یورپ تاریک براعظم سے روشنی کا مینار کیسے بنا

چند ماہ پہلے بی بی سی نے ایک خصوصی رپورٹ نشر کی جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانیوں میں گزشتہ 20 سالوں میں ملائیت اور بنیاد پرستی کی جس انداز میں تبلیغ کی گئی ہے وہ اب اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ اب اندرون و بیرون ملک پاکستانی باشندوں کی زندگی کے ہرحصے میں جو رجحانات جاری و ساری ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ ملائیت ”ضیاء سے موجودہ دور تک“ کی اس خصوصی رپورٹ میں بی بی سی نے بتایا تھا کہ پاکستانیوں میں ہر معاملہ کفر اور الحاد کی جنگ بن کر رہ گیا ہے۔

یہ جنگ کس نہج پر جا پہنچی ہے۔ اس کے لیے برطانیہ ہی کے ایک روزنامے گارڈین اور آئی سی ایم کے زیر اہتمام ہونے والے ملک گیر سروے کی بابت جاننا آپ سب کیلئے بہت ضروری ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ مردوں اور عورتوں کی نصف سے زائد تعداد بلاناغہ 5 وقت کی نماز ادا کرتی ہے جبکہ خواتین نماز کی ادائیگی میں مردوں سے مستعد ہیں۔ روزنامہ گارڈین کے تحت ہونے والے اس عوامی سروے کا مقصد برطانیہ میں رہنے والی پرانی اور نئی نسل کے نوجوانوں کے رجحانات کا اندازہ لگانا تھا۔ اسی نئی نسل کے مسلم نوجوانوں کے خیال میں ملازمت کے دوران پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ 88 فیصد مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ دوران ملازمت یا کام کے اوقات میں عبادات کیلئے مخصوص جگہ اور وقت کی فراہمی ہونی چاہیے، ایسا ہی مطالبہ تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد بھی کرتے ہیں۔ 62 فیصد مسلمانوں نے کہا کہ ان کے قریبی دوستوں اور واقف کاروں میں غیرمسلموں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جبکہ 35 فیصد نے غیر مسلم افراد کو زندگی کا ہمسفر اور شریک حیات بنانے کا خیال بھی ظاہر کیا۔

یورپ میں ان دنوں مسلمانوں کیلئے حجاب کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس حوالے سے ہونے والے ایک مذاکرے میں ایک نوجوان نے کہا ”اسلامی موضوع پر بات کر کر کے ہم بور ہو گئے ہیں جبکہ ہرشخص اس کو جبرکی علامت قرار دیتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ جبرنہیں بلکہ ہمارا دلی انتخاب ہے۔“ ایک خاتون نے اپنی رائے دیتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس نے کہا ”یورپی ذرئع ابلاغ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام خواتین کے معاملہ میں امتیازی سلوک روا رکھتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بے وفا بیوی کو جان سے مارنے کا تعلق اسلام سے نہیں جوڑنا چاہیے اور نہ ہی عورتوں پر ظلم کو اسلام کی عینک سے دیکھنا چاہیے۔“ تعلیم اور صحت عامہ کے فروغ کے حوالے سے گارڈین کے اس سروے اور مذاکرے میں مسلمانوں نے تعلیم کی کمی کو تسلیم کیا۔ مسلم اسکالرز حضرات نے مسلمانوں میں تعلیم کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ بات بھی تسلیم کی کہ مسلمانوں میں تعلیم کیلئے وہ جوش و خروش نہیں ہے جو بھارتی اور یہودی برادریوں میں پایا جاتا ہے۔

تعلیمی سروے کے حقائق مسلمانوں کی اس کمزوری کامنہ چڑا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 36 فیصد مسلم طالب علم بغیر کسی کوالیفیکیشن (تعلیمی اہلیت) کے اسکول چھوڑ دیتے ہیں جبکہ 33 فیصد برطانوی مسلم آبادی 16 سال سے کم ہے۔ غربت کا ذکر کرتے ہوئے سروے میں بتایا گیا ہے کہ 68 فیصد پاکستانی اور بنگلہ دیشی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں 18فیصد مرد حضرات بے روزگار ہیں جن کی عمریں 16 تا 25 سال کے درمیان ہیں۔ اقلیتوں کا ذکر کرتے ہوئے قرطاس ابیض میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان میں جدید کثیر ثقافتی معاشرے کی بجائے علیحدہ رہائش، اسکول اور ثقافتی سرگرمیاں زیادہ مقبول ہیں، اس کے باوجود نئی نسل نے کہا کہ ہمارے دوستوں میں بہت سے غیر مسلم افراد شامل ہیں جس سے ہمیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے۔

35 فیصد مرد حضرات نے غیر مسلم خواتین سے شادی پر آمادگی ظاہر کی ہے، اس کے برعکس 84 فیصد مسلم خواتین نے اس نظریہ کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ سروے کے مطابق برطانیہ میں بسنے والے مسلمانوں نے رجائیت کامظاہرہ کرتے ہوئے آئندہ پُرامیدی ظاہر کی ہے۔ 44 فیصد نے بتایا ہے کہ مستقبل میں زندگی بہتر ہونے کی امید ہے جبکہ 33 فیصد نے ناامیدی ظاہر کرتے ہوئے بد سے بدتر ہونے کا خدشہ ، امر یقینی ظاہر کیا ہے۔  دہشت گردی کے مسئلے پر برطانوی حکومت نے کس طرح کنٹرول کیا ہے۔ مباحثہ میں اس کو بھی زیربحث لایا گیا تھا۔ مباحثہ میں شریک بیشتر ارکان کا خیال تھا کہ کہ ان کی پوزیشن ان کے والدین اور آباﺅ اجداد کے مقابلے میں کافی بہتر ہے وہ خود کو برطانوی سمجھتے ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ انہیں اب بھی مشکلات کاسامنا ہے۔ ایک صاحب نے کہا ”زبان کا سیکھنا بے حد اہم ہے کسی بھی معاشرے میں زبان کا سیکھنا بہت سی رکاوٹوں کو دور کرتا ہے جبکہ یہ اسلامی فریضہ بھی ہے۔“

بہت سے افراد نے خود کو برطانوی سماج کا حصہ قرار دیا۔ جب ان سے کسی برطانوی دوست کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ چند لوگوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ برطانیہ کے کثیر ثقافتی معاشرے میں مخصوص اسلامی اسکولوں اور مدرسوں کی قطعی ضرورت نہیں۔ ایک خاتون کی رائے میں یونیٹی کا مطلب خودکو بدلنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی شمولیت کو فعال بنانا ہوتا ہے۔ میرے حساب سے سروے کی سب سے دلچسپ رائے تعلیم کے گھر کیمبرج کی مسجد کے امام کی ہے۔ وہ کہتے ہیں ”خارجہ پالیسی کے ضمن میں ہماری ہمدردیاں بائیں بازو والوں کے ساتھ ہیں لیکن داخلی اور مقامی سیاست کے حوالے سے ہماری فطرت، جبلت، مذہب اور شریعت ہمیں دائیں بازو والوں کے ساتھ کام کرنے پر اکساتی ہے۔“

حرف آخر کے طور پر مجھے یہ کہنا ہے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ یورپ کو تاریک براعظم سے نکال کر روشنی کی دنیامیں لاکھڑا کرنا کیسے ممکن ہوا۔   یورپ نے سب سے پہلے چرچ کی بالادستی کوختم کیا، پاپائیت سے چھٹکارا حاصل کیا، علم کی اہمیت کو محسوس کیا، سائنس کے علم و عمل کو تیز کرتے ہوئے ہر اس شے اور ہر اس نظریے کو یکسر مسترد کر دیا جو یورپ کی سائنسی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ یعنی یورپین دانشوروں کی نظر میں پاپائیت اور پادرئیت (ملائیت) کاخاتمہ ہی ترقی کا پہلا زینہ تھا۔ انہوں نے عقیدت کا بوجھ اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور ترقی میں جت گئے۔ وہ یہ بات بخوبی جان گئے کہ عقیدہ انسان پر ایک بھاری بوجھ کی مانند ہوتا ہے جس سے وہ اپنی کمر تو دہری کروالیتا ہے مگر آزاد نہیں ہو پاتا۔

آج کا لطیفہ نظر سے گزرا: ایک چرچ کے دروازے پر لکھا تھا ”اگر آپ نے گناہ نہیں کیا تو اندر جایئے اور اگر گناہ کیا ہے تو فلاں پتے پر آ جایئے۔“