سعودی عرب نے بدعنوانی کے خلاف جراتمندانہ اقدام کیا ہے
- تحریر انجینئر افتخار چودھری
- جمعرات 09 / نومبر / 2017
- 3893
یوں تو سعودی عرب کا نظام عدل مثالی رہا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں شہزادوں کے سر بھی قتل کی وارداتوں کے بعد قلم ہوئے۔ ماضی قریب میں تو ایک شہزادے نے تجوریاں کھول دیں تاکہ مقتول کے ورثاء اسے معاف کر دیں مگراسے معافی نہیں ملی۔ گزشتہ کئی دنوں سے سعودی عرب خبروں میں ہے۔ جب سے کچھ شہزادے اور وزیر گرفتار ہوئے ہیں افواہ ساز فیکٹریاں اس ملک کے خلاف سر گرم ہو چکی ہیں۔
کچھ مخصوص اینکر تو ایک دو ٹویٹس کا بہانہ بنا کر سعودی عرب کے خلاف میدان میں نکل چکے ہیں۔ ایک خاص ملک جس کو سعودی عرب سے بیر ہے اس کی لابی اس پورے آپریشن کے مرکزی کردار شہزادہ ولید بن طلال اور ڈونلڈ ٹرمپ کی قبل از انتحابات لڑائی کو موضوع بنا کر اسے کچھ اور ہی رنگ دے رہی ہے۔ شروع میں میں بھی ان گرفتاریوں پر سراپا احتجاج تھا اور ساری کاروائی کو اقتتدار کی جنگ سمجھا تھا لیکن جیسے جیسے حالات سے آشنائی ہوئی تو پتہ چلا کہ سعودیوں کی حالت زار کا سبب بھی چند لوگ تھے۔ ایک قول ہے کہ دولت کے انبار کے پیچھے بدعنوانی ہوتی ہے۔ جس طرح پاکستان کو لوٹنے میں سابق وزیر اعظم اور صدر کا ہاتھ ہے اسی طرح سعودی غربت کے پیچھے چند افراد کا ہاتھ ہے، جنہوں نے تیل سے مالا مال اس ملک کے غریب عوام کو مزید غریب کیا۔ میں نے سعودی عرب میں ربع صدی گزاری ہے۔ خفجی سے نجران تک کام کیا۔ جیسے میری بدقسمتی کا سبب میرے حکمران تھے، اسی طرح وہاں گوروں کے ساتھ گائیڈ کی حیثیت سے کام کرنے والے سعودیوں کی غربت کا سبب یہی لوگ تھے جن پر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے۔ خادم حرمین الشریفین سلمان بن عبدالعزیز نے کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور اس کا انچارج اپنے جواں سال بیٹے محمد بن سلمان کو بنایا ہے جو وزیر دفاع بھی ہیں۔
اس احتساب کمیٹی نے بڑی تحقیق کے بعد کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالا ہے ۔ خبرہے کہ سابق وزیر محنت عادل فقیہ کو بھی دھر لیا گیا ہے۔ حضور اس سے پہلے شہر جدہ کے میئر بھی رہ چکے ہیں۔ اقتصادی منصوبہ بندی کے وزیر کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ یہ خود کو عقل کل سمجھتے تھے۔ اور ویژن 2025 کے بھی داعی تھے۔ میں نے جدہ میں مدت دراز گزاری ہے۔ انہیں 2010 میں جدہ میں آنے والے سیلاب میں بڑی کرپشن کی وجہ سے پکڑا گیا ہے۔ جدہ میں آنے والے سیلاب کے پانی کو وادی فاطمہ کے پہاڑوں سے سرخ سمندر تک لے جانے والی نہر کو بیچ کر وہاں ہائی رائز بلڈنگز بنا دی گئیں۔ جب سیلاب آیا تو یہ عمارتیں ڈوب گئیں۔ اس طرح میئر جدہ نے جب وزارت سنبھالی تو خارجیوں کے لئے برق ثابت ہوئے۔ ہر چھوٹے انویسٹر اور بڑی کمپنیوں کو مجبور کیا کہ وہ نالائق سعودیوں کو بھرتی کرے۔ اس سے انویسٹرز اور کمپنی مالکان کا کباڑہ نکل گیا۔ جن کمپنیوں نے سعودی نہیں رکھے، ان کے کمپیوٹر بند کر دیئے گئے۔ جوازات میں کمپیوٹر بند ہونے سے مراد ہے کہ آپ کے پاسپورٹ پر چھٹی تک نہیں لگ سکتی اقامہ تجدید نہ ہونے کی صورت میں پورا ملک آپ کے لئے جیل بن جاتا تھا۔ اس سے کمپنیوں کی استعداد کار میں بہت فرق پڑا۔
شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب کے اس امیج کی وجہ سے سخت نالاں تھے۔ کرپشن کے خلاف اس لڑائی میں عام آدمی بہت خوش ہے۔ سعودی عرب کے عام آدمی کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ سڑکیں پل وہاں بھی بہت بنے، مارکیٹیں دکانیں بھی لیکن اصلی بدو کی زندگی کی مشکلات کم نہ ہو سکیں۔ یہ لوگ زیادہ تر پولیس اور فوج میں ملازمتیں کرتے رہے ۔ سعودی ایئر لائین میں نوکریاں کیں وہاں بھی پی آئی اے کی طرح آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا تھا۔ اس ملکی ایئر لائین کے مقابلے میں نجی ایئر لائین بہت کامیاب ہے۔ سعودی عرب کی کرپشن کے خلاف اس جہاد کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں سب سے سے پہلے دنیا کے سب سے بڑے مالدار پر ہاتھ ڈالا گیا ہے۔
یار لوگوں کو اعتراض ہے ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب میں مال پانی بنانے کی بات ہوئی۔ تو دنیا کے امیر اپنی حفاظت کے لئے پیسہ خرچ بھی کرتے ہیں۔ آج سعودی عرب اپنے ارد گرد ایران اور اس کی لابی کا گھیرا محسوس کرتا ہے۔ اسے بحرین میں بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ قطیف میں ہونے والی بغاوت کا مزہ چکھا اور اب حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا جانے والا میزائل (جو راستے میں دبوچ لیا گیا)یہ سب کچھ ڈرامہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ سعودی عرب کے ساتھ ان ملکوں نے بھی مذاق کیا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم سرد و گرم میں ساتھ رہیں گے۔ چونتیس ملکوں کے اتحاد کے نام پر سعودی عرب کا مذاق اڑایا گیا۔ یہ وقت ہے کہ ہم سینہ ٹھوک کے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ایران کو دشمن بنائیں۔ دوستی صرف ایک سے نہیں، ایک سے زیادہ ملکوں سے ہو سکتی ہے۔ بیک وقت ایران اور سعودی عرب سے کیوں نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ کہنے میں کیا حرج ہے کہ :
اساں تے یاراں دے یار آں