ترقی کا راز اور مسلمانوں کی بے بسی
- تحریر مختار چوہدری
- سوموار 13 / نومبر / 2017
- 10812
12 نومبر کے جنگ اخبار میں خلیل احمد نینی تال والا نے " یورپ کی ترقی کا راز " کے عنوان سے ایک کالم لکھا ہے۔ میں نے باقی سب کالمز چھوڑ کر ان کے کالم کو پڑھنا شروع کر دیا کیونکہ موضوع دلچسپ لگا اور سوچا کہ شاید یہ راز مل گیا ہے پھر کیوں نہ ہم یہ راز لے کر دوڑے دوڑے وطن عزیز پہنچیں۔ اور یہ راز ہم وطنوں کے گوش گزار کریں۔ پھر ہم بھی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائیں۔ کالم ختم ہونے کے ساتھ بیتابی میں اضافہ اسی قدر ہوتا جا رہا تھا۔ کہ وہ راز کدھر ہے۔ کالم ختم ہو گیا لیکن ہمیں وہ ظالم راز ہاتھ نہ آیا۔
دراصل ہمارے محترم کالم نگار نے فرانس کے 2 شہروں 1۔ Cannes جو ساحلی شہر ہے۔ 2. Grasse سٹی کے بارے کچھ معلومات پر مشتمل کالم کو " یورپ کی ترقی کا راز" کا نام دے رکھا تھا۔ راقم پچھلے 25 سال سے یورپ کے ایک چھوٹے سے مگر جدید ترین ملک میں آباد ہے اور یورپ کے کئی ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف خطوں میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ابھی کل ہی افریقہ کے مسلمان ملک مراکش سے واپسی ہوئی ہے۔ لیکن ابھی تک کسی ایسے راز کو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکا جو اپنے ہم وطنوں کے ساتھ بانٹ سکوں۔ نہ ہی کوئی مختصر راستہ دیکھا ہے جس پر چل کر ہم بھی راتوں رات ترقی کرلیں۔ میری ناقص رائے میں تو یہ صدیوں کی ریاضت، جدوجہد، سوچ میں تبدیلی، درست تعلیم وتربیت، ایمانداری، احساس ذمہ داری، صحیح جمہوریت(جس میں عام آدمی کو ریاستی امور میں شامل رکھا جاتا ہے اور سیاسی جماعتوں کی واقعی تنظیم سازی ہوتی ہے اور شخصی کی بجائے اجتماعی فیصلے ہوتے ہیں) شہری آزادیوں کا تحفظ، مالی حیثیت کے قطع نظر ہر آدمی کی عزت نفس کا خیال اور درست نظام حکومت کے نتیجے میں درجہ بدرجہ ترقی ہوئی ہے۔
دور نہ جائیں صرف بیسویں صدی کی تاریخ پر ایک نظر دوڑانے سے ہی صاف پتہ چلتا ہے کہ یورپ کی حالت کیا تھی۔ کس قدر جنگ و جدل اور مذہبی منافرت پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن نظر یہی آتا ہے کہ ہر ایک قوم نے مار کھانے اور تباہ ہونے کے بعد سبق سیکھا ہے۔ سوائے مسلمانوں کے جو پچھلے 5 سو سال سے مار بھی کھا رہے ہیں اور سیکھ پھر بھی کچھ نہیں رہے ہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے پچھلے 40 سال میں یورپ میں کیسے کیسے انقلابی اقدامات ہوئے ہیں، ماضی کے دشمن کس قدر شیر و شکر ہوئے کہ اپنے گھروں کی چاردیواریوں کو منہدم کر کے ایک گھر بنا لیا۔ اور جیسا کہ محترم کالم نگار نے بھی ذکر کیا ہے کہ کرنسی بھی ایک ہی کر لی۔ انہی 40 سالوں میں مسلمانوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا ہے۔ فلسطینی اور کشمیری تو پہلے سے ہی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوۓ تھے۔ لیکن باقی مسلم ممالک کی پالیسیوں پر غور کیا جائے تو دنیا کہ ہر خطے میں مسلمانوں پر مشکلات ہیں اور کچھ مسلم ممالک تو قیامت صغری کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ سلسلہ افغان جہاد سے شروع ہوتا ہے اور براستہ ایران عراق ، کویت، یوگوسلاویہ سے ہوتا ہوا یمن ، شام اور برما تک جا پہنچتا ہے۔ لیکن کیا مسلمانوں کو اپنا مسئلہ اب سمجھ میں آگیا ہے۔ اگر نہیں آیا تو پھر کب اور کیسے آئے گا۔ میری ناقص رائے میں مسلمانوں کے سیکھنے کے لیے 2 ہی یونیورسٹیاں ہیں۔ ایک وہ ہے جو ان کو اللہ کی طرف سے عنایت ہوئی ہے یعنی قرآن پاک، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیروکاروں کے اسلوب، ۔۔۔ لیکن ٹھہریئے یہ یونیورسٹی صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے۔ تو پہلے خود کو ٹٹول کر دیکھ لیجئے کہ کیا آپ واقعی مسلمان ہیں۔ کیا مسلمانوں کا کوئی ملک ایسا ہے جہاں جھوٹ کثرت سے نہ بولا جاتا ہو۔ تو کیا مسلمانوں کو جھوٹ بولنے کی اجازت یے۔ پاکستان کی بات کریں تو پاکستان کا آدھا ایمان تو جا بجا بکھرے گندگی کے ڈھیر ہی لے گئے۔ اور باقی آدھے ایمان کو پاکستانی مسلمانوں کے اندر کا گند صاف کر گیا ہے۔ تو پھر آپ اس یونیورسٹی میں تو داخل ہی نہیں ہو سکتے نا۔ اس میں داخل ہونے سے پہلے تو آپ کو لا کا مطلب آنا چاہیے جو کہ نہیں آتا۔ آپ سے بہتر تو پھر وہ لوگ ہیں جو اس یونیورسٹی میں داخل تو نہیں ہوئے لیکن اس کے علم سے فیض یاب یو گئے۔ اسی یونیورسٹی سے کتابوں کو اٹھا لے گئے اور ان کے سبق کو خود پر نافذ کرکے ترقی کے زینے چڑھ گئے۔ اب ان کو لا کا مطلب بھی پتہ ہے اور الا اللہ کو بھی جانتے ہیں اور محمد رسول اللہ کو نہ مانتے ہوئے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگیاں استوار کر چکے ہیں۔
اور آپ لوگوں کو جالیاں چومنے سے فرصت نہیں لیکن مجال ہے کہ جالیوں کے اندر موجود ہستی کی زندگی سے کچھ سیکھنے کی کوشش کریں۔ زندگی عمل سے بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی۔ اگر آپ اپنے اسلاف کے راستے پر ہوتے اور مسلمان ہی ہوتے تو آج دنیا کی راہنمائی آپ ہی کر رہے ہوتے۔ دنیا میں روشنی پھیلانے کا فریضہ آپ ہی انجام دے رہے ہوتے۔ چہ جائیکہ آپ خود اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے (ہیں)۔ تو پھر کم از کم دوسری یونیورسٹی کا رخ ہی کر لیں کیونکہ یہ یونیورسٹی بھی تو آپ ہی کی یونیورسٹی سے علم مستعار لے کر کھلی ہے اور اس یونیورسٹی کا نام ہے یورپ یا ترقی یافتہ ممالک۔
اگر آپ اس یونیورسٹی میں داخل نہ بھی ہوں اور اس میں پڑھائے جانے والے کچھ نصاب سے آپ کا اتفاق نہ بھی ہو تو بھی 80% سے زیادہ نصاب اور مضامین آپ ہی کے دین سے آئے ہیں (معذرت آپ کے نہیں آپ کے اسلاف کے دین یا اسلام سے) اب اگر ان 2 یونیورسٹیوں میں سے کوئی بھی آپ کو داخلہ نہ دے تو پہلے ان کے داخلہ فارم کو غور سے پڑھ لیں اور داخلہ فارم میں موجود شرائط پر پورا اترنے کی کوشش کریں۔ لیکن کیا کریں آپ نے تو قسم کھا رکھی ہے کہ ہم نے خود کچھ بھی نہیں کرنا۔ بس اللہ ہی کچھ کرے ہمارے لیے یا پھر امریکہ کرے۔ تو آپ کو بنی اسرائیل کی تاریخ پر ایک نظر دوڑانے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ تاریخ زیادہ پرانی لگے اور میسر نہ ہو (کیونکہ آپ کے لیے قرآن پڑھنا بھی مشکل کام ہے) تو جس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعویدار ہو، ان کی تاریخ ہی پڑھ لو کہ وہ کن کن مشکلات سے گزر کر کامیابی(ترقی) تک پہنچے۔ کیا انہوں نے کسی پہاڑ پر بیٹھ کر، کسی مسجد یا عبادت گاہ میں بیٹھ کر بس دعا کی تو کامیاب ہو گئے۔ تو پھر سوچیں۔ ان سے زیادہ کون اللہ کے قریب تھا۔ ان سے زیادہ کون ہے جو اللہ کو پیارا ہوگا۔ کیا آپ کا ایمان نہیں کہ وہ محبوب اللہ ہیں۔ تو پھر سوچیں کہ اگر اللہ تعالی اپنے محبوب سے بھی یہی چاہتا ہے کہ وہ فطرت کے اصولوں سے گزر کر کامیابی حاصل کریں۔ خود کو عملی نمونہ بنا کر پیش کریں تو پھر ہمیں کیسے بیٹھے بیٹھائے سب کچھ حاصل ہو جائے۔
اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے نبی کی خاطر اللہ ہمیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیاب کرے گا۔ تو اصل میں یہ عقیدہ عیسائیوں کا ہے جو سمجھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام ان کے لیے صلیب چڑھے تھے۔ اللہ تعالی کا اپنا ایک قانون ہے، آئین ہے جو اس پر عمل کرے گا وہی کامیابیاں سمیٹنے کا حقدار ہو گا۔ دنیا میں پہلی یونیورسٹی بھی مسلمانوں نے قائم کی تھی مراکش کے شہر فیز میں جس کا نام تھا القرآونی ( Al Quaraouiyine ) اور یہ یونیورسٹی تحقیق کے مطابق 859 عیسوی میں بنائی گئی تھی اور پھر دنیا کی دوسری یونیورسٹی بھی مسلمانوں نے ہی 970 عیسوی صدی میں قائم کی۔ یہ ہے ( Al Azhar ) جو مصر کے شہر قائرہ میں موجود ہے۔ جبکہ یورپ میں پہلی یونیورسٹی روم اٹلی میں سن 1088 میں قائم ہوئی۔ جو مسلمانوں کی پہلی یونیورسٹی کے 229 سال بعد۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کو آج یورپ سے 200 سال آگے ہونا چاہیے تھا۔ لیکن کیا واقعی ہم ابھی بھی مسلمان ہی ہیں۔ ذرا اپنا محاسبہ تو کریں۔ اب دیکھتے ہیں کہ ترقی کیسے ہوتی ہے اور یورپ نے کیسے ترقی کی ہے اور اصل میں ترقی کس چڑیا کا نام ہے۔ میری دانست میں ترقی کا مطلب یا دنیاوی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے لیے سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ انسانی سوچ اور اس کو عملی جامہ پہنانے کا نام ترقی ہے۔ اللہ کی کائنات میں موجود اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو تلاش کرنے اور ان سے فیضیاب ہونے کا نام ترقی ہے۔ اور یہ سب کرنے کے لیے 2 کام بہت ضروری ہیں بلکہ لازمی ہیں۔ ایک سوچنا اور دوسرا عمل کرنا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں بھی سوچنے پر، علم پر اور عمل پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ لیکن آج پوری دنیا میں چند استثنی کے علاوہ کسی بھی مسلمان ملک میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص یہ دونوں کام ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ کوئی سوچنے کی زحمت کرتے نظر آتے ہیں نہ عملی اقدامات۔ بس جس کے پاس جتنا علم ہے وہ اسی کے بل بوتے پر عالم کہلاتا ہے اور دوسروں کو اپنے راستے پر چلانا چاہتا ہے جو نہ چلے وہ زندہ رہنے کے حق سے محروم۔
ترکی، ملائیشیا جیسے مسلمانوں کے ممالک کسی حد تک ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چل رہے ہیں اور اپنے ملک کے اندر مثبت اصلاحات کر رہے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا مسلہ انتہائی تنگ نظری یا عدم برداشت کا ہے( مذہبی بھی، سیاسی بھی اور ذاتی بھی) کوئی کسی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، کوئی کسی دوسرے پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ادارے اپنا اپنا کام کرتے نہیں اور دوسروں کے کام میں مداخلت کرنے کو اپنا حق بنا لیتے ہیں اور عوام۔۔۔ عوام تو دعاؤں کے سہارے یا کسی مسیحا کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ سیاستدان پیسے کمانے اور ڈنگ ٹپانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے دانشوروں میں سب سے بڑا دانشور وہ ہے جو اپنے لیے زیادہ سے زیادہ فائدے اکٹھے کرلے۔ میڈیا کی تو بات ہی نہ کی جائے ورنہ غیر پارلیمانی زبان بولنا پڑے گی۔ بس اتنا کہنا کافی ہے کہ اپنا ہاضمہ درست رکھنے کے لئے الیکٹرانک میڈیا سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ اگر ترقی کرنا چاہتے ہو تو ترقی یافتہ ممالک پر غور کرو۔ (ہمارے سارے سیاستدان بشمول طاہرالقادری ) بے روزگاری کے دن انہی ترقی یافتہ ممالک میں گزارتے ہیں لیکن ان سے کچھ سیکھنا حرام سمجھتے ہیں)۔
ہم لوگ جو اپنی مجبوری یا بھوک کی وجہ سے یورپ آئے اور آباد ہوئے، وہ بھی یہاں سے پیسے کما کر اپنے ملک میں اپنی نمود نمائش تو کرتے ہیں لیکن ابھی تک ائیرپورٹ پر قطار میں کھڑے ہونے کا طریقہ بھی نہیں سیکھا۔ جہاں بھی محفل لگتی ہے وہی اپنے سیاستدانوں کو سنے دینا، ان کے گلے شکوے کرنا، ثواب سمجھتے ہیں اور موقع ملتے ہی انہی سیاستدانوں جیسا پروٹوکول لینا اور حسب توفیق بد عنوانی کرنا، ڈبل ثواب کے زمرے میں لیتے ہیں۔