اعلی تعلیم کے مسائل فوری توجہ مانگتے ہیں

پاکستان میں اس وقت اعلی تعلیم یعنی ہائر ایجوکیشن کے چیلنجز سے نمٹنے پر بہت زور دیا جارہا ہے ۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر قائم کیے جانے والے ہائر ایجوکیشن کمیشن سرکاری و غیر سرکاری یونیورسٹیوں کی مدد سے اعلی تعلیم کے اہداف کے لیے کوشاں ہے ۔ پندرہ برس قبل حکومت نے اعلی تعلیم کو ملک میں بھی اور دنیا میں بھی قابل قبول بنانے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اگرچہ تمام صوبوں میں یہ کمیشن نہیں بن سکے  مگر اس کی طرف پیش رفت کا عمل کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے ۔

بنیادی طور پر ہماری ریاست، حکومت اور اداروں  کی کمزوریوں کے باعث یہاں پرائمری یا اعلی تعلیم پر توجہ یا سرمایہ کاری نہیں کی گئی ۔ سرمایہ کاری سے مراد محض پیسہ ہی نہیں بلکہ انسانی وسائل  بھی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم تمام تر خواہشات کے باوجود وہ کچھ حاصل نہیں کرسکے جو ہماری قومی ترجیحات یا ضرورت کے زمرے میں آتا ہے ۔ دنیا میں کوئی بھی ملک اعلی تعلیم کے میدان میں محض خواہش یا خوابوں کی بنیاد پر کچھ حاصل نہیں کرتا ۔ کچھ حاصل کرنے کے لیے یقینی طور پر خواہش اور خوابوں کی اہمیت ہوتی ہے ۔ لیکن یہ اہمیت اس وقت بے معنی ہوجاتی ہے جب ہم محض خواہشوں اور خوابوں کے درمیان ہی کچھ ایسے مینار بنانے کی کوشش کرتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے نظام میں ایک بڑا واضح فرق یا خلا موجود ہے ۔ یہ ناکامی محض کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ مجموعی طور پر بطور ریاست ہم ایک بڑے جرم کا شکار ہورہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے انہیں دہرایا ہے، جو لحمہ فکریہ ہے ۔

یہ نہیں کہ پاکستان بطور معاشرہ بانجھ پن کا شکار ہے او ر یہاں اعلی دماغ موجود نہیں۔ بلکہ اصل مسئلہ درست کام کے لیے درست لوگوں کا چناؤ ہوتا ہے۔ اس  سے گریز کیا گیا۔  سیاسی کمٹمنٹ موجود نہیں رہی۔ پچھلے دنوں لاہور میں ہائرایجوکیشن کمیشن کے پندرہ برس کے موقع پر دو اہم فکری مباحث میں جانے اور بات چیت کرنے کا موقع ملا ۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ دونوں مباحث سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیوں میں جاری اعلی تعلیم  کے بارے میں تھے ۔ پہلی نشست گجرات یونیورسٹی کے سربرا ہ پروفیسرڈاکٹر عبدالقیوم کی سربراہی میں سجائی گئی جس کا موضوع ’’ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کا مستقبل اور امکانات ‘‘ تھا ۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مختار احمد تھے ۔ جب کہ شرکاء میں لاہور سے میڈیا  سے تعلق رکھنے والے سنیئر کالم نگار اور صحافی شامل تھے۔ گجرات یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم کی خوبی یہ ہے کہ اسی طرح کی علمی اور فکری مجالس سجاتے رہتے ہیں اور اہل علم و دانش سے اصلاح احوال کے حوالے سے تجاویز جمع کرنے کی لگن رکھتے ہیں ۔

ڈاکٹر مختار احمد اور ڈاکٹر ضیا القیوم نے اعداد وشمار کی مدد سے کچھ بہتری کے مناظر بھی پیش کیے۔ اعدادوشمار سے ہٹ کر اصل مسئلہ اعلی تعلیم کے بارے میں اچھے یا برے تصور کا ہے ۔ بدقسمتی سے ہم ابھی تک اعلی تعلیم کے میدان میں اچھا تصور ابھارنے میں مسائل کا شکار ہیں ۔ عددی تعداد میں یقیناً بہتری آئی ہے ، مگر  اعلی تعلیم کے معیارپر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اب  دنیا میں رینکنگ کا زمانہ ہے اور اسی بنیاد پر پر یونیورسٹیوں کی ملک میں اور ملک سے باہر درجہ بندیاں کی جاتی ہیں ، جس میں ہمارا تصور کمزور ہے ۔ بالخصوص تحقیق کے عمل میں ہماری یونیورسٹیاں وہ معیار قائم نہیں کرسکیں جو ہماری علمی اور فکری ساکھ کو بنانے میں معاون ثابت ہو۔ جب یونیورسٹیوں میں استاد کو تعلیم سے زیادہ انتظامی امور میں الجھا دیا جائے یا انتظامی سربراہ پر سیاسی دباؤ ڈال کر حکومتیں اپنی مرضی اور منشا کے مطابق درس گاہوں کا نظام چلانے کی کوشش کریں گی  تو نتیجہ یہ ہی ہوگا جو ہم بھگت رہے ہیں ۔

اس کے علاوہ دوسری اہم فکری نشست ہمارے دوست اور فکری محاذ پر سرگرم عمل مرتضی نور کے ادارے ’’ انٹریونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سماجی علوم ‘‘ نے سجائی تھی جس میں غیر سرکاری یونیورسٹیوں اور اعلی تعلیم کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ۔ مرتضی نور اسی طرح کی فکری مجالس پورے پاکستان میں سجاتے رہتے ہیں اور ان کا ادارہ واقعی اہم کام کررہا ہے ۔ اس فکری نشست کی سربراہی پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ پروفیسرڈاکٹر نظام محمد نظام الدین نے کی ۔ جبکہ پنجاب کے ہائر ایجوکیشن کے صوبائی وزیر سید علی رضا گیلانی مہمان خاص تھے۔  دیگر مقررین میں ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ، محمد اویس رؤف، ایم اے رؤف شامل تھے ۔ ڈاکٹر نظام واقعی ایک بڑے آدمی ہیں اور اعلی تعلیم کو  درپیش چیلنجز کا درست فہم اور ادارک  بھی رکھتے ہیں ۔

اس فکری نشست میں ڈاکٹر نظام نے چند اہم باتیں کیں ۔ اول انہوں نے سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیوں کے درمیان اعلی تعلیم کی بہتری میں مشترکہ کوششوں کے خلا، کمیونیکیشن کے مسائل اور سیاسی تنہائی میں کام کرنے کی روش کو غلط کہا ۔ دوئم ان کے بقول  نجی شعبہ میں کام کرنے والی یونیورسٹیوں میں بھی  باہمی تعاون نہیں ۔ سوئم پرائمری یا اعلیٰ تعلیم کی فراہمی ریاست و حکومت کی بنیادی ذمہ داری میں آتا ہے ۔ یہ ذمہ داری ان ہی کو لینی چاہیے ۔ چہارم تعلیم کو جب بھی منافع بنانے کے طور پر لیا جائے گا وہ تعلیم کو پیچھے اور منافع کو فوقیت دے گی جو ایک خطرناک رجحان ہے ۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ جو سرکاری اور غیرسرکاری   درس گاہوں کا تجربہ رکھتے ہیں،  نے بھی دو اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی ۔ اول ہائر ایجوکیشن کمیشن وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کا عدم توازن یا باہمی چپقلش، دوئم نجی یونیورسٹی کی سطح پر بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے  بنائے ہوئے قوانین یا پالیسی پر عملدرآمد سے گریز یا نگرانی کا کمزور نظام جیسے امور پر توجہ دیئے بغیر نجی شعبہ کو قانون کے دائرے کار میں نہیں لایا جاسکتا ہے ۔

اعلی تعلیم میں اگر سیاسی گھٹن اور سیاسی پابندیوں سے ہٹ کر ایک ایسا علمی اور فکری نظام مہیا نہیں کیا جائے گا جہاں پڑھنے والے آزادانہ بنیادوں پر بغیر کسی خوف کے ایک متبادل بیانیہ پیش کر سکیں تو ہم کیسے آگے بڑھ سکیں گے ۔ یہ عجیب بات ہے کہ تحقیق کرنے والوں پر طرح طرح کی سیاسی و نظریاتی پابندیاں لگا کر متبادل بیانیہ تلاش کیا جارہا ہے ۔ جو مسائل اس وقت پاکستان بطور ریاست، حکومت اور طرز حکمرانی کے طور پر بھگت رہا ہے اس سے نمٹنے کا راستہ یہ ہی بڑی درس گاہیں اور اس میں پڑھنے یا پڑھانے والے دیتے ہیں ۔ لیکن وہ خود بھی فکری طور پر بہت پیچھے ہیں اور قوم کو بھی راستہ نہیں دے رہے ۔ کچھ لوگ ان درس گاہوں میں ایسے ہیں جو اہمیت رکھتے ہیں لیکن ان کے علم کو کوئی پزیرائی نہیں دی جارہی ۔ ایک سنگین مسئلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کام کرنے والے اعلی زہنوں اور حکمرانی کے نام پر فیصلے کرنے والوں کا ہے جہاں ایک بڑا خلا موجود ہے ۔

یونیورسٹیوں کی سطح پر سماجی سرگرمیوں کے فقدان نے بھی طلبہ وطالبات کو سیکھنے اور سکھانے کے عمل سے دور کردیا ہے ۔  یونیورسٹیوں کی سطح پر نئی نسل میں انتہا پسندی ، فرقہ وارانہ ، علاقائی یا لسانی مسائل ابھر رہے ہیں اس کو کیسے نمٹا جائے ، یہ ایک بڑا چیلنج ہے جو یقینی طور پر نصاب میں تبدیلیوں سمیت مجموعی طور پر درس گاہوں کے ماحول میں تبدیلی لانے اور سماجی وکلچرل سرگرمیوں کے فروغ کے بغیر ممکن نہیں ۔ اسی میں یقینی طور پر سرکاری و غیر سرکاری یونیورسٹیوں کے سربراہان کو پیش قدمی کرنا  ہوگی۔  یونیورسٹیوں کی سطح پر ہر شعبہ میں سٹوڈنٹس کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور ان کو انتظامی اختیارات بھی ہوں تاکہ وہ سرگرمیوں کو لے کر آگے بڑھ سکیں ۔

یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اعلی تعلیم کا فروغ سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں۔ اس کے لیے کسی ایک کو بھی ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے لیے ہمیں  ہوم ورک کی ضرورت ہے ۔ ایسا ہوم ورک جس میں حکومت سے لے کر اداروں تک اور افراد سے لے کر اجتماعی فریقین تک سب کو واضح ہو کہ ان کا کیا کردار ہے۔ لیکن یہ کام  جوابدہی کے نظام سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ جب تک ہم انتظامی اداروں میں جوابدہی کا نظام بغیر کسی تفریق کے نہیں لائیں گے ، اصلاح کا عمل شروع نہیں ہوسکے گا۔