مائنس ون فارمولہ اور سازشی تھیوریاں
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 02 / نومبر / 2017
- 4290
پاکستان کی سیاست میں مائنس ون فارمولہ کی کہانی کوئی نئی نہیں ۔ ماضی میں بھی جو سیاسی دربار یا سٹیج سجائے گئے تھے تب بھی یہ ہی مائنس ون فارمولہ کی سیاست پوشید ہ تھی ۔عمومی طور پر یہ الزام لگتا ہے کہ پس پردہ مائنس ون فارمولہ میں اسٹیبلیشمنٹ کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ اس اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کے بغیر مائنس ون فارمولے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ۔ یہ بھی ایک تلخ سیاسی حقیقت ہے کہ ماضی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو سیاسی منظر سے ہٹانے کی جو بھی حکمت عملی اختیار کی گئی ، وہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکی ۔ کیونکہ سیاسی طور پر جو مقبول قیادتوں ان کو سیاسی منظر نامہ سے انتظامی بنیادوں پر ہٹانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے لیے عوام ہی کو بنیاد بنانا ہوتا ہے کہ وہ ہی کسی کو مسترد یا قبول کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
حکمران جماعت کا لندن اجلاس خصوصی اہمیت کا حامل تھا ۔ اگرچہ چوہدری نثار کے بقول یہ کوئی باقاعدہ پارٹی کا اجلاس نہیں تھا لیکن یہ ماننا ہوگا جب سابق وزیر اعظم کی ہدایت پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف ، وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، اور نواز شریف کے دونوں بیٹے حسین نواز اور حسن نواز وہاں موجود ہوں تو اجلاس چاہے غیر رسمی ہی کیوں نہ ہو اپنی اہمیت خود رکھتا ہے ۔ ویسے بھی ہماری سیاست میں اہم فیصلے پوری جماعت، کابینہ ، پارلیمانی پارٹی کو شامل کرکے نہیں ہوتے بلکہ یہ عمل سیاسی قیادت یا وزیر اعظم کی کچن کبینٹ تک ہی محدود ہوتا ہے ۔ اس اجلاس کی ایک اہمیت اور بھی تھی کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اپنی بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر چند دن کے لیے سعودی عرب آنا پڑا۔ یقینی طور پر ان کی یہ آمد محض عمرہ تک محدود نہیں تھی بلکہ سیاسی پنڈتوں کے بقول وہ سعودی حکومت کے ساتھ کچھ معاملات میں سیاسی ریلیف کے خواہش مند تھے ۔
اب سوال یہ ہے کہ لندن اجلاس میں بیٹھ کر نواز شریف نے جس انداز سے مائنس ون فارمولے کو مسترد کیا ہے وہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے ۔ یقینی طور پر اس فارمولے کو مسترد کرکے نواز شریف نے ان قوتوں کو پیغام دیا ہے جو ان کے بقول پانامہ کو بنیاد بنا کر ان اور ان کی حکومت کے خلاف سازشوں کے کھیل کا حصہ ہیں ۔ نواز شریف نے اجلاس کے بعد اس نقطہ پر بھی زور دیا کہ اگر کوئی بھی قوت ان کی یا ان کی حکومت کے خلاف کوئی غیر آئینی اقدام کرے گی تو اس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جائے گی ۔ اسی اجلاس میں نواز شریف کی قیادت پر ان کی پانچ پیاروں نے بھرپور اعتماد کیا اور کہا کہ نواز شریف ہی ان کے قائد ہیں اور ان ہی کی قیادت میں پارٹی 2018 کے انتخابات میں شریک بھی ہوگی اور سرخرو بھی ۔
سوال یہ ہے کہ نواز شریف کو کیوں مائنس ون فارمولہ کو مسترد کرنا پڑا۔ کیا واقعی ان کو اس لندن اجلاس میں ان ہی کی جماعت کے لوگوں نے ۔۔۔ جن میں ان کے اپنے بھائی شہباز شریف بھی شامل ہیں ۔۔۔ کسی کا پیغام دیا کہ وہ قیادت سے دست بردار ہوجائیں اور معاملات اپنے بھائی شہباز شریف کے سپرد کردیں ۔ اگر کچھ دیرکے لیے مان بھی لیا جائے اس کھیل میں اسٹیبلیشمنٹ فریق ہے اور وہ چاہتی ہے کہ نواز شریف سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں تو یہ کام ان ہی کی جماعت کے لوگوں سے کیونکر کروایا جارہا ہے ۔ ہم کیوں بھول رہے ہیں کہ مرکز میں جو کچھ ریاض پیرزادہ نے نواز شریف کے مقابلے میں شہباز شریف کو پارٹی ٹیک اورکرنے کا مشورہ دیا وہ کس کے کہنے پر دیا گیا ۔ اول انہوں نے یہ بیان اسٹیبلیشمنٹ کے کہنے پر دیا یا دوئم خود شہباز شریف کے کہنے پر دیا گیا ۔
اسی طرح سے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے لندن اجلاس کے موقع پر جو کہا وہ بھی لحمہ فکریہ ہے ۔ ان کے بقول سیاسی حالات 1999سے بھی برے ہیں اور مسلم لیگ(ن) موجودہ صورتحال میں ذاتی مفادات کی پارٹی بن گئی ہے ۔ کچھ دن قبل چوہدری نثار ہی کے بقول نواز شریف کی اداروں کے ساتھ محاز آرائی یا ٹکراؤ ان کے ، ملک ، جمہوریت سمیت اداروں کے مفاد میں نہیں ۔ پنجاب میں بھی ہمیں ارکان اسمبلی کی سطح پر حالیہ پارٹی بحران پر کشمکش نظر آتی ہے ۔ پنجاب میں راجہ اشفاق سرور جو خود نواز شریف کے وفادار کے طور پر جانے جاتے ہیں وہ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں پارٹی کو بچانے کے لیے شہباز شریف کو ہی کلیدی کردار ادا کرنا پڑے گا۔ اس وقت 100سے زیادہ ارکان صوبائی اسمبلی ہیں جو راجہ اشفاق سرور سے رابطوں میں ہیں کہ ہمیں فوری طور پر پارٹی مفاد کو ترجیح دینی ہوگی ۔
مسلم لیگ(ن) کا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت یہ جماعت دو حصوں میں واضح تقسیم ہے ۔ اول ہمیں اسٹیبلیشمنٹ یا اداروں سے محاز آرائی کرنے کی بجائے مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے ، اسی میں پارٹی اور مستقبل کے انتخابات میں ہمارا مفاد وابستہ ہے ۔ دوئم ایک طبقہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ نے پس پردہ کھیل کی بنیاد پر سابق وزیر اعظم کو نااہل کیا ہے تو ہمیں اس پر خاموش ہونے یا اسٹیبلیشمنٹ کے سامنے اپنے آپ کو سمجھوتے کے طور پر پیش کرنے کی بجائے مزاحمت کرنی چاہیے ۔ یہ تقسیم کوئی انہونی نہیں ۔ کوینکہ جو لوگ مسلم لیگ کے ماضی اور حال کے کردار کو جانتے ہیں وہ یہ تسلیم کریں گے کہ اس جماعت کا مزاج کبھی بھی مزاحمت کا نہیں رہا ۔ ماضی میں جب نواز شریف کو جنرل مشرف کے دور میں بڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو ان کی جماعت کے لوگ نئی مسلم لیگ کا حصہ بن گئے تھے اور پھر یہ ہی لوگ سیاسی منظر میں تبدیلی کے نواز شریف کے ساتھی بن گئے تھے ۔
اس لیے مسئلہ محض اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنڈے کا نہیں بلکہ ہمیں مجموعی طور پر مسلم لیگ(ن) میں موجود داخلی کشمکش کے معاملات کو سمجھ کر کسی تجزیہ کی جانب بڑھنا چاہیے ۔ یہ نہیں کہ اسٹیبلیشمنٹ کوئی ایجنڈا نہیں رکھتی ہوگی لیکن ایک ایجنڈا خود مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی ہے جو اس وقت ان میں ایک محفوظ سیاسی راستہ کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ اس طبقہ کے بقول لڑائی کا نقصان جماعت کی تقسیم اور انتشار کی صورت میں ہوگا اور اس کا برا ہ راست فائدہ ان کے سیاسی مخالفین بالخصوص عمران خان کو ہی ہوگا۔ اس لیے حالیہ قیادت کی کشمکش کا معاملہ خود حکمران جماعت کی سیاسی بقا سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ جہاں مختلف حکمت عملیوں پر پارٹی میں رائے عامہ تقسیم ہے ۔ نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے آپ کو پارٹی اور حکومتی معاملات سے کنارہ کشی اختیار کی تو ان کا اور ان کی بیٹی کا سیاسی مستقبل تاریک ہوگا۔ وہ ہر صورت میں اپنی سیاسی بالادستی کے لیے پارٹی پر اپنا اور اپنی بیٹی کا کنٹرول چاہتے ہیں۔ اس پر وہ مکمل طور پر اپنے بھائی شہباز شریف اور چوہدری نثار پر اعتبار کے لیے تیار نہیں ۔
یہ سمجھنا ہوگا کہ نواز شریف کی سیاسی بقا اسی میں ہے کہ وہ اس نکتہ پر اپنا مؤقف ملک میں بھی اور ملک سے باہر بھی دیں کہ ان پر کرپشن اور بدعنوانی سمیت تمام الزامات جھوٹے ہیں اور اس کے پیچھے اسٹیبلیشمنٹ کا کھیل ہے جو عدلیہ اورعمران خان کو ان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔ کیونکہ نواز شریف اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ اسی کی بنیاد پر اپنی سیاسی بقا کی جنگ جیت سکتے ہیں ۔ لیکن نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ اس لڑائی میں ان کی جماعت میں پوری یکسوئی نہیں ۔ جو وفاقی وزیر اور قریبی ساتھی ان کے سامنے اپنی وفاداری کے دعوے کرتے ہیں، وہ بھی نجی محفلوں میں اب نواز شریف اور مریم کو ایک سیاسی بوجھ کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ خود نواز شریف کے ووٹرز اور کارکنوں میں بھی پانامہ مقدمہ کے بعد یہ تاثر ابھرا ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے معاملات میں شفافیت نہیں۔
اس لیے نواز شریف ضرور اسٹیبلیشمنٹ میں اپنے خلاف موجود ایجنڈا پر مزاحمت کریں لیکن اس نقطہ نظر کو مت بھولیں کہ اب کچھ لوگ خود ان کے دست بازو بن کر یا ان کی جماعت میں بیٹھ کر ان ہی کے خلاف سازشوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔ محض پریس کانفرنسیں کرکے یا ٹی وی ٹاک شو میں اپنی وفاداری دکھا کر یہ ہی طبقہ پس پردہ قوتوں کو بھی پیغام دیتا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ اس لیے مائنس ون فارمولہ میں کچھ ان کی اپنی جماعت کی بھی سوچ اور فکر موجود ہے ۔ اس کا بھی تجزیہ کرکے نواز شریف کو اپنے لیے محفوظ راستہ تلاش کرنا چاہیے ۔