احسان کرنے والوں کی زندگی میں ہی پذیرائی کیجئے

پچھلے دنوں ہمارے ایک بزرگ کالم نویس سید انور محمود  دارِ فانی سے کوچ کرگئے ۔ شاہ صاحب ‘سچ کڑوا ہوتا ہے‘ کے عنوان سے ملک کے بیشتر اخبارات میں لکھتے رہے ۔ ہماری شاہ صاحب سے وابستگی ‘ہماری ویب رائٹرز کلب‘ کی مرہون منت تھی۔ ہماری ویب رائٹرز کلب آن لائن لکھنے والوں کا  مشہور اور منظم کلب ہے ۔ شاہ صاحب اس کلب کی داغ بیل ڈالنے والوں میں شامل تھے۔  آپ کی لکھنے لکھانے سے دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ طبعیت کی ناسازگاری کے باوجود ہماری ویب رائٹرز کلب کی کم و بیش ہر نشست کے ساتھ ساتھ دیگر پروگراموں میں شرکت کرتے تھے۔ اور  اپنی شرکت کا احساس بھی کراتے رہتے تھے۔

سید انور محمود  کی گفتگو و تحریریں تجربے اور معلومات کا نچوڑ ہوتی تھیں ۔ آپ نے قلم کا استعمال بغیر کسی دباؤ یا خوف کے کیا، آپ لکھنے والوں کی فہرست میں ایک چمکتے دمکتے ستارے کی مانند جگمگاتے رہیں گے۔ ہماری ویب رائٹرز کلب آپ کی یاد گاہے بگاہے مناتا رہے گا۔ موضوع کی مناسبت سے جو بات مذکورہ سطور میں پوشیدہ ہے وہ ہماری ویب رائٹرز کلب کے ذمہ دارا بہت اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔ ہماری ویب رائٹرز کلب نے شاہ صاحب کےلئے ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کرناتھا جو کہ ان کے صاحبزادے کی ملک سے باہر مصروفیات کے باعث مسلسل تعطل کا شکار ہے۔ امید ہے اب یہ نشست کسی اورنشست کے ساتھ منعقد کی جائےگی۔

ہمیں جن لوگوں کی قدر ان کی زندگی میں کرنی چاہیے ہم ان کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں یا پھر شاید یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں مرنا ہی نہیں ہے ۔ کتنے ہی لوگ ہماری زندگیوں میں صرف ایک جملہ کہنے کےلئے آتے ہیں اور وہ جملہ ہماری زندگی بدل دیتا ہے ۔ مگر ہم جملہ کہنے والے کو غیر اہم سمجھتے ہیں۔  زندگی آپ کے لئے بہت خاص ہے اس وقت تک جب تک یہ ہے  لیکن یہی زندگی آپ کی خصوصیات کی بدولت سب کیلئے اہم ہوسکتی ہے اور ہوتی بھی ہے مگر جب تک ہے۔  ہمارے مزاج اور رویے سے یہ ثابت ہے کہ ہم پاکستانی من حیث القوم مردہ پرست واقع ہوئے ہیں۔ زندگی میں پوچھتے تک نہیں ہیں اور مرنے کے بعد  زارو قطار روتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے۔  موت کا کوئی وقت متعین نہیں ہے اور یہ ہر گھڑی ہمارے ساتھ ساتھ گھوم رہی ہے۔ یہ ہماری پیدائش سے ہی ہمارے پیچھے پڑ جاتی ہے اور ہم ہیں کہ دنیا کی رنگینیوں میں  اندھے اور بہرے ہوجاتے ہیں۔ اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کوئی ہمارے ساتھ  بھی چل رہا ہے ۔ ہم نے اکثر سنا ہوگا اور کہا بھی ہوگا کہ ابھی کل ہی تو اس سے راستے میں ملاقات ہوئی تھی ، ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو کہیں جاتے ہوئے نظر آیا تھا۔ اس طرح کہ جملے عام سی بات ہے ۔ ہم ایسے میں کاش کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

ہمیں چاہئے کہ اپنے معاشرے میں رہنے والے ہر اس شخص کی پذیرائی کریں جو آپ کی زندگی کو آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ خصوصی طور پر ان لوگوں کا جو آپ کی زندگی کو آسان بنا رہے ہیں جن میں سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر ہماری مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں اور بیویاں اس پذیرائی کی مستحق ہیں۔ پھر مثلاً آپکے گھروں میں کام کرنے والیاں اور والے ، آپ کی گاڑی کی مرمت کرنے والے ، آپ کے گلی محلے کو صاف ستھرا رکھنے اور کچرا اٹھانے والے ، آپ کے بچوں کی اسکول وین چلانے والے ، اسکول کے دروازے پر تعینات حفاظتی عملہ  اور اس طرح کے بہت سارے افراد جو ہماری زندگیوں میں کسی نہ کسی طرح اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قابل احترام بھی ہیں اور زندگی میں ہی پذیرائی کے حقدار ہوتے ہیں۔ معاملات نجی نوعیت کے ہوں یا پھر اجتماعی، ہمیں ایک دوسرے کی خدمات پر کم از کم شکریہ کہہ کر اس کی پذیرائی کرنی چاہئے ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اچھا ابھی کرتا ہوں اور پھر وہ ابھی کبھی نہیں آتی۔ 

ہم نے ایک رات اپنے والد صاحب سے کچھ پوچھنا تھا اور یہ کہہ کر چھوڑ دیا تھا کہ چلو صبح پوچھ لیں گے مگر صبح تو ہوئی مگر پھر ابو کبھی نہ اٹھنے کیلئے سوچکے تھے۔ اب خیال آتا ہے کہ کبھی ابو کی گرانقدر خدمات کا ان کو سلیوٹ ہی نہیں کیا۔ کبھی ان کی انتھک اور بے لوث خدمت کا شکریہ تک ادا نہیں کیا۔  یہ دکھ گاہے بگاہے ان سوچوں کے ساتھ تکلیف پہنچاتا ہے ۔  ہم اپنی اس روش کو بدلنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ جو ہماری گرانقدر شخصیات ہیں ہم انہیں ان کے جیتے جی ہی پرکھ کر انہیں پذیرائی کیوں نہیں دے سکتے۔ کسی کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اس کے لئے کچھ بھی کرلو، اس سے اسے کوئی سروکار ہو ہی نہیں سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ذرا ٹھہر کر معاملات  کو پرکھا جائے اور جو کوئی بھی جس فیلڈ میں بھی  خدمات سرانجام دے رہا ہے اس کی باقاعدہ پذیرائی کریں۔ پذیرائی کرنے سے معاشرتی برتاؤ میں بھی تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔ اس لئے زندگی میں ہی پذیرائی کیجئے پھر کیا ہوا اور کیا کیا ، کیا معلوم ۔۔۔۔