لندن سکول آف اکنامکس کے زیر اہتمام سیمینار
- تحریر افتخار بھٹہ
- منگل 07 / نومبر / 2017
- 4489
گزشتہ دنوں برطانیہ کے معتبر تعلیمی ادارے لندن اسکول آف اکنامکس میں ایشین ڈیولپمنٹ سو سائٹی کے زیر اہتمام پاکستان میں در پیش مختلف نوعیت کے ایشوز جس میں جمہوریت ، معیشت اور خارجہ پالیسی نمایا ں ہیں ان کے حوالے سے اپنے خیالات کے اظہار کیلئے پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سنیٹر شیری رحمان نے خارجہ پالیسی جبکہ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر مفتاح اسماعیل نے پاکستانی معیشت ، ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے راہنما قمر زمان کائرہ نے سول ملٹری تعلقات کی روشنی میں پاکستان کے جمہوری اداروں کو کیسے مضبوط کیا جا سکتا ہے، کے بارے میں اظہار خیال کیا۔
لندن واپسی سے فوراًبعد قمر زمان کائرہ سے سیمینار میں پیش ہونے والی گزارشات اور اظہار خیال کے حوالہ سے سوالات و جوابات کا موقع ملا۔ زیادہ تر گفتگو قمر زمان کائرہ کی تقریر کے حوالے سے ہوئی۔ اس سے آپ اختلاف بھی کر سکتے ہیں مگر مجموعی طور پر یہ تمام تر گفتگو حقائق پر مبنی تھی جس میں پاکستان میں جمہوری سفر اور سول ملٹری تعلقات کا تاریخی تناظر میں جائزہ لیا گیا۔ پاکستان کے قیام کے نظریہ کے حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں۔ ترقی پسند راہنماؤں کے بقول یہ مسلم کمیونٹی کے حقوق کا مسئلہ تھا کہ وہ کس طرح ہندو اکثریت کی جبریت سے آزاد ہو کر زندگی گزار سکتے ہیں۔ مگر بعض لوگوں نے اس کو مذہبی تناظر میں لیا اور اسلام کو نظریہ پاکستان کی بنیاد قرار دیا کہ یاد رہے جب نئی ریاست کا نام پاکستان تجویز ہوا تو اس میں پنجاب ، سندھ، بلوچستان، سرحد، کشمیر وغیرہ شامل تھے۔ جبکہ مشرقی پاکستان کا ذکر نہیں تھا حالانکہ اس صوبے نے سب سے پہلے پاکستان کے حوالے سے قرار داد منظور کی تھی۔
جمہوری ادارے پاکستان میں قیام سے ہی بحرانی کیفیات سے دو چار رہے ہیں۔ ہماری اسمبلی قیام پاکستان کے نو سال بعد 1956میں بمشکل ملک کا آئین کو بنانے میں کامیاب ہوئی مگر اس کو جلد ہی ختم کر دیا گیا۔ اور نہ ہی اس کے تحت انتخابات کا انعقاد ہو سکا تھا۔ 1958میں صدر ایوب نے سکندر مرزا کو بر طرف کرکے مارشل لاء لگا دیا جبکہ وہ وزیر دفاع کی پوسٹ پر تعینات تھا۔ بعد میں ایوب خان نے امریکہ کا دورہ کیا جس کوTricker tape reciptionکا نام دیا گیا جس کا مقصد امریکہ کا پاکستان کو روس کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ تھا۔ ایوب خان نے پارلیمانی نظام کی جگہ بنیادی جمہورتوں کا نظام قائم کر کے اشرافیہ کی جمہوریت قائم کی جس میں عوام کو براہ راست ووٹ دینے کا حق نہیں تھا۔ بلکہ80ہزار بی ڈی ممبر قوم کی تقدیر کا فیصلہ کر سکتے تھے۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف انتخاب جیتنے کیلئے ہر قسم کی دھاندلی اور ظلم و ستم ڈھایا گیا۔ ایبڈو کے ذریعے سیاستدانوں کو میدان سیاست سے باہر نکال دیا گیا۔
1956تک جمہوریت کے غیر مستحکم ہونے کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ڈالی گئی۔ اس ساری صورتحال کی وجہ یہ تھی کہ فوج کے علاوہ پاکستان میں کوئی مستحکم اور منظم ادارہ نہیں تھا جس طرح سکندر مرزا کو وزیر دفاع کو جنرل ایوب خان نے معزول کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ہمیں یہ بھی بات یاد رکھنی چاہیے کہ برصغیر کی برٹش آرمی میں33فیصد نفری پنجاب سے تھی۔ چنانچہ فوج کو بطور ادارہ قیام پاکستان کے بعد مختلف سیاسی اور ریاستی امور پر بالا دستی حاصل رہی۔ اس نے سول اداروں کی سیلاب اور دیگر قدرتی آفات میں بھرپور مدد کی اور اب بھی پاکستانی فوج نہ نظر آنے والے دشمن کے خلاف دہشت گردی کی جنگ میں مصروف ہے۔ افواج پاکستان کی مدد حاصل کرنا سول ایڈ منسٹریشن اور حکومتوں کی مجبوری رہا ہے جبکہ سول حکومتوں اور سیاستدانوں کو ان تمام کمزوریوں اور نا اہلیوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ ان سے یورپی معیار کی جمہوری اخلاقیات اور روایات کو قائم کرنے کی توقع کی جاتی ہے ۔ اگر ہم پاکستان کے جمہوری ارتقاء کا تجزیہ کریں تو یہاں پر تین طرز کے ادوار رہے ہیں جس میں پہلی اشرافیہ کی جمہوریت تھی جس میں عوام کا کوئی کردار نہیں تھا کیونکہ علاقائی پاور گروپس فوج کے ساتھ ملک کر حکومت کرتے رہے ہیں۔ جس کی مثال جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کا عہد ہے جو کہ آٹھویں ترمیم کی موجودگی میں کنٹرول قسم کی جمہوریت تھی۔ اس ترمیم کے تحت چار مختلف حکومتیں بھی معزول کر دی گئیں۔
جنرل ضیاء الحق کے عہد میں جہاد افغانستان کے بعد نئی نظریاتی صف بندیوں کا آغاز ہوا جس میں عوامی حقوق اور روشن خیال کی حوالے سے کیا ہوا کام جو کہ جمہوری سماج کی بنیاد ہوتا ہے تباہ کر دیا گیا۔ اور اس سیاسی خلاء کو غیر نظریاتی تجارتی، کاروباری اور مذہبی فرقہ وارنہ گروپوں کے ذریعے پر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد ملک میں جس قیادت کو ابھارا گیا اس کا انسانی حقوق اور روشن خیالی سے کوئی تعلق نہیں تھا جس کی مثال فاٹا ہے۔ یہاں پر جہاد افغانستان کے بعد خوانین کی جگہ فرقہ وارانہ انتہا پسند جہادی تنظیموں نے لے لی اور آج اُن کے حامی گروہ فاٹا کے پختونخواہ یا وفاق میں انضمام کے خلاف ہیں 1988سے1999تک یہاں پر ما تحت شراکتی جمہوریت قائم رہی۔ جس میں سویلین منتخب قیادتوں کے اہم امور میں کردار کو محدود کر دیا گیا۔ کبھی بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی رسک قرار دیا گیا، احتساب کے نام پر انتقام لیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف بھی آٹھویں ترمیم کی موجودگی میں مضبوط ترین صدر تھا اور احتساب کے نام پر بلیک میلنگ کر کے مختلف پارٹیوں سے منتخب ہونے والے افراد کو اپنے ساتھ ملا کر نیم پارلیمانی جمہوریت اختیار کی یہ بھی شراکتی جمہوریت کا دور تھا۔
2008کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے آئین کو پارلیمانی وفاقی روح کے تحت بحال کرنے کی کوشش کی۔ نیشنل فنانس اجلاس کا اجراء ہوا۔ صوبائی خود مختاری کے مسائل حل ہوئے جس سے بلوچستان میں چلنے والی علیحدگی پسند تحریکیں کمزور ہوئیں۔ خیبر پختون خوا کے لوگوں کو صوبے کی نام کی تبدیلی سے اپنی شناخت کا احساس ہوا۔ اقتدار کی منتقلی کا آئینی طریقہ طے ہوا۔ الیکشن کمیشن کو خود مختار بنانے کی کوشش کی گئی۔ مگر اتنے پچیدہ آئینی اور قانونی مسائل حل کرنے کے باوجود پیپلزپارٹی کی کاوشوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ 2013کے انتخاب جس فضا میں ہوئے وہاں پر پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو انتخابات میں دہشت گردی کے خوف اور دھمکیوں کے تناظر میں سر گرمیوں کو محدود کر دیا گیا۔ جبکہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون آزادنہ انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی گئی۔ نہ ہی اُن پر کوئی خود کش حملہ یا دہشت گردی کی واردات ہوئی۔ یہی وجہ ہے انتخابات میں سر گرم تحریک نہ چلانے کی وجہ سے پیپلزپارٹی اور دیگر ترقی پسند جماعتوں کا ووٹر متحرک نہ ہو سکا اوران کا جماعتوں کے ساتھ رابطہ کمزور ہوا۔
آج ہمیں پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے بعض اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کرتی ہوئی ایسی جماعت دیکھائی دے رہی ہے جو کہ بیک وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اگر اس کے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ کوئی قومی نظریاتی یا آئینی مفادات کیلئے تضادات نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد اپنی نا مکمل ذاتی خواہشات کا حصول ہے۔ حکومت میں رہتے ہوئے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا تاثر پاکستانی سیاسی بحران کی نئی جہت ہے۔ بہر صورت پاکستان کے سیاسی نظام میں ہر ادارے کا کردار ہے۔ باہمی شراکت اور متوازن رویوں سے ہی جمہوریت کو عوام کے مفاد کی خاطر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اور سیاسی خاندانی مقامی صوبائی اور وفاقی اجارہ داریوں سے آزادی کی صورت نکل سکتی ہے۔ تاکہ یہاں پر جمہوریت کا نظام عوام کے ذریعے اور عوام کی خاطر قائم کیا جا سکے۔