جمہوری نظام، صوبائی خود مختاری اور قومی حکومت

ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ آج تک جتنے بھی جمہوری لیڈر آئے، وہ جب  اقتدار میں ہوتے ہیں تو صوبائی خود مختاری دینے کی بجائے جمہوری مارشل لاء نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  بقول مجید نظامی کے نواز شریف جمہوریت سے زیادہ امیر المؤمنین بننے کی زیادہ فکر میں تھے۔ اور ان کے خاشامدی بھی ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اگر 1973  کے آئین کے مطابق چھوٹے صوبوں کو خود مختاری دے دی جائے تو بہت سی غلط فہمیاں تحصیل، ضلع اور صوبائی سطح پر دور ہوجائیں گے۔ بلکہ کئی مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہوجائیں گے جس سے معاشرہ ترقی کرے گا۔

میرے خیال میں جب تک وفاق اور صوبوں کے درمیان قول وفعل کا تضاد برقرار رہے گا یہ مسئلہ کسی نہ کسی شکل میں قائم رہے گا۔ پچھلے جمہوری دور میں پیپلز پارٹی نے 18ترمیم سیاسی لیڈروں نے اپنے مفاد کے لئے بنائی تھی نہ کہ عوام کی بہتری کے لئے۔ آج اس کی شکل کرپشن کی صورت میں وفاق اور صوبوں کی لوٹ مار میں سامنے آچکی ہے۔ جمہوری دور میں صوبوں کو اختیارات تو ملتے ہیں مگر وفاق کمزور نہیں ہوتا۔ اس ترمیم کی ہر شق کا بغور جائزہ لیا جائے تو بات عیاں ہوجائے گی کہ وفاق کے اختیارات کو کم کرکے اسے کمزور کردیا گیا ہے۔ سابقہ دور پیپلز پارٹی میں صوبائی خود مختاری کے لئے پنجاب کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز زیرغور رہی۔ اس پراب بھی سنجیدگی سے غور کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ یہ زیادہ بہتر ہے کہ تمام صوبوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے۔ صوبہ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے ۔ اس کے بارے میں سیاستدانوں کے علاوہ قوم پرست لیڈر بھی یہ آواز کو بلند کرتے رہے ہیں۔ اس میں سرائیکی صوبہ بننے سے عوام کو بہتر سہولتیں میسر ہوں گی۔ ان کو انصاف کے لئے اور کئی معاملات کے لئے دور دراز کا فاصلہ طے نہیں کرنا پڑے گا۔ اس سے ایک نیالاہور جیسا دوسرا شہر بھی بن جائے گا اور کئی شہر ترقی بھی کرسکتے ہیں۔

بلوچستان میں دو قومیں آباد ہیں۔ بلوچی اور پختون ان کے اپنے اپنے مسائل ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ چند بلوچ سردار صوبہ میں گڑبڑ کر رہے ہیں۔ اب بلوچستان کا ایک حصہ گوادر بندرگاہ بن جانے کی وجہ سے منفرد اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ بین الاقوامی رابطوں کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ اس صوبہ میں امن ہو۔ سرمایہ کاروں اور کاروباری حضرات کو تحفظ حاصل ہو، اور دہشت گردی جوافغانستان اور ایران کی سرحد پر ہوتی ہے اس کوروکا جاسکے۔ لہٰذا اس صوبہ کے دو حصے کرنے سے اس صوبہ کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں آسانی ہوجائے گی اور صوبہ ترقی کرے گا۔ اسی طرح صوبہ سندھ میں ایک عرصہ سے سندھی اور مہاجر اپنے حقوق کی لڑائی لڑرہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں اور بھی کئی قومیں آباد ہیں اور اب تو کراچی شہر 2کروڑ سے زائد کا شہر بن چکا ہے۔ اس سے کاروباری علاقہ میں امن آسکتا ہے او ر کسی ایک کو ذمہ دار بھی ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ سیاست دان ایک دوسرے پرالزام لگاتے ہیں۔ اس کے علاوہ  زیادہ ٹیکس وصولی کی صورتحال بھی بہتر ہوسکتی ہے۔ مزید یہاں اغوا برائے تاون ، تھبہ خوری ، دہشت گردی اور دیگر جرائم کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔ اسی طرح پختون خوا کے جذبات کا بھی خیال رکھا جاسکتا ہے۔ اب تو فاٹا کو بھی KPKمیں ضم کردیا گیا ہے۔ اس میں بھی کئی علاقے شامل کئے جاسکتے ہیں۔ اس سے جرائم میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

اس علاقے میں دہشت گردی کا جو بڑا مسئلہ ہے اور تعلیم کی کمی ، اغوا  برائے تعاون ، کارچوروں ، افیون ڈرگ مافیا نے یہاں اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں۔ یہاں ابھی تک خاطر خواہ کسی شعبہ میں بہتر کام نہیں ہورہے ۔
برطانوی راج میں قانون پر عمل درآمد ہوتا تھا۔ سستا انصاف میّسر تھا، بجلی ، پانی ، صحت اور دیگر شعبوں کے علاوہ ہماری تمام اقلیتیں خوشحال تھیں۔ لوگ آج بھی ان کی مثال پیش کرتے ہیں اور یاد کرتے ہیں۔ ہم نے آزادی اپنی مرضی سے اپنا نظام اپنانے کے لئے حاصل کی تھی۔ نظام کوئی بُرا نہیں ہوتا جب ہم انصاف ، رواداری اور احتسابی عمل کو چھوڑ تے ہیں تو یہ بُرا ثابت ہوجاتا ہے جس سے عوام نفرت کرنے لگتے ہیں۔ آج ہم اس جمہوری کے لیڈروں کا حال سپریم کورٹ اور نیب کی عدالتوں میں چلنے والے کرپشن کے میگا اسکینڈل کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ان دو بڑی پارٹیوں نے اس نظام کو بُری طرح متأثر کیا ہے بلکہ ملک کو دیوالیہ بنا دیا ہے۔

ہم نے اپنی 70سالہ تاریخ میں دو نظام آزمائے ہیں صدارتی اور جمہوری ۔ اسی دور میں تین ڈکٹیٹرز گزرے ہیں۔ یہ مجموعی طورپر 30سال برسراقتدار رہے لیکن فوج کاسسٹم ایسا ہے کہ ان کی اولادوں میں سے کوئی جنرل تودور، بریگیڈئر بھی نہ بن سکا۔ ضیاء الحق کے بیٹے نے سیاست میں حصہ لیا لیکن وہ بھی کھڈے لائن لگ گیا۔ اسی طرح جنرل اختر عبدالرحمٰن کے صاحبزادے ہمایوں اور ہارون اختر نے نواز لیگ جوائن کی وہ بھی  کامیاب نہ ہوئے۔ جنرل پرویز مشرف ، راحیل شریف، جہانگیر کرامت، اسلم بیگ وغیرہ وغیرہ یہ جرنیل لیکن ان کی اولادیں فوجی نظام میں نظر نہیں آئیں جو اپنے باپ کے نام کا فائدہ اُٹھا سکیں۔ کچھ یہی حال ہماری عدلیہ کا بھی ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے جج اپنے بچوں کو وکیل بنوالیں تو بڑی بات ہے۔ ملکی تاریخ میں شاید ہی کسی چیف جسٹس کا بیٹا چیف جسٹس بن سکا ہو۔ اس کے برعکس آپ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو دیکھ لیں۔ ایک دفع باپ سیاست میں آگیا تو پھر اس کا بھائی، بیٹا، بیٹی ، بیوی، بہن ، داماد، بہنوئی .......اور اس کے بعد اگلی نسل تک سیاست پر اپنا حق سمجھتے ہوئے دھڑلے سے اقتدار میں اپنا حصہ مانگتی ہے۔

بھٹو اور شریف خاندان کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ نواز شریف کے دودرجن رشتے دار پنجاب اور مرکزی وزارتوں یا اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔ اسی طرح دوسرے صوبوں کا بھی یہی حال ہے۔ پورے ملک پر صرف 200خاندان حکومت کررہے ہیں یہ کسی شریف انسان کو حکومت میں آنے نہیں دیتے اور نہ ہی حکومتی اداروں کے سربراہ لگنے دیتے ہیں۔  اسی جمہوریت نے ہمارے بلدیاتی نظام کو بھی چلنے نہیں دیا۔ علاوہ ازیں یہی حال مذہبی جماعتوں کے لیڈروں کا ہے جن میں مولانا فضل الرحمٰن ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں ہیں۔ قارئین آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں ان سیاستدانوں اور مذہبی لیڈروں میں اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہیں اور بہت سو کی تو ڈگریاں بھی جعلی ہیں۔ ان کی اہلیت صرف اپنے گروہ ، اپنے علاقے اور مسجدوں کے امام کی سی ہے۔ یہ اپنے اپنے علاقہ کے بڑے زمیندار ، جاگیر دار، کرپشن کے کھلاڑی، قاتل ، دھوکے باز قبضہ گروپ اور فتویٰ بیچنے کے علاوہ ان کی کوئی کوالیفیکیشن نہیں ہے۔ یہ بزور طاقت اپنے حلقہ چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی، ان سے ووٹ لے کر رکن اسمبلی بن جاتے ہیں۔ پھر پانچ سالوں تک عیش ہی عیش اور پھر قومی خزانے سے لوٹ مار شروع کردیتے ہیں۔ یہ مزے تو صرف جمہوریت میں ہی ممکن ہیں۔ اللہ کرے جو احتسابی عمل عدالتوں میں شروع ہوا ہے وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ اسی طرح مذہبی جماعتوں کے لیڈروں کو بھی کٹہرے میں لانا ہوگا جس نے معاشرہ کی اخلاقی قدروں کو بُری طرح پامال کردیا ہے۔ کفر کے فتوے بیچ کر جو کمایا ہے اس کا احتساب ہونا چاہئے۔

آج کل ملک میں قومی حکومت یعنی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل حکومت کی جو باتیں کی جارہی ہیں ۔ اس ضمن میں میری ذاتی رائے ہے کہ اس کو بھی آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔ ممکن ہے یہ دونوں نظاموں سے بہتر ثابت ہو۔ پاکستان میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر جو سیاست ہورہی ہے یہ ملک وقوم کے لئے خطرناک ہے۔ ہمیں قومی سطح پر ایک ایسی جماعت یا حکومت متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو نسلی ، مذہبی ، زبان وعلاقائیت سے بالا تر ہوکر کام کرے۔ موجودہ حالات میں دو قسم کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ایک یہ کہ موجودہ حکومت کو تحلیل کرکے نئے انتخابات کرائے جائیں اور اس کو ہر ممکن شفاف بنایا جائے۔ دوسرا یہ کہ قومی حکومت تشکیل دی جائے جس میں نیک شریف ، دیندار لوگوں کو موقعہ دیاجائے۔

اگراس حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں سے نیک اور دیندار لوگوں کو شامل کیاجائے تو یہ فائدہ مندرہے گی۔ اس طرح ہم اپنا نظام بہتر اور عوام کو خوشحال کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے ابتدائی سالوں میں تھا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ متذکرہ بالا صوبوں کی آزادی ، ان کے حقوق ، مذہبی رواداری ، عدل وانصاف اور احتسالی عمل کا جاری رہنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی حکومت کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔