سیکولرازم : ایک نظریاتی مطالعہ (2)

تمہارا عقیدہ ، میرا عقیدہ نہیں
اور میں تمہارے طرزِ زندگی میں شریک نہیں
تمہاری  منطقی موشگافیاں ، میری ذمہ داری نہیں
لیکن تمہارے عقیدے کی اپنی قدروقیمت ہے
اور تمہارے عقائد کو میں تمہارا حق مانتا ہوں
اور تمہاری نجی سچائیوں کا احترام کرتا ہوں
لیکن میری بھی سنو!
خُدا کی کتابوں میں نہیں فلسفیوں کی کتابوں میں لکھا ہے کہ سیکولرازم وہ اصول ہے  جو حکومتی اداروں اور عہدیداروں کو ،  مذہبی اداروں اور مذہبی شخصیات کے دائرہ  اختیار  سے  الگ کرتا ہے ۔  اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ  حکومت کو مذہبی اعتقادات کے معاملے میں غیر جانبدار اور الگ تھلگ رہنا چاہیے  اور عوام پر سرکاری اعتقادات نہیں تھوپنے چاہئیں۔ لہٰذا ، سیاسی پالیسیوں  کو ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں  مذہبی اعتقادات اور رسوم سے بالاتر ہونا چاہیے ۔

بعض عالموں کا خیال ہے کہ سیکولرازم کے تصور کا ماخذ قدیم یونان کے فلسفی  ایپی کیورس کی تعلیمات ہیں  اور کچھ محقق اسے اطالوی سیاسی مفکر  مارکوس اوریلیس کی کتاب  " مراقبات"  کو  سیکولر تصورات سے منسوب کرتے ہیں ۔  اگرچہ انسانی فکر کی تاریخ میں یہ تصور کسی نہ کسی صورت میں ازمنہ  قدیم سے موجود رہا ہے  لیکن بعد میں یہ عیسائیت کے خلاف ایک استدلال کے طور پر طلوع ہوا ۔ اس اصطلاح کو سب سے پہلے ایک برطانوی مصنف جارج جیکب ہولی یوک نے استعمال کیا  اور چونکہ ایک زمانے میں دنیا کے سارے برِ اعظموں میں برطانیہ عظمیٰ کا طوطی بولتا تھا ، اس لیے اس کے سارے مکتبہ ہائے فکر  کی دنیا بھر میں ہر جگہ رسائی رہی ہے۔ مگر  دیکھنا ہے کہ سیکولر ازم سے ہمارا کیا لینا دینا  ہے اور ہم قاضی جی کی طرح سیکولرازم کے غم میں دُبلے کیوں ہو رہے ہیں ۔ 

سیکولرزم کیا ہے۔ میری جانے بلا ۔ سیکولرازم ایک  اکیڈمک بحث ہے اور شاعروں کے ہاتھوں  اس کا قتل روا نہیں مگر وہ جو پنجابی کہتے ہیں کہ : " کملا گل کرے تے سیانا قیاس کرے " ۔ شاعر کی بات سے بات تو نکل سکتی ہے اور میں جاننا چاہتا ہوں  کہ سیکولرازم مجھ جیسے عام پاکستانی کے لیے  کیا ہے ۔ اگرچہ یہ خواص کی بات ہے اور خواص کی بات  ، عامیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑی جا سکتی ۔  لیکن یہ میرا جمہوری حق تو ہے کہ میں بات کروں ۔ جب دیسی جمہوریت میں کرپشن اور منی لانڈرنگ قانون ساز اداروں کے ممبروں کا حق ہے تو ایک شاعر سنجیدہ علمی و فکری بحث میں اپنا حصّہ کیوں نہیں ڈال سکتا ۔

مذہب خدا کی آواز ہے اور دنیا کی ساری زبانوں میں یہ آواز موجود ہے  کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر رکھو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو ۔ یہ حکم اگرچہ متعدد  علاقائی زبانوں میں  ہے مگر اس کا ماخذ ایک ہے اور اس کی مخاطب بھی ایک  ہی نوعِ انسانی ہے ۔ چنانچہ سارے پیغمبروں کی آوازیں خُدائے واحد کی آواز ہیں اور اُن سب کا احترام لازمی ہے۔ مگر انسانوں  میں  کچھ ایسے ہیں جو پیغمبروں کی باتیں نہیں سمجھ سکتے اور ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے  ۔ وہ اس کے لیے مکمل فارغ خطی کے طلبگار ہوتے ہیں جیسے کوئی بیٹا اپنے باپ سے کہے کہ میں تمہارا باپ ہونا تسلیم نہیں کرتا ۔ اس قسم کی صورتِ حال پیغمبروں کو بھی درپیش رہی کہ ان کے باپ یا بیٹے نے اُن کی تحقیق اور دریافت کو ماننے سے انکار کردیا  ۔ اس سلسلے میں ابراہیم علیہ السلام کے باپ اور نوح علیہ السلام  کے بیٹے کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جسے سب مانتے ہیں ۔ 

لیکن اس وقت جو بات زیرِ بحث ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت اکیسویں صدی کی جدید جمہوری معاشرتوں میں سیکولرازم کا درست تصور کیا ہے اور اس کا  ہم مسلمانوں پر اطلاق ممکن ہے یا نہیں ۔  اور اس سلسلے کا پہلا سوال یہ ہے کہ سیکولرازم کی بحث کیوں  اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ ایک کثیر المذاہب معاشرے میں ، جہاں پر مذاہب کے مابین امن بقائے باہمی کا چیلنج درپیش ہو، ایسے سوالوں کا جواب  اپنے عہد کی ارضی حقیقتوں کے مطابق تلاش کرنا پڑتا ہے ۔ چونکہ ہم خلافتِ راشدہ کے زمانے کے مسلمان نہیں اور نہ ہی اس وقت اموی خلافتوں کی رعایا ہیں ، اس لیے ہمیں خود پر بھروسہ کرکے اپنے عہد کے سوالوں کا جواب خود تلاش کرنا ہے۔ کیونکہ ہر عہد میں سوال تو وہی پرانے ہوتے ہیں  مگر جواب حسبِ ضرورت نیا ۔ اور زندہ قومیں ہمیشہ وقت کی آواز پر لبیک کہتی ہیں :
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں اُن کی تقدیریں

میں نے اس سلسلے میں صوفیا سے بھی رابطہ کیا اور اس تصور پر اُن کی رائے جاننی چاہی تو پتہ چلا کہ تصورات کی دنیا میں کچھ بھی نیا نہیں ۔ ایسی کوئی بھی بات نہیں جو پہلے نہ کہی جا چکی ہو۔ مگر ہر نئے  عہد میں جب زبانیں جدید  اسلوب اختیار کرلیں اور روز مرہ اور محاورہ علمی ، فنی اور تکنیکی  ترقی کے باعث بدل جائے تو تصورات کا لسانی چولا بدل جاتا ہے ۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں واضح طور پر کہا گیا کہ یہ کوئی نئی کتاب نہیں بلکہ پرانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ ہر زمانے کو کتاب اور ہر قوم کو پیغمبر دیئے گئے ہیں اور بہت سے پیغمبروں کا تذکرہ قرآن میں موجود نہیں  ہے ۔ چنانچہ جدید زمانے کے ایک ایسے فرد کے طور پر جو ایک مسلمان کہلانے والی معاشرت میں پیدا ہوا ، میرے لیے چراغِ ہدایت قرآن ہے۔ اور قرآن جس انسانی معاشرت کی بات کرتا ہے اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ایک لاکھ سے بھی زیادہ پیغمبر بھیجے گئے جن کے ایک ہی دین پر ہونے کی گواہی رقم ہے ۔  ذرا یہ حوالہ دیکھیئے :
"جو لوگ مسلمان ہیں  یا یہودی  یا عیسائی  یا صابی ، جو اللہ اور احتساب کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو ایسے لوگوں کا صلہ  خُدا کے ہاں ملے گا اور  اُن کو نہ کسی قسم کو خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمناک ہوں گے " ۔ البقر ۔  ۶۲

اور جب اللہ پر ایمان اور نیک عمل ہی نجات کی بنیاد ہے اور ان سارے ادیان کو خوف اور غم سے آزادی کی بشارت دی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تمام مروجہ مذاہب کا احترام لازم ہے۔ اور انہی کی پر امن بقائے باہمی میں سیکولرزم کا راز مضمر ہے ۔
(جاری)