منشیات سے نجات پانے کے لئے اخلاقی اقدار استوار کرنا ضروری ہے

شراب و منشیات کے خاتمہ کی کوششیں تو بڑے پیمانے پر ہورہی ہیں لیکن اس کے باوجود مطلوبہ نتائج کا اخذ نہ ہوپانا واضح کرتا ہے کہ مسائل سے نمٹنے میں ناقص فکر و عمل کارفرما ہے۔ اور  اس میں بڑی کمی موجود ہے۔  رائج الوقت نظریہ تعلیم اورطریقہ تعلیم نے معصوم بچپن اور نوجوان نسل کو سینچنے اورپروان چڑھانے کی بجائے گمراہی و خسارہ میں مبتلا کر دیا ہے۔  جب اِسی نقص کے ساتھ ملک کا مستبقل تعلیم گاہوں سے فارغ ہو کر لا ء اینڈ آرڈر اور نظم و نسق کے اداروں سے وابستہ ہوتا ہے یا اسمبلی اور پارلیمنٹ پہنچتے ہیں تو وہ "روشن خیال" ہوں یا کسی "مخصوص تہذیب و ثقافت کے علمبرادر" ہوں، دونوں صورتوں میں ان کے پاس کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں ہوتا۔

یہ طبقات شراب و منشیات کے سنگین مسئلہ سے نمٹنے کے قابل نہیں ہوتے۔  برخلاف اس کے جب ہم اسلامی معاشرہ اور ثقافت کی بات کرتے ہیں اور اس میں اُس واقعہ کو یاد کرتے ہیں جب اللہ کے رسوال محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک ہدایت  شراب نوشوں کو مجبور کردیتی ہے کہ ان کے منہ سے لگے شراب کے جام الٹ جائیں اور وہ قیمتی شرابیں جو انہیں جان سے زیادہ عزیز تھیں ، مدینہ کی گلیوں میں بہتی نظر آتی ہیں۔ جب شراب کے مٹکے توڑ دیئے جاتے ہیں اور سڑکوں پر شراب بہادی جاتی ہے توحضرت عمر بن خطاب یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ :اے پروردگار، ہم باز آگئے، اب ہم کبھی شراب کے قریب بھی نہیں جائیں گے ۔ ان دومناظر میں، ایک جو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور دوسرا وہ جو اسلامی نظامِ حکومت میں واقع ہواتھا، اِن دونوں میں بنیادی فرق جو واضح ہوتا ہے وہ مستحکم عقیدہ ، فکر و نظریہ اور طرز حکومت کا ہے ۔

اس کے باوجود موجودہ دور میں مسلمانوں کا ایک طبقہ شراب و منشیات میں مبتلا ہو چکا ہے اور یہ تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس موقع پر اگر یہ سوال کیا جائے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے ۔ تو جواب یہی ہوگا کہ اللہ رب العزت کی بڑائی و کبرائی کا اظہار کرنے والے ، لاشعوری سے دوچار ہونے کی بنا پر، نہیں جانتے کہ جس مذہب کے وہ پیرو کار ہیں ، وہ نہ صرف ہر مسئلہ کا حل رکھتا ہے بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات بھی پیش کرتا ہے۔ آج بے مقصد زندگی اور لاشعوری مسلمانوں کو چہار جانب ذلیل و رسوا کیے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود وہ اُس گدھے کی مانند زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جس کی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ تو لدا ہے لیکن وہ واقف ہی نہیں کہ وہ کس بوجھ کو ڈھورہے ہیں۔ اِس میں وہ کون سا نسخہ کیمیا موجود ہے جس کو اگر وہ سمجھ لیں اور اس پر ایمان لے آئیں تو نہ صرف ان کی زندگی کی کایا پلٹ ہو سکتی ہے بلکہ انسانیت بھی جو امن و امان کی خواہاں ہے اسے بھی سکون و اطمینان میسر آئے گا۔ مسائل حل ہوں گے ، فرد کا ارتقاء ہوگا، معاشرہ کی صالح بنیادوں پر تعمیرہوگی اور ایک ہمہ جہت ترقی یافتہ ریاست کی تشکیل عمل میں آئے گی۔

یہ بھی  حقیقت  ہے کہ اجتماعی خرابیاں اس وقت ابھر کے نمایاں ہوتی ہیں جب انفرادی خرابیاں پایۂ تکمیل کو پہنچ چکی ہوتی ہیں۔ آپ اس بات کا تصور نہیں کر سکتے کہ کسی معاشرے کے بیشتر افراد نیک کردار ہوں اور وہ معاشرہ بحیثیت مجموعی بدکرادی کا اظہار کرے۔ یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے کہ نیک کردار لوگ اپنی قیادت اور نمائندگی اور سربراہی بدکرادر لوگوں کے ہاتھ میں دے دیں اور اس بات پے راضی ہوجائیں کہ ان کے قومی اور ملکی اور بین الاقوامی معاملات کو غیر اخلاقی اصولوں پر چلایا جائے۔ اس لیے جب وسیع پیمانے پر دنیا کی قومیں گھناؤنے  اخلاقی اوصاف کا اظہار اپنے اجتماعی اداروں کے ذریعے سے کررہی ہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج نو ع انسانی اپنی تمام علمی و تمدنی ترقی کے باوجود ایک شدید اخلاقی تنزلی میں مبتلا ہے۔ اور اس کے بیشتر افراد اس دباؤ سے متاثر ہو چکے ہیں۔ یہ حالت اگر یونہی بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں جب انسانیت کسی بہت بڑی تباہی سے دو چار ہو گی اور ایک طویل عہدِ ظلمت اس پے چھا جائے گا۔

اب ہم اگر آنکھیں بند کرکے تباہی کے گڑھے کی طرف سرپٹ جانا نہیں چاہتے تو ہمیں کھوج لگانا چاہیے کہ اس خرابی کا سر چشمہ کہاں ہے، جہاں سے یہ طوفان کی طرح امڈی چلی آرہی ہے۔ چونکہ یہ اخلاقی خرابی ہے لہذا لامحالہ ہمیں اس کا سراغ ان اخلاقی تصورات ہی میں ملے گا جو اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ اس پس منظر میں اگر ہم دنیا کے اخلاقی تصورات کا جائزہ لیں اور معلوم کریں کہ دنیا کے اخلاقی تصورات کیا ہیں، تو اس سوال کی تحقیق کرتے ہوئے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اصولاً یہ تمام تصورات دوبڑی قسموں پر منقسم ہیں۔ ایک قسم کے تصورات وہ ہیں جو خدا اور حیات بعد موت کے عقیدے پر مبنی ہیں۔ دوسرے وہ تصورات ہیں جو ان عقیدوں سے ہٹ کے کسی دوسری بنیاد پر قائم ہوئے ہیں۔  اس مسئلہ کے خاتمہ کے لیے یا اس کی شدت میں کمی لانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کی خرابی اور نقصانات واضح کیے جائیں اور رائج الوقت سود مند طریقوں کو استعمال کیا جائے ۔  یہ بھی ضروری ہے کہ عقیدہ کی درستگی کے لیے اسی قدر فکر مند رہا جائے اور مزید منظم و منصوبہ بند کوششوں کا آغاز کیا جانا چاہیے۔ امید ہے ان طریقوں کو جو ایک عملی رویہ سے تعلق رکھتا ہے تو دوسرا فکری و نظریاتی ، عمل و سعی و جہد کے نتیجہ میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

اس موقع پرخصوصاً مسلمانوں کو یہ بات  یاد رکھنی چاہیے کہ جس طرح شب معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوپیالے لائے گئے، ایک شراب کا، دوسرا دودھ کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ لے لیا، اس وقت حضرت جبریل ؑ نے فرمایاتھا کہ: "اللہ کا شکر ہے کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا، اگر آپ شراب کا پیالہ لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی"۔ ٹھیک یہی معاملہ آج بھی امت کے ایک ایک فرد کے ساتھ برقرار ہے۔ امت شراب و منشیات اور ان جیسی دیگر نشہ آور اشیاء سے اگر شعوری طور پر اجتناب کرے ، اسلام کو بحیثیت نظام اختیار کرے اور اقامت دین کے فریضہ کو ادا کرے تو عین ممکن ہے کہ اسے ایک بار پھر سربلندی و سرخ روئی اسی دنیا میں حاصل ہو جائے۔ اور آخرت کی ابدی کامیابی تو اس سے زائد ہے ۔ وہیں خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ امت کی اکثریت ہر زمانے میں جنت کی خواہاں اور جہنم سے نجات چاہتی ہے۔ لیکن حد درجہ افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی اکثریت مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے نہ انفرادی اور نہ ہی اجتماعی لائحہ عمل رکھتی ہے۔ ضرورت ہے کہ وہ افراد ، گروہ، جماعتیں اور ادارے جو مثبت تبدیلی کے خواہاں ہیں وہ عوام الناس سے بڑے پیمانہ پر رابطہ قائم کریں، ان کے شب و روز کے اعمال کو شعور بہم پہنچائیں، ان کی صلاحیتوں کو دنیاوی واُخروی کامیابی کے لیے منظم کریں، ان کے درمیان محبت و ہمدردی اور رشتہ خیر خواہی کو پروان چڑھائیں ، ان کے لیے اپنے مال ، وسائل ، صلاحیتیں اور وقت قربان کریں۔ ایک ایسی فضا ہموار کی جائے جس میں بلالحاظ رنگ و نسل اور مذہب تمام لوگ مل جل کر امربالمعروف و نہی عن المنکرکے لیے سرگرم عمل نظر آئیں۔

کوئی بھی معاشرہ اگر  اندورن خانہ اخلاقی خرابیوں میں مبتلا ہوگا تو اُس میں امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا کام انجام دینے کے امکانات بھی بہت کم پائے جائیں گے۔ وہیں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ عقائد کی درستی کا آغاز اخلاقی ترنزلی سے نہیں بلکہ اخلاقی ترقی سے ہوتا ہے ۔