عنوان کچھ اور کہانی کچھ اور
- تحریر
- جمعہ 17 / نومبر / 2017
- 4208
ابھی کل ہی کی بات ہے لیکن زمانے میں تبدیلی کچھ ایسی برق رفتار رہی ہے کہ لگتا ہے زمانے بیت گئے۔ ہمارے ہاں کی فلم انڈسٹری جیتی جاگتی تھی، اردو پنجابی کی ڈھیروں فلمیں بنا کرتی تھیں۔ شہروں میں سنیما ہاؤسز کی اچھی خاصی تعداد ہوتی تھی۔ فلم بینی بڑے اور چھوٹے شہروں میں بیشتر لوگوں کی تفریح کا لازمی جزو تھی ۔
ہمارے شہر رحیم یار خان میں اس وقت تک ابھی ٹی وی نہیں پہنچا تھا۔ اخبارات بھی لاہور یا ملتان سے چھپ کر آتے تھے۔ ان اخبارات میں وہاں کے سنیما میں دکھائی جانے فلموں کے اشتہارات تو ہوتے لیکن مقامی سنیما کے اشتہار نہ ہوتے۔ مقامی سنیما والوں نے اپنے ہاں دکھائی جانے والی فلموں کی اطلاع اور مشہوری کے لئے کچھ مقامی طریقے ڈھونڈ رکھے تھے۔ ان میں جا بجا وال چاکنگ شامل تھی۔ فلم کے مختلف مناظر پر مبنی پوسٹرز بھی شامل تھے۔ ایک اور طریقہ بھی رائج تھا جس میں ایک یا ایک سے زائد گھوڑا ٹانگے پر اطراف اور پچھلی جانب فلم کے قدِ آدم پوسٹر لگا دیئے جاتے تھے۔ ٹانگے میں اکثر ایک لاؤڈ سپیکر پر فلم اور سنیما کا اعلان وقفے وقفے سے ہوتا تھا۔ اعلان کے وقفے کے دوران ڈھول بجایا جاتا، ڈھول کے ساتھ ایک جھنجنے کی جوڑی کی سنگت ہوتی۔ لوگ باگ مڑ مڑ کر دیکھتے تو پوسٹرز پر اس زمانے کے ہیروز اور ہیروئنز کی قدِ آدم تصاویر پر نظر پڑتی، اور یوں بازاروں اور محلوں میں فلم کی مشہوری کا سامان ہو جاتا۔
عموماٌ فلمیں ایک ہفتہ چلتیں لیکن کامیاب فلمیں کئی کئی ہفتے اس زمانے کی ترکیب کے مطابق پردہ سیمیں کی زینت بنی رہتیں۔ اردو پنجابی فلموں کے ساتھ کبھی کبھار انگریزی فلمیں بھی سنیما کی زینت بنتیں۔ رحیم یار خان میں اس وقت انگریزی سمجھنے والوں کی تعداد بہت ہی کم تھی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ انگریزی فلم دکھانے والا سنیما تقریباٌ ہاؤس فل ہوتا۔ اس کا راز سراسر اس کے اشتہار میں تھا ۔ فلم کے انگریزی نام سے کہیں بڑا اس کا ایک ترجمہ شدہ نام پوسٹرز پر ہوتا جس میں قیامت کے کسی منظر کا پتہ ہوتا یا کسی خوبرو میڈم کی مستیوں کا ذکر ہوتا یا کسی جنگلی حسینہ کی الھڑ کارستانیوں کا۔ پوسٹر میں ہیروئن کے ایسے چند مناظر کا باتصویر اظہار ہوتا۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ سنیما ہاؤس فل ہو جاتا لیکن ناظرین کے ساتھ اس وقت ہاتھ ہو جاتا جب پوری فلم میں قیامت کا انتظار کرنے کے باوجود فلم کی اختتامی پٹی چل جاتی یعنی The End ۔ ایسے میں شو کے بعد اکثر فلم بینوں کو سنیما والوں کی غلط بیانی پر انہیں کوستے دیکھا۔ کچھ باذوق البتہ ایسے بھی ہوتے کہ انہیں جو بھی دیکھنے کو ملا اسے غنیمت جانتے ہوئے اس پر بحث کرتے واپس آتے کہ کہانی تو کمزور تھی لیکن فلم کی سٹوری بڑی جاندار تھی !
عملی زندگی میں ہمیں اس تجربے سے کئی بار گزرنا پڑا کہ اشتہار یا عنوان کچھ اور تھا لیکن جب واسطہ پڑا تو معاملہ مختلف پایا۔ آج کل ہمارے میڈیا پر بڑے بڑے جغادری اس کوشش میں شام سے رات کرتے ہیں کہ عنوان کچھ اور تھا لیکن نکلا کچھ اور۔ سابق وزیر اعظم کا بھی یہی گلہ ہے کہ مقدمہ تو پانامہ پر چلا لیکن نااہلی اقامہ پر ہوئی۔ سیاسی بکھیڑوں کے علاوہ ہمیں ڈویلپمنٹ سیکٹر میں اس تجربے سے بار بار گزرنا پڑا۔ بیرونی امداد دینے والے چند بڑے ناموں کے پروجیکٹس میں بطور کنسلٹنٹ یا ماہر خصوصی کے طور پر چند سال کام کرنے کا موقع ملا تو احساس ہوا کہ نام کے ساتھ کام کا کسی قدر تعلق ہو تو بہتر ہے لیکن نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اس عدم تعلق کو کسی من چاہے لنک کے ساتھ جوڑ کر تعلق پیدا کر لیا جاتا ہے، اللہ اللہ خیر صلّا۔
ڈیویلپمنٹ سیکٹر کی حرکیات کچھ یوں ہیں کہ کچھ ترقی پزیر یا غریب ملکوں کے لئے چند انتہائی امیر ممالک کے ہاں حکومتی سطح پر یا نجی سطح پر بہت سا دردِ دل جمع ہو جاتا ہے جس کے مداوے کے لئے یہ ممالک کروڑوں اربوں ڈالرز، پونڈ یا یورو کی امداد ان ممالک میں صرف کرنے کے لئے بے تاب ہو جاتے ہیں۔ اس بے تابی کو تاب میں لانے کے لئے ان ممالک میں کچھ مخصوص ادارے پائے جاتے ہیں۔ یہ ادارے امداد دیئے جانے والے ملک میں یا تو براہِ راست اپنے دفتر کھولتے ہیں یا شراکت دار ادارے ڈھونڈتے ہیں۔ اس بندوبست کے بعد ہر طرح کی سیکیورٹی سے لیس کسی پوش علاقے میں دفتر کھول لیا جاتا ہے۔ ماہرین کو جمع کیا جاتا ہے، امدادی رقم کھپانے کے لئے پروجیکٹس پر غور و فکر ہوتا ہے۔ سیمینار اور کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے ، یوں منصوبے کے خدو خال تشکیل پاتے ہیں۔
مقامی ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ امداد دینے والے ملک سے ماہرین کی خدمات اس عمل کا لازمی جزو ہے۔ ایسے پروجیکٹس تین سے پانچ سال کی مدت پر محیط ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق امداد کا تقریباٌ تین چوتھائی اسی انداز میں امپورٹڈ ماہرین اور انتظامی معاملا ت پر صرف ہو جاتا ہے۔ عملی میدان میں امداد ی منصوبے کا حقیقتاٌ پچیس سے پندرہ فی صد تک ہی لگ پاتا ہے۔ یہ ساری رقوم حکومت پاکستان سے بین الملکی معاہدے کے تحت لائی جاتی ہیں جس کے لئے حکومت باضابطہ ان ممالک کی شکر گزار بھی ہوتی ہے۔ اس امداد کا پاکستان کی ترقی پر کتنا اثر پڑا۔ بہت سال قبل ایک امریکی یونی ورسٹی نے اس موضوع پر تحقیق کی تو اس ہوش ربا نتیجے پر پہنچی کہ پاکستان میں امداد کے اربوں ڈالرز وصول ہونے کے باوجود عملی طور پر ترقی کے وہ آثار نظر نہیں آئے۔ ذمہ داری کرپشن اور غلط ترجیحات سمیت بہت ساری دیگر وجوہات پر ڈالی گئی لیکن اس کے باوجود یہ سلسلہ جاری رہا ۔
غیر حقیقی تجاویز اور رپورٹوں سے دفتر کے دفتر سیاہ ہو چکے لیکن بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں ۔ البتہ ان امدادی منصوبوں کے طفیل کئی مقامی ادارے خاصے خوشحال ہو گئے۔ ایسے ایسے موضوعات پر کام ہو رہا ہے کہ سن کر سر گھوم جائے۔ ان منصوبوں کے لئے چند موضوعات نہایت پسندیدہ ہیں مثلاٌ انسانی حقوق، صنفی امتیاز، بانڈڈ لیبر، چائلڈ لیبر وغیرہ۔ چند سال قبل ہمیں لودھراں میں علم ہوا کہ یورپ کے ایک ملک کو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ وہاں کی خواتین کو نکاح نامے میں ان کے حقوق کی شقوں کا ٹھیک سے علم نہیں ، لہذٰا ان کی آگہی کے لئے ایک تین سالہ منصوبہ زیر عمل تھا۔
پاکستان کو یورپ سے ملی جی ایس پی پلس کی سہولت کے تسلسل کے لئے مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لئے اس سہولت کے مخالف یورپ کے چند ممالک نے ایک این جی او سے سندھ کے چند اضلاع میں روئی کی چنائی کے لئے چائلڈ لیبر کے شواہد اکٹھے کئے اور انہیں یورپی یونین میں ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ مذکورہ این جی او نے اپنی پوری کوشش سے انہیں تمام تصاویری شہادتیں مہیا کیں جن کا پاکستان کو جواب دینا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح کئی سال قبل سیالکوٹ سے فٹ بال بنانے میں چائلڈ لیبر کے شواہد کیلئے بھی یہی امدادی منصوبے کام آئے۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بجا طور پر غیر ملکی امدادی اداروں کی نئی رجسٹریشن کو لازم قرار دیا کہ حکومت کو کچھ پتہ تو ہو کہ غیر ملکی امداد کے پردے میں کیا کیا ہو رہا ہے۔ ضروری ہے تو جی بسم اللہ ، اگر کوئی اور ایجنڈا ہے تو اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔
بنیادی خیال تو اس کالم کا یہ تھا کہ ایک بہت نامی گرامی عالمی ادارے نے لاہور میں فائیو سٹار ہوٹل میں ایک گو ل میز مکالمے کا اہتمام کیا کہ پاکستان کی برآمدات کی مسابقت یعنی Competitiveness پر غور کیا جائے۔ ہماری کمپنی نے ہمیں نامزد کیا کہ جائیں اور اس عالمی ادارے سے کچھ سیکھ کے آئیں اور اپنی بپتا بھی سنائیں کہ برآمدات کو کن کن مسائل سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہاں پہنچے تو ایک بھرپور سیشن میں انٹرپرینیورشپ میں صنفی فرق پر گفتگو ہو رہی تھی۔ بعد میں اصل موضوع کی طرف آئے تو تجاویز اکھٹی کرنے کے لئے گروپس بنا دیئے گئے۔ ایک پریزینٹیشن دکھائی گئی کہ پاکستان میں کسٹمز ڈیوٹی کی شرح دوسرے ملکوں سے زیادہ ہے اور ایسے ہی چند دیگر پوائینٹس کے بعد ایک بھرپور لنچ۔ یوں ہم عنوان کے بہکاوے میں شامل ہو ئے، صنفی امتیاز پر گفتگو سنی اور برآمدات کی مسابقت پر کچھ سیکھنے کی بجائے اپنی ہی تجاویز دے کر گھر لوٹے تو اپنے آبائی شہر میں فلموں کی مشہوری کے مناظر سوچتے ہوئے مطمئن ہو گئے کہ کہانی تو کمزور تھی البتہ اسٹوری اتنی بری نہ تھی!