احتساب کا عمل اور کمزور ترجیحات

کسی بھی معاشرے میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا مضبوط تصور جوابدہی یا احتساب کے عمل میں شفافیت کے بغیر ممکن نہیں ۔ جمہوری عمل کا تسلسل محض حکومت بنانے ، ووٹ حاصل کرنے اور اپنی حکومتی مدت پوری کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ عمل ملک میں ایک منصفانہ اور حقیقی معنوں میں شفافیت کے نظام سے جڑا ہوا عمل ہے ۔ اگر جمہوریت شفافیت یا جوابدہی کے عمل کو کمزور بنا کر یا اس میں سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر آگے بڑھا جائے گا تو خود جمہوریت کا عمل بھی اپنی ساکھ قائم نہیں کرسکتا۔ اگرچہ پاکستان میں سیاسی اور فوجی دونوں قیادتوں نے احتساب کے نعرے کو سیاسی طور پر استعمال کیا لیکن  ذاتی مفادات کی وجہ سے ملک میں احتساب کا عمل مذاق بن کر رہ گیا ہے ۔

احتساب کے عمل کی کمزوری میں چار اہم عوامل کارفرمارہے ۔ اول احتساب کے عمل کو کمزور کرنے کے لیے سیاسی و فوجی حکمران طبقہ نے اداروں کو کمزور کیا اوران کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا۔ دوئم احتساب کا عمل اگر کچھ آگے بڑھا تو اس کی مقصد حقیقی معنوں میں احتساب کرنا نہیں بلکہ اپنے سیاسی مخالفین یا کمزور طبقات کے خلاف اس احتساب کو بطور ’’ سیاسی ہتھیار ‘‘ استمعال کیا گیا ۔ سوئم حکمران طبقات اور ریاستی و حکومتی اداروں سمیت مختلف فریقین کے درمیان ایک ایسا گٹھ جوڑ قائم کیا گیا جس کا مقصد احتساب کے عمل کو کمزور کرکے ایک دوسرے کے مفادات اوربدعنوانی و کرپشن کو تحفظ فراہم کرنا تھا، اس کے لیے ایسی قانون سازی کی گئی جو اس حکمران طبقہ کے مفاد میں تھی ۔ چہارم حکمران طبقہ سمیت مختلف فریقین جو احتساب کو اپنے لیے مشکل سمجھتے تھے انہوں نے ایک خاص مقصد اور فکر کی بنیاد پر یہ بیانیہ تشکیل دیا کہ اس ملک میں احتساب کے نعرے کے پیچھے جمہوریت دشمنی کارفرما ہے ۔

لوگوں کو یاد ہوگا لندن میں بیٹھ کر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ایک میثاق جمہوریت کے معاہدہ پر دستخط بھی کیے تھے ، اس میں ایک نکتہ اقتدار میں آکر منصفانہ، شفاف او ربلاتفریق احتساب کمیشن کا قیام اور اس پر عملدرآمد شامل تھا ۔ لیکن جمہوری حکمرانوں کا المیہ یہ ہے کہ یہ اپنے ہی نعروں اور وعدوں کی پاسداری نہیں کرتے۔  پانچ برس پیپلز پارٹی اور اب چار برس سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے ، لیکن دونوں مقبول جماعتوں نے احتساب کمیشن کے قیام کو پس پشت ڈال کر عملی طور پر ایک دوسرے کی کرپش، بدعنوانی اور لوٹ مار کو تحفظ دیا ۔  دونوں اقتدار میں شامل جماعتوں نے نہ تو احتساب کمیشن بنایا اور نہ ہی پہلے سے موجود ’’ قومی احتساب بیورو‘‘ یعنی نیب کو فعال کیا ، یا اس میں جو خامیاں یا کمزوریاں تھیں اس کو دور کرکے اسی ادارے کی شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ملک کی حکمران جماعتیں اپنے مخالفین کے خلاف کرپشن اور بدعنوانی کی دہائی دیتی ہیں  لیکن عملی طو ر پر ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتیں ۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب خود حکمران طبقات کا دامن صاف اور شفاف نہ ہو وہ کیسے حقیقی احتساب کے عمل کو یقینی بناسکتی ہے ۔ پچھلے دنوں حکمران طبقہ نے ایک بار پھر دیگر سیاسی فریقین کی حمایت کے ساتھ ’’ احتساب کمیشن ‘‘ کے قیام کا بل پیش کیا ہے ۔ اس بل کا مقصد نیب کو ختم کرنا اور احتساب کمیشن کا قیام ہے ۔ نیب کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ ایک انتقامی ادارہ ہے جس کا مقصد سیاسی دانوں کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا ہے ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت کی توپوں کا رخ آج کل نیب کے خلاف ہے اور وہ بڑی شدت کے ساتھ اس ادارے کی ساکھ پر سوال اٹھارہے ہیں ۔ حالانکہ اسی نیب کے سربراہ کا تقرر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی باہمی مشاورت سے ہوتا ہے ۔ لیکن ان کو لگتا ہے کہ اس ادارے کی لگام ان کی بجائے  پس پردہ طاقت کے ہاتھ میں  ہے۔

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ حکمران طبقات  مفلوج ، لاچار اور اختیارات سے تہی ایسے ادارے اور افراد چاہتا ہے جو قانون کی حکمرانی کے مقابلے میں ان کے مفادات کی پاسداری کریں ۔ جب بھی  کوئی ادارہ احتساب کی بات کرتا ہے یا اس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو ہم سیاسی انتقام کی دہائی دے کر احتساب کے عمل کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ(ن) ایم کیو ایم ، جے یو آئی اور اے این پی سمیت دیگر جماعتیں احتساب پر سیاست کرکے اس عمل کو بزور سیاسی طاقت روکنا چاہتی ہیں ۔ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پہلے ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب کریں ۔ نواز شریف شدت سے کہہ رہے ہیں کہ ججوں او رجرنیلوں کا احتساب کیوں نہیں ہوسکتا۔ یہ اچھی بات ہے کہ اس ملک میں جرنلیوں ، ججوں ، بیوروکریسی ، میڈیا ، سرمایہ دار، صنعت کار، کاروباری طبقہ سمیت سب کا احتساب ہونا چاہیے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب کسی فریق کا احتساب  شروع ہو تو وہ یہ نعرہ لگاتا ہے  کہ پہلے اس کا نہیں فلاں کا احتساب کرو۔

جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کے لیے پہلے حکمران طبقہ کو اپنا مقدمہ شفاف انداز میں پیش کرنا چاہیے ۔ ایک کرپٹ اور بدعنوان حکومت کبھی بھی دوسرے طاقت ور طبقہ کا احتساب کیسے کرے گی ۔ سب کو احتساب کے دائرہ کار میں لانا وقت کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ یہاں کوئی شفاف نہیں اور سب کے دامن کسی نہ کسی شکل میں دھبوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ لیکن پہلے احتساب کے عمل میں خود حکومت اپنے آپ کو پیش کرے ، اس کے بعد وہ دوسروں طاقت ور طبقات کے احتساب کے بڑھیں گے تو سماج کی طاقت بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوگی ۔ ایک مسئلہ لوگوں یعنی عوام کا بھی ہے ۔ ہمیں احتساب کے عمل میں جذباتیت، دیوانگی اور بادشاہت پر مبنی اپنی پسند و ناپسند کے دائرہ کار سے باہر نکل کر شفاف نظام کے لیے بڑی جنگ لڑنی ہے ۔ آپ کا تعلق کسی سے بھی کتنا ہی عشق پر مبنی کیوں نہ ہو، لیکن کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی سیاست کی حمایت نہیں ہونی چاہیے ۔

ایک بنیادی اصول یہ طے کرنا ہوگا کہ سیاست اور کرپشن یا بدعنوانی کے درمیان جو گٹھ جوڑ ہے اس کو توڑنا ہوگا ۔ یہ عمل  ایک مافیا کی صورت اختیار کرگیا ہے جس سے ادارے اور پورا انتظامی ڈھانچہ کرپٹ ہوگیا ہے۔ میں اس پہلو پر بار بار زور دیتا ہوں کہ معاشرے میں کرپشن ، بدعنوانی کے خلاف اور شفاف نظام کی حمایت میں ایک بڑی سیاسی اورسماجی تحریک کی ضرورت ہے ۔ یہ تحریک کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت سے قطع نظر تعصب کے بغیر چلنی چاہیے ۔ ایسی تحریک میں ہماری نئی نسل اہم کردار ادا کرسکتی ہے ۔ کیونکہ اس ملک کو اگر محفوظ بنانا ہے تو یہ کام اب صرف ایک بڑی تعداد میں موجود نئی نسل ہی کرسکتی ہے ۔ اس نئی نسل کے پاس طاقت بھی ہے اور جوش بھی اور ان کی موثر شمولیت ہی کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کو لگام دے سکتی ہے ۔

حکمران طبقات سمیت مختلف فریقین کی جانب سے یہ دلیل  دی جاتی ہے کہ ہم کرپٹ نہیں بلکہ کرپشن کے نام پر اہل سیاست یا کسی اور کو بدنام کیا جارہا ہے ۔ کچھ دیرکے لیے یہ منطق مان لیں تو پھر سوال یہ ہے کہ اس ملک میں ماہانہ بنیادوں پر ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن کون کررہا ہے ۔ جو کررہا ہے اس کے خلاف حکمران طبقات کیوں قدم نہیں اٹھاتے ۔ یہ ایک محض دھوکہ دہی ہے ، اصل میں یہ حکمرانی کا نظام کرپشن اور بدعنوانی کی بنیاد پر کھڑا ہے ۔ اس ملک کا ایک بڑا دانشور اور رائے عامہ بنانے والا طبقہ خود حکمرانوں کی بدعنوانی کے کھیل میں شریک ہوکر اس پر مجرمانہ پردہ ڈال کر ان جرائم کو تحفظ دیتا ہے ۔ بالادست طبقہ لوٹ مار کے نام پر اس رائے عامہ بنانے والے طبقہ کو بھی اپنے گھناؤنے کھیل میں حصہ دار بنالیتے ہیں ۔

اہل دانش بڑی شدت اور گلے پھاڑ کر کرپشن او ربدعنوانی کا بھاشن دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جمہوری عمل کرپشن کے کھیل میں متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔ ان سے یہ ضرور پچھا جانا چاہیے کہ کیا جمہوریت کرپشن اور بدعنوانی کے سائے میں تقویت حاصل کرسکتی ہے تو ہمارا جواب نفی میں ہے ۔ اسی طرح جب حکمرانی کا نظام اور ادارہ جاتی بنیاد میں بدنیتی شامل ہوگی تو اس حکمران ، ریاستی طبقہ سے شفاف احتساب کی توقع بھی محض خوش فہمی کے سواکچھ نہیں ہوگی ۔