چین میں سوشلزم اور سرمایہ داری نظام کا مشترکہ تجربہ
- تحریر افتخار بھٹہ
- سوموار 13 / نومبر / 2017
- 12762
روس میں سوشلسٹ انقلاب آئے ہوئے سو سال گزر چکے ہیں۔ اس صدی کے دوران سویت یونین دنیا کی سپر پاور بنا پھر اس کا پورا نظام اسلحہ سازی کی دوڑ اور پولٹ بیورو کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اپنے بوجھ تلے منتشر ہو گیا جس میں اہم فیکٹر سویت یونین کی افغانستان میں آمد اور اس کے خلاف عالمی سرمایہ دار ممالک نے عرب اتحادیوں کے ساتھ سرمایہ پول کرکے جہادیوں کی مدد سے اس کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کیا۔ دوسرے کمیونسٹ پارٹی پر اجارہ داریوں نے سویت یونین کو نظریاتی اہداف سے دور کر دیا۔ روس کی معیشت اب سکڑ کر شائد اٹلی کے برابر ہو گئی ہے۔
گزشتہ صدی میں دوسرا سوشلسٹ انقلاب ماؤزے تنگ کی قیادت میں چین میں آیا۔ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔ چین میں بھی روس کی طرح کلاسیکل سوشلز کا ماڈل بنایا گیا جس میں تمام ملکیت ریاست کے پاس ہوتی تھی لیکن چالیس سال بعد چینی راہنماؤں کو احساس ہوا کہ محض سوشلسٹ نظام کے ذریعے کھلی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ کیونکہ اس کے سامنے سویت یونین کی معیشت کا ماڈل تھا جو کہ عملی طور پر مکمل بند معیشت اور صنعت کاری نظام تھا جس کے پاس اسلحہ کے علاوہ دیگر کمرشل مصنوعات کی مارکیٹ میں کھپت نہیں تھی۔ جبکہ سرمایہ دار ممالک ایجادات کے ذریعے اپنی مصنوعات کو خوبصورت اور جاذب نظر بنا کر مارکیٹ میں فروخت کر رہے تھے۔ روس کی پالیسیوں اور جدیدیت سے دور ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس کے گھریلو اور تجارتی سامان کی عالمی منڈی میں فروخت کو یقینی نہ بنایا جا سکا۔ چین نے ان خطرات کو بھانپتے ہوئے معاشی اصلاحات کے ذریعے منڈی کا نظام رائج کر دیا۔ چین اور روس کے سوشلزم ماڈلوں میں یہ فرق ہے۔ روس سوشل ازم کے خاتمے کے بعد منتشر ہو گیا۔ ریاستوں نے آزادانہ حیثیت اختیا ر کر لی۔ ملک میں سوشلسٹ نظام کا خاتمہ ہوا۔ قومیت اور نسلوں کی شکل میں نئی ریاستیں سامنے آئیں۔ جبکہ چین نے نئے نظام کے تحت اصلاحات کے باوجود کمیونسٹ پارٹی کی طاقت میں کوئی فرق نہ آیا۔ چین نے انقلاب کے پہلے دور میں کلاسیکل سوشل ازم کو اپناتے ہوئے جاگیر داری اور سرمایہ داری کو ختم کر دیا۔ عوام کیلئے تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کو بنیاد بنایا۔
اگر چہ مازوے تنگ کے ثقافتی انقلاب کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوئی مگر ماؤزے تنگ کے انقلاب کا بنیادی مقصد چین سے جاگیر داری اور سرمایہ داری کی باقیات کو ختم کرنا تھا ۔ 1921 میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے تحت صرف ایک ہی راہنما ماؤزے تنگ کو عزت و احترام سے نوازا گیا۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جس کی ممبر شپ 90ملین ہے جو کہ پوری دنیا بالخصوص سویت یونین کی بربادی کے باوجود آج بھی چل رہی ہے۔ جب سے نئے راہنما شی پنگ نے اقتدار سنبھالا ہے تو پارٹی کی صفوں میں بے پناہ کرپشن تھی جس کی وجہ پارٹی کی اعلیٰ سطح پر سرمائے کا ارتکار تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کے209امیر ترین پارلیمانی مندوبین سے ہر ایک کے پاس دو ارب یوان(تین سو ملین ڈالر تھے) جن کی مجموعی دولت بلجیم اور سویڈن کی جی ڈی پی کے برابر ہے۔ شی نے صدر بننے کے بعد کرپشن کے خلاف کارروائی شروع کی جس میں ہزاروں افراد جن میں طاقتور ریاستی عہدیدار بھی شامل تھے گرفتار کیا گیا۔ صدر شی کے پہلے دور حکومت میں سو امیر ترین لوگوں کی دولت میں 64فیصد اضافہ ہوا۔ 1976میں ماؤ کے بعد چینی قیادت نے منصوبہ بندی کی۔ معیشت کو ترک کرتے ہوئے منڈی کی معیشت کو اختیار کیا۔ سرمایہ داری نواز چینی لیڈر ڈینگ زیا ینگ نے کہا عملی حقائق سے سچ کی تلاش اور امیر بننا عظیم کام ہے۔ اس کا ہر قدم رد انقلاب تھا۔
مارکیٹ سوشلزم کی اصطلاح گھڑی گئی لیکن اس کا سرمایہ دارانہ نظام شک و شبہ سے بالا تر تھا۔ 1980کی دہائی میں جب سرمایہ داری نظام کی چین میں بحالی میں تیز آئی۔ معاشی نمو میں نجی شعبے کا کردار بڑھا۔ صوبوں میونسپل کمیٹیوں ، کونٹیزٹاؤنوں اور دیہات کے درمیان مقامی معیشت کے فروغ کیلئے مقابلہ بازی ہوئی۔ اس طرح چین میں معاشی ترقی کے حصول کیلئے بے پناہ تجربات کیے گئے۔ یہ شعبہ اب چین کی ساٹھ فیصد سے زائد جی ڈی پی کو تشکیل دیتا ہے۔ چین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں2001سے داخل ہونے سے قبل منڈی کی معیشت میں تبدیل ہو چکا تھا 1950-60کی دہائی معیشت کا 74فیصد حصہ ہندوستان میں ریاست کی ملکیت تھا جہاں پر اسٹاک مارکیٹ اور دیگر سرمایہ دارانہ ادارے بحال تھے۔ ذالفقار علی بھٹو نے بھی معیشت کو قومی تحویل میں لے کر ملک میں ہیوی انڈسٹری قائم کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس میں ناکام رہا۔ چین اب اصلاحات کے بعد ہر اعتبار سے سرمایہ دار ملک ہے۔ ممتاز ماہر معاشیات فریڈرگ اینگل نے اپنی کتاب سوشلزم یو ٹو بی آئی اور سائنسی میں لکھا ہے کے ریاستی ملکیت پیدا واری قوتوں کی سرمایہ دارانہ فطرت کو ختم نہیں کرتی۔ جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں اور ٹرسٹوں میں یہ واضح ہے مزدور اجرتی مزدور یعنی پرولتاریہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ رشتے ختم نہیں ہو جاتے ہیں۔
آج کل ہمیں عمران خان چینی ماڈل کے مداح دیکھائی دیتے ہیں۔ کرپٹ راہنماؤں کی پھانسیوں اور سزاؤں کا ذکر کرتے ہیں۔ چینی نظام میں کس طرح سات سو ملین لوگوں کو غربت سے نکالا، وہاں پر صحت اور تعلیمی سہولتوں کو یقینی بنایا ہمیں کوئی ایسی نظریاتی صف بندی اور روڈ میپ عمران خان یا اس کے ساتھ شامل ہونے والے دیگر پارٹیوں کے بھگوڑوں میں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ عالمی مالی اداروں نے ایک رپورٹ میں چین کے بارے میں مختلف معاشی اور سماجی اعداد نامہ تیار کیا ہے جس کے مطابق ایک سو پچاس ملین آبادی کی آمدنی 1.90ڈالر یومیہ سے کم ہے۔ تین سو ساٹھ ملین آبادی کی آمدن 3.10ڈالر سے کم ہے۔ چین میں950ملین لوگ پانچ ڈالر یومیہ سے کم پر زندگی گزار رہے ہیں۔ چین کے شہروں میں مہنگائی بہت زیادہ ہے۔ شہروں اور دیہات کے بیچ غریب اور امیر میں آمدنی کی وسیع خلیج ہے۔ شہری گھرانے کی فی کس آمدنی 4500ڈالر سالانہ ہے۔ جبکہ دیہی فی کس 4ڈالر روزانہ ہے۔ مغربی سامراجی چین پر تنقید اس وجہ سے کرتے کے چینی سرمایہ دارانہ نظام میں انہیں آزادانہ حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ وہ عالمی کارپوریٹ سرمایہ کیلئے مزید جمہوری گنجائش چاہتے ہیں۔ تاکہ وہ کھل کر کاروبار کر سکیں۔
آج چین دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ کا برآمد کنندہ اور کارپوریٹ سرمایہ کار ہے۔ اس کو سرمایہ دارنہ ممالک کی کارپوریشنوں پر تقابلی برتری حاصل ہے۔ چین کی کامیاب کارپوریشن میں ہواوے ، لینو اور علی بابا شامل ہیں جن کے کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ تعلقات ہیں۔ چین کی معیشت70کی دہائی سے کئی زیادہ جدید اور امتزاج پسند ہے۔ اس وقت ہدف برآمدات اور سرمایہ کاری کو بڑھانا تھا اور اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ لوگوں کے پاس کھانا ہو۔ وہ زندہ رہ سکیں۔ آج مسائل مختلف ہیں۔ اب پہلا مسئلہ معیشت کو متوازن رکھنا ہے۔ سرمایہ کاری سے صارفیت مینی فیکچرنگ سے سروس اور برآمدات سے داخلی اور برآمدی مصنوعات کی طرف منتقل ہونا ہے۔ چین کے شہروں میں داخلی کھپت اور سروس میں ترقی ہوئی ہے۔ مگر مجموعی شرح نمو گر رہی ہے۔ چین دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے۔ جس کے پبلک سیکٹر کا قرضہ 2016میں جی ڈی پی کے 255فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ قرضہ سرمایہ کاری کے مصنوعی ابھار جیسے کے9سو ارب ڈالر کا سلک روڈ، اکانامک بیلٹ اور21ویں صدی کا بحری سلک روڈ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ ہے جس کو سی پیک کا نام دیا گیا ہے۔
اپنی تمام معاشی اور فوجی طاقت کے باوجود شی کو کرپشن کا مسئلہ پیش ہے کیونکہ سرمایہ داری جہاں بھی جاتی ہے وہ اپنی علامات کرپشن ، جوا، سٹے بازی اور جرائم کو بھی ساتھ لے کر آتی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کی وسیع تطہیر کے باوجود یہ رہے گی۔ چین کا ابھار سرمایہ داری نظام کے عروج کے عہد میں نہیں، بلکہ زوال کے دور میں ہوا ہے۔ جس میں غربت اور امارت کے تضادات ابھرتے ہیں جس سے سماجی دھماکے جنم لے سکتے ہیں۔ شی حکومت قوم پرستی اور دوسرے طریقوں سے ان کو روکنے کی کوشش کرے گی۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے سرمایہ دارانہ ممالک اور اُن کے مالیتی اور تجارتی اداروں کے ساتھ روس کی طرح عدم تعاون یا تصادم کی بجائے مفاہمت اور تعاون کا راستہ اختیار کیا ہے اور ان ممالک کی سرمایہ کاری کی اپنے اندر گنجائش پید اکرکے ان سے اپنی خدمات کے عوض منافع کا حصہ حاصل کیا ہے۔ دوسری طرف چین میں انسانی وسائل کی مہارتوں اور تربیت یافتہ لیبر فورس نے عالمی سرمایہ کاری کی صنعت کاری میں گنجائش پیدا کی ہے جس کی وجہ سے آج اس کی مصنوعات تمام منڈیوں میں چھائی ہوئی ہیں۔
چین میں مرکزی منصوبہ بندی کے تحت منڈیوں کے نظام کو بہتری کے ساتھ فعال کر دیا گیا ہے جس سے وسائل کی بہترین تقسیم عمل میں آنا شروع ہو گئی ہے۔ اور معیشت دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ چین نے کمیونسٹ پارٹی کے تحت مخصوص معاشی نظام قائم کر رکھا ہے اور منڈی کے نظام کے تحت معاشی ترقی کی ہے۔ اگر چہ چین ویسی نظریاتی ریاست نہیں ہے لیکن اس نے مارکسی نظریے کے ایک بنیادی تصور کو اپنائے رکھا ہے۔ اب چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ چین نے اپنے جدید دور میں عالمی تنازعات کو ثانوی حیثیت دی ہے۔ تائیوان کے ساتھ جنگ جوئی کا راستہ نہیں ہے جبکہ پاکستان میں اس کے بر عکس علاقائی اور عالمی تنازعات کا حصہ بننے کی کوشش کی ہے۔ جس کی وجہ سے ہم معاشی طاقت کی بجائے سیکیورٹی ریاست ہیں ۔