ٹریفک کی دہشتگردی
- تحریر شیخ خالد زاہد
- منگل 31 / اکتوبر / 2017
- 4530
موت برحق ہے ، موت کا منکر بھی موت سے نہیں بچ سکتا۔ لیکن ایک طبعی موت ہوتی ہے اور ایک خودکشی ۔ خودکشی کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے کیوں کہ زندگی اللہ کی جانب سے دی گئی ایک نعمت ہے اور خودکشی کفران نعمت کے مترادف ہے ۔ حالات و واقعات انسان کو کیا کچھ کرنے پر مجبور کردیتے ہیں ان ہی میں سے ایک خود کشی ہوتی ہے ۔ جسکا ایک سبب معاشرے کی بے ثباتی کے منہ پر طماچہ ہوتا ہے مگر ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں یہ بے حس بھی ہوتا چلا جارہا ہے ۔
روز گار کی تلاش ہو یا پر روز گار پر پہنچنا دونوں صورتوں سفر درکار ہوتا ہے جس کے لئے آپ کوذرائع آمد و رفت کی ضرورت پڑے گی۔ سڑک پر پہنچتے ہی گاڑیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ آپ کا منتظر ہوگا۔ اس تیز رفتاری کے دور میں ذرائع آمد و رفت کے بغیر زندگی ادھوری معلوم ہوتی ہے آج گاڑی تعیش سے نکل کر ضرورت کے خانے میں آچکی ہے ۔ ٹریفک کا مسلۂ ساری دنیا کو ہی درپیش ہے مگر اپنے ملک میں اور خصوصی طور پر کراچی شہر میں ٹریفک کی دہشت گردی کا تذکرہ اور سدباب جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔
دہشت گردی کی طرح ہمیں اب ٹریفک کے مسلئے کو بھی حل کرنے کیلئے ایک ہونا پڑے گا اور کون کہاں کیا حصہ ڈال سکتا ہے یہ ایک ایک پاکستانی پر واضح کرنا پڑے گا۔ سائیکل چلانے سے بڑی سے بڑی گاڑی چلانے والے کو سب سے پہلے تو زندگی کی اہمیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے ۔
ٹریفک کے مسلئے کے حل کیلئے مختلف ادارے جہاں ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا رکرتے ہیں وہیں اس مسلئے سے بھی نمٹنے کیلئے اپنی اہمیت واضح کرسکتے ہیں۔ تمام گاڑیوں کو چلانے والوں کو ہفتہ میں تقریباً ایک بار صبر سے اور اپنی اپنی لین میں گاڑی چلانے کی ترغیب دی جائے تو تقریباً مسلئے پر قابو پانے میں پہلا قدم ثابت ہوسکتا ہے ۔ سب سے پہلے تو ایک اخلاقی حلف لیں کہ وہ گاڑی چلاتے ہوئے قانون نہیں توڑیں گے اور اخلاقیات کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے۔ اسی طرح یہ گاڑی چلانے والے اپنے اپنے گھروں میں بھی اس بات کو عام کرنے کی کوشش کریں کہ غیرضروری گاڑی کا استعمال نہیں کیا جائے گا اور جب کبھی ضرورت کے تحت استعمال کرنا پڑے تو قانون اور اخلاقیات کا سبق یاد رکھا جائے گا۔
اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ بہت پرانی گاڑیاں بیچ سڑک میں خراب ہونے کے باعث بند ہوکر رک جاتی ہیں جس کی وجہ سے بہت دور تک ٹریفک کی روانی میں بری طرح سے خلل پڑنا شروع ہوجاتا ہے ۔ حکومت اور گاڑی بنانے والے ادارے مل کر کوئی تبدیلی کی اسکیم لے کر آئیں جس کے تحت یہ پرانی گاڑیاں نئی یا قدرے نئی گاڑیوں سے تبدیل کی جاسکیں۔ اور بہت پرانی گاڑیوں سے پھیلنے والے شور اور فضائی آلودگی سے بچا جا سکے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں پرانی گاڑیوں پر ایک حد متعین ہے لیکن پاکستانمیں دہائیوں پرانی گاڑیاں بھی زیر استعمال ہیں۔
ٹریفک کے قوانین کی بالادستی کو یقینی بنانے سے بھی ٹریفک کے مسائل پر کسی حد قابو پایا جاسکتا ہے۔ راچی جیسے شہر میں گاڑی چلانے والا تیسرا نہیں تو ہر چوتھا شخص بغیر لائیسنس کے گاڑی چلا رہا ہے۔ رکشے اور موٹرسائیکل چلانے والوں میں ستر سے اسی فیصد ایسے افراد کی ہے جن کے پاس نہتو لائیسنس ہے اور نہہی کاغذات مگر بہت مزے سے گھومتے پھر رہے ہیں۔ ان تمام معاملات پر ٹریفک پولیس کے ذمہ داران کو کوئی جامع حکمت عملی واضح کرنے کی ضرورت ہے ۔
کراچی والے اپنی زندگی کے صبح و شام گھنٹوں ٹریفک میں پھنس کر سڑکوں پر گزار رہے ہیں تو دوسری طرف وی آئی پی موومنٹ اس گھٹن ذد ہ گھنٹوں میں اضافے کا باعث بنتی رہتی ہیں ۔ یہ تو طے ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو تو عوام سوائے انتخابات کے یاد نہیں آتے۔ اگر ہم اس ٹریفک کی دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے متحد و متفق نہ ہوئے تو ہماری رہی سہی زندگیاں یونہی سڑکوں پر گزرجائیں گی۔ ہم سے جو ممکن ہوسکے اس ٹریفک کے مسلئے کو حل کرنے کیلئے آگے بڑھیں اور انسانیت کو فوت ہونے سے بچانے میں حصہ ڈالیں۔