زخمی صحافی، مرتا ہوا گھوڑا، مرا ہوا سپاہی اور بے حس ریاست

شارلٹ گہرے براون رنگ کی ایک خوب صورت گھوڑی تھی جس کی گردن پر کوئی دو انچ چوڑی سفید دھاری اس کے کانوں کے بیچ تک یوں نظر آتی تھی جیسے بے آب و گیاہ میدان میں ٹھنڈے پانی کی نہر بہہ رہی ہو۔ شارلٹ 2009 میں امریکہ کی ریاست اوکلوہاما میں پیدا ہوئی، دو برس کی عمر میں ہاؤسٹن لائی گئی جہاں اسے قصبے کی پولیس کے رسالے میں شامل کر لیا گیا۔ مقامی پولیس کے افسر ڈی ہیریجن کو شارلٹ کی ذمہ داری سونپی گئی۔

اس چھوٹے سے قصبے کے شہری اکثر یہ منظر دیکھتے تھے کہ پولیس آفیسر ہیریجن بھورے رنگ کی شارلٹ پہ سوار گلیوں کا گشت کر رہے ہیں۔ جرائم پیشہ لوگوں کے تعاقب سے مہلت ملتی تو شارلٹ قصبے کے ننھے ننھے بچوں کی قمیص پر اپنی تھوتھنی رگڑ کے ان سے کھیلا کرتی تھی۔ شارلٹ اپنے ساتھی آفیسر ہیریجن سے اس قدر مانوس تھی کہ ان کے دفتر کے دروازے پر کھڑی ہو کے گردن کمرے میں لے جاتی تھی گویا اپنے ساتھی کو گڈ مارننگ کہہ رہی ہو۔ 2015 آ گیا۔ 3 دسمبر تھا، حسب معمول شارلٹ پہ سوار آفیسر ہیریجن قصبے کا گشت کر رہے تھے کہ اچانک شارلٹ ٹریفک کے ہجوم سے بدک کر بھاگی اور ایک گاڑی سے ٹکرا کے اس کی پچھلی دونوں ٹانگیں کچلی گئیں۔ تکلیف کے گہرے احساس میں شارلٹ نے جبلی طور پہ ہیری جن کو ہوا میں اچھال دیا۔ وہ سر کے بل زمین پہ گرے، انہیں چوٹیں آئیں لیکن انہوں نے دیکھا کہ خون بہہ جانے کے باعث شارلٹ دم توڑ رہی تھی۔ آفیسر ہیریجن نے اپنے ساتھیوں کی یہ پیشکش مسترد کر دی کہ انہیں فوری طور پہ ہسپتال لے جایا جائے، وہ سڑک کے کنارے گری شارلٹ کے منہ پر سر رکھ کے لیٹے رہے اور اپنی دوست مخلوق کے آخری لمحات میں دلاسے اور تسلی کے چھوٹے چھوٹے لفظ کہتے رہے۔ مرتی ہوئی گھوڑی اور زخمی آفیسر کے درمیان یہ لمحات ہیوسٹن کے قصبے میں انسانی محبت کا نشان بن گئے۔ اس منظر کی تصاویر ملک بھر کے اخبارات میں شائع ہوئیں۔ محبت کی ایک اتھاہ جذبہ ہے۔ محبت زندگی کی قدر اور تعلق نبھانے کی تہذیب کا نام ہے۔

رواں مہینے یعنی اکتوبر 2017 کی چار تاریخ کو افریقہ کے ملک نائیجر میں اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے چار امریکی فوجی مخالف سپاہ کی گھات کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کی لاشیں امریکہ لائی گئیں۔ رسم یہ ہے کہ امریکہ کا صدر فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے جان دینے والے فوجی کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہے۔ ڈیڑھ صدی قبل ابراہم لنکن تعزیت کا خط لکھا کرتے تھے۔ خانہ جنگی کا یہ واقعہ زبان زد عام ہے کہ ایک فوجی کی غم زدہ ماں سے تعزیت کرتے ہوئے ابراہم لنکن نے کہا تھا، میں تمہارا دکھ سمجھ سکتا ہوں، میرے بھی دو بیٹے محاذ جنگ پہ لڑ رہے ہیں۔ یہ رسم اب ٹیلی فون پہ ادا کی جاتی ہے لیکن صرف رسم کا ذریعہ نہیں بدلا، طور طریقے بھی بدل گئے ہیں۔ نائیجر میں مارے جانے والے فوجی جوانوں میں ڈیوڈ جانسن بھی شامل تھا۔ ستائیس سالہ فوجی کی بیوہ کو موجودہ صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے فون کیا تو وہاں مقتول جانسن کی والدہ اور مقامی رکن پارلیمینٹ بھی موجود تھے۔ بتایا گیا ہے کہ صدر نے مقتول سپاہی کے بارے میں “تمہارا آدمی” کے الفاظ استعمال کیے اور یہ بھی کہا کہ “جب تمہارا شوہر فوج میں بھرتی ہو رہا تھا تو اسے معلوم تھا کہ اس ملازمت کا نتیجہ اس کی موت کی صورت میں نکل سکتا ہے”۔ اس پر شدید احتجاج ہوا۔ مقتول سپاہی کی ماں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا لب و لہجہ بے حسی کا اظہار تھا۔ صدر کے الفاظ نے ہمارا دکھ بٹانے کی بجائے ہمیں مزید اذیت دی ہے۔ اس پر ایک بحث چھڑ گئی، صدر نے اپنا دفاع کرتے ہوئے مقتول سپاہی کی بیوہ کے بارے میں کہا کہ میری “اس عورت” سے اچھی طرح بات ہوئی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ 2016 کے نومبر میں امریکی عوام نے جس شخص کو ووٹ دے کر صدر منتخب کیا وہ سرے سے مہذب انداز تخاطب کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

کیا ریاست لازمی طور پہ بے حس ہوتی ہے۔ ابراہم لنکن کے قول و فعل سے تو اس کا اظہار نہیں ملتا۔ سانحہ کارساز کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان کو شدید خطرہ لاحق تھا لیکن وہ ملیر جیسے علاقے میں کئی شہدا کے گھر پہ گئیں۔ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اسحاق رابن نے فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنے کی پاداش میں جان دی تھی۔ آج کی دنیا میں اپنے ہوائی جہاز کے لیے سونے سے بنی ہوئی سیڑھی استعمال کرنے والے بادشاہ بھی موجود ہیں اور ایسے روحانی رہبر بھی جن کی سیر کرنے کی جواہر جڑی چھڑیاں مشہور ہیں۔ دنیا میں مگر کینیڈا کے نوجوان وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا نام گونجتا ہے جو اپنے ملک کے ایک نغمہ نگار گورڈ ڈاؤنی کی موت پر تعزیت کرتے ہوئے اشک بار ہو جاتا ہے۔

گریہ اخلاص کا حتمی پیمانہ نہیں، کچھ افراد میں رقت زیادہ ہوتی ہے، کچھ اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ شہری اپنی ریاست اور اس کے منصب داروں سے آنسو بہانے کی توقع نہیں رکھتے، شہریوں کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست اور اس کے منصب دار شہریوں کے بارے میں ذمہ دارانہ اور مہربانی کا رویہ اختیار کریں۔ ریاست کے شہری شطرنج کی بساط پہ رکھے ہوئے مہرے نہیں ہوتے جنہیں آگے پیچھے ہلا کر اپنی سطوت کا سکہ جمایا جائے اور اپنی انا کے غبارے میں ہوا بھری جائے۔ ڈیوڈ جانسن کی بیوہ کو ڈانلڈ ٹرمپ کی ٹیلیفون کال کا واقعہ 16 اکتوبر کو پیش آیا تھا۔ 27 اکتوبر کو ہمارے ملک کے معروف صحافی احمد نورانی پہ دن دھاڑے بارونق سڑک پر حملہ کیا گیا ہے۔ تعجب ہے کہ احمد نورانی پر حملے کی مذمت کم و بیش سب سیاسی جماعتیں اور اہم ترین صحافیوں نے کی ہے لیکن کسی کے بیان سے یہ امید نہیں جھلکتی کہ احمد نورانی پر حملہ کرنے والے قانون کی گرفت میں آ سکیں گے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی کھٹکتا ہے کہ آج کل تو ہم قانون کی بالادستی کے بہترین دور سے گزر رہے ہیں۔ طاقتور ترین افراد دن رات کٹہرے میں لائے جاتے ہیں، کیا واقعی عدالتوں کے سامنے لائے جانے والے یہ افراد طاقتور ہیں۔ 27 اکتوبر کا دن بھی ہماری تاریخ میں عجب بدشگونی کا نشان بن چکا ہے۔ 27 اکتوبر 1958 کو جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو پستول کے بل پر ایوان صدر سے بے دخل کیا تھا۔ 27 اکتوبر 2016 کو وفاقی وزیر اطلاعات اس الزام میں گھر بھیج دیئے گئے کہ انہوں نے اخبار میں خبر رکوانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ ریاست میں کہیں کوئی بیٹھا ہے جو سمجھتا ہے کہ خبر کو روک دینا چاہئیے۔ خواہ اس کے لیے وزیر اطلاعات کو گھر بھیجنا پڑے یا صحافیوں پر حملہ کرکے دہشت پھیلانی پڑے۔

میں احمد نورانی کو ذاتی طور پہ نہیں جانتا۔ رواں برس 29 جولائی کو ان کی ایک انگریزی خبر البتہ بالواسطہ طور پر موصول ہوئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ احمد نورانی کے ادارے نے یہ خبر روک لی ہے۔ صحافت کی اصطلاح میں اس عمل کو ٹو کل دی نیوز (To Kill the News) کہا جاتا ہے۔ کچھ عجیب سی اصطلاح ہے، خبر تو اس واقعے کی اطلاع دیتی ہے جو رونما ہو چکا ہے۔ خبر kill نہیں کی جا سکتی، صحافت البتہ مر جاتی ہے، صحافی زخمی ہو جاتا ہے اور ریاست بے حس ہو جاتی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب ۔ لاہور)