یہ غبار یہ دلدل !

  • تحریر
  • جمعہ 03 / نومبر / 2017
  • 3270

آج کل ناظرین اور قارئین بڑی مشکل میں ہیں۔ خبروں کی اس قدر بہتات ہے کہ ایک کو مکمل سننے میں دو خبریں نکل جاتی ہیں۔ ایک خبر کا سرا ہاتھ آتا نہیں کہ دوسری خبر کے دھاگے بکھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ملک میں خبریں کیا کم تھیں کہ اب لندن، ٹورانٹو اور دوبئی سے بھی خبروں کی مسلسل فیڈ آ رہی ہے۔

نواز شریف سعودی عرب پہنچے تو یار لوگوں نے اگلی امکانی خبروں کی تیاری کرلی۔ انہوں نے سعودی عرب میں اپنا قیام بڑھا لیا تو چہ میگوئیوں کا دفتر کھل گیا۔ کس سے ملنے کا انتظار ہے، کس کس سے ملے، ملاقاتیں کیسی رہیں، کسی نئی ڈیل کی تیاری ہو رہی ہے کیا۔ وہ لندن واپس چلے گئے اور وزیر اعظم خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو بھی لندن طلب کر لیا۔ کیا ہو رہا ہے۔ کیوں بلایا۔ وزیر اعظم اپنے ذاتی خرچے پر گئے ہیں یا سرکاری خرچے پر۔ اس دوران نیویارک ٹائمز نے مریم نواز کے ایک انٹرویو میں یہ دعویٰ شائع کر دیا کہ خاندان کا خیال ہے کہ سیاسی وراثت انہیں سنبھالنی چاہئے۔ ایک نیا سونامی اٹھتے اٹھتے رہ گیا اور انہوں نے قطعیت کے ساتھ تردید کی کہ اخبار کے نمائندے کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہوگی ، میں نے ایسی کوئی بات کی ہی نہیں۔

اسی دوران یہ خبریں بھی کہ اسحاق ڈار ملک سے باہر گئے تو ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ دل ناداں گھبرا گیا ، دھڑکنیں گڑ بڑ کر گیا اور یہ کہ اب وہ فوری طور پر تو شاید واپس نہیں آ رہے۔ چوہدری نثار علی خان بدستور نیک و بد سمجھانے پر مصر ہیں کہ اداروں سے تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔ شیخ رشید پہلے لندن پہنچے اور پھر ٹورانٹو میں اپنے سیاسی ممدوح طاہر القادری کے پاس کرسی نشین ہوئے۔ ہر جگہ اٹھتے بیٹھتے ان کا اصرار تھا کہ تیس چالیس ایم این ایز کی ایک فہرست ان کی جیب میں ہے جو کسی بگل کے انتظار میں ہیں۔
عمران خان کا اصرار ہے کہ اب انہیں فراغت ہی فراغت ہے اور اس فراغت کو انہوں نے آصف زرداری کے لئے مخصوص کر دیا ہے ، اب وہ ہیں اور آصف زرداری ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو گلہ ہے کہ نیب کا قانون مسلم لیگ نون کے لئے کچھ اور اور شرجیل میمن کے لئے کچھ اور ہے، یہ دوہرا معیار کیوں۔ اسی دوران امریکی وزیر خارجہ چار گھنٹے کے لئے اسلام آباد رکے۔ سفارتی رکھ کھاؤ کے باوجود ملفوف بیانات خوش کن نہ تھے۔ عالمی امور کے ماہرین ان بیانات کے پیچھے نئی امریکی حکمت عملی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں لیکن ہم ناظرین اور قارئین کیا کریں۔ رسیلی خبروں پر دھیان دیں یا ایسی سنجیدہ اور تشویش ناک خبروں پر!

ہم کیا ان تشویشناک خبروں پر ٹاک شوز میں بھی ایک آدھ دن ہی بات ہو سکی اور بس۔ ایسے میں ایک اور خبر بھی آئی لیکن غیر سیاسی تھی اس لئے کم ہی کسی نے اسے گھاس ڈالی۔ پاکستان کے بجلی پیدا کرنے والے نو نجی اداروں نے لندن کی عالمی ثالثی کورٹ میں حکومت پاکستان کے خلاف واجبات کی عدم ادائیگی کا جو دعویٰ کر رکھا تھا ، عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سنا دیا ۔ کل ملا کر حکومت پاکستان کو چودہ ارب روپے کی ادائیگی کا فیصلہ سنایا گیا ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آئی پی پیز ایک معاہدے کے تحت بجلی پیدا کرتے اور حکومتی ادارے این ٹی ڈی سی کو فراہم کرتے ہیں اور حکومت انہیں طے کردہ رقم فی میگاواٹ ادا کرتی ہے۔ اگر حکومت کو بجلی درکار نہ ہو تو ان کے پروجیکٹ بند ہونے کی صورت میں ان اداروں کی غیر استعمال شدہ پیداواری گنجائش کی ادا ئیگی کر دی جاتی ہے۔ یہ ادارے عرصے سے شاکی تھے کہ ان کی پوری ادائیگیاں نہیں ہو رہیں۔

چند ماہ قبل ایک اخباری اشتہاری مہم کے ذریعے ان اداروں نے حکومت سے اپیل کی کہ انہیں ادائیگیاں نہ کی گئیں تو وہ ثالثی عدالت میں جانے پر مجبور ہوں گے۔ ہم نے انہیں کالموں میں اس کا تذکرہ بھی کیا کہ کس طرح اس معاملے کی تفہیم کی بجائے وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی الٹا بگڑے کہ ان کی اس اخباری مہم سے ملک کا تاثر خراب ہوا۔ بعد ازاں یہ ادارے لندن کی ثالثی عدالت میں گئے تو عدالت نے یہ فیصلہ سنا دیا۔ خدا جانے اب بھی عابد شیر علی اس فیصلے کے ملک کے امیج پر منفی اثرات کے بارے میں غصہ کرنے کا وقت نکال سکے یا فقط نیب کی عدالتی کاروائی پر ہی متوجہ رہے۔ کوئی بھی بڑی سرمایہ کاری ملک میں آتی ہے تو اس کی بنیاد تفصیلی اور گنجلک قانونی معاہدوں پر ہوتی ہے ۔ اگر طے کردہ شرائط پوری نہ ہوں تو انتہائی صورت میں یہ ادارے کسی عالمی ثالث یا عالمی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ ایسے معاملات کو اگر بر وقت نہ سنبھالا جائے تو عالمی اداروں سے ہوئے خلاف فیصلے بڑے مہنگے ہو سکتے ہیں ۔ بد قسمتی سے پاکستان کا ریکارڈ ان معاملات میں مایوس کن رہا ہے۔

پی پی کی گزشتہ حکومت کے دور میں ترکی کی ایک کمپنی کارکے کے ساتھ 1206 میگاواٹ رینٹل پاور کا معاہدہ کیا گیا جس میں سے پہلا فیز 232 میگا واٹ کا تھا۔ اس وقت بجلی کی سنگین قلت کے سبب معاہدہ انتہائی عجلت میں کیا گیا۔ نہ صرف عجلت میں کیا گیا ، ناقدین کے خیال میں یہ معاہدہ مسابقتی اصولوں کے خلاف تھا اور اس میں واضح طور پر کرپشن کے آثار بھی موجود تھے۔ معاملہ نیب سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ میں پہنچا۔ فیصلہ کمپنی کے خلاف آیا تو 2013 میں کمپنی نے عالمی ثالثی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ طویل قانونی مراحل کے بعد عدالت نے پاکستان کو سات سو ملین ڈالر ہرجانہ اور اخراجات کی مد میں ادا کرنے کا فیصلہ سنایا یعنی چوہتر ارب روپے کے لگ بھگ! اس سے قبل سپریم کورٹ سے ریکو ڈک کیس کا فیصلہ خلاف آنے پر سرمایہ کار کمپنی نے ساڑھے گیارہ ارب ڈالرز کے ہرجانے کے لئے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ اس وقت اس کلیم کی توثیق اور تعین مرحلہ جاری ہے۔ اگر عدالت سے باہر کوئی باہمی تصفیے کی صورت نہ بنی تو اس عدالت سے ہرجانے کی رقم ریکارڈ حد تک زیادہ ہو سکتی ہے۔

پاکستان کا عالمی عدالتوں سے سرخرو ہونے کا ریکارڈ بقول ایک نامی گرامی ماہر قانون کے صرف دو فی صد ہے جبکہ بھارت کا یہ ر یکار ڈ ساٹھ فی صد ہے۔  ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے حالیہ سالوں میں ان عدالتوں میں اپنے دفاع کے لئے قانونی مشاورت اور وکلاء پرایک ارب تیس کروڑ روپے خرچ کئے ہیں جو ہم ایسے ملک کے لئے ایک خطیر رقم ہے۔  عالمی ثالثی عدالتی فیصلوں سے ان حالیہ مخالف فیصلوں سے عالمی سرمایہ کار مارکیٹ میں پاکستان کا تاثر ایک نا قابل اعتماد ملک کے طورپر سامنے آیا ہے۔ بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی مفادات اور گورننس میں کرپشن کے عمومی کلچر نے بیرونی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ معاہدے عجلت میں کرنے کی روایت ہے، اس پر مستزاد شفافیت سے گریز کیا جاتا ہے۔ عالمی معاہدوں کی تیاری کے لئے درکار مہارت کا بھی عمومی فقدان ہوتا ہے لیکن سیاسی دباؤ میں عجلت میں کئے گئے معاہدوں کی تفصیلات میں ہی قیامت کی شرائط پنہاں ہوتی ہیں۔ اول تو ان پر غور نہیں کیا جاتا، دوم یہ کہ اگر کوئی بتانے کی گستاخی کر بیٹھے تو اسے روڑے اٹکانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ اس عمل اور رویے کا یہی نکل سکتا ہے جو نکل رہا ہے۔

اس رویے اور عمل میں سب گزشتہ حکومتیں ایک سی رہیں۔ مشرف دور ہو یا پی پی یا حالیہ دور حکومت، سب کا انداز ہو بہو ایک سا رہا ہے۔ ۔ ۔ چند روز قبل معیشت کا موسمی بخار ہوا تو سب نے معیشت کے حسب توفیق اور مخالفت خوب لتے لئے ۔ اب اتنی ساری رسیلی سیاسی خبروں کی بہتات میں اینکرز اور سیاست دانوں کی ان تلخ اور کڑوی خبروں سے ایک دوسرے کو رگیدنے کی حد تک دلچسپی ہوتی ہے اور بس ۔ رات گئی بات گئی، نئی رات نئی بات، اب کون ان بے راگ کی راگنیوں کو سنائے اور خراب ریٹنگ کا رسک لے۔ رہے ہم ایسے سادہ لوح عوام تو رسیلی خبروں کے انبار میں وہ بھلا ایسی خبروں کو کوئی کیوں سنیں اور دل جلائیں۔ وہ تو پہلے ہی مشکل میں ہیں کہ ایک خبر کا سرا ہاتھ آتا نہیں کہ دوسری خبر کے دھاگے بکھر جاتے ہیں۔