معراج محمد خان: استحصالی نظام کے خلاف للکار کی علامت

آج کی تقریب معروف سیاسی اور سماجی شخصیت اور ویژن فورم کے صدرارشد بٹ ایڈووکیٹ کی نامور ترقی پسند سیاسی راہنما معراج محمد خان مرحوم پر مرتب کردہ کتاب کے حوالے سے منعقد کی جارہی ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے عظیم انقلابی اور مزاحمتی سیاست کے میر لشکر معراج محمد خان کی سیاسی اور جمہوری جد وجہد سے متعلق لکھے گئے مضامین پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں مختلف دانشوروں، صحافیوں اور سیاسی راہنماوں کے 37 اردو اور 5 انگلش کالم شائع کئے گئے ہیں۔

تاریخی اور یادگار تصاویر کے ساتھ فکشن ہاؤس لاہور نے یہ کتاب  ‘معراج محمد خان، مزاحمتی سیاست کا میر لشکر‘ کے عنوان سے شائع کی ہے۔ یہ دراصل ارشد بٹ کا اپنے راہبر اور راہنما معراج محمد خان کی سیاسی اور آمریتوں کے خلاف جمہوری جدوجہد کو خراج عقیدت اور اپنے نظریات سے کمٹمنٹ کا اظہار ہے۔  یوں تو ناروے میں بڑے اچھے اچھے شاعر، افسانہ نگار، ناول اور سفرنامہ لکھنے والے موجود ہیں۔ اور اوسلو اس وقت یورپ میں ادبی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ مگر معراج محمد خان پر کتاب کی تقریب پذیرائی اپنی نوعیت کی پہلی سرگرمی ہے۔
اس کتاب کے انتساب کے تین حصے ہیں:
1۔ وطن عزیز کے محنت کشوں، کسانوں، کچلے ہوئے اور مظلوم طبقات کے نام
2۔ گمنام شہیدوں، استعماری طاقتوں اور ان کے گماشتوں کو للکارنے اور استحصالی نظام میں بنیادی تبدیلی لانے  کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے نام
3۔ بہادرخاتون مسز زبیدہ معراج کے نام جنہوں نے تمام زندگی معراج محمد خان کی جدوجہد میں بھر پور ساتھ دیا۔ اور بے پناہ تکالیف اٹھائیں مگر اُف تک نہ کی۔

پاکستان کی 70 سالہ سیاسی تاریخ عجیب وغریب منظر پیش کرتی ہے۔ یہاں ایسے ایسے لوگوں نے حکمرانی کی جن کا نہ آنے کا اور نہ جانے کے بعد کچھ پتہ چلا۔  کسی شاعر نے خوب کہا ہے:
گئے دنوں کا سراغ لے کر کہاں سے آیا کدھر گیا وہ
دوسری جانب پاکستان کے سیاسی کارکنوں کی جدوجہد اور قربانیوں نے ایسی لازوال داستانیں رقم کی ہیں جس پر پاکستان اور دنیا بھر کے سیاسی کارکن فخر سے سر بلند کر سکتے ہیں۔ جنرل ضیا الحق کی بدترین آمریت میں پاکستان کے دانشوروں، وکلا، صحافیوں، محنت کشوں، طلبہ اور سیاسی کارکنوں کے ننگے جسموں پر ہزاروں کوڑے برسائے گئے، پھانسیاں دیں گئیں، جیلوں اور عقوبت خانوں میں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم مقبول عوامی راہنما ذوالفقار علی بھٹوکا اعلیٰ عدلیہ، ملّا اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ سے عدالتی قتل کیا گیا۔ بیس سے پچیس سال کے نوجوانوں ایاز سموں، ناصر بلوچ، رزاق جھرنا، ادریس طوطی اور اقبال حسبانی کو محض سیاسی سرگرمیوں کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ عقوبت خانے میں وحشانہ تشدد کے ذریعے نذیرعباسی کی زندگی کا خاتمہ کیا گیا۔ شاہی قلعہ لاہور کے عقوبت
 خانے آج بھی رزاق جھرنا کا جیوے بھٹو کا نعرہ مستانہ بلند کر تے ہوئے پھانسی کا پھندہ گلے میں ڈالنے کا دلیرانہ منظر نہیں بھولے۔ 

آج کے پاکستان میں اگر دھرنے دیئے جاسکتے ہیں، جلسے جلوس اور دیگر سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں تو یہ انہی بے لوث سیاسی کارکنوں کی لازوال جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ ان سیاسی کارکنوں اور راہنماؤں میں سب سے الگ اور توانا آواز معراج محمد خان کی تھی۔ وہ پاکستان میں جبر اور استحصالی نظام کے خلاف للکار کی علامت تھے۔  معراج محمد خان ایوبی آمریت کے خلاف بلند ہونے والی پہلی آواز بن کر ابھرے۔ اس وقت طلبہ تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی تھی اور طلبہ کو درسی کتابوں تک محدود کر دیا گیا تھا۔ ایسے میں معراج محمد خان نے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں کو آمریت کے خلاف منظم اور متحرک کیا۔ اس دور میں ایک سال قید با مشقت پا کر پہلے سیاسی قیدی کا اعزازبھی معراج محمد خان کے نام منسوب ہوا۔ اسی دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام میں ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھ بن گئے اور بھٹو صاحب نے انہیں اپنا سیاسی جانشین بھی قرار دیا۔ بھٹو حکومت میں وزیر بھی بنائے گئے اور بہت جلد اختلافات کی بنا پر حکومت سے مستعفیٰ ہو گئے۔ بعد ازاں بھٹو صاحب کی حکومت کے دوران جیل میں بھی رہے۔

فوجی آمرضیاالحق نے رہا کیا اور وزارت کی پیش کش بھی کی۔ جنرل ضیا نے معراج محمد خان کو بھٹو کے خلاف کام کرنے اور کراچی میں مہاجر کمیونیٹی کو منظم کرنے کے لئے مدد کی پیش کش کی۔ معراج محمد خان کے بڑی جرات سے کہا کہ بھٹو سے میرا کوئی ذاتی اختلاف نیہں تھا۔ مجھے بھٹو کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا میں کرائے پر کام کرنے والا سیاسی لیڈر نیہں۔  معراج محمد خان کی سربراہی میں قومی محاذ آزادی کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے محنت کشوں، کسانوں اور طلبہ کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ ضیا آمریت کے خلاف قومی محاذ آزادی نے بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ مل کر سیاسی جماعتوں کے اتحاد ‘تحریک بحالی جمہوریت‘ ایم آر ڈی کو منظم کیا۔ معراج محمد خان کو ایم آر ڈی کا کنوینر مقرر کیا گیا۔ ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے ضیا آمریت کے خلاف جمہوریت کی بحالی کے لئے بے مثال تاریخ رقم کی گئی۔  معراج محمد خان کچھ عرصہ تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری بھی رہے۔ اور بعد ازاں اسے اپنی بہت بڑی سیاسی غلطی قرار دے کر الگ ہو گئے۔

معراج محمد خان بے وسیلہ ہونے کے باوجود جاگیرداروں، سرمایہ داروں، استحصالی طبقات اور حکمرانوں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھتے رہے۔ عوامی جمہوری حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں معراج محمد خان نے 13 سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ وزارت ٹھکرائی، سیاسی عہدے چھوڑے، مگرعوامی حقوق کی جدوجہد کا پرچم سربلند رکھنے میں کو ئی کثر نہ چھوڑی۔ وہ ساری زندگی اپنے نظریات اور اصولوں پر کاربند رہے۔  معراج محمد خان کی جدوجہد سے متعلق مرتب کردہ اس کتاب سے سیاسی کارکن اس انقلابی راہنما کی انتھک جد وجہد سے واقفیت اور راہنمائی حاصل کریں گے۔ میں ارشد بٹ کو اس کتاب کی تدوین اور اشاعت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

معراج محمد خان جیسا کوئی دوسرا انقلابی اور نظریاتی سیاستدان آج پاکستان کے سیاسی منظر میں نظر نیہں آتا۔ لیکن ان کی عوام اور عوامی جمہوریت سے کمٹمنٹ، اور بے مثال انقلابی جدوجہد کی لازوال داستان آج بھی ہمیں یقین اور امید دلاتی ہے کہ پاکستان میں وہ صبح ضرور آئے گی جس کا حسین خواب معراج محمد خان اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا تھا۔ بقول فیض احمد فیض:
دل نا امید تو نیںی ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔            

(علی اصغر شاہد نے یہ مضمون 28 اکتوبر 2017 کو اوسلو میں حلقہ ارباب ذوق کے زیر اہتمام  ارشد بٹ کی مرتب کردہ کتاب ‘معراج محمد خان، مزاحمتی سیاست کا میر لشکر‘  کی تعارفی تقریب میں پڑھا)