قوم نے چودھری رحمت علی کا یوم پیدائش فراموش کردیا
- تحریر انجینئر افتخار چودھری
- بدھ 15 / نومبر / 2017
- 13658
یہ سولہ نومبر 1897 کا دن تھا جب چودھری رحمت علی اس دنیا میں آئے۔ آج ان کا یوم پیدائیش ہے۔ 1915 میں بزم شبلی لاہور سے ایک آواز اٹھی کہ ان سے نہیں بنے گی الگ ملک لو، دریاؤں کے سوتے پاس رکھو، کشمیر پر کوئی سودے بازی نہ کرو۔ ہر ایک کے کان میں آواز ڈالنے والا چودھری شاہ محمد گجر کا بیٹا چودھری رحمت علی تھا جو شاید اب کسی کو یاد ہی نہیں۔
چوہدری رحمت علی ان کے والد چودھری شاہ محمد گجر ایک ایسی شخصیت تھے، جو قوم کے لئے باعث فخر ہوتے ہیں۔ مجیب الرحمن شامی کا کہنا ہے کہ فقیری میں چند لوگ بادشاہی کرتے ہیں اور چودھری رحمت علی تو تحریک پاکستان کے ابو ذر غفاریؓ کی مثل تھے۔ اور کہا کہ ایک بڑے میڈیا کے چیف انہیں پاکستان کا لیڈر تسلیم کریں نہ کریں تحریک پاکستان کی جو سند ہے وہ چودھری رحمت علی کو لیڈر مانتی ہے۔ ان کی مراد حمید نظامی سے تھی۔ چودھری صاحب نے کون سا ایساکارنامہ انجام دیا ہے کہ اس وقت کے تین بڑے نام مجیب شامی، الطاف حسن قریشی اور ضیاء شاہد ان کے مداح ہیں۔ آپ نے بنیادی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور پھر مزید پڑھنے لاہور آ گئے۔ اس وقت کا لاہور بر صغیر کا ایک اہم شہر تھا۔ اسلامیہ کالج لاہور سے گریجوایشن کی۔ چودھری صاحب ایک تھنکر تھے۔ انہیں اسلامیان ہند کی مجبوریوں کا احساس تھا۔ انہوں نے 1915 میں سوچ لیا تھا کہ بر صغیر کے مسلمانوں کی نجات اسی میں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہندوؤں سے مکمل طور پر الگ کر لیں۔ وہ مذہب کے نام پر ہندوستان کی تقسیم چاہتے تھے اور یہی وجہ ہے انہوں نے جہاں جہاں مسلم اکثریت میں تھے الگ سے آزاد اور خود مختار ممالک کا مطالبہ کیا۔ دو قومی نظریے کے اولین خالق چودھری رحمت علی تھے۔
حضرت اقبال کی دانش ان کی شاعری اور فلسفہ خودی سے ہر گز انکار نہیں۔ مگر حق دار را حق رسید ہونا چاہئے۔ یہ اگر مکمل طور پر نہ مانا جائے تو میرا مطالبہ ہے انہیں شریک تصور پاکستان مان لیا جائے۔ آج سے چالیس سال پہلے پاکستان کے قومی جرائد میں چودھری رحمت علی کے بارے میں ضمیمے نکلتے تھے اور وہ قومی ہیرو گردانے جاتے تھے۔ مرور ایام نے اس قومی ہیرو کو دھکیل کے پیچھے رکھ دیا۔ چودھری رحمت علی ایک آزاد مسلم ریاست کے داعی تھے۔ انہیں احساس تھا کہ یہ ایک غیر فطری مطالبہ ہوگا لہذا ان کا پاکستان ہجوں میں پ سے پنجاب سے الف افغان صوبہ سرحد سے ک کشمیر س سندھ اور تان بلوچستان سے تھا۔ وہ حیدر آباد کو الگ اسٹیٹ دیکھنا چاہتے تھے جس کا نام عثمانستان تجویز کیا تھا۔ چودھری رحمت علی کشمیر کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نیشنل موومنٹ اس پاکستان کا مطالبہ کرتی ہے کہ جس میں کشمیر مکمل طور پر شامل ہو۔ انہوں نے اپنے خطبات میں لکھا ہے کہ کشمیر کے سارے دریا پاک دھرتی کی طرف بہتے ہیں۔ ہمیں ایسا پاکستان دیا جائے جو دریاؤں کے سوتے کے ساتھ ہو۔ ان کی مراد مکمل کشمیر سے تھی۔ حالات ہمارے خلاف چلے گئے جنرل گریسی لارڈ ماؤنٹ بینٹن کو رپورٹ کرنے کے بہانے قائد اعظم کے حکم کو ٹال گیا۔
اسلامیہ کالج لاہور میں اپنی راہیں متعین کرنے کے بعد چودھری صاحب ایچی سن میں پڑھانے لگے۔ ان کی زندگی کے تین المیے ہیں۔ ایک ان کو صرف NOW OR NEVER کا تخلیق کار بنا کر پیش کیا گیا۔ دوسرا صرف لفظ پاکستان کا خالق۔ اور تیسرا گجروں نے انہیں اتنا ابھارا کہ وہ اب صرف گجروں ہی کے لیڈر نظر آتے ہیں۔ چودھری رحمت علی نے اپنے کیمرج میں قیام کے دوران بے شمار پمفلٹ، ہینڈ بل تقسیم کئے۔ برطانوی پارلیمینٹ کے ارکین ان کے اس مطالبے سے پوری طرح واقف تھے۔ انہوں نے ایک پاکستان نامی ہفت روزہ بھی نکال رکھا تھا اور پاکستان کا مطالبہ اس حد تک کیا کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا۔ اگست 1933 کی یکم تاریخ کو یوسف علی، سر محمد یعقوب، ڈا کٹر خلیفہ شجاع الدین اور خان حاجی رشید احمد سے انگلستان میں بحث بھی ہوئی۔ جولائی 1935 میں کیمبرج کے مختلف ایڈریس سے چودھری رحمت علی نے نیا پمفلٹ جاری کیا۔ یہاں انہوں نے اپنے آپ کو پاکستان قومی موومنٹ کا صدر ظاہر کیا اور مطالبہ کیا کہ برما ایکٹ کے تحت اگر برما آزاد کیا جاتا ہے تو پاکستان کو کیوں آزادی نہیں دی جاتی۔
تاریخ کے طالب علموں کو اس وقت مسلم لیگ کی جدوجہد آزادی کی تاریخوں کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔ پاکستان کی اس جد و جہد میں ان کے ساتھی اسلم خٹک، خواجہ رحیم الدین اور دیگر طلبہ تھے جو اپنے جیب خرچ سے ان پمفلٹوں کا اہتمام کرتے تھے۔ صاف اور کھری بات یہ ہے کہ انگریز صرف چودھری رحمت علی کی جد و جہد سے پاکستان کے نام سے واقف ہوئے۔ 23 مارچ 1940 کو جب مسلمانوں کے لئے انڈین حدود کے اندر رہ کر مطالبہ آزادی کیا تو پریس نے کہا مسلمان محدود آزادی نہیں، جنوبی ایشیا میں ایک نیا ملک چاہتے ہیں۔ اور اس کا نام پاکستان ہے۔ سوال ہے کہ جب چودھری رحمت علی کیمبرج آئے تو ان کے ساتھ کیا ہوا اور جب پاکستان پہنچے تو ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں وہ بہت بڑی ہجرت چاہتے تھے اور پورا کشمیر لینا چاہتے تھے۔ ان کاخیال تھا کہ انگریز انصاف پسند ہے۔ اس سے میز پر بیٹھ کر بات کی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ہم کیوں کشمیر لینا چاہتے ہیں ۔
قائد اعظم بیمار تھے۔ انہیں علم ہوا کہ چودھری کراچی میں ہیں۔ اس دن قائد نے بہترین لباس پہنا اور اور ان کا استقبال کرنے کی تیاری کی۔ اس دوران حکومت میں شامل سازشی ان کے خلاف سر گرم ہو گئے۔ شہید ملت اور حکومتی اکابرین کوڈرایا گیا کہ چودھری صاحب کے ہوتے ہوئے آپ کی دال گلنا مشکل ہے۔ خفیہ والوں نے ان کے ساتھ زیادتی کی اور ان کے پاکستان قیام کو اجیرن بنا دیا۔ پاکستان دینے والا اگلے بحری جہاز سے اس ملک سے روانہ ہو گیا جو اس کی سوچ کے نتیجے میں حاصل کیا گیا تھا۔ وہ انگلینڈ پہنچ کر کچھ عرصہ صدمے کی حالت میں رہے اور بیمار پر گئے۔ فلو کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔ انہوں نے آخری دن بڑی کسمپرسی میں گزارے۔ حالت یہ تھی کہ علاج کے لئے ان کے پاس مناسب رقم نہ تھی۔ وہ اسی حالت میں انتقال کر گئے ۔ کیمبرج یونیورسٹی کے وارڈن کو انہوں نے خط لکھا کہ اگر میں مرگیا تو مجھے امانتاٌ دفن کر دیں اور میرا جنازہ اسلامی طریقے سے پڑھایا جائے۔ ایسا ہی ہوا۔ بعد میں پاکستانی مشن نے اخراجات ادا کئے اور یوں پاکستانی قوم کا ایک محسن جہان فانی سے کوچ کرگیا۔
وہ دیار فرنگ میں آج بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ وہ انہیں اس ملک کی خاک میں دفنایا جائے جس کے لئے انہوں نے جد و جہد کی تھی۔