مسجد میں سزا اور مشاعرے میں امتحان کا نتیجہ
- تحریر سرور غزالی
- بدھ 15 / نومبر / 2017
- 4764
میں اسی لیے مسجد جانے سے گریزاں ہوں کہ وہاں سارے قیدی سزا کاٹنے آتے ہیں۔۔۔۔ ضمیر کے قیدی اور اسلحہ چلانے والے۔۔۔۔ دونوں ہی۔ یوں بھی جب سے دھماکوں کا دور شروع ہوا ہے عدم تشدد پر یقین رکھنے والے مسجدوں سے دور ہوگئے ہیں۔ جب ماں باپ، بھائی و بہن اور دوست احباب سے دوری کوئی معنی نہ رکھے ، وطن سے دوری المیہ بن جائے تو مسجدوں سے بھی دوری آجاتی ہے۔
مسجد جو خدا کا گھر ہے۔ یہاں ٹھنڈک اور فرحت کا احساس ہوتا تھا اب خوف کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ اب آپ مسجد میں جائیں گے تو آپ کو یہ معلوم نہ ہوگا کہ آپ کے برابرمیں کھڑا کون نماز ادا کرنے کی سزا کاٹنے آیا ہے۔ اور کون صدق دل سے عبادت کرنے۔ سزا کون بخوشی کاٹتا ہے۔ کوئی بھی نہیں۔ جیل میں قیدی کیسی کیسی حرکتیں نہیں کرتے۔ تو کیا بعید کہ سزا کاٹنے والے یہ مجرم نہ جانے خدا کے گھر میں کیا گل کھلائیں۔ عدالتوں کے جاہ جلال کے دن لد گئے۔ قاضیان شہر اورجج صاحبان معاشرے کی اہم شخصیات ہوا کرتے تھے۔ اور پھر بھی لوگوں سے ربط ضبط سے اجتناب کیا کرتے تھے کہ مبادا عدالتی فیصلوں پر یہ تعلقات اثرانداز ہوں۔ وہ کب کس مسجد میں نماز ادا کرنے آتے۔ یہ بھی بہت کم لوگوں کو معلوم ہوتا۔ مگر اب تو جج صاحبان کے قبلے کا پتہ کرنا ہو تو ان کے فیصلے سن کر کیا جاسکتا ہے۔ اب اس انوکھی سزا سے ان کے مسلک کا بھی بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ جب وہ سزا تجویز کر یں گے کہ ملزم کوفلاں مسجد میں پانچ وقت کی نماز با جماعت ادا کر نے کی سزا دی جاتی ہے۔ تو یہی سمجھا جائے گا کہ شاید اس مسجد کا مسلک ہی جج کا مسلک ہے۔ نماز جو کہ جزا تھی اب سزا ہؤا کرے گی۔ ایسے کئی اور مجرم جس جگہ سزا پا رہے ہوں وہاں سے حفاظتی اقدامات کے طور پر بچوں کو دور رکھا جائے گا۔
مشاعرہ وغیرہ کی محفلیں عموماٌ معاشرے کی تفریح و طبع کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ اور ان میں معاشرے کے چلن اور ڈگر کو ضرور موضوع بنا یا جاتا ہے۔ مگر سنجیدہ عدالتی فیصلے اور مشاعروں کا کوئی سانجھ نہیں۔ اب جج صاحبان کے ادبی ذوق پر خوشی و مسرت کا احسا س ہوتا ہے کہ اب وہ سنجید اور بور کر دینے والے فیصلوں میں ادبی اور تفریحی رنگ بھر کر اس کی چاشنی میں اضافہ کر نے لگے ہیں۔ اس خبر کو پڑھ کر ایک واقعہ یاد آیا۔ ایک پروفیسر نے سمسٹر کے اختتام پرتمام طلبا و طالبات کو ایک دوسرے شہر کی سیر کو چلنے کی دعوت دی۔ اور اعلان کیا کہ دوسرے شہر میں پہنچ کر پہلے وہ سبھی سے سمسٹر کا اختتامی زبانی امتحان لے گا۔ اور اس کے بعد وہ سب مل کر کسی تفریح کا سوچیں گے۔ عموماٌ ایسے پکنک یا تفریحی دورے کے موقع پر کئی مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مثلاٌ کچھ طالب علم ساتھ جانا ہی نہیں چاہتے، کچھ ساتھ جانے کے لیے اس لیے تیار ہوجاتے ہیں کہ راستے میں اودھم مچا سکیں۔
ہوشیار پروفیسر نے ان دونوں مسلوؤں کا حل یوں نکالا کہ جو ساتھ چلنے سے انکار کرے گا وہ فیل ہو جائے گا۔ دوران سفر اودھم مچانے کی بجائے تمام لڑکے لڑکیاں زبانی امتحان کی تیاری میں لگ گئے۔ چار پانچ گھنٹے پروفیسر دیکھتا بھی رہا کہ کون کتنی دلجمعی سے محنت کر رہا ہے۔ اس نے دوران سفر سب کے پاس جا جا کر یہ بھی معلوم کر لیا کہ کون کیا کیا تیاری کر رہا ہے۔ اب سب سے آخری اور اہم مسئلہ پکنک کا نہیں بلکہ امتحان سے متعلق تھا۔ طلبا و طالبات فیل ہوتے تو غمگین ہوجاتے۔ اس کے فیصلوں پر معترض ہوتے اور اسے ڈین کے سامنے چیلینچ کرتے۔ اس کا حل اس نے یہ نکالا کہ امتحان لینے کے فوراٌ بعد اسی ہوٹل میں ایک مشاعرہ رکھوایا۔ اور کہنے لگا کہ تمام طلبا و طالبات اپنے اپنے جذبات کا اظہار دل کھول کر کرلیں۔ خوشی کا بھی اور افسوس کا بھی۔ مشاعرے کا آغاز پروفیسر نے خود کیا۔ جو امتحان اس نے لیا تھا، اس کا نتیجہ ایک نظمیہ فیصلے کی صورت میں سنا ڈالا۔
اس نے کہا کہ امتحان میں کچھ طلباء نے بھی تو اپنے جوابات شعروں کی صورت میں دیئے تھے۔