پاکستان میں صحت کے مسائل

طبقاتی معاشرے میں انسان کو بہت سی بنیادی مشکلات در پیش ہوتی ہیں۔ ان کی زندگیاں حکمران طبقات کے سامنے کیڑے مکوڑوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آج پاکستان کی اسی فیصد آبادی صاف پانی سے محروم ہے تو دوسری طرف بیاسی فیصد کو مناسب سائنسی علاج کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ لوگ غربت جہالت اورتواہم پرستی کی وجہ سے جاہل عاملوں ، نیم حکیموں اور سنیاسیوں سے علاج کرواتے ہیں جن میں سے بیشتر کی جان ہی چلی جاتی ہے۔ ہم اخبارات میں نام نہاد عاملوں اور پیروں کے تشدد، جادو اور منتر سے زیادہ خواتین کی ہلاکتوں کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں۔

حکومت کی سر پرستی میں چلنے والے ہسپتالوں میں صورتحال بھی تسلی بخش نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کی لا پرواہی یا عدم دستیابی کی وجہ سے کئی مریض دم توڑ جاتے ہیں۔ ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر دو دو مریض لٹائے جاتے ہیں ، بعض لوگوں کو فرش پر ہی لٹادیا جاتا ہے۔ یہ ساری صورتحال غربت کی وجہ سے ہے کیونکہ نجی ہسپتالوں میں علاج انتہائی مہنگا ہے اور دوسرے پاکستان میں ادویات ہندوستان کی نسبت چار گناہ زیادہ مہنگی ہیں۔ اس صورتحال میں علاج انتہائی مہنگا ہے جس کو غریبوں کیلئے افورڈ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ہمارے ملک کی دوا ساز کمپنیاں محکمہ صحت کے کنٹرول کرنے والے شعبوں سے ملکر دوائیوں کے من مانے نرخ منظور کرواتی ہیں۔ اس طرح وہ کئی سو فیصد زیادہ منافع کما رہی ہیں۔ سیاسی اشرافیہ صحت اور تعلیم کے مسائل پر مگر مچھ کے آنسوں بہاتی ہے۔ بجٹ میں سب سے کم رقم جی ڈی پی کے 0.5 فیصد سے کم خرچ کیا جاتا ہے۔ صحت کے شعبے کا جو حال ہی اس کے پیش نظر غریب آدمی کیلئے بیمار ہونا ایک جرم بن گیا ہے۔

اعداد و شمار تو بے پناہ ہیں لیکن ان کو بار بار دہرانے کا کیا فائدہ۔ ٹیلی ویژن پر انسانی بربادی کے مناظر غریب طبقات میں فوری طورپر بغاوت نہیں بلکہ احساس محرومی اور ذلتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سرمایہ داری تاریخ کے سب سے بڑے معاشی عروج کے دوران ترقی یافتہ ممالک میں سماجی اصلاحات کی گنجائش تھی۔ اس عہد میں سماجی بہبود کی بیداری فکر کی تحریکیں اور لہر موجود تھی۔ یورپ میں مضبوط ٹریڈ یونین اور کمیو نزم کے پھیلاؤ کے خوف سے محنت کشوں کو علاج معالجے کی سہولتیں اور دیگر مراعات دی گئیں، جس میں سستی یا مفت ادویات کے ساتھ تعلیم کی سہولت حاصل تھی۔ روز گار کی ضمانت تھی۔ ان تمام کا مقصد وہاں پر نظام کی تبدیلی کے عمل کو روکنے کیلئے اصلاحات کو نافذ کرنا، سرمایہ داری کی مجبوری تھی۔ سوشل ڈیمو کریسی یا سرمایہ داری میں بائیں بازو کا کلاسیکی دور تھ۔ا آج بھی سرمایہ دارانہ ممالک میں بہترین نظام صحت برطانیہ میں ہے جس کو نیشنل ہیلتھ سروس کہا جاتا ہے۔ جو کہ اس وقت لیبر پارٹی کی حکومت قائم کیا تھا۔ اس نظام کو بحالت مجبوری امریکہ نے بھی اختیار کیا۔

اسی عہد میں ادھورے انقلاب کے ذریعے بہت سے پسماندہ ممالک میں سرمایہ داری کا خاتمہ ہوا۔ چین اور کیوبا میں اصلاحات منڈی کی معیشت کے خاتمے اور منصوبہ بند معیشت کے ذریعے صحت اور تعلیم کے شعبہ میں تیز رفتار تبدیلی نے سماج کی حالت کو بدل ڈالا۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی صورتحال تبدیل ہوئی۔ شرح خواندگی میں اضافہ اور صحت مند معاشرہ قائم ہوا۔ دنیا میں سب سے زیادہ بہترین صحت کا نظام کیوبا میں قائم ہے۔ پاکستان میں آنے والے زلزلے کے دوران کیوبا کے ڈاکٹروں نے ہزاروں افراد کا علاج کیا جس کو آج بھی آزاد کشمیر کے عوام یاد کرتے ہیں۔ 13دسمبر کو بی بی سی اردو میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کیوبا میں ہیلتھ سروس بہترین ہے اور بعض معاملات میں امیر ممالک کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ امریکہ میں علاج پر جتنا خرچ ہوتا ہے کیوبا اس کا عشر عشیر خرچ نہیں کرتا، تاہم کیوبا میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات امریکہ سے کم ہے۔ اور اوسط عمر امریکہ کے برابر ہے۔ کیوبا میں ہیلتھ کیئر مفت اور آفاقی ہے اور اس کی آئین میں گارنٹی دی گئی ہے۔ امریکہ میں صحت کے شعبہ میں فی کس ساڑھے آٹھ ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں جبکہ کیوبا میں ساڑھے4 سو ڈالر سے کم خرچ ہوتے ہیں۔ کیوبا کی ایک کروڑ دس لاکھ آبادی میں 90ہزار ڈاکٹر ہیں یعنی ایک ہزار افراد کیلئے آٹھ ڈاکٹر۔  جبکہ امریکہ میں ایک ہزار افراد کیلئے ڈھائی ڈاکٹر ہیں۔ اقوا م متحدہ کا ادارہ صحت ترقی یافتہ ممالک کو کیوبا کی ہیلتھ پالیسیوں کو اختیار کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔

آج ترقی یافتہ ممالک میں بھی علاج عوام کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے تو ایسے میں پاکستان کی کیا حالت ہوگی۔ یہاں پر مشرف کے عہد میں لا تعداد میڈیکل کالج پرائیویٹ سیکٹر میں قائم کئے گئے بلکہ آج بھی اجازت نامے دیئے جا رہے ہیں۔ یہاں پر ڈاکٹر بننے کیلئے پانچ سالوں میں پانچ سے ساٹھ لاکھ کا خرچ ہوتا ہے۔ ان میں زیادہ تعلیم حاصل کرنے والی طالبات ہوتی ہیں جن کو والدین اچھے رشتوں کی خواہش کی تکمیل کیلئے ڈاکٹربناتے ہیں۔ ڈاکٹر لڑکیاں بہت کم ہی پیشہ اختیار کرتی ہیں۔ یہی صورتحال سرکاری شعبہ کے میڈیکل کالجوں کی ہے جہاں پر طالبات ستر فیصد کے قریب ہیں۔ یوں سرکاری خزانے سے اربوں روپے سستی میڈیکل تعلیم پر خرچ ہو جاتے ہیں کیونکہ لڑکیاں میڈیکل پیشہ کو تعلیم کے بعد اختیار نہیں کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے پاکستان میں ڈاکٹروں کی کمی ہونے کا اندیشہ ہے۔ بے شمار میڈیکل سنٹروں میں ڈاکٹر تعیناتی کیلئے نہیں ملتے ہیں۔ جبکہ خواتین ڈاکٹر دور دراز کے علاقوں میں ملازمت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگ عطائیوں سے علاج کرواتے ہیں تو دوسری طرف نجی ہسپتالوں میں مہنگا علاج ہوتا ہے۔

مفت علاج کی شقیں 1973کے آئین میں موجود ہیں مگر ان پر عمل نہیں کیا جاتا۔  بلکہ اب تو بڑے سرکاری ہسپتالوں کو نجی شعبے کو یا مختلف ٹرسٹ کو دیا جا رہا ہے جو کہ مریضوں سے من مانے چارجز وصول کریں گے۔ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے عہد حکومت میں سوشل سیکیورٹی اور اولڈ بینفٹ کے ادارے قائم کئے گئے تھے جو آج بھی کام کر رہے ہیں۔ مگر سرمایہ دار اپنے کارکنوں کی رجسٹریشن نہیں کرواتے ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں محنت کش اس سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہمارے سماج کی حالت یہ ہے کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ادویات سے بھری دوکانوں اور ہسپتالوں کے سامنے کتنے غریب دم توڑ جاتے ہیں۔ پاکستان میں جہاں پر معدے کی بیماریوں،  یرقان اور گردے کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں پر ایڈز کے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ نیشنل ایڈز پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثر افراد کی تعداد ایک لاکھ 33ہزار ہو گئی ہے۔ پچھلے سال پاکستان میں36ہزار افراد ایڈز سے متاثر ہوئے ہیں۔  پوری دنیا میں یہ مرض کم ہوتا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں پھیل رہا ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک کے لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہی نہیں ہے۔ اور وہ اس سے بچنے کیلئے مناسب حفاظتی تدابیر نہیں کرتے۔

 ضلع گجرات کے قصبے جلالپورجٹاں میں ایڈز کے75مریضوں کا انکشاف ہوا ہے۔ چنیوٹ کے ایک گاؤں میں ایڈز کے چالیس سے زیادہ مریض موجود ہیں۔  ان لوگوں کو اپنی بیماری کے بارے میں بہت کم علم ہے۔ اور لا علمی میں دوسروں کو بھی اس کا وائرس منتقل کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کو لوگوں کو اس وائرس سے بچانے یلئے شعور آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ موجودہ سرمایہ داری نظام میں صحت اور تعلیم کے حوالے سے اصلاح کی ضرورت محسوس  نہیں کی جاتی کیونکہ نیو لبرل ایجنڈے کی وجہ سے ریاستیں اپنی بنیادی اصلاحاتی پروگرام سے دور جا چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے پاکستان میں عوامی فلاح کا کام پرائیویٹ اداروں اور این جی اوز نے سنبھال لیا ہے۔

ایک منصوبہ بند معیشت کے ذریعے ہی عوام کو بنیادی سہولیات صحت، تعلیم اور روز گار فراہم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ تمام معاملات کسی سیاسی جماعت یا قیادت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں ۔