کیا سیکولرازم الحاد ہے (3)

ہمارے ناظرہ خوان معاشرے کا عام مسلمان مذہبی اداروں اور امام مسجدوں کی مہیا کی ہوئی اطلاعات اور معلومات پر زندہ ہے اور اُس نے کسی بات کو سُن کر تحقیق کا قصد کبھی نہیں کیا اور نہ ہی چھان بین کی کوشش کی ہے کہ جو معلومات مجھے مذہب کے نام پر مہیا کی گئی ہیں وہ درست ہیں بھی یا نہیں ۔ اُس کا اپنا مبلغِ علم یا علمی وجود نہیں ہوتا بلکہ وہ معاشرے میں کہانیوں کی طرح بیان کی جانے والی اسطور کے کریڈٹ پر مسلمان ہے ۔

چنانچہ جو کچھ وہ اخباری کالموں میں پڑھتا ، برقی میڈیا پر دیکھتا یا سُنتا اور جمعہ کے خطبات اور تقریروں سے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق جو وہ اخذ کرتا ہے وہ اُس کی جمع پونجی ہے جسے وہ دینی علم سمجھتا ہے۔ حالانکہ اُس کا سارا دینی سفر کلمہ ء طیبہ سے پکی روٹی تک کا ہے اور بسا اوقات وہ اپنی یونیورسٹی کی ڈگریوں کے باوجود یہ نہیں جانتا کہ سورہ ء اخلاص کیا ہے اور نہ ہی وہ  یہ آیات تجوید کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔ اس اسلامی جمہوری مملکت میں ایسے وفاقی وزرا اور سینیٹر تک دیکھنے میں آئے ہیں جنہیں قل ھواللہ تک یاد نہیں ۔ اِلا ماشا اللہ

بیشتر مسلمانوں کی مذہبی لُغت میں دو ہی لفظ ہیں ۔ کافر اور مسلمان ۔ کافر کا لفظ اکثر اوقات گالی کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ کئی ماں باپ ایسے خوش خُلق ہوتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کو  اس قسم کے خطاب سے دن میں کئی بار نوازتے ہیں ، چنانچہ جو ماں باپ کی حکم عدولی کرے وہ دن میں متعدد بار اپنے ہی گھر میں کافر قرار پاتا ہے یعنی ہم اپنی روزہ مرہ زندگی میں اس علمی تصور کو مٹی میں رولتے رہتے ہیں۔ اسی طرح جو اسلام کو نہیں مانتا وہ کافر ہے ۔ جو کسی ایک فرقے کے عقائد سے اختلاف کرتا ہے وہ دوسرے فرقے کے علماء کے نزدیک کافر ہے ۔ اور اس فرقہ وارانہ طرزِ فکر سے یہ المیہ رونما ہو رہا ہے کہ فرقوں میں بٹا ہوا اسلام بہت ہی اوق فقہی مفہوم میں کُفّار کا اسلام  بنا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مُختلف فرقوں کے علماء ایک دوسرے کو کافر قرار دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے ۔ چنانچہ مشہور صوفی شاعر بُلھے شاہ پر جب کفر کا فتویٰ لگا تو وہ بولے :
اوہ تینوں کافر کافر آکھدے توں آہو آہو آکھ
اسی قسم کی واردات اقبال کے یہاں بھی ملتی ہے جس کی بنا پر وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں:
زاہدِ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں

مجھے یاد ہے کہ پچاس کی دہائی میں جب میں نے گورکی کی مشہورِ زمانہ کتاب "ماں" پڑھی اور اپنی ماں سے اشتراکیت کی بات کی تو مجھے عیسائیت کی طرف مائل ہونے کا طعنہ دیا گیا اور میری سرزنش کی گئی ۔ اُس عہد میں اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کے نزدیک مغرب یا "ولیت" سے آنے والا ہر نظریہ عیسائیت سے ماخوذ تھا ۔ اور وہ تو خیر گزری کہ میں نے کارل مارکس کے یہودی ہونے کی بات نہیں چھیڑی ورنہ میرے لیے گھر میں رہنا مشکل ہوجاتا ۔  اور اب تک وہی غیر علمی رویہ ہے جس کی ہمارے دیسی معاشرے پر حکمرانی ہے ۔ یہاں اسلام ہی سچ اور باقی سب کفر ہے ۔ ہمارے یہاں کافر سازی بڑا آسان کام ہے اور کسی کو کافر قرار دے کے اکثر لوگوں کی انا کو بڑی تسکین ملتی ہے۔ مگر وہ نہیں جانتے کہ یہ رویہ کتنا غیر علمی ہے ۔ مذہب ایک بے حد وسیع اور عمیق علم ہے جس میں اس کائنات اور اُس کے خالق کی خلاقی کا علم حاصل کرنا پڑتا ہے اور جو شخص بے علم ہو وہ خُدا کو جان سکتا ہے اور نہ اس کی کائنات کے رازوں سے آگاہ ہوسکتا ہے ۔ اسی لیے سعدی نے کسی جگہ فتویٰ دیا ہے کہ :
بے علم نتواں خُدا را شناخت

اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جس پیغمبرﷺ نے تعلیم کو ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض قرار دیا ہو۔ اس کے پیروکاروں کے ملک میں جہالت گلی کوچوں میں کوڑے کے ڈھیر لگاتی ہے  اور سکول جانے والے بچے ان کچرا کُنڈیوں سے بچا کھچا کھانا چن کر کھاتے ہیں، کئی بچے ان کوڑے کے ڈھیروں کو بستر کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں ۔ ایسے معاشرے میں جہاں اسلامی تعلیمات کی دُرگت دن رات بنتی ہو۔ وہاں سیکولرازم جیسی علمی بحث کی گنجائش کہاں ۔ جوں جوں میں اس موضوع پر سوچتا ہوں مجھے یہ مشکل گھیرے رہتی ہے کہ جس معاشرے  میں عام لوگوں  کا رویہ ہی غیر علمی ہو ( معاف کیجیے میں دانشوروں کی بات نہیں کر رہا )وہاں علم کی بات کون سُنے گا لیکن کہنے والوں کو اپنی بات کہنی ہے سو وہ کہتے رہیں گے ۔ اب اس سے پہلے کہ میں سیکولرزم کی کسی تعریف کی تائید کروں۔ میں ایک دل چسپ نقطہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ علمی باتوں کی تفہیم کتنی مشکل ہے ۔

حسین بن منصور حلاج نے جن کی لحد زندہ ہے ، انالحق کا نعرہ بلند کیا جسے خُدا ہونے کا دعویٰ قرار دے دیا گیا ، جب کہ انالحق کے نقطے کی کئی تفسیریں ہیں ۔ منصور کا استدلال یہ تھا کہ  اگر اس بہتان کو مان بھی لیا جائے کہ میں نے خُدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو یہ اُس جھاڑی کے جرم سے زیادہ بڑا تو نہیں جس نے وادی ء سینا میں موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ میں تیرا رب ہوں ۔ اب چونکہ بات علمی ہے اور میں ایک معمولی سُوجھ بوجھ کا حامل ایک عاجز و مسکین بندہ ، اس لیے مجھے چوکنا رہ کر ایک بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ خُدا اور صبر لازم و ملزوم ہیں ۔ خُدا اُن کے ساتھ ہوتا ہے جو صبر آشنا ہوتے ہیں کیونکہ خُدا نے اپنی کتاب میں اپنے قرب کی جو علامت بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ " ان اللہ مع الصابرین" ( بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) اور اللہ جس کے ساتھ نہ ہو  وہ بے صبر یعنی ملحد  ہوتا ہے ۔

اور ان الفاظ کے ساتھ میں کتابوں سے اخذ کی ہوئی سیکولزم کی تعریف بیان کروں گا کیونکہ نقلِ کفر کفر نباشد۔
 ( جاری ہے )