تیرا اللہ ہی بوٹا لائے گا: درخت لگاؤ پاکستان بچاؤ

فیس بک پر ایک فکر انگیز پوسٹ نے مجھے ہلا کے رکھ دیا ۔ پرسوں ہی لاہور سے آیا ہوں، راستے میں بھیرہ کے پاس بادلوں نے گھیر لیا۔ اسے دھند نہیں سوموگ کہتے ہیں۔  میں کئی منٹ تک پریشان گاڑی چلاتا رہا۔ یہ دھند نہیں گندگی دھویں کا ایک بادل تھا جو زمین پر سفر کرہا ہے۔ اور یہ ماحول کی آلودگی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اب نہ تو دو سٹروک رکشے ہیں اور نہ ہی ڈیزل گاڑیاں۔ شنید ہے پڑوسی ملک سے یہ تحفہ مل رہا ہے اور ساہیوال کول پلانٹ سے۔ گویا بھارتی دھؤاں اور گند ہمارے بھیرہ کو بھی گندا کررہا ہے۔ ہمارے ماہر امور موسمیات کیا کر رہے ہیں اور جالب کی شاعری کے دلدادہ شہباز شریف کی گڈ گورننس کیا گل کھلا رہی ہے۔ اس کا عملی نمونہ سڑکوں پر اولادیں جننے کی صورت میں بھی دیکھ رہے ہیں۔

پنجابی کی مثال ہے لائی لگ نہ ہووے گھر والا تئے چندرا گوانڈ نہ ہووے۔ سچ پوچھئے اگر گوانڈ (ہمسایہ) برا ہے تو مکان آدھی قیمت پر دے کر نکل جائیں اور اگر یہ ہمت نہیں ہے تو پھر اس سے زیادہ برے بن جائیے۔ میری مراد بھارت سے ہے۔ یہ کسی طور ہمیں چین سے نہیں رہنے دیتا۔ سیاچین سے بھیرہ تک گند ہی گند۔ کوئلے سے پاور پلانٹ اب تو روانڈا میں نہیں لگائے جاتے۔ جرمنی گئے تو ونڈ ملز سے بجلی پیدا کی جا رہی تھی۔ میں حیران تھا کہ وہ بجلی کنزیوم کرنے پر اپنے لوگوں کو کچھ لوٹا رہے تھے۔ اس دنیا کی اس غیر منصفانہ تقسیم پر دو ہتڑ مار کر رونے کو جی چاہتا ہے۔  واصف علی واصف نے خوب کہا کہ اگر کوئی بھوک سے مر رہا ہو تو یاد رکھنا کوئی بد ہضمی سے بھی فوت ہو رہا ہو گا۔ کیونکہ اللہ رزق تو دیتا ہے انسان تقسیم میں ڈنڈی مارتا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم  کے پاس پٹرلیم اور گیس کا تجربہ ہے۔ انہیں ہوا بازی کا تجربہ ہے اور سنا ہے یہ جہاز سے الٹ بازیاں بھی لگا سکتے ہیں۔ تو مجھے اس بادشاہ کی یاد آ گئی جسے ایک دن کے لئے بادشاہ بنایا گیا تھا اور جب اس سے سوال کیا گیا کہ بادشاہ سلامت کارکردگی کیا ہے تو جواب دیا آپ نے میری الٹ بازیاں نہیں دیکھیں۔ بس ہم تو اس مختصر سے عرصے میں پٹرول کی قیمت میں تین بار اضافہ دیکھ چکے ہیں اور مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں۔ سب اچھا ہے اور سب کے حالات اچھے ہیں جو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ وزیروں کے احوال ٹھیک باقی ماسٹر حسین بخش نے کیا خوب کہا تھا:

مندے حال فقیراں دے
کوئی چولے وے لیراں دے
آپ بے غم پھر داں ایں
ساڈے حال فقیراں دے

چندرے گوانڈ نے اب سموگ بھیج دیا ہے۔ یماری، کھانسی،گلے میں خراش اور کپڑوں پر داغ۔ للہ خیر کرے جس ملک میں داغ تو اچھے ہیں کی گردان ہو اور دوسری طرف ملا کہہ رہا ہو کہ اللہ کےنبی فرما گئے ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے تو بندے کو سر پیٹنا چاہئے۔ بند کریں اس قسم کی مشہوریاں۔ یا خوب کہا ہے کہ کاش درخت وائی فائی پیدا کرتے اور ہم انہیں دھڑا دھڑ لگاتے۔لیکن چونکہ وہ آکسیجن پیدا کر رہے ہیں جو ہمیں زندگی دیتی ہے اسی لئے ہم انہیں نہیں لگا رہے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ زندگی کے لئے آکسیجن ضروری ہے اور اگر آکسیجن چاہئے تو درخت لگانے ہوں گے۔  ہمیں آکسیجن چاہئے،ہمیں اپنے لوگوں کو سموگ ے بچانا ہے۔اگر انڈیا اس میں شامل ہے تو اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے جایا جائے۔ اس لئے کہ ایک  دشمن کے ملک سے زہریلی گیس کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ خدا را شہنشاہ تعمیر و ترقی میاں شہباز شریف  درخت لگائیں ۔لاہور جو باغات کا شہر تھا اس میں سے درخت غائب کئے جا رہے ہیں اس پر توجہ دیں۔

پاکستان کو اس وقت جنگلات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ میں ماہر ماحولیات نہیں میرے پاس آپ کو بتانے کے لئے صرف یہی ہے کہ جس طرح آپ اپنے بچوں کا صدقہ دیتے ہیں، خیرات کرتے ہیں، اللہ کا نام لے کر ہر بچے کے نام پر دو دو درخت لگائیں ۔ یہ ہمارے اور آپ کے اوپر فرض ہے۔ یاد رکھئے اگر ان چند سالوں میں درخت نہ لگے تو پاکستان بڑی مشکل میں پھنس جائے گا۔ بے آب و گیاہ علاقوں میں شہر آباد کریں نئی نئی سوسائٹیاں گرین ویلیز کو کھا رہی ہیں۔ مری جیسے علاقے آر سی سی کی عمارتوں میں ڈھک چھپ گئے ہیں۔

درخت لگائیں پاکستان بچائیں۔ فقیر بھی جب خوش ہوتا ہے تو کہتا ہے تیرا اللہ ہی بوٹا لائے گا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ تیری ایک اور شوگر مل لگ جائے اور سٹیل کا کارخانہ لگے۔  سچی بات ہے اپنی نالائق حکومتوں سے کچھ نہیں کہنا انہیں بس آئینہ دکھا نا ہے۔