بدعنوانی کے قصے اور ملتان میں صحافیوں کا اجلاس

قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور پارلیمانی امور پر ایک دانشور کی حیثیت رکھنے والے سینئر سیاست دان سید فخر امام اس بات پر کڑھ رہے تھے کہ پاکستان اور اس کے عوام کے اصل مسائل کی طرف کسی کی توجہ نہیں، سیاست دان سطحی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں، اداروں کے درمیان کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ زیادہ اختیارات کے حصول کے لیے مقابلہ ہورہا ہے۔ اور اسٹیبلشمنٹ اپنا کھیل کھیلنے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دے کر بڑا ظلم کیا گیا ہے۔ انہیں صرف قانون سازی کرنی چاہیے۔

دوسری جانب جنگ گروپ اور جیو ٹیلی ویژن کے ذریعے سینئر سیاست دان کا درجہ پانے والے جاوید ہاشمی کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے پرویزمشرف دور کی اسمبلی میں نیب سے کرپشن میں ملوث افراد کی رپورٹ اور تفصیلات منگوائیں تو اس میں انکشاف ہوا کہ کرپشن کے سب سے زیادہ معاملات عسکری شعبے سے وابستہ رہنے والے افراد کے ہیں۔  دوسرے نمبر پر سول بیوروکریسی ہے جبکہ کرپشن کے معاملات میں سیاست دان تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس فہرست میں عسکری شعبے کے کن افراد کے نام شامل تھے اور اُن پر کتنی کرپشن کے الزامات تھے۔ ملتان پریس کلب کے آڈیٹوریم میں جاوید ہاشمی کے یہ جملے سنتے ہوئے اپنے ساتھی صحافی کے کان میں کہا کہ عسکری شعبے سے وابستہ نیب کو مطلوب تمام کے تمام افراد کی کرپشن کی کُل مقدار نوازشریف، اسحاق ڈار اور آصف زرداری میں سے کسی ایک کی کرپشن کے برابر بھی نہیں ہے۔

جاوید ہاشمی یہ گفتگو ملک بھر سے آئے ہوئے صحافیوں سے ملتان پریس کلب کے آڈیٹوریم میں کررہے تھے۔ جہاں ان کے دائیں بائیں وفاقی انجمن صحافیان (دستور) کے صدر محمد نواز رضا، سیکرٹری جنرل سہیل افضل، پی ایف یو جے کے سابق جنرل سیکرٹری اور ملتان پریس کلب کے سابق صدر شمیم اصغر راؤ، ملتان یونین آف جرنلسٹس کے صدر اشفاق انجم، شکیل الرحمن حر، ممتاز نیازی اور دیگر صحافی رہنما بیٹھے تھے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے یہ مرکزی عہدیداران اور فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کے منتخب ارکان اپنے تین روزہ اجلاس کے لیے ملتان پہنچے تھے۔ ایف ای سی کا یہ سہ ماہی اجلاس 10۔11 ۔12 نومبر کو بلایا گیا تھا جس کی میزبانی ملتان یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے ذمے تھی۔ ملتان یونین آف جرنلسٹس (دستور) نے اپنے سرپرست اور نوائے وقت ملتان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹرشمیم اصغر راؤ، ملتان یونین کے صدر اشفاق انجم، سیکرٹری جنرل ممتاز نیازی اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں صحافیوں کے قیام و طعام اور اجلاسوں کے لیے بہترین انتظامات کر رکھے تھے۔

شہر کے مرکزی علاقے کے ہوٹل اے ون میں مہمانوں کے قیام و طعام کا اہتمام کیا گیا تھا، جبکہ اسی ہوٹل کے ایک ہال میں ایف ای سی کے اجلاس کا انتظام تھا اور اس کے لیے ہوٹل نے خصوصی طور پر ہال میں کانفرنس طرز کا سیٹنگ ارینجمنٹ کر رکھا تھا، تاکہ اجلاسوں کی کارروائی کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھی جاسکے۔ میزبانوں نے مہمانوں کے لیے تین روز کا باقاعدہ شیڈول تیار کیا ہوا تھا جس کی اطلاع مہمانوں کو روانگی سے قبل واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے کردی گئی تھی۔ ہوٹل کے کمروں میں بھی یہ شیڈول آویزاں تھا جس کے ساتھ ملتان یونین کے عہدیداروں کی تصاویر کے فلیکس بھی لگادیئے گئے تھے۔ فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے مرکزی عہدیداران اور ایگزیکٹو کونسل کے ارکان جن میں انتہائی سینئر اور معتبر صحافی شامل ہیں، جمعہ کی صبح ہی سے ملتان پہنچنا شروع ہوگئے تھے، جن کو ایئرپورٹ، ریلوے اسٹیشن اور بس اڈے سے ہوٹل تک لانے کی ذمہ داری ملتان یونین آف جرنلسٹس کے متحرک رہنما نوید انجم شاہ کے ذمے تھی، جو انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ صحافیوں کو وصول کرکے ہوٹل پہنچا رہے تھے۔ اس مقصد کے لیے اُن کی ذاتی گاڑی کے علاوہ دوسری ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی موجود تھا۔

نمازِ جمعہ اور ظہرانے کے بعد مہمانوں کو ملتان شہر کی سیر اور بزرگانِ دین کے مزارات پر لے جایا گیا۔ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی اور شاہ رکن عالم کے مزارات پر مہمانوں کی دستاربندی کی گئی، جس کے بعد تمام افراد ہوٹل واپس آگئے جہاں مختصر آرام اور چائے کے بعد مہمان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں شاہ محمود قریشی اور ان کے خاندان کے دیگر افراد نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ یہاں مختصر سی ایک تقریب بھی ہوئی جس سے پی ایف یو جے کے صدر نواز رضا، سیکرٹری جنرل سہیل افضل خان اور راؤ شمیم اصغر نے خطاب کیا، جبکہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے علاوہ حکمرانوں کو گھر جانے کی نصیحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حقِ حکمرانی کھو چکی ہے کیونکہ وہ اسی کرپٹ قیادت کو دوبارہ منتخب کرکے لے آئی ہے جسے اس ملک کی سب سے اعلیٰ عدلیہ نے نااہل قرار دیا تھا۔ شاہ محمود قریشی بھی اپنے چیئرمین کی طرح فوری انتخابات کا مطالبہ کررہے تھے۔

یہاں سے ہوٹل واپسی پر ایف ای سی کا باضابطہ اجلاس حاجی نواز رضا کی صدارت میں ہوا، جس میں پی ایف یو جے سے منسلک ذیلی اور علاقائی تنظیموں نے اپنی پانچ ماہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ یاد رہے کہ مئی 2017 میں پی ایف یو جے کے انتخاب کے موقع پر منسلکہ یونینز اپنی سابقہ کارکردگی رپورٹ راولپنڈی میں پیش کرچکی تھیں۔ دراصل ہر تین ماہ بعد ایف ای سی کے اجلاس کا مقصد ذیلی یونینوں اور وفاقی یونین کی کارکردگی کا جائزہ، مستقبل کی منصوبہ بندی اور صحافت اور صحافیوں کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے لیے حکمت عملی طے کرنا ہوتا ہے۔ ملتان میں پہلے روز کے اجلاس میں بیشتر ذیلی تنظیموں کے نمائندے پہنچ چکے تھے، تاہم لاہور سے پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا وفد اپنے جنرل سیکرٹری رحمان بھٹہ کی قیادت میں ہفتے کی صبح ملتان پہنچا۔ اس وفد میں نائب صدر پی یو جے اصغر چودھری، رکن مرکزی مجلس عاملہ رضوان خالد، طارق کامران اور راقم شامل تھے۔ لاہور سے وفد کی آمد کے بعد اجلاس میں وفاقی انجمن صحافیان کے علاوہ کراچی یونین آف جرنلسٹس، حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس، رحیم یار خان یونین آف جرنلسٹس، میزبان ملتان یونین آف جرنلسٹس، پنجاب یونین آف جرنلسٹس، بہاولپور یونین آف جرنلسٹس، فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس، راولپنڈی، اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور آزاد کشمیر یونین آف جرنلسٹس کی نمائندگی مکمل ہوگئی۔ صرف بلوچستان یونین اور پشاور یونین کے نمائندے اجلاس میں نہ پہنچ سکے۔

شرکاء میں کراچی سے کے یو جے کے صدر افضال محسن، سپرپرستِ اعلیٰ ہمایوں عزیز، کراچی پریس کلب کے جنرل سیکرٹری مقصود یوسفی، نعیم طاہر، حیدرآباد کے سینئر صحافی عبدالحفیظ عابد، رحیم یار خان سے جاوید عباس، جاوید اقبال، فیصل آباد سے صدر یونین سجاد حیدر منا، سلیم شاہد، راولپنڈی سے صدر یونین مظہراقبال، میاں منیر، آزاد کشمیر سے مہتاب عباسی، بہاولپور سے ریاض بلوچ اور بہاولپور پریس کلب کے صدر جنید نذیر ناز شامل تھے۔ جبکہ ملتان کے عہدیداروں کے علاوہ سینئر صحافیوں کی بڑی تعداد اجلاس میں شریک ہوئی۔

ہفتہ کی صبح کا آغاز سابق اسپیکر فخر امام کے ناشتے سے ہوا، جنہوں نے بھرپور ناشتے کے ساتھ بھرپور گفتگو بھی کی۔ اس موقع پر ملتان کے کئی سیاسی رہنما اور فخر امام کے ساتھی بھی موجود تھے۔ یہ تقریب حال ہی میں لندن سے بیرسٹری مکمل کرکے لوٹنے والے فخر امام کے بیٹے عابد امام کی سیاسی تقریبِ رونمائی بھی تھی۔ وہ آگے بڑھ بڑھ کر آنے والوں کا استقبال کررہے تھے اور جنوبی پنجاب کی روایت کے مطابق بزرگ افراد کے گھٹنوں کو چھوکر انہیں نشست پر بٹھاتے تھے۔ یہاں سید فخر امام نے اپنی ماضی کی سیاسی سرگرمیوں کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ بھی پرویزمشرف کی طرح آج کل مختلف یونیورسٹیوں میں سیاسیات، حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات پر لیکچر دے رہے ہیں۔ ناشتے سے فراغت کے بعد شرکاء نے واپس ہوٹل آکر اپنا اجلاس کیا، جس میں رات باقی رہ جانے والی یونینوں نے اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کی جن پر سوالات، تنقید اور مشورے بھی جاری رہے۔ یہاں سے شرکاء جنوبی پنجاب کی واحد پرائیویٹ یونیورسٹی (انسٹی ٹیوٹ آف سدرن پنجاب) گئے جہاں یونیورسٹی کے ریکٹر عاصم نذیر نے اپنی یونیورسٹی کی کارکردگی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن اور حکومتی سرد مہری پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں پر مال کمانے کا الزام ہے۔ حکومت ان پر طرح طرح کی قدغنیں لگاتی ہے مگر کوئی مدد نہیں کرتی۔ انہوں بتایا کہ انہیں نو سال کی مشقت کے بعد چارٹر ملا جس کے بعد گزشتہ پانچ سال سے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہمیں ایک کتاب تک نہیں دی۔  ملتان یونین کے سرگرم صحافیوں اور پی ایف یو جے کے صدر اور سیکرٹری جنرل نے بھی خطاب کیا۔ کھانے کے بعد شرکاء کو این ایف سی انجینئرنگ یونیورسٹی لے جایا گیا جس کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اختر کاہلوں اپنے دو ڈپٹی رجسٹرار کے ساتھ منتظر تھے۔ یہاں ڈاکٹر کاہلوں اور پی ایف یو جے کے عہدیداروں کے مختصر خطاب اور ہائی ٹی کے بعد یہ پروگرام مکمل ہوگیا۔ یونیورسٹیوں کے دونوں پروگرام ممبر ایف ای سی سید افتخار گیلانی کی کاوشوں کا نتیجہ بتائے جاتے ہیں۔

ہوٹل میں مختصر قیام اور کپڑے تبدیل کرنے کے بعد شرکاء نے رانا محمود الحسن ایم پی اے کے عشائیہ میں شرکت کی اور واپسی پر تھکاوٹ کے باوجود اپنا اجلاس کیا جس میں صحافیوں کو درپیش مسائل پر غور کیا گیا، خصوصاً اس رویّے کی مذمت کی گئی کہ اب چینلز اور اخبارات کے مالکان صحافیوں کو اشتہارات لانے پر مجبور کررہے ہیں۔ صحافیوں کے جانی تحفظ اور اُن کے حقوق کے سلسلے میں حکومت اور مالکان کے رویّے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ صبح سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی طرف سے ناشتے کی دعوت تھی۔ ناشتہ تو بھرپور اور وافر تھا مگر لیاقت بلوچ موسم کی خرابی کی وجہ سے نہ پہنچ سکے۔ تاہم جماعت اسلامی سے وابستہ ملتان ہائی کورٹ بار کے سابق صدر جمشید حیات اور ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر نے ان کی کمی پوری کردی۔

ناشتے کے بعد ملتان پریس کلب میں جاوید ہاشمی اپنی کمزور صحت اور جوان حوصلے کے ساتھ شریکِ گفتگو ہوئے۔ یہیں شرکا نے مختلف قراردادیں پیش کیں جنہیں حاضرین نے منظور کرلیا۔ اس کے بعد گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کے گھر ظہرانہ تھا۔ شہرکے اندر ایک عام سے لیکن نسبتاً بڑے گھر کو گورنر ہاؤس کا درجہ دیا گیاہے۔ یہاں ان کے بیٹے نے شرکا کا استقبال کیا۔ یہاں تقریریں ہوئیں اور کھانے کے بعد شرکا ہوٹل پہنچے، جہاں سے سب نے اپنی اپنی منزلوں کی راہ لی۔ چلتے وقت ملتان یونین نے شرکا کو خوبصورت تحائف پیش کیے۔ اس طرح خوش گوار یادوں اور ملتان یونین کی زبردست میزبانی کا تاثر لیے ہوئے شرکا واپس اپنی اپنی منزل کو روانہ ہوئے۔