مردم شماری ، حد بندیاں اور سموگ

  • تحریر
  • جمعہ 10 / نومبر / 2017
  • 3958

سیاست کی گاڑی کو ایک کے بعد ایک سپیڈ بریکر کا سامنا ہے۔ اب تازہ ترین سپید بریکر الیکشن کے لئے نئی حد بندیوں کاہے۔ مردم شماری کے ابتدائی نتائج آئے تو مختلف سیاسی حلقوں نے اپنی اپنی سیاسی مصلحت کے مطابق ان نتائج پر رد عمل دیا ۔ سب سے شدید رد عمل ایم کیو ایم کے فاروق ستار کا تھا کہ بقول ان کے کراچی شہر کی ڈیڑھ کروڑ کی آبادی دانستہ نہیں دکھائی گئی۔ ان کے مسلسل احتجاج کا تازہ ترین اظہار گزشتہ ہفتے ایک بھرپور جلسہ بھی تھا جس میں انہوں نے اس عمل پر مردم خوری کی پھبتی بھی کس دی۔ دیکھتے ہیں کہ اب پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے اس نوزائیدہ ملاپ کے بعد کراچی کی مردم شماری پر متفقہ موقف کیا سامنے آتا ہے۔

مردم شماری کسی بھی ملک کے لئے کس قدر ضروری ہے ، اس کا اندازہ ا س سے لگائیں کہ تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں مردم شماری معینہ وقفے کے بعد ایک لازم شعار ہے۔ جنگ کی حالت میں بھی مردم شماری کی مثالیں موجود ہیں۔ کیوں۔ اس لئے کہ ملک بھر کی تمام منصوبہ بندی کا انحصار آبادی کے صحیح اعدادوشمار پر ہے۔ ملک میں کتنے لوگ بستے ہیں، ان کا صنفی تناسب کیا ہے، دیہات اور شہروں میں آبادی کا تناسب کیا ہے، آبادی کا دباؤ یعنی Density کیا ہے، عمروں کا حساب کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ مردم شماری کو ہی بنیاد بنا کر الیکشن کی حد بندیاں طے ہوتی ہیں، صوبائی اور قومی نشستوں کی کل تعداد اور صوبوں کے حصے میں کتنی نشستیں ہوں گی، اس کا فیصلہ مردم شمادی کے تفصیلی اعداوشمار پر ہوتاہے۔ وسائل کی تقسیم میں بھی آبادی کے تناسب کا  بنیادی کردار ہے۔ اسی بنیاد پر کئی حلقوں میں اس شبے کا اظہار کیا گیا کہ مردم شماری کے تفصیلی نتائج کا انتظار کیا گیا اور اس کی بنیاد پر نئی حد بندیوں کا ڈول ڈالا گیا تو انتخابات وقت پر نہ ہو سکیں گے۔ سیاسی کشاکش اور درجہ حرارت پہلے ہی عروج پر ہے ، اسی لئے ایوان میں بیٹھی تمام پارٹیوں نے جھٹ سے اتفاق کرلیا کہ تفصیلی نتائج کا انتظار کرنے کی بجائے یہ طے کر لیا جائے کہ ایوان کی کل نشستوں کی موجودہ تعداد معین رہے گی۔ نئی حد بندیوں کے جھنجھٹ میں بھی نہ جانے کا فیصلہ ہوا ۔ اسپیکر کی معاونت میں تمام پارٹیوں کے اتفاق کا مژدہ سامنے آیا لیکن جونہی مطلوبہ آئینی ترمیم پیش کی گئی، پی پی اور پی ٹی آئی سمیت کچھ جماعتوں نے کچھ نئے اعتراضات کی بنا پر موقف تبدیل کرلیا اور یوں ایک نیا سپیڈ بریکر سامنے آ گیا۔

سیاست وقت کی نزاکت اور مفادات کے حسن تناسب کے اہتمام کا نام ہے۔ اس لئے ہمیں یقین ہے کہ یہ نیا سپید بریکر جلد ہی عبور ہو جائے گا۔ سیاسی چشمک اور بھاؤ تاؤ کی کھینچا تانی ہے۔ آج نہیں تو کل یہ مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن ہمیں جو دھڑکا تھا اس کا خوف پختہ ہوتا جا رہا ہے۔ مردم شماری کے نتائج میں ملک کی آبادی کا شمار حیران کن حد تک زیادہ سامنے آیا۔ سالانہ شرح افزائش دنیا کی بلند ترین شرح کے نزدیک نکلی ۔ اعداوشمار  کی تفصیلات میں جائیں تو ساٹھ فی صد آبادی تیس سال سے کم عمر ہے۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ ان نوجوانوں کے لئے سالانہ تیس سے پینتیس لاکھ نئی ملازمتیں درکار ہوں گی۔ انہیں اپنی خانگی زندگی کیلئے گھر بھی درکار ہوں گے مگر گھروں کی فراہمی کا یہ عالم ہے کہ اسٹیٹ بنک کی اپنی رپورٹ کے مطابق نوے لاکھ کے لگ بھگ رہائشی یونٹس کی پہلے ہی قلت ہے۔ آبادی کے اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے لئے مناسب ہاؤسنگ نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کے انبار میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ شہروں کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ بھی ہوش ربا حد تک بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں روزمرہ کے مسائل کے انبار میں اضافہ ہی اضافہ نظر آتا ہے، حل کی صورت دکھائی  نہیں دیتی۔

جنہیں یہ مسائل حل کرنے ہیں ، انہیں اس مردم شماری کے صرف سیاسی پہلو کی حد تک دلچسپی دکھائی دیتی ہے۔ آج الیکشن کی حد بندیوں پر لے دے ہو رہی ہے، کل اسی بنیاد پر وسائل کی تقسیم یعنی NFC میں کھینچا تانی ہوگی لیکن ان نتائج کے عام شہری کی زندگی پر جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں یا مزید ہوں گے، اس کا اداراک نظر نہیں آ رہا۔ بہت تفصیل میں کیا جانا، پنجاب کے تمام مرکزی اور بالائی اضلاع اور ملک کے چند دیگر حصوں میں کئی دنوں سے سموگ کا راج ہے۔ صوبائی حکومت نے ذمہ داری بھارتی پنجاب میں دھان کے کھیتوں میں جڑوں کو تلف کرنے کے لئے لگائی جانے والی آگ پر ڈال دی ہے۔ سوشل اور عام میڈیا میں بیشتر احباب نے اس سموگ کو سراسر کوئلہ بجلی گھروں کی سوغات قرار دیا ہے۔ مگر با ہمی الزام بازی سے ہٹ کر دیکھیں تو اس سنگین مسئلے کی وجہ سے خلق خدا کی روزمرہ کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔  کسی بھی تنگ نظری سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے تو ہمارے تمام شہروں میں عام دنوں میں بھی فضائی آلودگی عالمی معیار سے کہیں زیادہ ہے۔ جس قدر نئی سڑکیں بن رہی ہیں ان سے زیادہ تعداد میں ٹریفک بڑھ رہی ہے۔ زائد عمر کی گاڑیوں کی بھرمار ہے۔ رکشہ، موٹر سائکل، کاریں، بسیں اور ٹرکوں سے خارج ہونے والا دھؤاں مطلوبہ معیار سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ روزمرہ کا معمول ہے کہ کسی بھی سڑک پر اکثر گاڑیاں پوری سڑک پر دھؤیں کے بادل چھوڑتی رواں رہتی ہیں، کوئی پوچھنے والا ہے نہ روکنے والا۔ صنعتی آلودگی اس پر مستزاد ہے۔ ہر آن پھیلتی اس فضائی آلودگی میں اگر موسمی تغیر اوردھؤیں کا ملاپ ہوگا تو سموگ کی آفت تو آئے گی۔ لیکن شہروں میں انتہائی حد تک بڑھی ہوئی فضائی آلودگی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ اس میں ہر آن اضافے کو روکنا قومی ترجیح کا حصہ نظر نہیں آتا۔

کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، تجارت اور صنعت کا مرکز مگر بڑھتی ہوئی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ شہر میں صفائی کے ناقص انتظام نے شہریوں کو ایک نئے عذاب میں ڈال دیا ہے۔ کچرے کی افراط اور ٹھکانے لگانے کی ذمہ دار ی کس کی ہے ، اس پر پی پی پی اور ایم کیو ایم کی سیاسی بیان بازی تو خوب ہوئی لیکن بنیادی مسئلہ وہیں کا وہیں رہا ۔ اس حقیقت سے کسے مفر ہے کہ ایک شہر کی آبادی اگر مسلسل بڑھے گی تو مسائل بھی بڑھیں گے۔ امسال بارشوں نے کراچی میں تباہی مچائی۔ اس تباہی کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی سامنے آئی کہ منصوبہ بندی کے بغیر حد نظر تک نئی آبادیا ں بسنے کی وجہ سے پانی کے اخراج کے راستے مسدود تھے، سیلاب نہ آتا تو کیا ہوتا۔

ایک مشہور حدیث مبارکہ کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ شہروں کو ایک خاص حد سے زیادہ نہ پھیلنے دو ۔ ضرورت پڑے تو نئے شہر بساؤ۔ علامہ اقبال کی جب اٹلی کے سربراہ مسولینی سے ملاقات ہوئی تو اس نے ملک کی عمومی بہتری کے لئے ان سے مشورہ مانگا تو اقبال نے اسی حدیث کا ترجمہ پیش کیا۔ مسولینی اس قدر سادہ مگر اتنی گہری بات سن کر حیران ہوا۔ دنیا میں جن شہروں کی آبادی میں اضافے کی روک تھام نہیں کی گئی ان شہروں کی روزمرہ کی زند گی تلخ سے تلخ ہو تی گئی مگر ہمیں یہ نکتہ سمجھنے کے لئے فرصت ہی نہیں۔
مردم شماری سے سیاست دانوں کی دلچسپی اس کے سیاسی پہلو تک ہے اور بس۔ رہی حکومت تو وہ اپنی سلامتی کی تگ و دو میں ہے۔ آنے دنوں میں الیکشن الیکشن کی آمد ہے۔ اگر الیکشن ہوئے تو پھر نگران سیٹ اپ آئے گا، الیکشن کے بعد نئی حکومت بنے گی ، اس کے اپنے چیلنجز اور ترجیحات ہوں گی۔ اسی دوران مردم شماری کے حتمی نتائج آئیں گے۔ اگر حکومت مسلم لیگ کی نہ ہوئی تو عین ممکن ہے کہ ان نتائج پر سیاسی مصلحت کے مطابق مزید سوال اٹھیں۔

اگر سوال نہ بھی اٹھے تو سیاست کے مروجہ طرز اور ترجیحات دیکھ کر اندیشہ یہی ہے کہ آبادی میں اضافہ روکنا اور بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے ایسا بندوبست کرنا کارِ دارد ہی ہے جس کے تحت سموگ کے راج کی ذمہ داری پڑوسی ملک میں دھان کے کھیتوں میں لگی آگ کو دینے کی ضرورت نہ پڑے، جہاں کراچی سے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لئے ایک نجی سرمایہ کار کو رضاکارانہ آگے نہ آنا پڑے، صفائی ستھرائی کا یہ عالم نہ ہو کہ ڈینگی ایک مستقل موسمی مہمان کی طرح نازل ہو، بارش کی رحمت سیلاب کی صورت شہروں کو عذاب میں ڈالے۔۔۔