جنسی ہراسانی کا ثبوت کیسے لایا جائے
- تحریر محمدعامرحسینی
- سوموار 06 / نومبر / 2017
- 3838
سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پہ ہراسانی نسواں کا ایشو ایک بار پھر زور و شور سے زیر بحث آرہا ہے ۔ اس بحث میں زیادہ تر آوازیں پاکستانی معاشرے میں عورتوں کی سماجی زندگی کو محدود کرنے والی غالب سوچ اور اس سے جڑی قدامت پرستانہ و تنگ نظری پہ مبنی رویوں کی عکاسی کرتی ہیں ۔ پاکستان کی ویمن ہاکی ٹیم کی سابق گول کیپر سیدہ سعدیہ اپنی ٹیم کے کوچ مینجر سعید خان کی بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کی شکایت کرنے پہ پاکستان ہاکی ٹیم سے نکال دی گئیں۔ ان کے ساتھ اس واقعے کی گواہ اقرا جاوید جنہوں نے سعدیہ کے ساتھ ہوئی بدسلوکی اور ہراسانی بارے گواہی دینے کا فیصلہ کیا، انہیں بھی ہاکی ٹیم سے نکال دیا گیا ہے ۔ یہ حشر دیکھ کر اس واقعے کی باقی گواہ خاتون ہاکی کی کھلاڑیوں نے خاموشی اختیار کرلی ہے ۔
سعدیہ کی تحریری شکایت پہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پہلے تو تاریخ سماعت مقرر کی اور پھر اس سے منحرف ہوگئی۔ سعدیہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو اس سے ہوئی بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کے بارے میں ان کی ٹیم کے حکام اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے لوگوں نے انہیں خاموش رہنے کو کہا، دوسری جانب سوسائٹی کے کچھ حلقوں کی جانب سے زبان بند رکھنے کا کہا جارہا ہے ۔ اب تو ان کے خاندان کا دباؤ ہے کہ چپ ہوجاؤ، تاکہ بدنامی نہ ہو۔ ادھر سندھ یونیورسٹی کی دو طالبات کا جو خط میڈیا میں اوپن ہوا اس سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو استاد اور سٹیج ڈائریکٹر طالبات سے جنسی تعلقات بنانے کے لئے ان طالبات کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہا تھا، اس کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ جنسی ہراسانی ہو یا عمومی ہراسانی نسواں کا معاملہ ، یہ ایک انتہائی حساس اور نہایت ہی غور وفکر اور دانش مندی کے ساتھ ڈیل کرنے والا کیس ہوتا ہے ۔ ہراسانی نسواں کے کیسز عام فوجداری یا دیگر کیسز سے مختلف ہوتے ہیں تو اس میں ٹھوس ثبوت سے کہیں زیادہ سیاق و سابق، حالات و واقعات، ملزم اور الزام علیہ کا سابقہ ریکارڈ اور بہت کچھ دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اب کسی شخص نے کام یا تدریس کی جگہ پہ کسی خاتون کا ہاتھ پکڑلیا، کاندھے پہ رکھ دیا یا جسم کے کسی حصے کو چھولیا، کوئی فحش حرکت کی، غلیظ ذو معنی جملہ بولا یا اسے کسی ایسے طریقے سے تنگ کیا جس کا ثبوت میسر نہیں ہوسکتا تو کیا ایسی شکایت کو سرے سے زیر غور نہیں لایا جائے گا اور الٹا شکایت کرنے والی عورتوں کو مزید ذہنی اذیت فراہم کی جائے گی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنی عزت، وقار اور برابری کے مقام کی خاطر کام کی جگہ پہ یا تدریس کے مقام پہ کوئی خاتون بہادری اور جرآت کے ساتھ اپنے ساتھ ہونے والی کسی بھی قسم کی ہراسانی کو ریکارڈ پہ لے کر آتی ہے تو معاشرے کی اکثریت اور متعلقہ ایڈمنسٹریشن اسے تحسین کی بجائے شک اور تحقیر کی نظر سے دیکھتی ہے ۔ پاکستان میں کسی بھی ادارے کی ایڈمنسٹریشن اکثر وبیشتر ہراسانی کی شکایت کرنے والی کسی بھی خاتون کی درخواست کو ٹربل مصیبت خیال کرلیتی ہے اور اس وقت تک حرکت میں نہیں آتی جب تک وہ معاملہ مین سٹریم میڈیا یا سوشل میڈیا پہ نہ آجائے ۔ اس کے بعد بھی کسی نہ کسی طریقے سے شکایت کرنے والی خاتون کے خلاف معاندانہ رویہ جاری ہی رہتا ہے ۔ ملتان کرکٹ کلب کا اندوہناک واقعہ سب کے سامنے ہے۔ کچھ لڑکیاں جب کوچ محمد جاوید اور ایم سی سی کے چئرمین مولوی سلطان عالم کے مبینہ کرتوتوں کے خلاف بہادری سے سامنے آئیں تو ملزموں نے روایتی حلقوں اور میڈیا کے بڑے حصے کو ساتھ ملا لیا۔ ملتان کے کئی نامورصحافی ملزموں کی صفائی میں آگے آگئے ۔ نتیجہ ایک کھلاڑی حلیمہ رفیق کی المناک موت کی صورت میں نکلا۔ صفائی دینے والے صحافیوں نے یہیں تک بس نہیں کی بلکہ حلیمہ کی موت کی خبروں کو دبانے میں بھر پور کردار ادا کیا۔
سندھ یونیورسٹی کی طالبات سے جنسی ہراسانی کے کیس کی تفصیلات ہمیں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ کیسے ایڈمنسٹریشن، اردگرد کے لوگ اور خود گھر والوں کا دباؤ عورتوں کو اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی پہ خاموش رہنے کے کلچر کو فروغ دیتا ہے ۔ طالبہ الف اور طالبہ ب نے جو شعبہ انگریزی جامعہ سندھ، جامشورو میں پڑھتی ہیں، شعبہ انگریزی کے اساتذہ پہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کو جنسی طور پہ ہراساں کررہے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے پاس اس شعبے کے بعض اساتذہ کے جنسی ہراسانی کے ایس ایم ایس بھی موجود ہیں۔ طالبہ الف کا کہنا ہے کہ شعبہ انگریزی کے ایک پروفیسر نے نہ صرف انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا بلکہ انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش بھی کی۔ انہوں نے مذکورہ پروفیسر کے بلیک میل کرنے والے موبائل فون پیغامات جامعہ کے وائس چانسلر فتح محمد برفت کو بھی دکھائے تھے لیکن اس مذکورہ استاد کے خلاف کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے ایک افسر نے ان کی بہن سے رابطہ کیا اور دھمکی دی کہ اگر خاموشی اختیار نہ کی گئی تو معاملہ ان کے والد کے نوٹس میں لایا جائے گا جو دل کے مریض ہیں۔
طالبہ ب کا کہنا ہے کہ انہیں بھی جامعہ سندھ کے ہی ایک استاد کی جانب سے جنسی ہراس کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہوں نے ایک ایف آئی آر بھی اس حوالے سے درج کرائی تھی۔ اور اپنے بھائی کے ساتھ یونیورسٹی کے وی سی سے بھی ملی تھیں مگر کوئی ایکشن اس حوالے سامنے نہیں آیا۔ طالبہ ب کے مطابق جب وی سی نے الزام علیہ کے خلاف ایکشن لینا چاہا تو سندھ یورنیورسٹی کے اساتذہ نے اس اقدام کی مزاحمت کرنے کا عندیہ دیا اور معاملہ کھٹائی میں پڑگیا۔ طالبہ ب کا کہنا ہے کہ جامعہ سندھ کے ہی ایک سٹیج ڈائریکٹر نے 14 اگست کے حوالے سے ریہرسل کی تیاری کے سلسلے میں جامعہ کی طالبات کو اپنے گھر بلایا جہاں پہ پہلے ہی اس کے دوسرے دوست موجود تھے جو نشے میں دھت تھے اور انہوں نے طالبات کے ساتھ نازیبا حرکات کیں اور ان کو شرمناک حرکات پہ مجبور کرنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ بھی جامعہ کی انتظامیہ کے نوٹس میں لایا گیا لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ اس خط میں جامعہ سندھ کی آئی آر کی جنسی ہراس سے تنگ آکر خودکشی کرنے والی طالبہ نائلہ رند کیس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ طالبات نے خط میں کہا ہے کہ اگر نائلہ رند کی شکایت پہ کان دھرے گئے ہوتے تو نائلہ خودکشی نہ کرتی۔ ادھر نائلہ رند کیس کی گزشتہ سماعت میں جامعہ سندھ کے شعبہ ویمن ڈویلپمنٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر فوزیہ اشرف نے عدالت کے سامنے یہ بیان داخل کرایا ہے کہ جامعہ سندھ میں اساتذہ اور دوسرے سٹاف کی جانب سے طالبات کو جنسی ہراسانی کا شکار بنایا جانا ایک حقیقت ہے ۔ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر فتح محمد برفت نے صحافیوں کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جامعہ سندھ میں طالبات کے ساتھ جنسی ہراسانی کے واقعات حقیقت ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دو واقعات اپریل اور جون میں رپورٹ ہوئے تھے جبکہ ان کا موقف تھا کہ خط میں جس لڑکی کا نام دیا گیا تھا اس کا کہنا ہے کہ اس نے ایسا کوئی خط نہیں لکھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کیس میں جنسی ہراسانی کے مرتکب استاد کا تبادلہ دادو کیمپس میں کردیا گیا۔ سندھ یونیورسٹی کے اندر طالبات سے جنسی ہراسانی کے مبینہ واقعات کی خبریں عام ہونے کے بعد سے سول سوسائٹی اور صحافتی دنیا میں حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے کیونکہ اس یونیورسٹی کے اندر عورتوں کے حقوق اور فیمنزم کے حوالے سے بہت زیادہ سرگرم رہنے والی خواتین پروفیسر موجود ہیں جن کی خواتین کے حق میں اٹھائی جانے والی آواز کو سب سے بلند آہنگ کہا جاتا ہے ۔
سندھ یونیورسٹی کی پروفیسرز کی ایسوسی ایشن میں ان کا اثر و رسوخ بھی بہت زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود اس جامعہ کے اندر طالبات سے جنسی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوتے چلے جانا اور اس پہ یونیورسٹی انتظامیہ کا کوئی ایکشن لینے سے گریز اور الٹا طالبات کو ہی چپ کرانے کی کوشش کرنا حیران کن ہے ۔ سعدیہ اور حلیمہ کے پاس تو سوائے شکایت کے کوئی اور’ثبوت‘ نہیں تھا لیکن سندھ یونیورسٹی کی طالبات نے ’ثبوت‘بھی دے دیئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کے ڈائریکٹر نے پانچ اکتوبر کو سندھ یونیورسٹی کے وی سی کو خط لکھ کر اس خط میں بیان کیے گئے واقعات پہ وضاحت طلب کی تھی جس کا جواب وی سی آفس سے چلا گیا ہے ۔ اس جواب میں بھی امر واقعہ کو تسلیم کرنے سے گریز کیا گیا ہے جبکہ خط لکھنے والی لڑکیوں پہ دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ سندھ یونورسٹی کی طالبات اور کیا ثبوت دیں۔