لین لگاﺅ، ٹکٹ کٹاﺅ، جھولی پھیلاﺅ وغیرہ، وغیرہ

سنا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا طیارہ اُدھار لے کر پلے دبئی اور پھر لندن سدھارے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی یا حکومت پاکستان کا طیارہ خالی واپس اسلام آباد پہنچ گیا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ اسحاق ڈار نے اونے پونے وہ طیارہ کسی عربی شہزادے کے ہاتھوں فروخت نہ کر دیا۔ جس طرح PIA کا طیارہ سکوت شب میں فروخت ہوا اور کسی کو کانوں کان خبر تک ہوئی۔ وغیرہ وغیرہ۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ اسحاق ڈار نے لندن سے سندیسہ بھجوایا ہے کہ وہ بیمار ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں اور وہ نہ وہ پاکستان آ سکتے ہیں اور نہ ہی استعفیٰ دینے پر رضامند ہیں۔ بلکہ لندن کے آرام دہ ہسپتال کے پلنگ پر لیٹے لیٹے وزارت خزانہ چلائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔

اس وقت حالات تیزی سے نامعلوم منزل کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ کل کو کیا ہو کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا۔ ہماری افواج اندر ہی اندر اس خاموشی کو پال رہی ہیں۔ اسی طرح ہماری عدلیہ خاموش تماش بین بنی جائزہ لے رہی ہے۔ ہم دونوں باوقار اداروں کو سلام پیش کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن واویلا بدستور جاری ہے۔ درودیوار سرگوشیاں کرر ہے ہیں ”اب کس کی باری؟“ بظاہر نون لیگ اور پی پی ایک دوسرے کے دشمن ہیں یا دوست۔ دن کی روشنی میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ ”من دیگرم۔ تو دیگری“ لیکن افواہیں ہیں کہ رات کے اندھیروں کے اس پار ”من توشرم تو من سگری“ کا دھمال جاگ اٹھتاہے، وغیرہ وغیرہ۔

اس سر پھٹول میں دھڑے بندیاں بھی نظر آ رہی ہیں۔ ہر دھڑا برملا کہہ رہا ہے ”من دیگرم۔ تو دیگری“ سہی لیکن مریم نواز کے ترکش کا ہر تیز حمزہ شہباز کی شہ رگ کا لہو چاٹنے کو بے تاب ہے۔ لیکن حمزہ شہباز بھی غیاب میں جیسے صیاد سے کم نہیں۔ لیکن اس ساری گھناﺅنی اور ناپاک سیاست کی ساری کٹھ پتلیوں کی ڈوریں میاں نواز شریف کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ ڈور ہلاتے ہیں تو گلابو بول اٹھتی ہے۔ دوسری ڈور ہلاتے ہیں تو خاقان عباسی کہتے ہیں ”میں وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہوں، لیکن میرے وزیراعظم تو نواز شریف ہیں“۔ وزیر داخلہ بھی ملتے جلتے الفاظ استعمال کررہے ہیں۔ طلال چوہدری، سعد رفیق اور عابد شیر علی صاحبان بھی ڈور ہلتے ہی پلاسٹک ک گڈے کی طرح آموختہ دہرانے لگتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

خداوند یہ تیرے سادہ دل بندے کہاں جائیں

لیکن اس سارے ڈرامے کے خطرناک کرداروں میں مریم نواز کا کردار نمایاں ہے۔ وہ بیان جس میں انہوں نے کہا تھا ...... باہر کو تو چھوڑو میری تو پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ہے“ ان کے اس بیان نے ہمارے میڈیا میں کلاسک کا درجہ حاصل کر لیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے
کہہ کے سچ کون دار پر لٹکے

غیر منقسم ہندوستان میں کالج کے لڑکے اپنے ناموں کے ساتھ بطور ڈگری لکھتے تھے A.K.J London۔ یہ تو ہم پر بعد میں کھلا کہ اس کے معانی تھے ”آرزو جانے کی۔ لندن“ ۔ برصغیر تقسیم ہوا۔ ہم اچھے برے حالات سے گزرتے رہے۔ لیکن A.K.J London ماند نہ پڑی۔ ”ٹونی“ اپنی خفیہ بیٹھک لندن میں بلاتے ہیں اور وزیراعظم تک بونگے بونگے رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

یہ کہ در یار سے بلاوا تھا
گداگران سخن کا ہجوم سامنے تھا۔  وغیرہ وغیرہ۔

”ٹونی“ تو ”ٹونی“ سہی لیکن پی پی کا پپیہا بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ وہ اپنی خفیہ بیٹھک دبئی میں منعقد کرتے ہیں۔ سارے ”حریص مان“ لائن میں لگ جاتے ہیں۔

لین لگاﺅ۔ ٹکٹ کٹاﺅ۔ جھولی پھیلاﺅ۔

اس وقت قوم کے سامنے ایک کڑا سوال ایستادہ ہے۔ اور وہ یہ کہ کیا الیکشن وقت پر ہوں گے۔ ایک طبقہ تو تاخیر کے سارے حربے استعمال کرنے کو سرگرم عمل ہے۔ دوسرا طبقہ الیکشن قبل از وقت کروانے پر تلا ہوا ہے۔ اور تیسرا طبقہ انگشت بدنداں ”محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی“ اور شاہد خاقان عباسی حکم بجا لانے کی خاطر مردم شماری پر زور دے رہے ہیں۔ جتنی تاخیر اتنا ہی مزہ۔

اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ جیت کس کی ہوگی اور شکست کون کھائے گا۔ فی الحال یہ کہنا بجا ہو گا کہ جب پل آئے گا تو اسے عبور کریں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات