ وہ اکثر اپنے سیل میں انجیل پڑھتی رہتی، جس کی وجہ سے کارلا نے ملنا جلنا اور بات چیت ختم کر دی۔

ایک سال بعد وہ مبلغہ بن گئی اور ایسی مبلغہ جس کے الفاظ میں تاثیر تھی۔ اس نے جیل میں ہی تبلیغ شروع کر دی۔ عبادت و ریاضت کو اپنا معمول بنا لیا اورکارلا کی تبلیغ کی بدولت جیل میں کئی لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں۔ وہ لوگ جو اسے قاتلہ اور سنگ دل کہتے تھے، وہ اس کے پیچھے چلنے لگے اور جیل میں ایک روحانی انقلاب آ گیا۔ اس بات کی خبر جب میڈیا کو پہنچی تو وہ جیل پر ٹوٹ پڑا۔  ہر اخبار میں کارلا شہ سرخی بن گئی۔ لوگوں نے اس کی معافی کا مطالبہ شروع کردیا۔  حقوق انسانی کی تنظیموں نے امریکہ میں '' کارلا بچاؤ'' تحریک شروع کر دی۔ یہ احتجاج یہاں تک بڑھا کہ شاید  پوپ جان پال نے  بھی عدالت سے سزا معاف کرنے کی باقاعدہ درخواست کی۔  لیکن عدالت نے یہ درخواست رد کر دی۔

سزائے موت سے پندرہ دن قبل کنگ لیری نے CNN کے لئے کارلا کا انٹرویو جیل میں کیا۔ اس انٹرویو کے بعد پورے امریکہ نے کہا کہ نہیں یہ وہ قاتلہ نہیں یہ معصوم ہے۔ لیری نے پوچھا '' تمہیں موت کا خوف محسوس نہیں ہوتا''، کارلا نے پر سکون انداز میں جواب دیا '' نہیں بلکہ میں اس رب کو ملنا چاہتی ہوں جس نے میری پوری زندگی ہی بدل دی''۔ امریکی شہریوں نے متفرقہ رحم کی اپیل ''ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول'' کے سامنے پیش کی۔ بورڈ نے سزا معاف کرنے سے انکار کر دیا۔ فیصلہ سن کر عوام ٹیکساس کے گورنر جارج بُش کے گھر کے سامنے آ گئے اور احتجاج کرنے لگے۔ امریکہ کے سب سے بڑے پادری جیکی جیکسن نے بھی کارلا کی حمایت کر دی۔  بُش نے درخواست سنی اور فیصلہ کیا کہ مجھے کارلا اور جیکی جیکسن سے ہمدردی ہے لیکن مجھے گورنر قانون پر عمل داری کے لئے بنایا گیا ہے۔ سزا معاف کرنے کے لئے نہیں۔  وہ اگر فرشتہ بھی ہوتی تو قتل کی سزا معاف نہ ہو سکتی''۔

موت سے دو روز قبل کارلا کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہینچی تو جج نے یہ کہہ کر درخواست واپس کر دی '' اگر آج پوری دنیا بھی کہے کہ یہ عورت کارلا نہیں کوئی مقدس ہستی ہے تو بھی امریکن قانون میں اس کے لئے کوئی چھوٹ نہیں۔ جس عورت نے قتل کرتے ہوئے دو انسانوں کو رعایت نہیں دی، اسے دنیا کا کوئی قانون رعایت نہیں دے سکتا۔ ہم خدا کے سامنے اُن دو لاشوں کے لئے جوابدہ ہیں جنہیں کارلا نے مار ڈالا''۔

کارلا کا کردار ایک طرف رکھ دیجئے اور اسکے کئے کی سزا دینے کیلئے عدالتی نظام کا کردار دیکھئے۔ انصاف کے عملی مظاہرے کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ لیکن یہ تحریر پڑھ کر مجھے  سمجھ آگیا کہ امریکہ جیسے  معاشرے کو کیا چیز توانا بناتی ہے  اور زندہ رکھے ہوئے ہے ۔ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہ قول یاد آ جاتا ہے: '' معاشرے کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں لیکن نا انصافی کے ساتھ نہیں ''۔ دراصل انصاف ہی معاشرے کا توازن برقرار رکھنے کی بنیادی اکائی ہے۔