حکومت کی کوتاہی کی وجہ سے نجی شعبہ نے تعلیم کو کمرشلائز کردیا ہے
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 10 / نومبر / 2017
- 4956
1973کے آئین کی شق25-A کے تحت یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ بغیر کسی تفریق کے ہر کسی کو تعلیم فراہم کرے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ہر شہری کی تعلیم کے بنیادی حق کو نہ صرف تسلیم کرے بلکہ اس پر سختی سے عملدرآمد بھی کرے۔ لیکن ریاست کی کوتاہی کے باعث اس کا خمیازہ معاشرے میں کمزور اور غریب لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ اب دنیا میں ریاستی یا حکومتی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ کے اداروں کا کردار کو بھی نظر انداز نہیں جاسکتا۔ لیکن ریاست کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک طرف نجی شعبہ کے فروغ دیتی ہے تو دوسری طرف ان اداروں کی سخت نگرانی کی جاتی ہے تاکہ وہ فیسوں اور تعلیمی معیار کے نام پر ایسے فیصلے نہ کرسکیں جو عوامی مفادا ت کے برعکس ہوتے ہیں۔
پاکستان کی کہانی بڑی عجیب ہے ۔ یہاں ریاست اور حکومت کے اداروں کی نااہلی ، مفاداتی اور کاروباری سیاست اور عدم دلچسپی نے بہت سے سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے ہیں ۔ تعلیم ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کا براہ راست تعلق معاشرے کی مجموعی ترقی سے ہے ۔ بچوں اور بچیوں کے والدین کے سامنے ایک بڑا چیلنج بڑھتی ہوئی مہنگی تعلیم یا فیسوں میں بڑھتا ہوا اضافہ ہے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور اداروں کی نگرانی کا نظام کمزور اور غیر شفاف ہے اوراس کا فائدہ نجی شعبہ اٹھاتا ہے اور من مانی کرتا ہے۔ بہت سے ادارے یہ بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھارہے ہیں کہ والدین کے لیے مہنگی ہونے والی تعلیم کا حصول ایک مشکل معاملہ بن گیا ہے ۔ مسئلہ محض سکولوں ، کالجوں یا یونیورسٹیوں تک محدود نہیں بلکہ نجی شعبہ میں چلانے جانے والی اکیڈمی یا ٹیوشن سنٹرز کی فیسوں نے بھی والدین کی زندگی کو مشکل بنادیا ہے ۔
سٹیٹ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس برس ستمبر میں سکولوں کی فیسوں میں ہونے والے 153فیصد اضافہ کے بعد پاکستان میں تعلیم اور زیادہ مہنگی ہوجائے گی ۔ سٹیٹ بینک کے افراط زر کا جائزہ لینے والے نگران شعبہ کے بقول مکانوں کے کرایوں میں اضافہ کے بعد تعلیم کا شعبہ افراط زر میں سب سے زیادہ اضافہ کا باعث بنے گا ۔ پنجاب اور سندھ میں نجی شعبہ میں چلنے والے سکولوں میں بے تحاشہ فیسوں میں اضافہ کے بعد والدین کی سطح پر سخت اجتجاج کا عمل دیکھنے میں آیا تھا ۔ پنجاب میں حکومت نے اس سلسلے میں کچھ اہم اور فوری اقدامات بھی کیے لیکن چند مہینوں کے بعد نجی شعبہ کے سکولوں کے مالکان کی مزاحمت پر سمجھوتہ کرلیا گیا ۔ جبکہ اس کے برعکس سندھ میں ہائی کورٹ نے یہ اعلان کررکھا ہے کہ نجی شعبہ میں چلنے والے سکولوں میں سالانہ پانچ فیصد سے زیادہ فیسوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اس کے برعکس عملدرآمد کا نظام ، سیاسی سمجھوتے اور بدعنوانی پر مبنی نظام میں کچھ نہیں ہوسکا ۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے زمانے میں سرکاری تعلیمی اداروں کی وجہ سے سکولوں کی فیسوں کا والدین کو کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں رہا، سرکاری سکولوں اور کالجوں کا تعلیمی معیار بھی بہت حد تک قابل قبول تھا۔ نجی شعبہ اس انداز میں فعال یا سرگرم نہیں تھا جس کا مظاہرہ ہمیں آج ملک میں ایک بڑے پھیلے ہوئے جال کی طرح دیکھنا پڑتا ہے ۔ لیکن ریاستی اور حکومتی کمزوریوں ، نااہلی اور بدنیتی کی بنیاد پر سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت کو جان بوجھ کر خراب کیا گیا ۔ یہ ہی وہ سوچ تھی جس کی وجہ سے نجی شعبہ کو پھیلنے کا موقع ملا ۔ نجی شعبہ کا ہونا کوئی بری بات نہیں ۔ آج دنیا بھر میں نجی شعبے کی اہمیت ہے ۔ لیکن ریاستیں دو کام کرتی ہیں ۔ اول سرکاری اداروں میں تعلیم کے معیار اور صلاحیتوں کو اس حد تک طاقت فراہم کرتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ سرکاری تعلیم سے استفادہ کریں ۔ دوئم نجی شعبہ کے حوالے سے ایسی قانون سازی کی جاتی ہے کہ ان کو ریاستی و حکومتی نظام کے نہ صرف دائرہ کار میں کام کرنا ہوتا ہے بلکہ ان کو ریاستی قانون کا پابند بنایا جاتا ہے۔ اسے من مانی کی اجازت نہیں دی جاتی۔
1973کے آئین کی اٹھارویں ترمیم کے مطابق یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ملک کے ہر بچے اوربچی کو نہ صرف تعلیم دے بلکہ اچھی تعلیم دے ۔ لیکن جب ریاست یا حکومتیں خود اپنی بنیادی ذمہ داری اور حق سے دست بردار ہوجائے تو اس کی قیمت معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کو ادا کرنا پڑتی ہے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ریاست نے تو خود کو نجی شعبہ کے حوالے کردیا ہے ۔ جب تعلیمی ادارے ریاست اور حکومت کے اپنے بنائے ہوئے قوانین عمل پر عملدرآمد کرنے کی بجائے خود اپنی من مانی کریں گے تو یہ عملی طور پر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے ۔ ریاست اور حکومتوں کی نااہلی یہ ہے کہ اس میں نگرانی اور جوابدہی کا نظام اس قدر غیر شفاف اور سیاسی سمجھوتوں سے جڑا ہوا ہے کہ اس نظام میں اصلاح کا عمل خواب یا ناممکن لگتا ہے۔
عمومی طور پر ہمیں نجی شعبہ میں چلنے والے سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی فیسوں کے حوالے سے رینکنگ یا درجہ بندی کرنی ہوگی ۔ ہر درجہ بندی میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ فیس لینے کی وضاحت ہونی چاہیے ۔ اگر کوئی تعلیمی ادارہ خود سے فیسوں میں اضافہ کرتا ہے تو ان کے خلاف قانون حرکت میں آنا چاہیے ۔ ایک تجویز یہ ہوسکتی ہے کہ ہر برس واقعی پانچ فیصد اضافہ کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے علاوہ کسی بھی طرح کے فنڈز طلب کرنے کا حق ان تعلیمی اداروں کو نہیں دیا جانا چاہیے ۔ اسی طرح اگر نجی شعبہ کے ذمہ داران یا ان کے منتخب نمائندے فیسوں میں کسی بھی وجہ سے اضافہ چاہتے ہیں تو یہ کام حکومتی حکم کے بغیر نہیں کیا جانا چاہیے ۔ حکومت کو بھی نجی شعبہ کے حوالے سے فیصلے ان اداروں پر مسلط نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ یہ عمل باہمی مشاورت سے ہونا چاہیے جس میں والدین ، انتظامیہ اور حکومتی نمائندے شامل ہوں۔ اسی طرح کم ازکم 15فیصد غریب بچوں کا کوٹہ رکھاجائے ۔
تعلیم ایک بنیادی حق ہے جو ہر شہری کو ملنا چاہیے ، لیکن جب ہم اس کام کو محض پیسے کمانے کی مشین بنادیں اور اس میں ریاستی وحکومتی ادارے بھی ملوث ہوں تو پھر تعلیم کا پیچھے رہ جاتی ہے ۔ پاکستان میں ایسے کئی غریب والدین ہیں جو معاشی بدحالی کے باعث بچوں کو اپنی مدد آپ کے تحت نہیں پڑھاسکتے۔ اس وقت بھی دو کروڑ سے زیادہ بچے سکول نہیں جاتے ، جو بچے غربت کے باعث سکول جاتے بھی ہیں تو اچھی تعلیم ان کے لیے ممکن نہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سکولوں میں داخلہ لینے والے بچے اور بچیاں پرائمری کے دوران ہی تعلیم کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں ۔ میں ایسے سفید پوش والدین کو جانتا ہوں جو بظاہر اچھی ملازمتیں کرتے ہیں اور سرکاری افسران ہیں لیکن مہنگی تعلیم نے بھی ان کی اپنی زندگی اجیرن بنادی ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فیسوں میں اضافہ پر نہ تو تعلیمی ادارے ان کی بات کو سنتے ہیں اور نہ ہی حکومتیں ان کے تحفظات کو دور کرتی ہیں ۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا سیاسی نظام اور سیاسی قیادت ، سیاسی جماعتیں اس سارے معاملہ پر خاموش یا لاتعلقی اختیار کرتی ہیں۔ جب ہم خود ریاست پر دباؤ نہیں ڈالیں گے تو وہ کیسے سرکاری تعلیم پر توجہ دے گی۔ یہ بات بھی درست ہے کہ نجی شعبہ کے اپنے بھی مسائل ہیں اور ان کے پاس بھی ایک درد ناک کہانی ہے جو ریاستی نظام کی پیچیدگیوں کو نمایاں کرتی ہے لیکن اس مسئلہ کا حل یہ نہیں کہ ہم اس کا بوجھ والدین یا بچوں پر ڈال دیں ۔ حکومت کو بھی ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو نجی شعبہ کو درپیش مسائل کا بھی احاطہ کریں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکمران اور بالادست طبقات کے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں نہیں جانا پڑتا۔ اسی وجہ سے تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بھی حائل ہے۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف ریاست کی تعلیم فراہم کرنے سے دست برداری ، وسائل کی کمی ، سرکاری اداروں میں سہولیات کا فقدان تو دوسری طرف تعلیم کو کاروبار بنانے کا کھیل ان دونوں معاملات کی وجہ سے اچھی تعلیم کا حصول ایک مشکل مسئلہ بن گیا ہے۔ اس کی بہتری کے لئے معاشرہ کے سب طبات کو حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔