مقامی نظام حکومت کا سیاسی قتل

جمہوریت کی مضبوطی اور کامیابی کے بارے میں سیاسی مفکرین یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس کی کامیابی کا دارومدارنچلی یا مقامی سطح کے مضبوطی پر مبنی سیاسی نظام کی صورت میں دیکھا جاتا ہے ۔ حکمرانی کے نظام کو موثر، شفاف اور جوابدہ بنانے کے لیے مقامی حکومت کے نظام کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں ۔ جمہوری معاشروں میں اسے تیسری یا خو مختارحکومت کا نام دیتے ہیں ۔ ایسے مقامی حکومتوں کے نظام میں مقامی منتخب نمائندوں کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ مقامی سطح پر فیصلے کرسکتے ہیں۔ 

یہ ہی کچھ اس مقامی نظام حکومت کے بارے میں ہمارا 1973کا آئین بھی کہتا ہے ۔ اس آئین کی شق140-Aکے مطابق صوبائی حکومتیں پابند ہیں کہ وہ ہر صورت اپنے اپنے صوبوں میں مقامی انتخابات اور مقامی نظام کو یقینی بنا کر اسے سیاسی ، انتظامی او رمالی اختیارات دینے کا پابند ہے وگرنہ دوسری صورت میں صوبائی حکومتیں مقامی نظام اور قانون شکنی کی مرتکب ہوتی ہے ۔ پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کی کہانی اتنی ہی دردناک ہے جتنا پاکستان کا جمہوری مقدمہ کمزور ہے ۔ عملی طور پر جمہوری قوتیں یہاں جمہوری ناکامی کو اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنڈے سے جوڑ کر دیکھتی ہیں جبکہ مقامی حکومتوں کی ناکامی یا کمزوری کا براہ راست تعلق  سیاسی اور جمہوری حکمرانوں کے  غیر جمہوری طرز عمل سے ہے ۔ کیونکہ اگر یہاں مقامی حکومتوں کا نظام مضبوط نہیں ہوسکا تو اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادتوں کی اس نظام کے حوالے سے کمزور ترجیحات ہیں ۔ یہ جو جمہوری نظام گزشتہ نوبرس سے تسلسل سے چل رہا ہے اس میں بھی مقامی حکومتوں کے انتخابات سیاسی حکومتوں کی خواہش کم اور سپریم کورٹ کے واضح دباؤ اور حکم کی بنیاد پر کروائے گئے۔  عدالتی  حکم کے بغیر مقامی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوتا ۔

اس وقت اگرچہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں عوام کی منتخب مقامی حکومتیں موجود ہیں ۔ جماعتی بنیادوں پر قائم یہ موجودہ مقامی حکومتوں کا نظام بڑی سیاسی جماعتوں کی سرپرستی میں کام کررہا ہے ۔ پنجاب اور بلوچستان میں مسلم لیگ ن، سندھ میں پیپلز پارٹی ، خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف اور اسلام آباد سمیت کنٹونمنٹ بورڈز میں بھی ان ہی صوبوں میں موجود حکمران جماعتوں کو سیاسی بالادستی حاصل ہے ۔ لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ایک بار پھر ہماری سیاسی قیادتوں ، جمہوری حکومتوں نے مقامی حکومتوں کے نظام کے ساتھ وہی سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا ، جو ماضی کی سیاست کا حصہ ہے ۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ مقامی حکومتوں سے وابستہ حزب اختلاف کی جماعتیں ہی نہیں بلکہ صوبوں میں موجود حکمران جماعت سے وابستہ عوامی منتخب نمائدے، سول سوسائٹی ، ماہرین سب ہی صوبائی حکومتوں کے طرز عمل پر نہ صرف تنقید کررہی ہیں بلکہ کھل کر اجتجاج بھی کررہی ہیں ۔

پنجاب اور سندھ میں تو حالت یہ ہے کہ ان صوبوں میں مقامی حکومتوں کے نظام کو مکمل طور پر شروع ہی نہیں کیا گیا۔ مقامی عوامی نمائندوں نے عوامی خدمت کیا کرنی ہے وہ توبیچارے اپنے ہی بنیادی حق حکمرانی کو تسلیم کرانے کی جدوجہد میں کوشاں ہیں ۔ ان منتخب نمائندوں میں سب سے بری حالت حکمران جماعت سے وابستہ افراد کی ہے ۔ کیونکہ ان کے دل میں زخم بہت ہیں لیکن پارٹی پالیسی اور قیادت کو راضی کرنے کے لیے ان کو مجبوری کے تحت چپ رہنا پڑتا ہے ۔ حالت یہ ہے کہ 2108کے انتخابات کے پیش نظر تمام صوبائی حکومتوں کی توجہ کا مرکز مقامی ایم این اے اور ایم پی اے یا ان کے متوقع امیدوار ہیں اور ان ہی کی مدد سے ترقیاتی بجٹ خرچ ہورہا ہے ۔ سیاسی نظام میں اصل کنجی عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں ۔ لیکن پنجاب ، سندھ اور بلوچستان میں اختیارات کی اصل طاقت صوبائی سطح پر موجود بیوروکریسی اور صوبائی حکومتوں کو حاصل ہے ۔ ں فریقین کے سامنے مقامی نظام اور ان کے منتخب نمائندے بے بس نظر آتے ہیں ۔ یہ دونوں فریقین یعنی صوبائی حکومتیں اور بیوروکریسی زیادہ سے زیادہ طاقت اور اختیارات کو نچلی سطح پر منتقلی کرنے کی بجائے خود کو اصل اختیارات کا مالک بنانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ اس کا نتیجہ دوصورتوں میں بگاڑ کے طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اول مقامی سطح پر منتخب نمائدے کومقامی لوگوں سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور وہ اپنی بے بسی اور لاچارگی کے باعث مقامی لوگوں کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں ۔ دوئم مقامی حکومتوں کے نظام کی ناکامی کا ملبہ مجموعی طور پر بری طرز حکمرانی کی صورت میں درپیش ہے جو کسی المیہ سے کم نہیں ۔

جب سیاسی اورجمہوری نظام مقامی نمائندوں کو اقتدار کی شراکت میں شریک کرنے کے لیے ہی تیار نہیں تو یہ نظام کیسے خود بھی ترقی کرے گا اور کیسے مقامی لوگوں میں اپنی سیاسی ساکھ بنا سکے گا۔ جمہوریت لوگوں کی اقتدار میں شراکت سے جڑی ہوتی ہے جبکہ مصنوعی طور پر نظام یا سیاسی دربار تو سجالیتے ہیں ۔ لیکن حقیقی معنوں میں شفاف انداز میں حکمرانی کرنے کا مزاج نہیں رکھتے ۔ حالت یہ ہے ہم دہائی دیتے ہیں کہ عوام کے منتخب کونسلرزجن میں عورتیں ، اقلیتیں ، کسان ، مزدور اور نوجوان شامل ہیں ان کا اس نظام میں کیا حصہ ہے اور کیسے وہ اس نظام کی مدد سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ مگر یہاں تو حالت یہ ہے کہ یونین ، تحصیل ، ٹاؤن، میونسپل کارپوریشن ،ضلعی کونسل اور میٹروپولیٹن شہروں کے سربراہان کو ہی کچھ حاصل نہیں تو باقی کا سیاسی ماتم کرنا عجب لگتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صوبائی سطح پر مقامی حکومتوں کا نظام شفاف اور عوامی ترجمانی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اس کو جانچنے ، نگرانی کرنے اور  جوابدہ بنانے  کا کام کسی بھی سطح پر نہیں ہورہا ۔ وفاق نے صوبائی حکومتوں کو بے لگام کردیا ہے کہ وہ اس نظام کے ساتھ جیسا بھی سلوک کریں ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ صوبائی سطح پر بننے والے صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن کا قیام بھی بہت سے صوبوں میں نہیں لایا گیا ۔ اگر ہماری سیاسی ترجیحات میں اس مقامی نظام کی کوئی اہمیت نہیں تو ہم کیونکر مصنوعی انداز میں اس نظام کو چلا کر قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ وہ فریقین جو سیاسی جماعتوں ، میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت عوامی مقامی نمائدوں کی صورت میں موجو د ہیں ان کی طرف سے ہمیں قومی یا صوبائی سطح پر اس نظام کو موثر بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں پر کوئی دباؤ موجود نہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان سب فریقین کی خاموشی یا سمجھوتوں کی سیاست سے مقامی حکومتوں کے نظام کے مستقبل کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ جو جماعتیں حزب اختلاف کی سطح پر ہیں ان کا رویہ بھی غیر سنجیدہ ہے اور وہ مختلف سیاسی سمجھوتوں یا دیگر بڑے سیاسی مسائل میں الجھے نظر آتے ہیں ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مقامی حکومتوں کو نام کی سطح پر بہت اہمیت دیتے ہیں، لیکن اس نظام کو یقینی بنانے کے لیے کوئی جدوجہد نظر نہیں آتی ۔ میڈیا کی سطح پر بھی جاری بحث و مباحثہ مستقل بنیادوں پر اپنا دباؤ ڈالنے میں ناکام رہا ہے ۔  سوال یہ ہے کہ ہمارا حکمرانی کا جمہوری نظام اور اس سے وابستہ حکمران  طبقات نے یہ کیسے یقین کرلیا ہے کہ وہ حکمرانی کے نظام کو مقامی نظام کے بغیر موثر ، شفاف اور جوابدہ ہوکر اسے لوگوں کی خواہشات کے مطابق چلاسکتے ہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم دنیا کا کوئی عجوبہ ملک نہیں ، دنیا کے تجربات سے ہمیں واقعی سیکھنا ہوگا کہ انہوں نے اپنے مقامی نظام کو کیسے موثر اور قابل قبول بنایا ۔ یقینی طور پر ہمیں جواب مقامی حکومتوں کی مضبوطی کی مدد سے ہی مل سکتا ہے ۔ آج کی حکمرانی کی دنیا اختیارات کی تقسیم کو بنیاد بنا کر حکمرانی میں بہتر نتائج حاصل کررہی ہے ۔ جبکہ ہم مرکزیت پر مبنی نظام کو بنیاد بنا کر عام اور مقامی لوگوں کو زیادہ استحصال کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ جو لوگ جمہوریت کی دہائیاں روزانہ کی بنیاد پر دیتے ہیں ان کو سمجھنا ہوگا اس کا پہلا اہم قدم مقامی نظام ہوتا ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت جو کچھ بھی مقامی حکومتوں کے نظام کے ساتھ چاروں صوبوں بشمول خیبر پختونخواہ میں ہورہا ہے وہ کمزور عمل ہے اور اس سے جمہوری نظام طاقت نہیں پکڑسکے گا۔ یہ سب کچھ سیاسی اور جمہوری حکومتوں کا کھیل ہے جو مقامی نظام کو اپنے ہی ہاتھوں سے کمزور اور قتل کرنے کی ذمہ دارہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ بیوروکریسی ، وفاقی و صوبائی حکومتوں، پولیس ، انتظامیہ ، اتھارٹیوں ، کمپنیوں کی مدد سے چلایا جانے والا نظام غیر موثر ہوتا ہے اور اپنی اہمیت یا ساکھ بھی کھودیتا ہے ۔ ان ہی خرابیوں کو بنیاد بنا کر ہمیں مقامی نظام کی مضبوطی کے لیے ہر سطح پر آواز بھی اٹھانی چاہیے اور جدوجہد بھی کرنی چاہیے۔