تحقیقات اور کمیشنوں کے نام پر مذاق
- تحریر افتخار بھٹہ
- جمعہ 17 / نومبر / 2017
- 3940
کسی اہم مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بجائے اسے دبا دینا آسان ہوتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ آسان اس پر کمیشن بٹھا دو۔ یقین نہ آئے تو گزشتہ 70برسوں میں قائم ہونے والے تحقیقاتی اور اصلاحی کمشینوں کا حال دیکھ لیں۔ بیشتر کی رپورٹیں قومی مفادات کے نام پر بھی سرد خانے میں محفوظ ہیں۔ 1972میں حمود الرحمن کمیشن نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے ذمہ داروں کا تعین کیا تھا۔ بھارتی جریدے انڈیا ٹو ڈے نے 2000میں کمیشن کی رپورٹ شائع کر دی مگر حکومت پاکستان نے اس لیک رپورٹ کو آج تک نہیں مانا ہے۔
اوجڑی کیمپ کس کی غفلت سے پھٹا اس کی تحقیقات کیلئے محمد خان جونیجو نے تحقیقاتی کمیٹیاں بنائیں ایک رپورٹ بھی نہیں آئی۔ ایک جنرل کی سربراہی میں قائم ایک کمیٹی نے اس کو محض ایک حادثہ قرار دیا پھر بھی جو نیجو کی حکومت کو اڑا دیا گیا۔ مگر جنرل عمران اللہ کی بے ضرر رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ جنرل ضیاء الحق 17اگست 1988کو فضائی حادثے میں دیگر ساتھیوں اور امریکن سفیر سمیت جاں بحق ہوئے۔ کہیں پانچ برس بعد ضیاء الحق کے فکری وارث میاں نواز شریف نے جسٹس شفیع الرحمن کی قیادت میں انکوائری کمیشن بنایا۔ آج 23برس بعد بھی اس کی رپورٹ سر بمہر ہے ۔ بے نظیر بھٹو نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ضابطہ کار کے تحت سابق ائیر چیف مارشل کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا مگر اس کی بے ضرر سفارشات پر عمل نہ ہو سکا۔ لال مسجد پر عدالتی کمیشن نے واقع کے چھ سال بعد مارچ2013میں رپورٹ تعمیل کی سپریم کورٹ نے رپورٹ کا ایک حصہ اور دستاویز سر بہر کر دیا اور باقی رپور ٹ میں جزوی اشاعت کی اجازت دے دی مگر یہ کچھ حصے بھی شائع نہیں ہو پائے ہیں۔
17جون2014کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں پولیس فائرنگ سے پاکستان عوامی تحریک کے 14کارکن جاں بحق اور 80سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس باقر علی نجفی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن نے دو ماہ کے اندر رپورٹ پنجاب حکومت کے حوالے کر دی۔ اگرچہ اس رپورٹ کو ایک چینل نے لیک کر دیا مگر حکومت پنجاب نے اس کو باقاعدہ طور پر جاری نہیں کیا۔ اس کی تحقیقات کو اوپن کرنے کے حوالے سے ہائی کورٹ میں ابھی ایک اپیل کا فیصلہ زیر سماعت ہے۔ 2مئی2011کو اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈو ایکشن میں جاں بحق ہوا ڈیڑھ ماہ بعد جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنایا گیا۔ الجزیرہ ٹی وی چینل نے کمیشن کی رپورٹ فاش کر دی مگر حکومت کی طرف سے رپورٹ کو آج تک جاری نہیں کیا گیا۔ اسی طرح لا پتہ افراد کے معاملہ میں گزشتہ چھ برس سے قائم کمیشن نے ذمہ داران کا تعین نہیں کیا۔معروف صحافی سلیم شہزاد کے قتل کے بارے میں ملزم کا تعین نہیں ہو سکا۔
ہماری سیاسی قیادت اور دانشور احتساب اور کرپشن کے خاتمے کی بات کرتے ہیں تو مضحکہ خیز لگتا ہے۔ جب بد عنوانی، ریاستی مشینری اور حکمران طبقے کے رگ و پے میں بس جائے تو اصلاح نا ممکن ہو جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ آزاد منڈی کی معیشت اور نیو لبرل ازم کے اس عہد میں قوم پرستی کی حدود سے آزاد سرمایہ کاری ہوتی ہے جس کا بحران ہر ریاست اور ملک میں موجودہے، جہاں کی اشرافیہ خود کو کسی احتساب سے مبرا قرار دیتی ہے۔ اور اپنے اثاثوں اور دولت کے جائز ہونے کے بارے میں یا خود ہی یا ان کے رفقاء تاویلات پیش کرتے رہتے ہیں۔ وہاں پر خود انصافی اور خود احتسابی کاتصور اور کمیشن کا قیام یا کسی ادارے سے ذاتی حوالے سے منصفی کرانا محض مذاق ہی ہو سکتا ہے۔ ہم سیاسی مسائل کو عدالتی فار مولے سے حل کرنا اپنے حق میں فیصلہ لے کر خود کو دیانتدار اور آئین کی د فعا ت 62-63پر پورا اترنے والا ایماندار ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ معاملات کمیشنوں سے حل نہیں ہونے والے ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے ایک فیصد سے بھی کم لوگ 99%دولت اور وسائل پر قابض ہیں۔ بلکہ ٹیکس چوری اور بد عنوانی کے جائز طریقے اور ذریعے موجود ہیں۔ شاید ہی ان وائٹ کالر جرائم کی کسی کو سزا مل سکی ہو۔ ہم موجودہ حالات میں دیکھتے ہیں مقتدرہ قوتیں اس حوالہ سے کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں یا اس کے بارے میں کچھ سوچ نہیں رہی ہیں۔ مگر بحران سے نکالنے اور حقیقی احتساب کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف کے اجتماعی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھا شخص ذاتی حوالے سے احتساب کے عمل کو شفافیت سے ہمکنار نہیں کر سکتا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں قصور وار اپنے عہدوں سے مستعفیٰ ہو کر مظلوم بن جاتے ہیں مگر نا انصافی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ان حالات میں یہ سمجھنا کہ سرمایہ دارانہ ریاست سیاست اور حکومت کے ذریعے بد عنوانی یا لوٹ مار ختم کی جا سکتی ہے محض دھوکہ دہی اور فراڈ ہے۔ اس لئے پی ٹی آئی جیسی پارٹیاں جن پر دوسروی پارٹیوں کے بھگوڑے مسلط ہیں جب احتساب اور کرپشن کی باتیں کرتے ہیں تو یہ مذاق لگتا ہے۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے بنائی گئی جے آئی ٹی کی تحقیقات کے بعد سپریم کورٹ سے ہوتا ہوا معاملہ اب احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے، جس کے حوالے سے بالخصوص عدلیہ کے کردار کو اس کیس کے حوالے سے متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں پہلی مثال ہے میاں نواز شریف جس کی پارٹی حکومت اور اپوزیشن دونوں کے مزے لے رہی ہے۔ عدالتی معاملات پر تنقید میں سب سے آگے ہے۔ اگر انہیں کسی اندرونی سازش کا علم ہے تو وہ متعلقہ افراد یا اداروں کا نام کیوں نہیں بتا دیتے ۔
بہر صورت اس کیس کا فیصلہ پاکستان کی آئندہ سیاست پر بھرپور اثرات مرتب کرے گا۔ امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحران سے نجات حاصل ہو تاکہ حکومت عوام کے حقیقی مسائل کے بارے میں کچھ اہم فیصلے کر سکے۔