نوجوان طبقہ اور اعتماد سازی کا بحران

پاکستان کے  بڑے چیلنجز  میں ایک بڑا چیلنج نوجوان نسل ہے ۔ اس نسل میں لڑکے ، لڑکیاں دونوں شامل ہیں ۔ نوجوان طبقہ کی تعریف  محض لڑکے اور لڑکیوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں تیسری جنس کے نوجوان بھی شامل ہیں ۔ اسی طرح اس بات کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ نوجوان نسل کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے دیکھنا ہوگا ۔ اول لڑکے اور لڑکیوں، دوئم شہری اور دیہی نوجوان، سوئم خواندہ اور ناخواندہ ، چہارم امیر اور غریب، پنجم صحت مند اور جسمانی و زہنی معذورشامل ہیں ۔ عام طور سے جب ہم نوجوان طبقہ کی بات کرتے ہیں تو یہ بات شہری اور پڑھے لکھے نوجوانوں تک محدود رہتی ہے ۔

نوجوان طبقہ ترقی میں ایک بڑا سرمایہ ہے ۔ اس وقت  پاکستان میں 18سے40 برس کے درمیان طبقہ کی تعداد  سب سے زیادہ ہے ۔ یہ نوجوان طبقہ حقیقی معنوں میں ہمارا سماجی اور سیاسی سرمایہ ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری ریاست  اور حکومتوں کی ترجیحات میں اب نوجوان طبقہ کی باتیں یا پالیسی یا قانون سازی تو بہت نظر آتی ہے لیکن عملی اقدامات میں کمزور سیاسی کمٹمنٹ اور کم توجہ یا سرمایہ کاری نے نوجوانوں کی زندگی میں خوشی کم اور دکھ یا سیاسی تنہائی زیادہ دی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل جو بہت پرجوش بھی ہے اور واقعی کچھ کرنا بھی چاہتی ہے مگر ان کا مسئلہ ریاست کی عدم توجہی اور کمزور طرز حکمرانی کا بحران ہے ۔ اس نظام میں نوجوان تو کیا عام آدمی پر بھی توجہ نہیں دی جاتی ۔ ملک میں طبقاتی نظام موجود ہے۔  جس میں طاقت ور کے ساتھ کھڑا ہونا اور کمزور کا استحصال کرنا  ہی بنیاد ہے۔

اصل مسئلہ نئی نسل کو آگے بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع کی تلاش  ہے ۔ ایک اچھی اور ذمہ دار ریاست اور حکمرانی کے نظام میں حکمران  کوشش کرتے ہیں کہ وہ  نئی نسل کو زیاد ہ سے زیادہ سیاسی ، سماجی اور معاشی مواقع، سازگار ماحول ، انصاف اور برابری کا تصور فراہم کریں۔  کیونکہ ایسا عمل نوجوان طبقہ کو ریاست اور حکومت کے ساتھ جوڑتا ہے اور یہ ریاست و حکومت کی ساکھ کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ لیکن جب سیاست خود کرپشن ، بدعنوانی اور ذاتی مفادات کے تابع ہو جائے اور طاقت ور طبقات کی نظر میں عام آدمی یا نوجوان نہ ہو، وہاں نوجوان طبقہ  اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارا جمہوری حکمرانی کا نظام معاشرے میں  ایک بڑی خلیج کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔ میں ذاتی طور پر ایسے کئی پڑھے لکھے اور بلاصلاحیت نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو جانتا ہوں اور اپنے کام کے دوران جب ان سے بات چیت کا موقع ملتا ہے تو ان کی کہانیوں میں واقعی بہت درد ہوتا ہے ۔ کئی کئی برسوں سے ایک مناسب روزگار کی فراہمی میں پیش آنے والی مشکلات اور اس میں موجود استحصال اور بالخصوص لڑکیوں کا تو دل واقعی دکھی ہوجاتا ہے ۔ والدین جو معاشی تکالیف کے باوجود بچوں اور بچیوں کو اعلی تعلیم دلواتے ہیں ، لیکن عملی زندگی میں وہ اپنے بچوں کو ترقی اور خوشحالی میں دیکھنے کی بجائے بدحالی میں دیکھتے ہیں تو خود ان کے  دکھ  میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔  بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ حکومتوں کے پاس کوئی ایسا ٹھوس منصوبہ یا حکمت عملی نہیں جو نوجوان پڑھے لکھے یا ناخواندہ نوجوانوں کو باعزت کام دلواسکے ۔ کئی ایسے معذور نوجوان بھی ملتے ہیں جو پڑھ لکھ جاتے ہیں لیکن اپنی جسمانی کمزوری یا معذوری کی وجہ سے ان کا بہت زیادہ استحصال ہوتا ہے ۔

نوجوان نسل کا المیہ یہ ہے کہ ان کی توقع کا مرکز حکومت، ریاستی ادارے اور نجی شعبہ جات ہوتے ہیں ۔ سب ہی ملازمت کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی بہتر ملازمت۔ لیکن اب سب کو تو حکومت ملازمتیں دینے سے رہی۔ مسئلہ نوجوانوں کی بڑی تعداد، حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی اور ترجیحات، اقرا پروری ، عدم میرٹ جیسے مسائل ہوتے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں کیا کریں اور کس طرح سے مجموعی طور پر یہ معاشرہ اس نئی نسل کا ہاتھ پکڑ سکے ۔ بہت سے نوجوان ملتے ہیں جو کچھ کرنا چاہتے ہیں  لیکن کیا کریں اس کی کوئی سمجھ ان میں نہیں ہوتی۔ ہمارے تعلیمی ادارے اور یا نجی شعبے میں ایسے مراکز موجود نہیں جو نئی نسل کی ایسی راہنمائی کرسکیں جو ان کو آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنا غصہ نوجوان نسل پر نکالتے ہیں اور ان ہی کو دوش دے کر سمجھتے ہیں کہ وہ ہی خود اپنے حالات کے ذمہ دار ہیں ۔ حالانکہ یہ سچ نہیں بلکہ اصل سچ یہ ہے کہ ہم مجموعی طور پر خود نئی نسل کے مجرم ہیں کہ ہم ان کو کچھ نہیں دے سکے ۔

نئی نسل کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اب حکومتوں پر اور ریاستی نظام پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی بجائے تین نوعیت کے کام کرنے ہوں گے ۔ اول وہ اس ریاستی اور حکومتی نظام کو ہر سطح پر چیلنج کریں جو ان کے لیے سوائے استحصال کے کچھ نہیں ۔ کیونکہ جب تک  چیلنج نہیں کیا جائے گا اور ایک بڑے دباؤ کی سیاست نوجوان طبقہ پیدا نہیں کرے گا ، مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا ۔ دوئم نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی صلاحیتیں بھی سیکھنی ہوں گی جو ان کو معاشرے میں کھڑا کرنے میں معاون ثابت ہو، محض ڈگری ہونا کافی نہیں ۔ سوئم محض بڑے اور اچھے کام کی تلاش میں اپنا وقت برباد کرنے کی بجائے جہاں سے بھی کام ملتا ہے اور جس نوعیت کا ملتا ہے کام کا آغاز کرنا چاہیے ۔ کیونکہ کوئی کام برا نہیں ہوتا۔ محض اچھے کاموں کی تلاش میں گھر بیٹھنا درست عمل نہیں ۔ چہارم ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے لیے کوئی کاروبار بھی سوچنا چاہیے ، جو چھوٹے پیمانے اور کم سرمائے سے بھی ہوسکتا ہے ۔

ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کے لوگ بہت جلد دل برداشتہ ہوکر مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ گھر بیٹھ جاتے ہیں یا منفی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ ہماری نئی نسل  کو اپنے اوپر اعتماد کرنا چاہیے ۔ یہ جو فوری طور پر نتائج حاصل کرنے کا جنون ہے اس سے باہرنکلنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ اپنا مستقبل بنانا اب صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے بڑے ملکوں میں بھی بڑا چیلنج ہے ۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمیں جدوجہد اور محنت بھی کرنا ہوگی  لیکن اپنے اندر برداشت اور حوصلہ بھی پیدا کرنا ہوگا ۔ کیونکہ مایوسی گناہ ہوتی ہے ، انسان کا کام جدوجہد کرنا ہوتا ہے ۔ کسی بھی بڑی منزل پر پہنچنے کے لیے ایک لمبی جدوجہد اور وقت درکار ہوتا ہے۔ مگر جلد بازی  نقصان پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ ہماری ریاست ، حکومت، سیاسی جماعتوں ، قیادت، اہل دانش اور فکری محاذ پر کام کرنے والے تھنک ٹینک اور طاقت ور طبقات کو سمجھنا ہوگا کہ  نئی نسل میں وہ کچھ  نہیں مل رہا  جو ان کا آئینی، سیاسی اور جمہوری حق  ہے ۔ جو ریاستیں اور حکومتیں نئی نسل کو ان کا حق نہیں دیتیں تو اس کے نتیجے میں ریاستی و حکومتی نظام میں بغاوت کا عنصر جنم لیتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہمیں نئی نسل کے بارے میں درمندانہ فکر و غور کریں۔ ان کے لیے متبادل راستے اختیار کرنے ہوں گے جو ان کو آگے بڑھنے کا راستہ دے سکیں ۔  نئی نسل ہماری طاقت ہے، اس کو اپنی کمزوری نہ بنایا جائے ۔ کیونکہ اگر ہم اپنی طاقت کو ایک مضبوط طاقت میں نہ بدل سکیں تو پھر یہ ہی طاقت ہمیں داخلی اور خارجی بحرانوں سے نمٹنے میں بھی مدد نہیں کرسکے گی ۔ 1973کے دستور میں بنیادی حقوق کی فراہمی کا باب ہے  ہماری پالیسی کی بنیاد ہونا چاہیے۔ اگر  بنیادی حقوق کی پاسداری نہیں کی جاتی تو اس کا نقصان بھی ریاستی نظام کو ہوگا۔

ہمیں خود سے ابتدا کرنی ہوگی ، اس نئی نسل کا ہاتھ پکڑنا ہوگا اور یہ احساس دینا ہوگا کہ وہ اس بحرانی کیفیت میں تنہا نہیں بلکہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ یہ احساس ان میں مقابلہ کرنے کے لیے جوش بھی پیدا کرے گا اور طاقت بھی ۔ جب نئی نسل کو یہ احساس ہوگا کہ ہم اکیلے نہیں ہمارے ساتھ  ہمارے بڑوں کی طاقت موجود ہے تو وہ خود کو تنہا محسوس نہیں کریں گے۔ یہ ہی عمل نئی نسل کو آگے بڑھنے کا راستہ بھی دے سکتا ہے اور روشنی بھی۔ یہ ہماری ترجیحات کاحصہ بھی ہونا چاہیے ۔