کاٹیلونیا نے مانگی آزادی!
آزادی انسان کا بنیادی حق ہے۔ انسانی حقوق کی بنیاد بھی اسی بات پر ہے کہ ہر انسان کو اسے اپنے طور پر جینے کا حق اور آزادی ملنی چاہئے۔ انصاف ، وقار اور احترام کے ساتھ ہر کسی کے ساتھ مساوات کرنا ہی انسانی حقوق ہے۔ تبھی ایک انسان کو اپنی آزادی کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن کئی بار ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ان تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر انسان کو اس کی آزادی سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اُس وقت احساس ہوتا ہے کہ انسان یا تو بے بس ہے یا ان فرسودہ اصولوں سے انجان ہے۔ جو شاید اپنی آزادی کا حق جانتے ہوئے بھی خونخوار اور بے رحم سیاستدانوں کے ہاتھوں یا توبے رحمی سے مارے جاتے ہیں یا ان پر غدّاری کا الزام لگا کر انہیں بنا قصور قید کر دیا جاتا ہے۔
جب سے دنیا قائم ہوئی ہے انسان اپنی آزادی کی مانگ اور اس کی جدو جہد میں اب تک جانیں گنوا رہا ہے۔ کہیں قوم کے نام پر تو کہیں مذہب کے نام پر تو کہیں علاقے کے نام پر انسان صدیوں سے آزادی کی مانگ کرتا چلا آرہاہے۔ یوں تو دنیا کے زیادہ تر ممالک کسی نہ کسی وجہ سے آزاد ہوتے رہے ہیں ۔ لیکن جب بات ایک ہی نسل، زبان اور مذہب کی ہو تو وہاں معاملہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام انسان اپنی جان گنوانا فخر سمجھتا ہے اور ایک عرصے کے بعد اسے شہید یا آزادی کے لئے لڑنے والا جانباز سپاہی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ھاسپین دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جس نے سترھویں اور اٹھارویں صدی میں لگ بھگ کئی سو ممالک پر قبضہ کیا تھا۔ جن میں جنوبی امریکہ، مرکزی امریکہ، کیریبین جزائر ، اٹلی، فلپائن، ہالینڈ، پرتگال اور افریقہ کے کئی ممالک پر اسپین کا کئی سال تک قبضہ رہا۔ ان دنوں اسپین کے حکمران ان ممالک میں عیسائی مذہب کی تبلیغ اور گرجا گھروں کی تعمیر میں بھی نمایاں رول نبھایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان ممالک میں عیسائی مذاہب کے لوگ زیادہ پائے جاتے ہیں ۔
پچھلے چند دنوں سے Catalonia کاٹیلونیا کے حوالے سے خبریں مسلسل ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر سنی جا رہہ ہیں۔ سچ پوچھئے تو مجھے انگلینڈ میں رہتے ہوئے چوبیس برس ہو چکے ہیں اور مجھے کاٹیلونیا کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں تھا۔ لیکن حال کی سیاسی سر گرمیوں اور کاٹیلونیا کی آزادی کے حوالے سے جب خبریں پڑھیں تو اس بات کا علم ہوا کہ دراصل کاٹیلونیا اسپین کے شمال مشرقی خطہ کا علاقہ ہے جس کی راجدھانی معروف شہر بارسیلونا ہے۔ پہلی اکتوبر کو کاٹیلونیا کی حکومت نے ایک ریفرنڈم کرایا جس میں نوے فی صد لوگوں نے کاٹیلونیا کی آزادی کی حمایت میں ووٹ دیا۔ جبکہ آبادی کے صرف 43% صد لوگوں نے ہی ووٹ ڈالا تھا۔ تاہم اسپین کی آئینی عدالت نے اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ریفرنڈم کے دوران کئی ایسے ویڈیو اور خبریں سامنے آئیں جن میں ووٹ دینے والے لوگوں پر پولیس کی زیادتی کو دکھا یا گیا۔ جہاں کاٹیلونیا کی حکومت نے پولیس کی زیادتی کی مذمّت کی تو وہیں اسپین کی مرکزی حکومت نے اسے محض ایک پروپگنڈا بتایا۔
بات اس وقت کافی سنگین ہو گئی جب کاٹیلونیا کی حکومت نے اپنی پارلیمنٹ میں کاٹیلونیا کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ اسی وقت اسپین کی راجدھانی میڈ ریڈ میں حکومت نے آئین کے آرٹیکل 155کے تحت کاٹیلونیا پر براہ راست کنٹرول سنبھالنے کا اعلان کر دیا۔ جو کہ اسپین کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ اسپین کی مرکزی حکومت نے کاٹیلونیاکے لیڈر کو برخاست کر دیا اور پارلیمنٹ کو بھی تحلیل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اکیس دسمبر کو نئے الیکشن کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ کاٹیلونیا کے برطرف صدر کارلس پی جومو نے اپنی برطرفی کے اعلان کو نظر انداز کرتے ہوئے سرکاری ملازمین سے میڈریڈ کے حکم کی نافرمانی کرنے کی اپیل کی ہے۔ تاہم اب تک ایسا دیکھنے کو نہیں ملا ہے اور لوگ دفتروں میں کام کے لئے جارہے ہیں۔ کاٹیلونیا کے وزیروں کو دفتر جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ لیکن خبروں کے مطابق ان وزیروں کو پولیس نے واپس کر دیا ہے ۔ جس پر برہم وزیروں نے کہا کہ لوگوں کے چنے ہوئے وزیروں کے ساتھ ایسا سلوک کرنا نہایت شرم کی بات ہے۔
کاٹیلونیا کے برطرف صدر کارلس پی جومو اچانک بیلجئیم پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اپنے آپ کو اسپینی حکومت سے بچنے کے لئے قانونی صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی قیاس لگا یا جارہا ہے کہ ممکن ہے کہ کارلس پی جومو بیلجئیم میں پناہ کی کوشش کریں گے۔ تاہم کا رلس پی جومو نے اس بات کی فی الحال تردید کی ہے لیکن کہا کہ تمام امکانات پر غور کیا جائے گا۔ کارلس پی جوموکا اچانک بیلجئیم جانا دراصل اس بات کی نشاندہی ہے کہ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں اسپینی حکومت انہیں گرفتار کرکے ان پر ملک سے غدّاری کرنے کا مقدمہ نہ چلائے۔ اسپین کے اٹارنی جنرل نے کارلس پی جومو پر بغاوت، فسادات اور سرکاری خزانہ میں ہیرا پھیری کرنے کا الزام لگایاہے۔ جس سے یہ بات سچ ثابت ہورہی ہے کہ کا رلس پی جوموپر اسپینی حکومت نے مقدمہ چلانے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اگر کارلس پی جوموپر یہ الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں تیس برس کی جیل ہوگی۔
مرتا کیا نہ کرتا ، ظاہر سی بات ہے اس حالت میں کارلس پی جوموکا بیلجئیم جانا ایک بہتر قدم ہے۔ کیونکہ اس تمام معاملے میں دنیا کی بڑی طاقتوں کے علاوہ یوروپین یونین نے بھی چپ سادھ رکھی ہے۔ جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کہیں نہ کہیں یوروپین یونین اور دنیا کی بڑی طاقتیں اسپین کی حمایت میں ہیں۔ ورنہ اگر کاٹیلونیا کے لوگ آزادی کی حمایت کر رہے ہیں تو کیوں انسانی حقوق کی حامیوں نے چپ سادھ رکھی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں آزادی کی جنگ کے حوالے سے روزانہ خبریں آتی رہتی ہیں۔ جہاں لوگ پچھلے کئی برسوں سے اپنے علاقے کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی آزادی کی حمایت میں نہ تو کوئی بات کرنا چاہتا ہے نہ ہی ان کے مسائل کو سنا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ آئے دن لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کی جان جا رہی ہے۔ ویسے بھی آزدی کامسئلہ اتنا پیچیدہ ہے کہ اسے فوراً حل کرنا ایک ناممکن بات دکھائی دیتی ہے۔
میں ہر انسان کی آزادی ، انصاف ، وقار اور احترام کا حق انہیں ملتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن میں اس بات سے بھی افسردہ ہوں کہ اس کام کا بیڑہ جن طاقت ور اور انسانی حقوق کے حامی ملکوں نے اٹھایا ہے وہ کہیں نہ کہیں اپنے فرض سے کوتاہی کرتے ہیں۔ جس سے ایک انسان اپنی آزادی کی مانگ کو چاہ کر بھی صدیوں پرانی غلامی کی روایت کی منحوس زنجیروں میں جکڑا ہوا محسوس کرتاہے۔