کراچی میں سیاسی مفاہمتی عمل خوش آئیند ہے

پاکستان کے معاشی مفادات بہت حد تک کراچی کے حالات پر انحصار کرتے ہیں۔ یوں تو پورا ملک ہی دہشت گردی کی زد میں رہا ہے مگر جو کچھ کراچی میں ہوا وہ پاکستان کی تاریخ  کاسیاہ ترین باب تھا۔ اس تاریک دور کی مرہونِ منت پاکستان مسلسل معاشی بدحالی کا شکار ہوتا چلا گیا اور کراچی جیسا روشنیوں کا شہر تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا۔ ساتھ ہی کراچی شہر کی معاشرتی زندگی بھی تباہ ہوتی چلی گئی۔

پاکستان کی معیشت میں کراچی کا کردار اہم ہے۔ جس کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک اہم ترین وجہ قدرتی بندرگاہ کا اس شہر سے منسلک ہونا ہے ۔ یہ بندرگاہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کیلئے بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ گزشتہ ادوار میں جو حالات کراچی کے رہے ہیں بہت ساری صنعتیں کراچی سے دیگر شہروں میں منتقل ہوگئیں اور جو صنعتکار اور سرمایہ دار ملک سے باہر جاسکتے تھے وہ کراچی چھوڑ کر اپنا پیسہ کسی اور ملک لے گئے۔ مگر بندرگاہ ایک ایسا قدرت کا تحفہ یا انعام ہے جو کوئی کہیں نہیں لے کر جاسکتا۔ لیکن نعمتوں کی ناقدری اور نا شکرا پن نعمتوں کو روکنے کا باعث بن جاتی ہے۔

9 نومبر کی تاریخ ہر پاکستانی کیلئے بہت اہم ہے کیونکہ اس دن شاعر مشرق اور مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ پیدا ہوئے ۔ ڈاکٹر صاحب کی شاعری نے بر صغیر کے مسلمانوں کی ذہنی نشونما میں اہم کردار ادا کیا ۔ آپ نے ان روندے ہوئے لوگوں کی سوچوں کواڑنے کیلئے پردیئے اور شاہین بننے کا ہنر سکھایا ۔ 9 نومبر کو اللہ نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی شکل میں اس خواب کو پیدا کیا تھا جس نے تعبیر بننا تھا۔ آپ نے مسلمانوں کیلئے بر صغیر میں ایک الگ خطہ زمین کی جانب رہنمائی کی، جہاں مسلمان مکمل آزادی کے ساتھ اپنے عقائد اور ثقافت کے زندگی بسر کرسکیں۔ یہ وہ خواب تھا جو پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا ۔ پاکستان کسی معجزے سے کم نہیں ہے ، پاکستان کیلئے چلنے والی تحریک کا شروع سے احاطہ کیجئے تو معجزے کا لفظ واضح ہوتا چلا جائے گا۔ کرہ ارض پر مسلمانوں کی پہلی باقاعدہ پناہ گاہ یثرب تھی جس پر غور کیا جائے تو وہ ریاست بھی اللہ کی جانب سے بطور تحفہ تھی ۔ بالکل اسی طرح تحریک پاکستان سے پہلے اور بعد کے حالات لوگوں کا مسلم لیگ پر اعتماد اور علامہ اقبال کا خواب  اور خواب کی تعبیر کیلئے قائد اعظم کی انتھک لگن اور محنت سے پاکستان کا حصول ۔ آج سوچیں تو لگتا ہے یہ سب طے شدہ تھا اور طے شدہ عمل سے گزر کر ہی منزل پر پہنچا جاتا ہے۔

9 نومبر جہاں پاکستان کے وجود میں آنے کیلئے اہم ہے اسی طرح 9 نومبر 2017 ایک اور خواب کا امین بنا اور یہ دن کراچی کی بقاء کیلئے تاریخی دن ثابت ہونے والا ہے ۔ کراچی شہر میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم مفاہمتی عمل دیکھنے میں آیا، جب پاک سرزمین پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نے الحاق کا باقاعدہ اعلان کیا اور شہر میں بڑھتی ہوئی خوف کی آب و ہوا کا خاتمہ کیا۔ اس بات سے قطع نظر کہ پہل کس نے کی مگر جس نے بھی اس کا یہ قدم لائق تحسین ہے ۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے اس عمل کو سیاسی حلقوں میں قابل ستائش عمل قرار دیا جانا چاہئے اورشہر کراچی کے مفاد جن کا تعلق بالواسطہ پاکستان کے مفاد سے ہے۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح سے جانتے اور سمجھتے ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جو عرصہ دراز کراچی پر ایک ساتھ مل کر حکومت کرتے رہے۔  پھر شخصی اختلاف کی شدت نے انہیں جدا کردیا۔  اب انہیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوگیا  کہ اگر ہم اسی طرح ٹکڑوں میں بٹتے چلے گئے تو ہم پر کوئی اور حاکم بن کر بیٹھ جائے گا یا کراچی کے سیاسی افق پر کوئی نیا ستارہ بن کر چمکنے لگے گا۔  دیکھا جائے تو کچھ سیاسی جماعتوں کو تو اس الحاق سے قطعی خوشی نہیں ہوئی ہوگی لیکن پھر وہی بات دہراؤں گا کہ ملک کے وسیع تر مفاد ات کی خاطر اس الحاق کوسراہنا چاہئے اور اس الحاق میں ان لوگوں کو بھی شامل کرلینا چاہئے جو عرصہ دراز سے اسی شخصی اختلاف کے باعث علیحدگی اختیار کئے بیٹھے ہیں ۔

اس مفاہمت سے کسی حد تک جماعت اسلامی اور زیادہ تر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کو دھچکا لگا ہوگا کیونکہ یہ یقیناً متحدہ قومی موومنٹ کے بکھرتے ہوئے شیرازے میں اپنا فائدہ دیکھ رہے ہوں گے بلکہ گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے رہنما تو اس بات کاعندیہ بھی دے چکے ہیں کے آنے والے انتخابات میں ان کی جماعت کراچی سے زیادہ نشستیں لینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ لیکن اس بدلتی ہوئی صورتحال سے انہیں نئے سرے سے حکمت عملی مرتب کرنا پڑے گی ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس الحاق میں سابق صدر پرویز مشرف اہم ذمہ داری نباہتے دکھائی دے رہے ہیں اور ایسا ہی کچھ سماجی میڈیا کی بھی زینت بنا ہوا ہے۔ پرویز مشرف  کو عملی سیاست میں قدم رکھنے کا اس سے بہتر موقع شاید پھر کبھی نہ مل سکے۔

مفاہمت کوملکی مفادات کی خاطر مسلسل فروغ دینا ہے اور اپنے درمیان کالی بھیڑوں کیلئے جگہ نہیں چھوڑنی۔ شہرِکراچی کو اقبال کے خواب جیسا بنانا ہے اور قائد اعظم کی محنتوں کا امین بنانا ہے ۔ 9 نومبر کو  یادگار بنانا ہے ۔ ہم اگر گزرے ہوئے کل میں بیٹھے رہیں گے تو ہمارا آج  تاریک ہوتا چلا جائے گا۔