​بے غیرتی اور بہادری میں فرق ہوتا ہے!

ہم نے پڑھا ہے کہ محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ جتانے سے ہوتی ہے اور اپنی وضاحت کرتی چلی جاتی ہے ۔ بالکل اسی طرح پاکستان کے حکمران کبھی بھی یہ نہیں کہتے کہ انہیں روپے پیسے سے محبت ہے مگر وہ اسے ہر ممکن اور ناممکن طریقیوں سے حاصل کرکے اس بات کو واضح کردیتے ہیں کہ ان کی محبت کیا ہے۔ جبکہ پاکستان سے محبت بلکہ عشق کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ قول اور فعل میں اس تضاد  سے ان کی اصلیت کا پتہ چلتا ہے۔

ہمارے ملک میں سیاست دانوں کی اکثریت کسی نہ کسی طرح سے بد عنوانی میں ملوث ہے۔  اگر کسی نے یہ کام خود نہیں کیا  تو اس کے خاندان والوں نے اس کا نام استعمال کرکے یہ ہار اس کے گلے کی زینت بنا دیا ہے۔ برصغیر کے عوام تو بدعنوان یا کرپشن جیسے لفظ کو معنوی اعتبار سے سیاست کی سند تسلیم کرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس کے اصل معنی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ یہ بچارے بھوک کے مارے لوگ تو جے جے اور زندہ باد کے نعرے لگانے کیلئے اشرف المخلوقات میں شامل کئے گئے ہیں۔ ہمارے معزز حکمرانوں کی بہادری کا اندازہ اس بات سے لگالیں کے یہ اعلی عدلیہ اور دیگر قانون کی بالادستی کیلئے کام کرنے والے اداروں سے باقاعدہ چور ثابت ہونے کے باوجود بہت معزز بن کر عوام کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آفرین ہے اس قوم پرجو ان کے لئے سڑکوں پر نکلتے ہیں۔  نعرے لگاتے ہیں اور ان کے حق میں ملک کو غیر مستحکم کرنے کیلئے تیار بھی ہوتے ہیں۔

پاکستان میں سیاست ان لوگوں کیلئے ہے جو ب سے شروع ہونے والے دو لفظوں کے درمیان کسی قسم کی تفریق نہیں کرتے اور وہ دو الفاظ وہ ہیں  بے غیرتی اور بہادری ہیں۔ بے غیرت وہاں بہادر ہوسکتا ہے جہاں نہ تو قانون ہو اور نہ ہی علم سے شناسائی۔ آخر کون غور کرے ۔ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا جو کوئی بھی حقیقت سمجھانے کی کوشش کرے گا اس پر دوسروں سے ملے ہونے کا الزام داغ دیا جائے گا۔ اس الزام سے بچنے کیلئے اور اپنی روزی روٹی کو چلانے کیلئے ہم سب ہی خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یقیناً سب ہی قانون و انصاف کی بحالی کے منتظر ہیں۔ جب حق اور سچ کہنے کا خوف ختم ہوجائے گا اور بے غیرت اور بہادر میں فرق واضح ہوجائے گا۔ لیکن ابھی ایسا وقت آنے میں کچھ وقت باقی ہے ۔ اس باقی وقت میں عوام میں حقیقی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو تعصب کے آہنی جنگلے سے نکالنا ہے اور یہ بھی جان جوکھوں میں ڈالنے سے کم نہیں ہے۔

تفتیش اور تحقیق کے عمل سے گزر کر بدعنوان ہونے والے ابھی تک مجھے کیوں نکالا کا راگ آلاپ رہے ہیں۔ یعنی باضابطہ بدعنوان ٹھہرائے گئے لوگ پاکستان جیسے ملک میں (جس کا نام ہی پاک سے شروع ہوتا ہے )ایسے دندناتے پھرتے ہیں جیسے اشرافیہ کی قطار سب سے پہلے ان کے کھڑے ہونے سے شروع ہوگی۔ ان سے زیادہ بہادر اور نڈر کوئی نہیں ہے۔ آپ مولانا فضل الرحمان  کو لے لیجئے ، اگر ان کے نام کے ساتھ مولانا نہ لکھا ہوتا تو لوگ انہیں حرف عام میں کیا کچھ کہتے۔ مگر یہ ملک کے معزز و محترم ہستیوں میں سے ایک ہیں۔ کہیں مفاہمت کرانی ہو یا پھر کسی روٹھے کو منانا ہو، یہ حکومت کے نمائندے بن کر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اپنے مشن میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔  پاکستان کرہ ارض پر وہ نایاب زمین کا ٹکڑا ہے جہاں ملزمان اور مجرموں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں، جہاں بدعنوانوں کے پروٹوکول کیلئے خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں اور تو اور ایسے لوگوں کو جن کا ٹھکانا جیل ہوتا ہے مگر جیل سے اسمبلی (جو کسی بھی جمہوری ملک کی ایک مقدس جگہ سمجھی جاتی ہے ) کے اجلاس میں شرکت کیلئے لایا جاتا ہے اور تقریر کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے۔  یہ پاکستان ہی ہے جہاں سابق صدر ہوں یا پھر افواج پاکستان کے سابق چیف سب سیاست کے تالاب میں ایک ساتھ تیر سکتے ہیں۔

ایک طرف تو ہمارے ملک کے بدعنوان سیاستدانوں کا بھرپور استحصال سماجی میڈیا پر ہوتا ہے اور ماضی میں لوگ جوتے پھینک پھینک کربھی اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اب میاں صاحب جنہیں عدالت نے  نا اہل قرار دے دیا مگر وہ اس فیصلے کو انتقام کہہ رہے ہیں۔ آخر ان سے کوئی یہ کیوں نہیں پوچھ رہا کہ میاں صاحب آپ نے ایسا کیا کیا ہے جس کا انتقام آپ سے اعلی عدلیہ لے رہی ہے۔ پیپلز پارٹی ملک کی ایک بڑی سیاسی طاقت ہے اور اس جماعت کے سربراہ پر پیپلز پارٹی کو اغوا کرنے کا الزام ہے ۔ اپنے دور اقتدار میں بدعنوانی کے ریکارڈ بناکر اب انتہائی پارسائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بلکہ میاں صاحب اور ان کی جماعت پر تنقید کرتے بھی سنائی دیتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ ایک ایسی جماعت تھی جس میں بدعنوانوں کی کوئی گنجائش نہیں تھی ، وقت نے پلٹا کھایا اور مختلف قسم کی بدعنوانیوں کی لمبی لمبی فہرستیں منظرِ عام پر آگئیں۔

جماعت اسلامی ابتک ملک کی وہ بڑی جماعت ہے جس نے بدعنوانی کو اپنے اندر کسی قسم کی گنجائش نہیں دی۔ یا پھر اس کی دو وجوہات بھی ہوسکتی ہیں ایک تو یہ مذہبی جمع سیاسی جماعت ہے اور دوسری یہ کہ مرکز میں یہ اپنی اہمیت بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ تحریکِ انصاف میں بھی جو پرانے اور آزمائے ہوئے مہرے ہیں بدعنوانی ساتھ لئے گھوم رہے ہیں۔ ایک جماعت چھوڑ کر کسی کے اشارے پر دوسری جماعت میں چلے جانا، یہ کہاں کی بہادری یا ایمانداری ہے۔  خیر ہماری سیاست میں دیانتداری اور ایمانداری تو مضحکہ خیز باتیں لگتی ہیں۔  سیاست دان بھاگ بھاگ کر ہمارے پیسوں پر لندن اور دبئی اس لئے جاتے ہیں کہ پاکستان میں انہیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں عوام بیدار نہ ہوجائیں۔  اور ہمارے گریبان پکڑکر ہمارا احتساب سڑکوں پر نہ شروع کردیں۔

ہوسکتا ہے ہم پر اب یہ واضح ہوگیا ہو کہ بے غیرتی اور بہادری میں کیا فرق ہوتا ہے ۔ سیاسی حکمرانوں کو سدھارنے کیلئے قدرت نے عقل دے رکھی ہے۔ اگر ہم اب بھی اپنے آپ کو تعصب کی بیڑیوں سے آزاد نہیں کروائیں گے تو قدرت کی جانب سے کچھ نہیں آنے والا ۔​