نیو این آر او
- تحریر تصور چوہدری
- بدھ 01 / نومبر / 2017
- 3791
آج سے 10برس قبل اکتوبر 2007 میں پرویز مشرف قومی مفاہمتی آرڈیننس لائے تھے جس کے تحت پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم کے رہنماؤں سمیت 8041 افراد پر کیسز ختم کئے گئے تھے۔ ان میں کرپشن، قتل و اقدام قتل جیسے بڑے جرائم بھی معاف کر دئیے گئے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرائے جانے کے بعد پارٹی کی قیادت سمیت تمام رہنما ملک سے باہر تھے یا غیر فعال، اس لئے این آر او کی گنگا سے محفوظ رہے۔ البتہ آصف زرداری ، بے نظیر بھٹو، الطاف حسین سمیت کئی بڑے لوگ اس کنگا سے پاک ہو کر نکلے۔
این آر او کے مختصر تعارف کے بعد موضوع کی طرف آتا ہوں۔ آج کل پھر نئے این آر او کی باتیں زیر گردش ہیں۔ عدالت عظمیٰ سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نئے این آر او کے لئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ لندن اور سعودی عرب میں مشترکہ دوستوں کے ذریعے مفاہمت کے پیغام بااثر حلقوں تک پہنچائے جا رہے ہیں، اگرچہ فی الحال تک دوسری جانب موڈ ’’خراب ‘‘ہے اور زیرو ٹالرنس کی کہانی سنائی جا رہی ہے مگر یہ زیرو ٹالرنس پورے ملک میں نافذ العمل نہیں۔ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کے بعد اب گڈ سیاستدان اور بیڈ سیاستدان کی اصطلاح بنا کر آئندہ کی حکومت کے سیٹ اپ کے لئے تیاریاں یا جوڑ توڑ شروع ہو چکا ہے۔ کچھ لوگوں کو شارع فیصل پر واقع 2 لانڈریوں سے گزار کرپی ایس پی یعنی پاک صاف پارٹی میں شامل کرایا جا رہا ہے۔ کچھ کو تحریک انصاف کی کنگا میں نہلایا جا رہا ہے۔ عام پاکستانی کا مسئلہ یہ نہیں کہ کس کو کس پارٹی میں اور کیوں بھیجا جا رہا ہے ، عام پاکستانی صرف انصاف چاہتا ہے اور یکساں انصاف چاہتا ہے۔ اگر کرپشن کرنے پر نواز شریف نااہل ہو سکتا ہے تو پھر زرداری صاحب کیوں نہیں۔ پھر فاروق ستار، جہانگیر ترین، شہباز شریف، شیخ رشید سمیت درجنوں ایسے سیاست دان کیوں محفوظ ہیں۔ محض اس وجہ سے کہ وہ گڈ سیاست دان (حقیقت میں گڈ طالبان) ہیں۔ وہ بات کا جواب نہیں دیتے۔ بس ’’یس سر‘‘ کر دیتے ہیں۔
کراچی میں سیکڑوں افراد کے قتل میں ملوث ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو پاک صاف پارٹی میں شامل کرایا گیاہے۔ ان کی کرپشن کی ہزاروں داستانیں محفوظ مقامات کی محفوظ الماریوں میں محفوظ ہیں مگر دلہن وہ جو پیا من بھائے۔ تازہ مثال میں ڈپٹی میئر ارشد وہرہ اور حماد صدیقی کو ہی لے لیں۔ 20 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا معاملہ سامنے آیا۔ ارشد وہرہ کا نام لسٹ میں تھا۔ انہوں نے دو دن بعد ہی چند ملاقاتیں کیں، پاک صاف پارٹی میں آنے کے لئے مان گئے۔ پریس کانفرنس کے اگلے روز منی لانڈرنگ کی تحقیقاتی رپورٹ میں سے ان کا نام مکھن سے بال کی مانند نکال دیا گیا ہے۔ ہاں یہ بات الگ ہے کہ یہاں وسیع تر قومی مفاد اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے سامنے 20 ارب روپے کی کیا اوقات۔ دوسرا حماد صدیقی، زیادہ دور مت جائیے، 12 مئی 2007 سے شروع کر لیں۔ پورا دن اہم ترین قومی شاہراہ پر خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی، سب خاموش رہے اور حماد صدیقی اسلحہ سے لے کر لوگوں کو جیلوں سے نکال شارع فیصل تک چھوڑنے میں مرکزی کردار رہے۔ بلدیہ ٹاؤن میں فیکٹری مالکان سے بھتہ مانگنے سے 250 سے زائد افراد کو زندہ جلانے میں ملوث رہے ۔ ویسے انیس قائم خانی بھی مکمل طور پر شریک جرم تھے مگر وہ پاک صاف پارٹی کو پیارے ہو چکے ہیں، اس لئے ان کا ذکر بے فضول۔
الطاف حسین تو ہدایات دینے تک محدود تھے۔ کراچی میں ہر قتل ، ہر ہڑتال ، جلاؤ گھیراؤ، بھتہ خوری ، منی لانڈرنگ سمیت ریاستی اداروں پر حملوں میں مرکزی کردار حماد صدیقی ہی تھا۔ اب انہیں دبئی سے گرفتار کر کے پاکستان لایا جا رہا ہے ۔ باخبر حلقے بتاتے ہیں کہ اس گرفتاری کو گرفتاری مت سمجھیں کیونکہ مبینہ گرفتاری سے چند روز قبل حماد صدیقی نے پاکستان میں شرافت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز مصطفیٰ کمال سے دبئی میں ملاقات کی تھی۔ اب اگر حماد صدیقی بھی الطاف حسین اور پاکستان کی ننھی منی ایم کیو ایم سے بغاوت کرکے پی ایس پی کی ’’پوترگنگا‘‘ میں ’’اشنان‘‘ کر لیتے ہیں تو ان کے لئے بھی این آر او حاضر۔ ویسے بات قبل از وقت سہی لیکن سننے میں یہی آ رہا ہے کہ حماد صدیقی کے لئے بھی یہی منصوبہ تیار ہے۔ البتہ عذیر بلوچ فی الحال اتنے ہی جرائم کے باوجود بیڈ طالبان والی فہرست میں ہے۔
قارئین شاید سمجھیں کہ میں نواز شریف کی کرپشن کا دفاع یا ان کے لئے این آر اوکی حمایت کر رہا ہوں ۔ تو اس کی وضاحت ضروری ہے کہ اگر زیرو ٹالرنس رکھنا ہے تو کراچی ، لاہور، کوئٹہ اور پشاور کے لئے ایک ہی قانون رکھا جائے۔ گڈ اور بیڈ کی بحث میں جائے بغیر لانڈری بند کرکے ایک دفعہ انصاف کی تلوار چلنے دیں۔ جو بچ جائے ، اسے وسیع تر قومی مفاد سمجھایا جائے اور عمل درآمد بھی کرایا جائے۔ مگر مسئلہ یہی ہے کہ کبھی سعودی عرب ، کبھی امریکا تے کبھی چین سے دو ، چار فون کالز کے بعد زیرو ٹالرنس کی پالیسی ’’مٹی پاؤ‘‘ پالیسی میں بدل جاتی ہے۔