لندن کے مئیر صادق خان کا اعلیٰ اخلاق

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی کسی کو پسند نہیں کرتا ہے یا اس کی ترقی سے اسے پریشانی ہوتی ہے تو ایسے لوگ خواہ مخواہ دوسرے انسان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو معاملہ اتنا سنگین ہوجاتا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان سے اس قدر حسد کرتا ہے کہ وہ اس کی جان لینے کے لئے تمام حدود پار کر جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی طاقت اور دولت کی گھمنڈ میں چور ایسی حرکت کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ تاہم ایسے لوگوں کا انجام بھی برا ہوتا ہے کیونکہ جب ان کی طاقت کمزور ہونے لگتی ہے تو وہ اپنے حرکتوں پر پچھتاوا کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

حسد کرنے والے  خاندان ، رشتے دار، محلّے والے، دوستوں اور دفاتر میں بہت عام پاتے ہیں۔ دراصل ایسے لوگوں کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ کسی طرح سے اپنے ناپسندیدہ شخص کو  نقصان پہنچائے۔ لیکن ان ہی لوگوں میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو نہ کہ حسد کرنے والوں کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ وہ انہیں معاف بھی کر دیتے ہیں۔  بی بی سی کے ’ انڈریو مار شو‘ میں لندن کے میئر صادق خان نے یہ کہہ کر سبھی کو حیران کر دیا کہ’ جب امریکی صدر لندن آئے گے تو وہ ان سے ضرور ملاقات کریں گے‘۔ صادق خان نے یہ بھی کہا کہ’ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ لندن میں بسے ہرعقیدے کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں،  ساتھ جشن مناتے ہیں اوراسے گلے لگاتے ہیں‘۔

ظاہر سی بات ہے کہ صادق خان کے اس بیان سے لوگوں کو جہاں حیرانی ہوئی تو وہیں انہیں صادق خان کے اخلاقی جرات سے خوشی بھی ہوئی ہے۔ دراصل صادق خان جب سے لندن کے مئیر منتخب ہوئے ہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ٹویٹ کے ذریعہ ان کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔  جس سے ایک بات تو صاف طور پر پتہ چلتی ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو شاید لندن کا ایک مسلم مئیر ہضم نہیں ہورہا ہے۔ ورنہ صادق خان میں ایسی کون سی خرابی ہے جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل ان کے خلاف طنزیہ اور مضحکہ خیز ٹویٹ کرتے رہتے ہیں۔  صادق خان کے مئیر بننے کے بعد لندن پر کئی بار دہشت گرد حملے ہوئے ہیں۔  جس کا فائدہ اٹھا کر ڈونالڈ ٹرمپ نے صادق خان کا ہمیشہ مذاق اڑایا ۔ ساتھ ہی ڈونالڈ ٹرمپ نے صادق خان کی قابلت پر بھی سوال اٹھایا تھا۔ شاید ڈونالڈ ٹرمپ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کے ٹویٹ سے لندن کے باوقار اور بااخلاق  لوگ ان کے جھانسے میں آ جائیں گے۔

جولائی میں لندن برج اور بورو مارکیٹ کے حملے کے بعد صادق خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’ لندن کے لوگوں کو ان بزدلانہ حملوں سے خوف نہیں کھانا چاہئے بلکہ وہ اپنی معمول کی زندگی کو جاری رکھیں۔ اس کے علاوہ راستوں میں پولیس کی موجودگی سے انہیں گھبرانا نہیں چاہئے‘۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے فوراً اس کے جواب میں ٹویٹ کیا کہ ’ صادق خان کا بیان ایک شدید ناکامی والا بیان ہے جسے انہیں اس کی وضاحت کرنی چاہئے‘۔
دسمبر 2015میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کیلیفورنیا میں چلی گولی کے بعد کہا تھا کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگا دینی چاہئے۔ 2016میں جب صادق خان لندن کے مئیر منتخب ہوئے تو ڈونالڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ’ کیا وہ صادق خان کو امریکہ آنے پر پابندی لگائے گے‘۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ پابندی میں رعایت کی گنجائش ہو سکتی ہے‘۔ لیکن مئیر صادق خان نے ٹرمپ کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ میں رعایت کی صورت میں امریکہ نہیں جاؤں گا۔ یہ بات صرف میرے لئے نہیں بلکہ میرے دوست، رشتے دار اور دنیا کے تمام لوگوں کے لئے اہم ہے‘۔

شروع میں صادق خان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جارحانہ باتوں کو سرے سے نظرانداز کیا تھا ۔ اس کے علاوہ صادق خان نے اس بات کا بھی اعتراف کیا تھا کہ وہ ٹویٹ کے ذریعہ ان فضول باتوں میں الجھنا نہیں چاہتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانیہ کو امریکہ سے اپنی دوستی کو قائم رکھنا چاہئے۔ جس کے لئے وہ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کی امریکی صدر سے بات چیت کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ پچھلے سال صادق خان کو لندن مئیر کے الیکشن میں نمایاں کامیابی ملی تھی۔ 13لاکھ سے زیادہ لندن والوں نے صادق خان کو ووٹ دیا تھا۔  صادق خان کی اس جیت کو ایک تاریخی جیت بتایا گیا تھا۔ کیونکہ اس سے قبل لندن کا کوئی بھی مئیر اتنی تعداد میں ووٹ نہیں پایا تھا۔ اس کے علاوہ صادق خان سب سے پہلے مسلم اور ایشیائی لندن مئیر بھی ہیں ۔

لندن مئیر منتخب ہونے کے ایک سال بعد بھی صادق خان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ YouGovیو گو پول کے مطابق58% لندن کے لوگ صادق خان کے کام  سے خوش ہیں۔ زیادہ تر لندن کے لوگ صادق خان کو ’صادق ‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے لوگ سابق مئیر کین اور بورس کو ان کے نام سے جانتے تھے۔ مئیر صادق خان نے اپنے الیکشن کے وعدے کو پورا کرنے میں تین اہم فیصلے اب تک کئے ہیں۔ انہوں نے ایک گھنٹے کے اندر دوبارہ بس کے سفر کا کرایہ مفت کردیا ہے۔ رات بھر انڈر گراؤنڈ ٹرین کی شروعات کی ہے۔ لندن ٹرانسپورٹ کے کرایے کے اضافہ روک دیا ہے۔ لندن کے مئیر صادق خان کے خلاف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹویٹ نے جہاں صادق خان کو وقتی طور پر پریشان کیا تو وہیں صادق خان نے اپنے اعلیٰ ظرف اور اخلاق سے مدلل جواب دیئے۔ صادق خان نے اپنے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرمپ کے ٹویٹ کا جواب ہمیشہ سلیقے اور سمجھداری سے دیا ہے۔

ٹی وی شو میں لندن کے مئیر نے ایک قدم آگے بڑھ کر اپنے اخلاق کا ایسا مظاہر ہ کیا ہے کہ امریکی صدر اس بار اس کا جواب ٹویٹ کے ذریعہ دینا ہی بھول گئے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ٹرمپ اس بات سے شاید حیران ہیں کہ جس آدمی کو وہ اپنے ٹویٹ کے ذریعے ہراساں کر رہے تھے اس نے کیونکر اس کا جواب اپنے اخلاقی مظاہرے سے کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب تک صادق خان کے بیان کا جواب نہیں دے پائے ہیں۔ اخلاق کا لفظ ذہن میں آتے ہی ایک ایسا خاکہ ابھر کر سامنے آجاتا ہے کہ جس کو ہر انسان اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھا ہو‘ ۔

ممکن ہے صادق خان نے بھی حضرت محمد ﷺ کے نقشِ قدم پر چل کر ٹی وی شو میں ٹرمپ سے ملنے کی بات کو کہہ کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ اسلام مذہب کے ماننے والوں میں سے ہیں۔ جس کے نبی نے اخلاق کا بہترین نمونہ دنیا کو پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ’ رسول اللہ کی زندگی تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ حضور کے نقشِ قدم پر چل کر ہی انسان بلند اخلاق کا مالک بن سکتا ہے‘۔