کیا علامہ اقبال قلندر ہیں
- تحریر شاکر حسین شاکر
- بدھ 08 / نومبر / 2017
- 8601
چند روز پہلے کی بات ہے کہ میرے موبائل پر ایک فون آتا ہے کہ لاہور سے شفقت پرویز بھٹی نے اپنی کتاب ’’اقبال قلندر ۔ اقبال کی نظر میں‘‘ بھجوائی ہے۔ فون کرنے والا یہ بھی کہتا ہے کہ بابا جی نے حکم دیا تھا یہ کتاب آپ کے ہاتھ میں دینی ہے اور ہم اس وقت روزنامہ ایکسپریس ملتان کے دفتر کے باہر کھڑے ہیں۔ آپ باہر آ جائیں تاکہ یہ امانت آپ کے حوالے کر دوں۔ مَیں نے کہا آپ یہ کتاب ایکسپریس کے استقبالیے پر چھوڑ دیں۔ شام تک یہ کتاب میرے پاس پہنچ جائے گی۔ نہیں نہیں بابا جی کا حکم تھا کتاب آپ کے ہاتھ میں دینی ہے۔ فون کرنے والا ضد کرنے لگا۔ اچھا تو آپ پھر میرے دفتر ملتان کینٹ آ جائیں۔ مَیں نے پتہ سمجھایا اور ٹھیک پانچ منٹ بعد دو نوجوان وہ کتاب لے کر میرے پاس موجود تھے۔
مَیں نے کتاب کو دیکھا۔ پسِ ورق پر شفقت پرویز بھٹی کی تصویر دیکھی۔ اپنی یادداشت پر زور دیا کہ میری ان سے کہاں ملاقات ہوئی تو ذہن میں بے شمار شفقت نام کے دوستوں کے نقوش سامنے آئے لیکن شفقت پرویز بھٹی میری یادوں میں کہیں نہیں تھے۔ مَیں نے کتاب لانے والوں سے مزید دریافت کیا ملتان میں اور کس کو یہ کتاب بھجوائی ہے۔ کہنے لگے صرف آپ کے لیے۔ اب میری حیرت میں اضافہ ہونے لگا۔ کتاب کو کھول کے دیکھا اور پھر پڑھنے لگا۔ پہلے صفحہ نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ انہوں نے اپنے بارے میں کچھ یوں لکھا۔
’’مَیں جالندھر شہر میں ایک غریب گھر میں پیدا ہوا۔ والد صاحب کے ایک دوست نے کتابوں کی دکان کھولی جو چل نہ سکی۔ بازار میں دکان کے قریب محلہ میں ہمارا گھر تھا۔ اس نے وہ تمام کتابیں ہمارے گھر رکھوا دیں۔ مَیں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا۔ مَیں نے سکول سے آ کر کھانا کھا کے سکول کا کام کرکے الماری میں سے کوئی کتاب نکال کر پڑھنی شروع کر دی۔ ایک روز میرے ہاتھ میں بانگِ درا آ گئی۔ اس میں بچوں کے لیے جو نظمیں تھیں پڑھتا رہا۔ جب اگلے صفحے کھولتا تو مجھے الفاظ سمجھ میں نہ آتے مگر ان الفاظ کو دیکھ کر میرے دل میں خوشی کی لہر سی دوڑتی محسوس ہوتی۔
پھر پاکستان بن گیا۔ مَیں ردی فروشوں سے آٹھ آنے والا رسالہ ایک آنے میں خرید کر پڑھتا رہا۔ پھر مَیں کام میں لگ گیا۔ جب میرے پاس چار روپے ہوئے تو مَیں لوہاری گیٹ کے اندر مبارک علی کی دکان سے بانگِ درا خرید لایا اور پڑھنے لگا۔ ایسے محسوس ہوتا کہ مجھے سخت پیاس ہے۔ وہ ٹھنڈے پانی کا گلاس میرے سامنے پڑا ہے مگر مَیں پی نہیں سکتا۔ ان دنوں میرے محلے میں ایک شخص تھے ممتاز صاحب جو بی۔ اے کرنے کے بعد فقیر ہو گئے تھے۔ یعنی دنیاداری سے الگ ہو گئے تھے۔ ان کے پاس بیٹھتا تو وہ اقبال کے شعر پڑھا کرتے تھے اور ساتھ ہی ترجمہ بھی کرتے۔ مَیں نے کبھی کبھی کسی شعر کا مطلب پوچھتا تو وہ کہتے اگر اقبال کو سمجھنا ہے تو پہلے کامل کے مرید بنو۔ مجھے عام عالم لوگ پسند نہیں آتے تھے۔ مَیں بھاٹی میں رہتا تھا اور صبح سیر کرنے منٹو پارک جایا کرتا تھا۔ واپسی پر اقبال کے مزار پر ان کے پاؤں کی طرف کھڑے ہو کر ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگتا کہ علامہ صاحب دُعا کریں مجھے آپ کا کلام سمجھ میں آ جائے۔ ایسے ہی دُعا کرتا رہا مگر ناکام رہا۔ پھر میری خوش قسمتی کہیے کہ مجھے مرشد بابا جی مل گئے۔ انہوں نے کرم کیا تو مجھے اقبال، بلھے شاہ، سلطان باہو، کبیر جی اور سب بزرگ سمجھ آنے لگے۔ پھر ایک روز مرشد جی کا حکم ہوا کہ ملتان آ کر حلوے، مال پوڑے لڈؤوں پر ختم دلاؤں۔ مَیں نے عمل کیا۔ اس واقعے کے قریباً چھ ماہ بعد اخبار میں پڑھا کہ صدر ضیاء الحق نے آرڈر کیا ہے کہ آئندہ اقبال ڈے ان کی پیدائش کے روز 9 نومبر کو منایا جایا کرے گا۔ مَیں ان دنوں ڈائری لکھا کرتا تھا جب مَیں نے ڈائری نکلوا کر پڑھی تو جس روز مجھے ختم دلانے کا حکم ہوا تھا اس روز 9 نومبر ہی تھا۔ تب سے ہر سال 9 نومبر حلوے، مال پوڑہ، لڈؤوں پر علامہ صاحب کا ختم دلاتا ہوں۔ 27 اکتوبر کو بابا جی کا عرس ہوتا ہے۔ چند سال سے قوالی بھی کراتا ہوں۔ اب مجھے مرشد صاحب کا حکم ہوا ہے کہ اقبال کا تعارف کرا دوں تاکہ لوگوں کو آسانی ہو۔ لہٰذا مَیں نے اپنے مرشد جی کے حکم کے مطابق یہ مضمون لکھا۔
مَیں ایک دن استاد دامن کی کوٹھڑی میں بیٹھا تھا وہاں میجر اسحاق مزدور کسان پارٹی کے صدر جنہوں نے پنڈی سازش کیس میں فیض احمد فیض کے ساتھ جیل کاٹی تھی، وہ استاد صاحب کو ایک کتاب دینے آئے تھے جو انہوں نے محترم حسن ناصر پر لکھی تھی۔ باتوں باتوں میں جب اقبال کا ذکر آیا تو میجر صاحب کہنے لگے کہ اقبال کی کیا بات ہے وہ تو علم کا خزانہ ہیں۔ جو شخص جو چاہے وہاں سے لے لیتا ہے۔ وہ کسی کو بھی مایوس نہیں کرتے۔‘‘
علامہ اقبال کی شاعری و فلسفہ پر اب تک سینکڑوں کتب لکھی جا چکی ہیں۔ مستقبل میں بھی ان پر تحقیق ہوتی رہے گی۔ لیکن شفقت پرویز بھٹی کی کتاب ایک ایسے زاویے کو سامنے لاتی ہے جو ایک جوگی کا زاویہ ہے۔ کتاب سے عشق کرنے والے کا سرنامہ ہے۔ یہ کتاب کسی عالم، فاضل، پروفیسر اور ماہر اقبالیات کی نہیں بلکہ اس شخص کی ہے جو ردی فروشوں سے سستی کتابیں خرید کر اپنے علم کی پیاس بجھاتا رہا ہے۔ مَیں نے ان نوجوانوں سے دریافت کیا کہ شفقت صاحب کے مرشد ملتان میں کہاں ہوتے ہیں۔ کہنے لگے بوسن روڈ پر سبزہ زار میں ’’بابا جی سائیکلوں والی سرکار‘‘ کے نام سے ان کا مزار ہے۔ ’’بابا جی سائیکلوں والی سرکار‘‘ نام سن کر ہی حیران ہو گیا کہ مجھے جو ملتان اور اہلِ ملتان سے محبت کا دعویٰ ہے تو مَیں اب تک ان بابا جی سے کیوں متعارف نہ ہو سکا۔ مَیں نے شفقت پرویز بھٹی کے نوجوان پیغام رسانوں سے بابا جی کے متعلق بات کی تو کہنے لگے آج 26 اکتوبر کو ان کے عرس کا آغاز ہوا ہے لیکن بابا شفقت بھٹی اپنی علالت کی وجہ سے نہیں آ سکے ورنہ وہ تو ہر سال آتے ہیں اور مزار پر حلوہ، مال پوڑے اور لڈو پر ختم دلوا کے تقسیم کرتے ہیں۔
میرا تجسس اب بڑھ رہا تھا۔ مرشد اور مرید کی محبت اب دیکھنا چاہتا تھا۔ مَیں نے کتاب کی ورق گردانی شروع کی تو یہ کتاب مجھے بلھے شاہ کی زبان میں بتانے لگی: عشق بھلا یا سجدہ تیارہن کیوں پاؤنا جھانجا جھیڑابُلھا کردا چپ بہتیراعشق کریندا مارو مار۔ اسی عشق کو اقبال نے اپنی زبان میں کچھ یوں کہا ہے: تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں، مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ، بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی، بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں۔ شفقت پرویز بھٹی جب عشق و خرد کی بات کرتے ہیں تو سلطان باہو کا دیوان کھول کر کہتے ہیں: ایمان سلامت ہر کوئی منگداعشق سلامت کوئی ہُو، منگن ایمان شرماون عشقوں میرے دل نوں غیرت ہوئی ہُو۔ جس منزل نوں عشق پہنچاوےا یمان نوں خبر نہ کوئی ہُو، میرا عشق سلامت رکھیں میاں باہومَیں ایمان نوں دیاں دھروئی ہُو۔ ایسے میں شفقت پرویز بھٹی جب انجم رومانی کا درج ذیل شعر پڑھتے ہیں تو عشق کی معنویت مزید کھل کر سامنے آتی ہے: وہ جس کی یاد میری زندگی کا حاصل ہے، کبھی جو راہ میں مل جائے بات بھی نہ کروں۔
عشق و خرد کے باب میں جب شفقت پرویز یہ لکھتے ہیں تو لطف آ جاتا ہے کہ ”عشق میں ملنا نہیں ہوتا، ملنے پر ترقی رک جاتی ہے“ تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اقبال کی شاعری میں کس کو تلاش کر رہے ہیں۔ یعنی:عالمِ سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کر ہے فراق، وصل میں مرگِ آرزو ہجر میں لذتِ طلب۔ ”اقبال قلندر“ کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے یاد آیا کہ چند ماہ قبل مَیں ملتان کے سیتل ماڑی قبرستان میں عزیز میاں قوال کے سالانہ عرس پر گیا تھا تو وہاں نوازش علی ندیم نے لنگر سامنے رکھا تو مجھے عزیز میاں کی قوالی ”تیری صورت“ یاد آ گئی۔ سہیل رسول اور اس کے ساتھیوں نے مٹی کی پیالیوں میں لنگر ڈال کر میرے سامنے رکھا تو میرے کانوں میں ڈھول کی آواز اور آنکھوں کے سامنے دھمال ڈالنے والے تھے۔ ایسے میں آلو گوشت روٹی کا لنگر مَیں کیا کرتا۔ میری روح کو غذا مل رہی تھی کہ وہ عزیز میاں قوال جس نے وصیت کی تھی کہ مجھے میرے مرشد حضرت توتاں والی سرکار کے قدموں میں دفن کرنا۔ پھر یہی ہوا عزیز میاں کا انتقال ایران میں ہوا۔ وصیت کے مطابق ملتان لایا گیا۔ عزیز میاں کے اہلِ خانہ راولپنڈی میں رہتے ہیں لیکن وہ ہر سال عرس کے موقع پر ملتان آتے ہیں۔ ان کے بیٹے قوالی کرتے ہیں اور ہم جیسوں کو ”تیری صورت“ سناتے ہیں۔
اقبال قلندر تو ہیں لیکن ہم میں سے بہت سوں کو یہ معلوم نہیں۔ چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہمارے ایک دوست بے اولاد تھے۔ انہوں نے اولاد کے لیے بے شمار عبادات کیں تو انہیں خواب میں حکم دیا گیا وہ لاہور میں علامہ اقبال کے مزار پر جائیں اور اپنی مراد وہاں جا کر بیان کریں۔ ہمارے وہ دوست کچھ عرصہ تک پس و پیش کرتے رہے جب انہیں بار بار خواب میں اصرار کیا گیا کہ وہ علامہ اقبال کے مزار پر جائیں۔ جس پر ہمارے دوست نے ہتھیار ڈال دیئے۔ وہ ملتان سے لاہور مزار اقبال پر حاضری کے لیے گئے دُعا مانگی اور پھر وہ کچھ عرصے بعد صاحبِ اولاد ہو گئے۔ یہاں یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد ہے کہ اپنے اردگرد موجود اولیاء اﷲ کی طرف نہیں دیکھتے کہ یہ زمین پر اﷲ کے سفیر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ محبت کا پیغام عام کرتے ہیں۔ اقبال کی شاعری کو آفاقی کلام کہا جاتا ہے تو وہ اپنی شاعری میں آفاق میں ہونے والے فیصلوں کا ذکر کرتے ہیں۔ منیر نیازی نے کہا تھا: عمر گزری دل کے بجھنے کا تماشا کر چکے،کس نظر سے بام و در کا یہ چراغاں دیکھتے۔
آج ہماری یہ حالت ہے کہ ہر شخص پریشان ہے لیکن پریشانی کا حل اﷲ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کے ذریعے رکھا ہے۔ جیسے چند دن قبل مجھے بیٹھے بٹھائے لاہور سے شفقت پرویز بھٹی نے اپنی کتاب ”اقبال قلندر“ کے ذریعے دستک دی اور اب میں ان کی بدولت ملتان کے ایک اور صوفی بابا سائیکلوں والی سرکار کے قدموں میں جاؤں گا۔ اقبال نے بھی انہی لمحوں کے لیے کہا تھا: تو اپنا نامہ اعمال اپنے ہاتھ سے لکھ، خالی رکھی ہے خامہ حق نے تیری جبیں۔ شفقت پرویز بھٹی نے جب ”اقبال قلندر“ بھجوائی تو انہوں نے علیحدہ کاغذ پر لکھا ”بیرونی حملہ آوروں نے ملتان کے بارے میں بے شمار اشعار کہے جن میں ایک شعر کچھ یوں ہے:چہار چیز است تحفہ ء ملتان ، گرد و گرما، گدا و گورستان۔ میرے ملتان کی خاک میں میرے مرشد دفن ہیں اس لیے ہم ان کے گداگر ہیں۔“
شفقت صاحب نے اپنے مرشد کے حوالے سے یہ بات لکھ کر ہمیں بھی شہر کے مرشدوں کا گداگر بنا لیا ہے۔ واقعی میرا شہر بے مثال ہے جس پر مَیں ہمیشہ فخر کرتا ہوں۔
( بشکریہ : گرد و پیش ۔ ملتان )