اہل پاکستان کا طرہ امتیاز، سچ سے فرار اور جھوٹ پر اصرار
- تحریر شیخ خالد زاہد
- بدھ 15 / نومبر / 2017
- 4284
پاکستان کے خراب ہوتے ہوئے حالات عام آدمی کی زندگی کو اجیرن کئے ہوئے ہیں۔ ان حالات کا سبب بننے والے زیادہ عیش عشرت کی زندگی گزارتے دیکھائی دیتے ہیں۔ خیبر سے لے کر کراچی تک ملک کی سیاسی جماعتیں ملک کا تماشہ بنا رہی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت یہ تو نہیں کہتی کہ وہ پارسائی کی سیاست کر رہے ہیں مگر دوسری تمام سیاسی جماعتوں کو بھرپور تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ اس بات کی پہچان ناممکن ہو چکا ہے کہ کون سی سیاسی جماعت نظریاتی ہے یا پھر مفادات کی سیاست کررہی ہے۔
ہر جماعت الیکشن کمیشن کی شرائط بھی پوری کرتی ہے، سیاسی منشور بھی پیش کردیتی ہیں اور اپنی جماعت کے انتخابی نشان سے ملک کی دیواریں اور کھمبے رنگین کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا تشکیل پانا ایک اچھی بات ہے، مگر ایک سیاسی جماعت کی داغ بیل ڈالنا شاید پاکستان میں اتنا مشکل نہیں ہے جتنا کہ اس جماعت کو کالی بھیڑوں اور دوسرے ہرکاروں سے بچانا مشکل ہے ۔ اس کی وجہ ہے کہ پاکستان میں بننے والی سیاسی جماعتیں پبلک لمیٹڈ ہونے کی بجائے ذاتی مفادات کے حصول کیلئے جدوجہد شروع کردیتی ہیں۔ منتخب ہونے کے بعد یہ لوگ عوام کے قیمتی ووٹوں کو بے وقعت سمجھتے ہیں۔ اتنی مشکلات کے باوجود پاکستانی دنیا میں مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں، جو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس ملک میں ٹیلنٹ کی تو کمی نہیں لیکن ہم قومی سطح پر کیوں بد حال ہیں۔
ہم جھوٹ بہت بولتے ہیں اور بے وجہ ہی بولتے ہیں۔ ہمارے ملک کے ایک مشہور سیاستدان کے بارے میں ان کی جماعت کے ایک اہم رکن نے کہا تھا کہ اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ کیا کھا رہے ہیں تو یہ اگر سیب کھا رہے ہوں گے تو آپ کو امرود یا کچھ اور بتائیں گے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ یہ بھی بہت سے قومی المیوں میں سے ایک ہے۔ سب سچ کی ضرورت اور جھوٹ کی برائیوں سے آگاہ ہیں۔ یہ ایسی باتیں ہیں کہ اٹھتے بیٹھتے ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ لیکن سچائی کی تلاش ہم سب کر رہے ہیں مگر سچ بول نہیں رہے۔ جھوٹ ہماری زندگیوں میں سرایت کر چکا ہے۔ اور ہم سچ کو جھوٹ سے تبدیل کرچکے ہیں۔ ان جھوٹوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔
آج ملک میں سچ اور جھوٹ کا ایک بہت بڑا معرکہ چل رہا ہے ۔ حاکم وقت کو عدل نے کٹہرے میں لا تو کھڑا کیا ہے مگر حاکم وقت اپنی حاکمیت کے زعم میں عدل کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہیں۔ حاکم یہ بھولے بیٹھے ہیں کہ ایک حاکمیت اعلی بھی ہے جہاں صرف سچ ہی چلتا ہے ۔
--